کلاسیکی گائیک استاد بدر الزماں
پیرس، فرانس میں رہنے والے میرے دوست خاور خان نیازی استاد بدر الزماں صاحب (صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی) کے بہت بڑے مداح ہیں۔ گزشتہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ان سے بات چیت ہوئی تو موصوف نے استاد صاحب سے ملنے اور انٹرویو کرنے کا کہا۔ میری استاد صاحب سے کبھی ملاقات تو نہیں تھی لیکن میں ان کے نام اور ان کے کام سے بہت حد تک واقف تھا۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ میری خوش قسمتی کہ میں نے خاور خان نیازی کی بات فوراً مان لی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر استاد بدر الزمان صاحب سے ملاقات کا وقت بھی مل گیا۔ اور سنیچر 14 اکتوبر 2023 کو بالآخر میری ملک کے اس مایہ ناز کلاسیکی گلوکار، موسیقار اور کلاسیکی موسیقی کے موضوعات پر کئی کتابیں لکھنے والے استاد بدر الزمان صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ استاد موصوف کی ان موضوعات پر اردو زبان میں کتابیں پاکستان میں اور ملک سے باہر سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کون کون سی کتابیں لکھیں؟ خود استاد صاحب کی شروعات کیا تھیں؟ اس پر خوب باتیں ہوئیں۔ ان کے چھوٹے بھائی قمر الزمان جو اب اس دنیا میں نہیں رہے ان کے بارے میں بھی بات ہوئی۔
” جی بسم اللہ! بڑی زحمت کی اور آپ تشریف لائے۔ بڑا اچھا لگا۔ ظاہر ہے ہمارا حوالہ تو موسیقی کا ہی ہے۔ حالانکہ میرا خاندانی تعلق موسیقی سے نہیں۔ ہمارا خاندان 825 سال سے لاہور کا رہنے والا ہے۔ ہمارے بزرگ بیکانیر سے ہجرت کر کے کشمیر آئے پھر وہاں سے حجرہ شاہ مقیم آ گئے۔ رہی موسیقی تو اس کا تو ہمارے خاندان میں دور دور کوئی تعلق نہیں۔ مجھے خود بھی کوئی شوق نہیں تھا“۔
” ارے! “۔ میں نے حیرت سے کہا۔
”جی ہاں! ہر ایک کام کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ میں تو ضد کے تحت موسیقی کے میدان میں آیا۔ ہوا یہ کہ میں اپنے دفتر کے ایک ساتھی کے ساتھ کلاسیکی موسیقی سکھانے کے ادارے میں جاتا تھا۔ وہ سیکھتا تھا میں شوقیہ دیکھتا تھا۔ ایک مرتبہ کسی وجہ سے (تفصیل بعد میں) استاد نے مجھے بے عزت کر کے نکالا۔ اسی وقت میں نے دل میں ٹھان لی کہ میں تو طبلے باجے کے ساتھ گا کر دکھاؤں گا! وہ جو ایک گانے کے چکر میں پڑا تو آج ساٹھ پینسٹھ سال ہو گئے اس سے نکل ہی نہیں پایا! ”۔
”بڑی عجیب بات کہہ دی استاد صاحب!“۔ میں بے ساختہ بولا۔
” ہمارا تو کپڑے کا خاندانی کاروبار تھا۔ میرے دادا کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا یعنی ہمارے تایا شیخ شجاع الدین پیدا ہوئے تو دادی کا انتقال ہو گیا۔ تب دادا نے دوسری شادی کر لی۔ پھر اس میں سے آگے اولاد پھیلی۔ میرے والد صاحب، ان کے 6 چھوٹے بھائی اور ایک ہماری پھوپھی تھیں۔ لیکن میری پرورش بڑی پھوپھی محمدی بیگم جو ہمارے دادا کی پہلی بیوی سے تھیں، ان کے پاس ہوئی۔ میں اپنے خاندان کے ہم عصروں میں سب سے بڑا تھا۔
میرے دادا میری پیدائش پر بہت خوش ہوئے۔ بڑے ناز نخرے اٹھائے گئے۔ دادی نے مجھے پہلے ہی دن سے گود لے لیا۔ میری والدہ کو کہہ دیا گیا کہ تو اسے دودھ پلا دیا کر، بچہ میرے پاس رہے گا۔ وہ کوئی سماجی ظلم نہیں تھا بلکہ پہلے بچے کو دادی پالے۔ یہ رواج تھا۔ میری دادی حافظ قرآن تھیں۔ انہوں نے مجھے جتنا بھی کلام پاک پڑھایا وہ مجھے کبھی نہیں بھولا ”۔
” پھر میں نے 70 سال کی عمر میں دوبارہ قرآن شریف پڑھنا شروع کیا۔ وہ ایسے کہ میں نے ایک کتاب لکھنا شروع کی جس کا آغاز کن فیکون سے کرنا تھا۔ کتاب میں لکھنا تھا کہ دنیا میں سب سے پہلی آواز کون سی تھی؟ اس بات میں کسی مذہب میں اختلاف نہیں کہ دنیا بنی ہی ایک آواز سے تھی۔ وہ خالق کائنات کی آواز تھی۔ ہمارے ہاں قاری صاحب بچوں کو پڑھانے آتے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کن اور فیکون قرآن میں کتنی مرتبہ آیا ہے؟
وہ تو پریشان ہو گئے کہ ایک گانے والا یہ سوال کیوں پوچھ رہا ہے! کہنے لگے کہ بڑے قاری صاحب سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ پھر بڑے قاری صاحب سے مولانا صاحب تک پھر مولانا صاحب سے مفتی صاحب پھر ان سے علامہ صاحب۔ کرتے کرتے مہینہ ہو گیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ تو خود ہی پڑھ لے! یہ بات میرے دماغ میں اللہ نے ڈالی۔ میں نے قاری صاحب سے کہا کہ میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں لیکن میری کلاس بچوں سے الگ ہو گی۔ یوں میں نے اللہ کا کلام پڑھنا شروع کیا۔ اس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی یوں میں نے ناظرہ قرآن پڑھ لیا ”۔
” استاد صاحب! آپ نے کلام پاک موسیقی کی وجہ سے پڑھا۔ کیا مختلف زبانیں بھی آپ نے موسیقی کی وجہ سے ہی سیکھیں؟“۔
