کراچی: 5000 نوجوانوں کو نہم اور دہم کے امتحان سے دور رکھنے کا اہتمام
عام طور پر میں انفرادی معاملات پر ردعمل نہیں کرتی اور ور نہ ہی لکھتی ہوں، لیکن 16 دسمبر 2023 کو ایک عظیم محنتی شخص نے میرے ساتھ فون پر رابطہ کیا اور اپنے آپ کو متعارف کرانے کے بعد ایک خوفناک اور المناک صورتحال کا بیان کیا۔ وہ صاحب وطن کی خدمات نہ صرف سرکاری حیثیت میں کر چکے ہیں بلکہ 1971 میں خود اپنے اعلی مرتبت خاندان کے قتل، اور انسانیت کے زیاں کے چشم دید گواہ بھی ہیں اور اب کراچی میں بغیر کسی نسلی تعصب کے پاکستان کی ترقی میں مثبت حصہ ڈال رہے ہیں۔ میں ان کا ذکر اس لئے کر رہی ہوں تاکہ ان کی معلومات کی سچائی کی پختہ سند حاصل ہو سکے۔
ایک شرمناک، بے انصاف اور ظلم کی قصہ کا کچھ یوں ہے کہ تقریباً 5000 بہاری نوجوانوں (لڑکیاں اور لڑکے ) جن کو کراچی بورڈ کی کلاس 9 اور 10 کے بورڈ امتحان میں شرکت کرنا چاہیے، ان کو اس کا موقع دینے سے محروم کیا جا رہا ہے کیوں کہ وہ نادرا کے ب فارم کے بغیر ہیں جو بظاہر ایک قانونی شرط ہے امتحان میں شریک ہونے کے لئے۔ یہ حکم مختصراً ان کے والدین کے شناختی کارڈ کی عدم دستیابی کے نام پر ہو رہا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ڈیموگرافی اور سیاست کا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق بدصورت اور گندا، ہو جاتا ہے جب یہ عدل اور برابری کے متبادل ہوتا ہے۔
میرے علم کے مطابق، میں نے کسی بھی طاقتور، آزاد، بہادر، جذبہ رکھنے والے اینکر کو اس مسئلے پر ان کے اچھے تنخواہ والے پرائم ٹائم لائیو ٹی وی شوز یا اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے لاکھوں فالورز کے ساتھ ٹی وی چینلز میں بات چیت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ مجھے کراچی کی سیاست کے بارے میں علم نہیں ہے، لہذا میں ایم کیو ایم کی سیاست پر رائے دینے سے گریز کرتی ہوں، جو اردو بولنے والوں کی جماعت تصور کی جاتی ہے، یا پیپلز پارٹی کی سیاست پر رائے دینے سے گریز کرتی ہوں، جو عام طور پر ایک لبرل، ترقی پسند اور شمولیت پسند پارٹی مانی جاتی ہے۔
میرے لئے یہ بات بالکل واضح ہے کہ چاہے وہ میڈیا ہو، ایکٹویزم ہو یا سیاست ہو، صرف وہ سچ جو بکتا ہے اور کچھ منافع بخش ہوتا ہے، وہ ہی بولا جاتا ہے لکھا جاتا ہے و ہی بیچا بھی جاتا ہے۔
ایک محروم طبقہ، جو ایکٹویزم کے اشرافیہ جیسے جناب جبران ناصر، مسز ایمان مزاری، یا صحافت کے گرو جیسے جناب محمد حنیف، جناب وسعت اللہ، جناب حامد میر، مسز عاصمہ شیرازی، اور دیگر با اثر اور دردمند صحافیوں تک رسائی نہیں رکھتا، یا سسٹم کی اشرافیہ یا طاقت کی علامات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا، اسے کسی کی بھی توجہ نہیں حاصل ہوتی نہ ہی یہ صورت حال ایک تازہ خبر ہے یعنی بریکنگ نیوز نہیں ہے۔ ہاں، ہم بہاری ہیں، یہ بات خبر کے قابل بھی نہیں اس میں کوئی خبریت بھی نہیں ہے، لیکن ہمارے سب سے قیمتی اثاثے یعنی پاکستان کی تصویر کو داغدار نہ کریں
اس معاملے کے پائیدار حل میں مزید تاخیر نہ کریں
یاد رکھیں
انصاف میں دیر کرنا، انصاف سے محروم کرنا ہے
مخصوص مفادات اور محدود وژن کے نقصانات بہت دورس ہوتے ہیں
جو چپ رہی گی زبان خنجر
لہو پکارے گا آستین کا
اب رحم کریں مظلوم بے بس بہاری کمیونٹی کے نوجوانوں کا ساتھ دیں
اس کمیونٹی نے ہمیشہ پاکستان سے بے لوث عشق کیا ہے اور عشق کی راہ کی تمام بربادیوں کو بھی حوصلے سے سہا ہے خدارا ان کی نئی نسل کو مکمل طور پر اپنا لیں یہ بچے پاکستانی ہیں اور اپنے بزرگوں کی طرح پاکستان سے بے غرض محبت کرتیں ہیں ان کو تعلیم حاصل کرنے دیں
اور انہیں تعلیم جاری رکھنے سے نام نہاد قانون کے نام پر محروم نہ کریں
پاکستان کھپے
پاکستان زندہ باد