” ہاں بالکل میں نے کلام اللہ موسیقی کی وجہ سے پڑھا! رہا سوال کہ مختلف زبانیں سیکھنے میں موسیقی کیسے ذریعہ بنی تو فارسی زبان میں نے آٹھویں جماعت میں پڑھی۔ لیکن مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ کسی وقت یہ زبان میرے کام بھی آئے گی! جب کالج میں داخلہ لیا تو وہاں بھی ایک مضمون فارسی کا تھا۔ لیکن جب میں موسیقی میں پڑا تو علم ہوا کہ ایرانی اور عربی میوزک بھی ہے! میرے پاس کہیں سے بغیر اعراب کے، عربی زبان کی موسیقی کی میوزک شیٹس آئیں۔ میں ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو ان کو پڑھ سکے۔ میں اس پر کام کرنا چاہتا تھا کیوں کہ یہ بھی ہمارا مسلم ورثہ ہے جس کو محفوظ ہونا چاہیے۔ تو اس سے میرا عربی سمجھنے کا شوق بڑھا۔ پھر میں نے عبرانی زبان بھی تھوڑی سی سیکھی۔ میرے پاس فارسی زبان میں ’تحفہ ہند‘ کا ایک مسودہ ترجمے کے لئے آیا۔ ہمارے استاد، خورشید بھائی کہنے لگے کہ یہ تو فارسی میں ہے اور اس کو کوئی پڑھ نہیں سکتا۔ میں نے اسے دیکھا اور کہا کہ یہ کام کوئی کرے گا بھی نہیں! کیوں کہ فارسی زبان جاننے کے ساتھ ساتھ ترجمہ کرنے والے کو میوزک جاننا ضروری ہے۔ حالانکہ کسی صاحب نے تھوڑا بہت ترجمہ کر رکھا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ کام میں کر لوں گا۔ اس میں آٹھ ابواب تھے۔ اس کا پانچواں باب موسیقی کے بارے میں تھا۔ میں نے پانچ ابواب چن لئے۔ جاوید قریشی صاحب، اس وقت چیف سیکریٹری اور شاعر (آشیانے کی بات کرتے ہو، دل جلانے کی بات کرتے ہو) کو میں نے اپنا یہ کام دکھایا اور ان سے اس کا تعارف لکھنے کی درخواست کی۔ انہوں نے بڑی عزت بخشی اور کتاب کا تعارف لکھا۔ جاوید قریشی صاحب بڑے پیارے آدمی تھے۔ پھر یہ کام ہوا اور وہ کتاب شائع ہوئی۔ ”۔
” فارسی کے بعد اسی طرح تمام تر ہندوستانی ادب سنسکرت (دیو ناگری) میں تھا۔ میں یہ لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا۔ میں نے اس زبان کی بھی الف بے سیکھی پھر جملے بنانے بھی سیکھ لئے۔ اب میں وہ بھی پڑھ لیتا ہوں! اب گورمکھی کا کیا کریں؟ پھر اس کو بھی میں نے پڑھا۔ کیوں کہ میں نے پنجابی زبان میں آنرز کر رکھا تھا لہٰذا کوئی زیادہ دقت پیش نہیں آئی“۔
” میں نے 2007 میں دہلی، ہندوستان میں پنجابی زبان میں کچھ کلام سنایا تو مجھے اس کا بہت مثبت رد عمل ملا۔ گانے کے دوران ایک بچہ میرے پاؤں کے پاس آ کر گر گیا۔ پیارا بچہ تھا۔ میں نے جلدی سے اسے اٹھایا۔ جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھنے والی اس کی ماں کہنے لگی کہ اسے آپ نہ اٹھائیں یہ آپ کے چرن چھو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ بی بی یہ ہمارا بچہ ہے اور ہم بچوں کو سینے کے ساتھ لگاتے ہیں۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ آپ کون سی بھاشا میں گا رہے ہیں لیکن یہ جانتی ہوں کہ جو آپ نے گایا ہے وہ دل کو چھو لینے والا ہے۔
یہ میرا بچہ 12 سال سے گونگا تھا، اب آپ کے اس گانے کے دوران اس نے مجھے ماما کہہ کر پکارا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں! اللہ نے اس بچے کو زبان ملنا شاید اسی وقت کے لئے مقرر کیا تھا۔ شعر یا کلام کو اگر سمجھ کر گائیں تو وہ تاثیر رکھتا ہے۔ تب سے میں نے سوچ لیا کہ پر تاثیر پنجابی کلام بھی پیش کروں گا۔ اس سے پنجابی زبان بھی بچ جائے گی، بابا فرید، بابا بلھے شاہ، سلطان باہو صاحب، میاں محمد صاحب، وارث شاہ صاحب یہ سارے سنبھالے جائیں گے! پھر ان کے کلام میں ایسے ایسے الفاظ ملتے ہیں ان کو پڑھ کر جو نشہ ہوتا ہے وہ کچھ نہ پوچھیں! ”۔
” میں تقریباً 3000 پنجابی کمپوزیشنز پر کام کر چکا ہوں جو لکھی بھی خود اور گائیں بھی خود ہیں۔ ان کے راگ بھی انوکھے اور غیر معمولی ہیں۔ بھئی اگر آپ نے ایک چیز ایجاد کی تو کیا یہ جرم کر دیا؟ یہ کہنا غلط ہے کہ فلاں نے نئی چیز کی تو کیا وہ اپنے آپ کو پھنے خان سمجھتا ہے! “۔
” پہلی کافی پنجابی زبان کی ہے جو گرو نانک جی نے لکھی۔ انہوں نے تین کافیاں لکھیں۔ سندھی کافی بہت بعد میں شروع ہوئی۔ میں نے بھی گرو نانک جی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے کہ مجھے ابھی تک اپنی تحقیق میں پنجابی زبان میں اولین کافی یہی ملی ہے۔ گویا گرو نانک جی نے اس طرح موسیقی میں ایک نئی صنف متعارف کرائی۔ وہ ایک رجحان ساز شخصیت تھے۔ گرو گرنتھ صاحب کے کیرتن میں بھی بابا فرید کا ذکر آتا ہے۔ سرائیکی زبان میں بھی اچھا کلام ہے جو کئی بحروں میں ہے“۔
” آپ کا خاندانی کاروبار کپڑے کا تھا اور آپ سے توقع کی جاتی تھی کہ وہاں بیٹھیں۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ کلاسیکی موسیقی جیسے مشکل کام میں کیوں ہاتھ ڈالا؟“۔
” جناب اعلیٰ! بات یہ ہے کہ ہر کام کی کوئی نا کوئی وجہ ہوتی ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے انارکلی لاہور میں مسلمانوں کی صرف دو دکانیں تھیں۔ ایک بمبے کلاتھ ہاؤس انارکلی اور دوسری مسلم کلاتھ ہاؤس جو میرے والد صاحب کی تھی۔ میرے دادا نے مجھے پانچویں تک پڑھایا پھر وہ فوت ہو گئے۔ اس کے بعد میری بڑی پھوپھی نے ذمہ داری لے لی۔ حالانکہ خود میری پھوپھی اور پھوپھا ان پڑھ تھے۔ لیکن اس دور میں بھی انہوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ ترین تعلیم دلوائی۔
دسویں جماعت میں پہنچنے تک میری پھوپھی اور پھوپھا بھی فوت ہو گئے۔ میں نے جب میٹرک کر لیا تو دکان پر جانے کا کہا گیا جب کہ میری طبیعت دکان پر بیٹھنے کے لئے موزوں نہیں تھی۔ اس پر میرے والد صاحب نے کپڑے کا ایک تھان اور اسے ناپ کے دینے کے لئے ایک ’گز‘ پکڑا دیا۔ تاکید کی اتنے پیسوں میں بیچ کر فلاں وقت تک آنا ہے۔ ہم سب والد صاحب کے سامنے بول نہیں سکتے تھے۔ مجھے گلی میں کپڑا بیچنا آتا ہی نہیں تھا۔ میں مطلوبہ وقت سے پہلے اور جتنے پیسوں کا کہا تھا اس سے زیادہ پیسے لے کر آ گیا۔ والد خوش ہوئے کہ شیخوں کا بچہ ہے بڑا کاروباری ہو گیا! انہوں نے کہا کہ کل سے دکان پر بیٹھا کرو۔ میں نے کہا کہ یہ رہی قینچی، یہ رہا گز! میں نے دکان پر نہیں بیٹھنا۔ والد صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور گھر سے نکال دیا۔ میں مکان کے باہر ستون کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور ساری رات سردی میں کاٹی۔ والد صاحب صبح دکان پر چلے گئے اور کہہ گئے کہ اب اسے گھر میں نہیں رکھنا۔ خود کمائے خود کھائے ”۔
” ہائیں! “۔ میں نے بے ساختہ کہا۔
” مرتا کیا نہ کرتا۔ میں نے موٹر سائیکلوں کا کام کیا جب کہ میں کالج میں پڑھنا چاہتا تھا۔ دھوپ میں پیدل جاتا۔ موٹر سائیکلوں والا کام جلد ہی چھوڑ دیا۔ اس کے بعد چوبرجی میں واقع سیون سیز پلاسٹک انڈسٹری میں کام مل گیا۔ میں موچی دروازے سے پیدل جاتا تھا۔ مجھے وہاں ایک روپیہ روزانہ ملتا۔ وہاں بھی چند دن ہی گیا! جو پیسے ملے وہ میں نے اپنی ماں کو دے دیے۔ مجھے کہا گیا کہ خرچہ گھر میں دو اور خود کماؤ تو کھاؤ۔ اللہ نے کرم کیا اور ایک جگہ مجھے 125 روپے مہینہ تنخواہ پر کام مل۔ میں تو رئیس ہو گیا! پہلی تنخواہ اپنے والد کو لا کر دی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ماں کو دے۔ اس کے بعد مجھے کہا کہ گھر کا آدھا خرچا دو“۔
” میرا 12 بجے سے ایک بجے دوپہر تک کھانے کا وقفہ ہوتا۔ میں تو پانچ منٹ میں کھانا کھا لیتا تھا۔ باقی دفتر والوں سے میری ہم آہنگی نہیں تھی البتہ ایک لڑکا وقفے میں گانا سیکھنے جاتا تھا۔ میں اس کے ساتھ چلا جاتا حالانکہ مجھے موسیقی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بس وقت گزارنے جاتا تھا۔ گانا ایسی چیز ہے جو ہر شخص کو اچھا لگتا ہے۔ وہ لڑکا کلاسیکل موسیقی سیکھتا تھا۔ مجھے بھی تین چار راگوں کا پتا چل گیا کہ یہ بھیرو ہے، یہ بھیرویں ہے۔
ایک دن بہت بارش ہو رہی تھی میں نے انگلینڈ کے کپڑے، شارک اسکن کا ہلکے کریم رنگ والا سفاری سوٹ پہن رکھا تھا۔ نیچے کالے سفید جوتے۔ موسم کی مناسبت سے میں نے راگ ’بسنتی‘ سنانے کی فرمائش کر دی۔ استاد صاحب نے اپنی عینک کو نیچے کر کے مجھے غور سے دیکھا اور میرے دوست کو کہا کہ اس اتائی کو یہاں سے نکالو۔ یہ تو راگ ہی چرا کر لے جائے گا! اس کو راگ کا نام یاد کیسے ہوا؟ اب باہر بارش ہو رہی تھی اور میرا سوٹ بالکل نیا تھا۔
مجھے اپنی بے عزتی پر کوئی پریشانی نہیں تھی۔ اگر تھی تو وہ اپنے اس نئے سفاری سوٹ کی تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ اب کل سے میں یہاں بے عزت ہونے نہیں آؤں گا۔ ہاں! البتہ اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ گانا بغیر سازوں کے نہیں ہوتا! اگلے روز میں نے اس دوست سے کہا کہ تجھے باجے طبلے کے ساتھ گانا آج تک نہیں آیا مگر چاہے میں ایک گانا گاؤں، میں طبلے باجے کے ساتھ گا کر دکھاؤں گا! ”۔
” ارے؟“۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔
”مجھے تو اس وقت موسیقی کی الف ب کا بھی پتا نہیں تھا! (قہقہہ) ! ہمارا گھر بہت بڑا تھا۔ گھر کے پورے نچلے حصے کو بیٹھکیں کہتے تھے۔ ان میں دو سو افراد آرام سے آ جاتے تھے۔ وہ ہر وقت کھلا ہوتا خاص طور پر شام کو! یہاں شعر و ادب کی محافل اور مشاعرے ہوتے تو کبھی داستان امیر حمزہ سنائی جاتی“۔
” کیا آپ کے والد صاحب کو ان کا شوق تھا؟“۔
” نہیں والد صاحب کا ایسا کوئی شوق نہیں تھا۔ یہ تو محلے کے بزرگ تھے جو خود ذوق و شوق سے اس کا اہتمام کرتے۔ ان دنوں ایسا نہیں تھا کہ آپ کا گھر ہے اور وہاں کوئی آ نہیں سکتا۔ ایسی بیٹھکیں پورے محلے کی مشترکہ ہوتیں! اس کے نیچے ٹوائلٹ الگ اور غسل خانے الگ سے بنے ہوئے تھے۔ گرمیوں میں لوگ نہانے دھونے آتے رہتے تھے۔ ہم لوگ چائے، لسی پانی پوچھنے کے لئے بہانے جاتے رہتے۔ یہ بھی کوشش ہوتی کہ کسی سے جان پہچان پیدا کر کے بیٹھنے کی کوشش کی جا سکے“۔
” اب سوال یہ تھا کہ گانا سیکھا کس سے جائے؟ اس وقت گلیوں میں فقیر گھومتے رہتے تھے۔ کسی نے گلے میں سارنگا ڈالا ہوا، کوئی ہارمونیم ڈالے ہوئے، کوئی ہاتھ میں ڈفلی پکڑے۔ ایسا ہی ایک سارنگی والا فقیر ہمارے محلے میں بھی آتا تھا۔ میں اس کے پیچھے چل دیا لیکن خیال آیا کہ گلیوں میں مانگنے والا میرا موسیقی کا استاد کیسے ہو سکتا ہے؟ موچی دروازے کے پاس ایک درگاہ (اب بھی) ہے، وہاں ایک شخص باجے کے ساتھ گاتا اور لوگ اس کو سکے دیتے۔
میں نے کہا کہ یہ بھی مانگتا ہے لہٰذا یہ بھی استاد نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک مرتبہ ہماری بیٹھک میں ایک مہمان بیٹھے تھے۔ مجھ سے پوچھا کہ تم اداس کیوں ہو؟ میں نے کہا کہ میری بڑی بے عزتی ہوئی ہے اور میں بدلہ لینا چاہتا ہوں؟ پوچھا کہ کیسے؟ میں نے کہا کہ گانا سیکھ کر! فقیروں اور قبروں کے پیچھے جا رہا ہوں لیکن اگر وہ واقعی استاد ہوتے تو قبروں پر بیٹھ کر نہ مانگتے! مہمان نے کہا یہ سب چھوڑو یہ اچھی چیز نہیں! آرام سے نوکری کرو، اس گانے سے تجھے کیا لینا؟ میں نے کہا نہیں جی میں تو یہ کام ضرور ہی سیکھوں گا! میں نے ہوا میں ایک تیر چلایا! ان صاحب سے کہا کہ آپ ہی مجھے کچھ سکھا دیں؟ مجھے علم نہیں تھا کہ ان کو گانا آتا بھی ہے کہ نہیں! وہ تو پڑھے لکھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا تو نہ جانے میرے پیچھے کیوں پڑ گیا ”۔
” پھر ایک دن، جسے آج مینار پاکستان کہتے ہیں۔ منٹو پارک۔ وہ مجھے وہاں لے گئے۔ کہنے لگے کہ چلو میری آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاؤ۔ انہوں نے کہا ’آ‘ میں نے بھی ’آ‘ کہا لیکن سر میں خاصا فرق تھا۔ انہوں نے میرے ہی سر میں دوبارہ آ کہا اور مجھے بھی کہنے کو کہا۔ اب کی مرتبہ بھی میری آ کا سر ان کی آ سے الگ تھا۔ انہوں نے سر توڑ کوشش کر ڈالی لیکن میرے سر نے ان کے سر سے مل کر ہی نہیں دیا اور وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ کہنے لگے کہ بدر! بیٹا تو پاگل ہو یا نہ ہو میں ضرور ہو جاؤں گا! (قہقہے)۔ یہ تیرے بس کا کام نہیں! میں نے بھی دل جمعی سے کہا کہ میں تو یہ کر کے ہی رہوں گا! انہوں نے کہا کہ بیٹے تیرے کانوں میں تو ’سماعت’ ہی نہیں! میں نے پوچھا کہ یہ سماعت کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے کچھ بتایا جو میرے سر پر سے گزر گیا۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ چلیں پھر آپ ہی یہ سب کچھ سکھا دیں۔ اور پھر تو میں ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے ہی پڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا تجھے قیامت تک گانا نہیں آ سکتا! ”۔
” ان دنوں پانی کے لئے کنواں استعمال ہوتا تھا۔ ایک دن میں ان صاحب کو کنویں کے پاس لے گیا اور کہا کہ آپ کو ایک چیز دکھانا ہے۔ وہاں ایک لال پتھر پر عورتیں گھڑے رکھ کر پانی سے بھر رہی تھیں۔ ان گھڑوں کے رکھنے سے ایک باقاعدہ گڑھا بن چکا تھا۔ حالانکہ یہ مٹی کے بنے ہوئے تھے اور وہ ایک پتھر۔ میں نے کہا کہ جناب اس مٹی کے گھڑے میں اتنی طاقت ہے روز ایک جگہ رکھ رکھ کے پتھر پر اپنے پیندے سے ایک پیالہ نما بنا دیا ہے۔ اگر گھڑے کے پیندے میں یہ چیز آ سکتی ہے تو مجھ میں کیوں نہیں آ سکتی؟ شاید وہ قائل ہو گئے۔ روزانہ مجھے رات کو ڈیڑھ بجے (سردیوں کے دن تھے) اٹھا کر منٹو پارک میں لے جاتے اور میرا سبق شروع ہو جاتا۔ صبح لوگوں کے اٹھنے سے پہلے واپس آ جاتے“۔
”سردیوں کی شدت دیکھتے ہوئے میرے استاد کہنے لگے کہ ہمیں کوئی جگہ لینا چاہیے۔ میو اسپتال کے چوک سے ایک راستہ ریلوے روڈ جاتا ہے وہاں پیرس ہوٹل کی عمارت میں بجلی اور واش روم کی سہولت کے بغیر 25 روپے مہینے کمرہ کرایہ پر لے لیا۔ استاد کہتے کہ ساری رات مشق کر کے صبح گھر چلے جایا کرو۔ انہوں نے میرے چھوٹے بھائی قمر کو بھی ساتھ لگا لیا۔ میں نے کہا بھی کہ اسے تو قطعاً موسیقی سے کوئی رغبت نہیں۔ وہ تو خان محمد اور فضل محمود صاحب کے بعد والی کرکٹ ٹیم میں تھا۔
لیکن وہ مصر رہے۔ اب میں اور قمر روزانہ اپنے بستروں پر تکیے، چادر اور لحاف ڈال اور کمرے کا دروازہ بھیڑ کر کر بالکونی کے راستے پیرس ہوٹل، گوالمنڈی چلے جاتے۔ وہاں کمرے میں روشنی کے لئے گھی کے خالی کنستروں میں مٹی کے تیل سے موٹی رسیوں کو جلاتے تھے۔ ایک دن مٹی کی تیل کی بو سے ہم دونوں بھائیوں کو ساری رات الٹیاں آتی رہیں۔ دن چڑھ گیا۔ ادھر گھر میں والد صاحب کو علم ہو گیا کہ کمرے سے تو دونوں بیٹے غائب ہیں اور بستروں پر تکیوں کے اوپر لحاف ڈالے ہوئے ہیں۔
والد صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ ہم میں تو اٹھنے کی سکت نہیں تھی۔ ہم دونوں تقریباً صبح نو بجے گھر آئے۔ آتے ہی جوتوں کی وہ برسات ہوئی کہ والد صاحب نے دونوں کو گھر سے نکال دیا (قہقہے)۔ میں تو ان پر بوجھ تھا ہی نہیں! رشتہ داروں کو بیچ میں ڈالا اور صلح صفائی ہو گئی نیز یہ بھی طے ہو گیا کہ موسیقی وغیرہ کا شوق اب ہم دونوں بھائی گھر ہی میں پورا کریں گے! میرے اور قمر کے کمرے کے ساتھ ایک کمرہ تھا جس سے باہر گانے کی بالکل کوئی آواز نہیں جاتی تھی”۔
” اسی دوران اس لڑکے کو بھی پتا چل گیا کہ ہم دونوں بھائی گانا سیکھ رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب اساتذہ کرام اپنے شاگردوں کو محنت سے تیار کروا کر اپنے علاقے کے تمام پیشہ ور استاد اور میوزیشنوں کو بلا کر ایک پروگرام کرواتے جس کا نام ’دنگل‘ تھا۔ اس دنگل میں پیش ہونے والے شاگردوں کے گانے یا بجانے پر کچھ بات ہوتی اور مفید مشورے دیے جاتے۔ پھر سب آنے والوں کو کھانا کھلایا جاتا، نذریں پیش کی جاتیں۔ اسی تقریب پر ’نئے‘ فنکاروں کی آئندہ زندگی کا دار و مدار ہوتا تھا۔ اگر وہ فنکشن سپر ہٹ ہو گیا تو وہ گلوکار اپنے علاقے میں مستند قرار پاتا۔ اس وقت محلوں میں اس پائے کے چند ہی فنکار ہوتے تھے“۔
”جب ہماری پبلک میں گانا سنانے کی باری آئی تو استاد نے کہا کہ یہاں جتنے لوگ بیٹھے ہیں انہیں نذرانے پیش کرو۔ وہ پیش کر دیے گئے۔ جب ہم (بھائیوں) نے گانا شروع کیا تو ہمارے دونوں استادوں کی نظریں ہی بدل گئیں! حاجی فیض علی صاحب کی بھی اور استاد بھائی نصیرا جو پکھاوج اور طبلہ بجانے میں اپنی مثال آپ تھے۔ کہنے لگے بدر! آج لحاظ وغیرہ نہیں ہونا! میاں آج اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہے۔ لوگ یہ نہ کہیں کہ نصیرا لیوی کا گڈا (پتنگ چپکانے کے لئے لئی) لے کر بیٹھ گیا ہے۔ ہم نے اللہ کا نام لے کر اپنے پروگرام کا آغاز کیا۔ میرے ہاتھ میں تان پورہ تھا، پبلک کو سامنے دیکھ کر خوف اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے اس کی مجھے آواز ہی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اللہ کے کرم سے گانا اچھا ہو گیا۔ استاد صاحب بڑے خوش ہوئے۔ سب سے بڑھ کر اس لڑکے کو بھی پتا چل گیا کہ ہم دونوں بھائی گانا گا رہے ہیں، پھر ہم دونوں نے اس کو اپنے گھر بلوا کر گانا سنایا۔ پھر اس نے اپنے ان استاد کو یہ ماجرا سنایا جس پر استاد صاحب نے بھی کہا کہ انہوں نے مجھے غلط ڈانٹا تھا ”۔
”پھر ہم بھائیوں نے دور اور نزدیک کے چھوٹے موٹے پروگراموں میں جانا شروع کر دیا۔ تب ہی ہمیں علم ہوا کہ ریڈیو پاکستان لاہور میں ہر ماہ کے پہلے پیر کو گلوکاروں کا آڈیشن ہوتا ہے۔ میں اور قمر الزمان دونوں آڈیشن دینے چلے گئے لیکن ہمارے استاد صاحب ساتھ نہیں گئے۔ ہمیں ان کے بغیر کہیں جانے اور گانے کی عادت ہی نہیں تھی۔ ریڈیو پاکستان لاہور میں 150 حصہ لینے والوں میں صرف ہم دونوں بھائی ہی منتخب ہو سکے! “۔
” گزارش یہ ہے کہ پاکستان کی چیزوں کو ہم پاکستانیوں نے خود تباہ کیا ہے! جب ہم پڑھتے تھے تو پنجاب یونیورسٹی میں میوزک کا شعبہ تھا ہی نہیں۔ خادم محی الدین صاحب کے دور میں تو میٹرک میں بھی میوزک تھا۔ میں نے اس کے لئے ’تشکیل موسیقی‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ حیرت ہے کہ میٹرک کے بعد ایف اے، بی اے اور ایم اے میں میوزک کا مضمون آیا ہی نہیں۔ پھر بقول پنڈت دیا شنکر نسیمؔ :
لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
اور اچانک پنجاب یونیورسٹی میں موسیقی کا شعبہ بن گیا۔ میں نے بھی موسیقی کے اس نئے شعبے میں داخلہ لینے کے لئے اپنا نام بھیجا۔ جب معلوم کیا کہ پڑھانے کے لئے ٹیچر کون ہیں؟ تو پتا چلا کہ کوئی بھی نہیں! وہاں شوکت خاں کے لڑکے کو چھوڑ کر ایسے ایسے طبلے والے رکھے ہوئے تھے جن سے کہو کہ تین تال کا ٹھیکہ سناؤ تو دھا دھن دھن دھا۔ کے بجائے دھا دھا دھا دھا سنائیں۔ ان بے چاروں کو تو دھا اور دھن کا فرق ہی معلوم نہ تھا اور یہ سب پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ موسیقی میں ملازم تھے۔ وہاں دو چار چھوٹے چھوٹے گانے والے استاد تھے جن کا سرے سے کوئی بھی تجربہ نہیں اور ان میں صحیح معنوں میں ایک بھی باقاعدہ میوزک کا آدمی نہیں تھا۔ ان کی نوکری ملنے کی سند اور اہلیت یہ تھی کہ لتا منگیشکر ان گھر کے پاس رہتی تھیں۔ فلاں ہمارے محلے کا تھا۔ ارے بھئی یہ تو بتائیں کہ خود آپ کیا ہیں؟ ایک صاحب نابیناؤں کے اسکول میں میوزک کے ٹیچر تھے اور چھوٹی سی میوزک اکیڈمی کھولی ہوئی تھی۔ اور تو اور سڑک سے ایک بانسری والا بھی پنجاب یونیورسٹی میں ٹیچر بھرتی کر لیا گیا (حیرت کا اظہار)۔ پھر وہاں ایک ٹیچر ایسے بھی تھے (ہنستے ہوئے) ان کا نام لینا مناسب نہیں، جو خود کہتے کہ مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا تھا لہٰذا مجھے یہاں میوزک ٹیچر لگوا دیا گیا! اب جس ٹیچر کی اپنی قابلیت اور پھر شعبہ کی قابلیت صفر ہو وہ پنجاب یونیورسٹی میں موسیقی کے شعبہ کا ٹیچر ہو جائے۔ لاحول ولا قوۃ! مجھے کہا گیا کہ آپ ہی پڑھا دیں۔ پھر میں نے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھایا۔ پھر چھ مہینے کے بعد میرا انٹرویو ہوا۔ تب مجھے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی مل چکا تھا ”۔
” آپ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ موسیقی میں طبلہ والوں کا پوچھیں تو آپ کو ذاکر خان صاحب سے بڑے طبلے والے ملیں گے! آپ رقاص کی بات کریں تو وہی طبلہ نواز ڈانسر بھی ہے، وہی شخص کیمرہ مین ہے، وہی آدمی میوزک ٹیچر ہے اور وہی نعت خواں بھی! ماسٹر آف آل ٹریڈز۔ انہیں موسیقی کی ابجد معلوم نہیں۔ میں نے وہاں 12 سال پڑھایا۔ کوئی چھٹی نہیں کی۔ انڈین میوزک ہسٹری میں نے پڑھائی، قبل از تاریخ میوزک ہسٹری میں نے پڑھائی، مسلم میوزک ہسٹری میں نے پڑھائی، ویسٹرن میوزک ہسٹری پڑھائی، کون کون سی میوزک ہسٹری میں نے نہیں پڑھائی! انہیں خود کچھ نہیں آتا تھا! پنجاب یونیورسٹی والے بھی عجیب لوگ ہیں! مجھے یہ صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور دیگر ایوارڈ، کلاسیکی موسیقی میں ملے تھے کوئی شعبدے بازی میں تو نہیں! میں اب تک موسیقی سے متعلق 14 کتابوں کا مصنف ہوں! دنیا کی کون سی یونیورسٹی ہے جہاں میری کتاب نہیں پڑھائی جاتی؟“۔
”پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ موسیقی میں کیا آپ کے شاگرد آگے آئے؟“۔
” میں نے اپنے شاگردوں کو یونیورسٹی کے موسیقی کے شعبے میں ملازمتیں دلوائیں! دلکش عائشہ کو جاب دلوائی، توحید احمد کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی جاب دلوائی، غلام عباس۔ کس کس کو میں خود لے کر نہیں گیا کہ یہ ملازمت کے اہل ہیں! کیوں کہ سب ہی کو پتا تھا کہ بدر الزماں کبھی کسی کا غلط تعین نہیں کرتا!“۔
” بدر الزماں صاحب آپ نے پنجاب یونیورسٹی میں جتنا عرصہ پڑھایا، خود آپ کو کوئی بونس یا انعام ملا؟“۔
” انعام اور بونس؟ ارے انہوں نے تو میری 17 مہینوں کی تنخواہ مار لی!“۔
” کچھ آپ کی کتابوں کا ذکر ہو جائے“۔
” میری کتابیں اردو میں ہیں۔ پاکستان میں شرح خواندگی ہے ہی نہیں۔ یہ تو جاہلوں کا ملک ہے جہاں کتاب کی اہمیت کی بات ہی نہیں کی جاتی۔ ارے مذہب کو چھوڑیں انسانی سطح پر بات کیجئے۔ اولین کتابیں کیا تھیں؟ ان کے لکھنے والے کون؟ اللہ تعالیٰ! آگے ان کے پبلشر تھے۔ پہلا ایڈیشن تورات کا آیا، دوسرا ایڈیشن زبور کا آیا، تیسرا ایڈیشن انجیل آیا اور چوتھا حتمی اور کمپیکٹ ایڈیشن کلام الہیٰ۔ کہا گیا تم نے ان سب کتابوں پر ایمان رکھنا ہے! کیوں کہ وہ احکام الہیٰ تھے۔ ہم پاکستانیوں نے ان باتوں پر کون سا عمل کر لیا؟ ہمارے بنی ﷺ کا آخری خطبہ کیا ہے؟ پوری انسانیت کو ایک سبق، ایک لائن اور نشان دے دیا کہ اس سے تم نے نہیں ہٹنا! اب پنجاب یونیورسٹی کو میرے پیسے مارنے کا کیا حق تھا؟ مجھے تو یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے شعبے میں رکھا تھا؟ میرا تو کیس ہی سنڈیکیٹ میں جانا تھا۔ لعنت ہے ایسے کام پر جہاں عزت ہی نہ ہو! آپ بتائیں پنجاب یونیورسٹی میں کون سا ناجائز کام ہے جو وہاں نہیں ہوا؟ جہانگیر بدر کو اس کے گھر میں جا کر کیا کیا کروا کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی! وہ اس سلسلے میں کیوں چپ ہیں؟ میری کتابیں الحمدللہ، دنیا بھر میں پڑھائی گئیں! ”۔
” ہندوستان میں بھی؟“۔
” ہندوستان میں کس کے پاس میری کتابیں نہیں ہیں! میری لکھی ہوئی کتابیں سب سے زیادہ ہندوستان میں ہی جاتی ہیں۔ میں تو موسیقی کو عام فہم کرنے کے لئے کام کر رہا ہوں تا کہ وہ خوب پھیلے“۔
ایک موقع پر استاد بدر الزمان صاحب نے بتایا : ”میں نے اپنے پیسوں سے اپنی لکھی ہوئی کتابیں چھپوائی ہیں“۔ جس پر بے ساختہ میں نے سوال کیا:
” کتابیں لکھنے اور پھر خود ہی شائع کروانے کا شوق یا پس منظر کیا ہے؟“
” یہ بڑی کمال بات آپ نے کی! میں چونکہ موسیقی کے گھرانے سے تعلق نہیں رکھتا لہٰذا ہر شخص آ کر کہتا کہ ’اتائی‘ ہے نا! اس کو کیا پتا؟ میں نے اپنی پہلی کتاب ضد پر شائع کرائی کہ تمہیں موسیقی کا کیا پتا؟ تم تو اتائی ہو! ہر جگہ ہم بھائیوں کی بے عزتی ہوتی۔ اگر کوئی شخص اپنے فن / کام کی الف ب نہ جانے اسے آپ اتائی کہہ دیں جیسے اتائی ڈاکٹر یا حکیم! حدیث مبارکہ ہے کہ خدا حسین ہے اور حسن کو پسند کرتا ہے۔ اب اگر مجھ پر یا کسی پر اللہ کا فیض ہے تو میں ایسی چیزیں کیوں نہ کروں جو اسے پسند آ جائیں؟ اسی وجہ سے میں نے 09 زبانیں سیکھیں! میوزک کی وجہ سے میں نے کلام الہیٰ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پڑھا۔ میری راہنمائی ہمیشہ میرے اللہ نے کی! مجھے میرا خدا جو حکم کرتا ہے میں وہ لکھتا ہوں۔ میں تو خود بے بس اور کم علم ہوں۔ غلط راستہ غلط ہے خواہ کسی کام میں ہو!“۔
” آپ کی پہلی کتاب کون سی تھی“۔
” اس کا پس منظر موسیقی کی ایک نایاب کتاب ’معارف نغمات‘ تھی جو بہت ڈھونڈنے پر ملی۔ یہ ایک زمانے سے شائع نہیں ہوئی تھی۔ ریڈیو پاکستان لاہور میں ہمارے دوست غلام حیدر کے پاس لائبریری کا انتظام تھا وہاں سے یہ کتاب ملی۔ لیکن اس وقت فوٹو کاپی کا رواج ہی نہیں تھا ہاتھوں سے لکھ کر نقل کی جاتی تھی۔ میں پبلشر تو نہیں تھا۔ بلیڈ سے چاک لگا اور کتاب کھول کر ایک کاتب سے لفظ بلفظ اس کی کتابت کروا لی۔ تب کتابیں لیتھو پریس پر چھپتی تھی۔ کتاب چھپ گئی اور اس کا بہترین ٹائٹل بنوایا گیا۔ اصل کتاب واپس کر دی۔ اس نئے ایڈیشن کی قیمت اتنی کم رکھی کہ ہر کوئی یہ کتاب خرید سکے۔ میں نے یہ کام اس لئے کیا تا کہ موسیقی کو عام کیا جائے۔ اس زمانے میں 5000 روپے میں شہر میں اچھا مکان مل جاتا تھا۔ میں نے کتاب شائع کروانے کے لئے اپنی زمین گروی رکھوا دی۔ میں نے وہ کتاب بعینہٖ اصل جیسی شائع کروائی کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ دو نمبر کتاب ہے۔ بڑے بڑے لوگ اس کتاب پر ہزار روپے خرچ کرنے کو تیار تھے لیکن میں نے اس کتاب کی قیمت صرف ساڑھے سولہ روپے رکھی! اللہ نے مہربانی کی اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔ جس شخص کے پاس زمین گروی تھی اس کا بس چلتا تو مجھے زندہ ہی نہ چھوڑتا اس لئے پھر میں نے محض موسیقی سے پیار اور اس کے آسان پھیلاؤ کی خاطر میں نے اپنی زمین بیچ کر اس کے پیسے ادا کر دیے ”۔
” سب سے پہلے میں اس کتاب کی پوری لاٹ لوہاری کے اندر ایک کتابوں کی دکان ’نو بہار بک ڈپو‘ میں بیچنے کے لئے لے کر گیا۔ کہا گیا کہ تختے کے اوپر کتابیں رکھ دو۔ اس نے چار آنے فی کتاب (ردی کے بھاؤ) پیسے دیے، پھر میں نے فٹ ہاتھ پر کتابیں بیچنے والوں سے بات کی جنہوں نے دو روپے فی کتاب کا مول لگایا۔ اب 14 روپے ان کو بچے۔ پرانی کتابیں بیچنے والے تو گاہکوں کو اپنی مرضی کے داموں بیچتے تھے۔ وہ مجھے گرمیوں کی تپتی دھوپ میں بارہ ایک بجے بلاتا پھر دو آنے کی ملائی والی چائے پلا کر دو دن بعد آنے کا کہہ دیتا۔
اس نے مجھے سات آٹھ مہینے اسی طرح بلوایا۔ پھر مجھے کہا کہ میں نے تمہارے جیسا صابر نہیں دیکھا! میں نے کہا کہ کیسا صبر؟ میرا تو برا وقت چل رہا تھا۔ کہنے لگا کہ تمہاری کتابوں کو بیچ کر میں نے مزنگ میں مکان بنا لیا ہے۔ میری ساڑھے سولہ روپے والی کتاب جو میں نے گیارہ روپے فی کتاب چھپوائی تھی وہ اس کو ہزاروں میں بیچتا تھا۔ خود کہنے لگا کہ میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی۔ پھر اس نے مشورہ دیا کہ اگر تمہارے پاس اب بھی سو دو سو کتابیں پڑی ہیں مجھے دے دو۔ جتنے پیسے مانگو گے میں دوں گا! نیز یہ کہ تو مرتا مر جائے تیری کتاب میں فٹ پاتھ پر کبھی بکتی نہ دیکھوں! کہنے لگ کہ فٹ پاتھ پر جو کتاب آ گئی سمجھو وہ ختم ہو گئی! اگلے دن میں نے اپنی وہ کتاب ایک گاہک کو 35 روپے میں فروخت کر دی۔ میں خود بھی حیران رہ گیا! ”۔
” یہ سب کس سال کی بات ہو رہی ہے؟“۔
” یہ 1968 کی بات ہو رہی ہے۔ موسیقار فیروز نظامی صاحب نے اس کتاب کو بہت برا بھلا کہا! حالانکہ وہ ہندوستانی موسیقی کے بارے میں میں لکھی گئی اردو میں سب سے بہترین کتاب تھی۔ اس کا پہلا ایڈیشن 1880 یا 1890 میں شائع ہوا تھا اور آخری ایڈیشن 1924 میں آیا۔ پھر ایک دن ایک شخص نے یہ کتاب مانگی۔ میں نے کہا کہ دکان دار موجود نہیں۔ کہنے لگا کہ یار کتاب پر تو تھوڑے پیسے لکھے ہوئے ہیں تم مجھے 50 روپے میں دے دو! جو میں نے دے دی۔
” لیں جناب! ہوتے ہوتے ایک دن ایسا آ گیا کہ صبح چھ بجے کوہاٹ سے ایک آدمی میرے پاس آیا۔ سلام کر کے کہنے لگا کہ موسیقی کی کتاب دو! میں نے کہا کہ کتاب تو ختم ہو گئی ہے۔ اس نے ریوالور نکال لیا! کہنے لگا کہ میں کوہاٹ سے خاص اسی لئے آیا ہوں“۔
” ارے باپ رے باپ!“۔
” جی ہاں! پہلے زمانے کے چھاپے خانے والے بڑے اچھے ہوتے تھے۔ وہ مسترد شدہ کاپیاں بھی دے دیتے تھے۔ میرے پاس بھی ایسی کاپیاں موجود تھیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے جب کاپیاں جوڑیں تو ایک مکمل کتاب نکل آئی۔ میں نے کہا کہ تمہارے سامنے کتاب جوڑی ہے اور اب تم اس کے دام ادا نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ یہ تو اب 2000 روپے کی ہے۔ اس نے جیب سے مطلوبہ رقم نکال کر دے دی۔ میں تو بادشاہ ہو گیا! میں نے کہا بیٹھو! جا کر چار آنے کی بہترین چائے کا کپ بنوایا، آٹھ آنے کے دو مکھن بند۔
میرے ساتھ ہی جلد ساز بیٹھا تھا جو دو آنے فی کتاب جلد کرتا تھا۔ وہ چوں کہ مصروف تھا لہٰذا میں نے جیب سے دو روپے نکال کر دیے تو اس نے فٹا فٹ کتاب کی بہترین جلد کر دی۔ لیکن ساتھ ہی کہا کہ دو گھنٹے اس کو کھولنا نہیں کیوں کہ جلد ابھی گیلی ہے۔ میں نے اس خریدار کو دو گھنٹے اپنے پاس بٹھائے رکھا۔ اسے بتا بھی دیا کہ تم نے دو ہزار روپے خرچ کیے ہیں لہٰذا ابھی احتیاط کرو! اسے کھانا کھلایا۔ سوا روپے کی چھوٹے گوشت کی پلیٹ آتی تھی اور دو آنے کی دو روٹیاں۔ چار آنے کی چائے بھی منگوائی۔ یہ کل ملا کر ایک روپیہ دس آنے ہوئے! میرے کوئی پانچ روپے ہی خرچ ہوئے جب کی ایک ہزار نو سو پچانوے روپے بچ رہے۔ پھر میں نے سوچ لیا کہ اب یہ کتاب شائع نہیں کروں گا! ”۔
” تقریباً ایک سال بعد شور ہوا کہ وہی کتاب دوبارہ شائع کی جائے۔ اسی اثنا میں میرے استاد نے اسی کتاب ’معارف نغمات‘ کا دوسرا حصہ شائع کروانے کے لئے دیا۔ اب لیتھو پریس کی جگہ آف سیٹ پر کتاب چھپ رہی تھی۔ مارکیٹ میں یہ بات بھی ہونے لگی کہ دوسرے حصے کے ساتھ ہی پہلا حصہ بھی ہونا چاہیے لہٰذا پہلے حصے کو بھی آف سیٹ پر کروایا۔ جب میں نے یہ دونوں کتابیں پڑھیں تو پتا چلا کہ اس میں تو صرف 156 راگوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ تب میں نے سوچا کہ مجھے تو اس تعداد سے کہیں زیادہ راگ آتے ہیں لہٰذا میں نے بھی اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ان راگوں کے بارے میں لکھنا شروع کر دیا۔ اس سے آگے کی بات کروں گا تو کوئی نئی بات ہو گی اور لوگ کتاب بھی خریدیں گے“۔
” فیصل آباد میں اس وقت ایک بڑے برآمد کنندگان اور میرے بڑے مخلص دوست میاں جاوید انوار صاحب ہوتے تھے۔ میں صبح کی بس سے ان کے پاس گیا اور کہا کہ میری کتاب چھپ کر آئی ہے۔ سب سے پہلے آپ کو دینے آیا ہوں۔ ان کا میوزک سے کوئی واسطہ نہیں تھا پھر بھی کہنے لگے کہ میں جانتا ہوں کہ تم نے جو کام کیا ہے وہ کوئی نہیں کر سکتا۔ چائے اور کھانے کے بعد جب میں جانے کے لئے اٹھا تو انہوں نے ایک لفافہ دیا جس میں 3500 روپے تھے۔ کہنے لگے کہ سو افراد کو میری جانب سے یہ کتاب تحفہ کر دینا۔ میں نے کہا ایک شرط پر دوں گا کہ یہ کتاب آپ کے وزیٹنگ کارڈ کے ہمراہ تقسیم کی جائیں! سچ کہتا ہوں کہ 29 ویں دن میرے ریکارڈ میں اس کتاب کی ایک بھی کاپی نہیں رہی! ”۔
” ارے! ساری فروخت ہو گئیں؟“۔ (حیرت سے) میں نے سوال کیا۔
” اس کتاب کو تو جیسے پر لگ گئے۔ اخباروں میں کتاب کا ذکر آ گیا۔ لیکن کسی ایک جگہ سے بھی مجھے اس کے بارے میں اچھے یا برے ہونے کا کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ میرا جھنگ میں ایک پروگرام تھا جو رات ڈیڑھ دو بجے ختم ہوا۔ کہا گیا کہ کوئی خورشید عالم خاں آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ بھئی ان کو یہاں بلا لیں کیوں کہ میں انہیں جانتا نہیں تھا۔ پیغام لانے والا واپس آیا اور کہا بدر الزمان صاحب! آپ کو ہی ان کے پاس جانا پڑے گا۔ میں اس کے ساتھ چل پڑا کی دیکھوں یہ خورشید عالم خاں کون ہیں! دیکھا کہ ایک بزرگ وہیل چیر پر ہیں۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی کہ میں بے ادب اور بد تمیز نہیں ہوں۔ کہنے لگے کہ بیٹا تم نے تو کمال کتاب لکھی ہے۔ ہمیں تو اس سب کا پتا ہی نہیں تھا“۔
” جناب آپ موسیقی کے حلال حرام ہونے پر نا ختم ہونے والی بحث کے بارے میں کیا کہیں گے؟“۔
” بھئی دیکھیے! انسان نے چھری بنائی جس سے وہ روزمرہ کاموں میں مدد لیتا ہے۔ اب اسی کو قتل و غارت میں استعمال کیا جائے تو؟ چھری کا کام کاٹنا ہے۔ انتخاب آپ نے کرنا ہے کہ انسان کا گلا کاٹنا ہے یا سیب! گلا کاٹنا حرام ہے۔ چھری تو بے زبان ہے۔ میں نے کلام پاک کی ایک آیت لی۔ میں اپنے مذہب اسلام اور انسانیت کا پرچار اپنی کمپوزیشنز کے ذریعے کرتا ہوں۔ بدر الزمان تو ایک مشت خاک ہے۔ ایسے پھونک مارو اڑ جائے گی! کچھ بھی نہیں، میں نے کہا کہ مولا میں اتنا وزن نہیں اٹھا سکتا۔ میری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔ اسی لئے میں نے اپنا قلمی نام اور تخلص ’رب رنگ‘ رکھا ہوا ہے عربی میں اسے صبغت اللہ کہتے ہیں۔ میں نے اپنا تخلص رب رنگ اس لئے رکھا کہ مجھے بھی تو اللہ ہی نے تخلیق کیا اور میں اسی کا تو رنگ ہوں! ’سدا روے رب دا نا وے بندیا، جو مالک و خالق اے کل جہاں‘ اس کے انترے کے بول: ’اول آخر ظاہر باطن رب رنگ دسدا سب نی تھاں‘۔ یہ رب رنگ میں نہیں بلکہ وہ اللہ ہے۔ دنیا میں اللہ کے کتنے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک بندش لکھی: ’ہر دم رب دا نام تے آئیے تاں ہی رب رنگ سب سکھ پائیے‘۔ میں تو کسی بھی صاحب علم کے پاؤں کی خاک کے ذرہ سے بھی کم تر ہوں! میرا اللہ جو کہتا ہے میں وہ لکھ دیتا ہوں۔ ’آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں، غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے‘۔ عام طور پر تخلص آخری شعر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے ایک بہت بڑے کلاسیکی گائیک تھے غلام نبی شوریؔ جنہوں نے ٹپہ لکھا جسے وہ فوک میوزک سے کلاسیکل کی جانب لے گئے۔ انہوں نے اپنا تخلص شروع میں استعمال کیا۔ ’لے بھئی شوریؔ مان نہ کرئیے، کرئیے تے رب ڈاڈے کولوں ڈرئیے‘ ”۔
”اپنے استادوں کے بارے میں بتائیے!“۔
” میں نے چار اساتذہ کرام سے سیکھا ہے۔ اللہ کے فضل سے چاروں استاد حاجی صاحبان تھے۔ سب سے پہلے استاد حاجی فیض علی صاحب، دوسرے دلی گھرانے کے استاد افتخار احمد خاں، تیسرے میوزک ڈائریکٹر استاد نثار بزمی صاحب تھے۔ یہ پان بہت کھاتے اور سگریٹ پیتے تھے۔ وہ جوانی میں ’کراؤن‘ سگریٹ پیتے تھے۔ جب اپنے بالوں میں ہاتھ اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے تو میں سمجھ جاتا کہ انہیں سگریٹ پان کی طلب ہے۔ میں جھٹ پان اور سگریٹ پیش کر دیتا۔ وہ خوش ہو کر کہتے یار بدر! میں تجھے یہ ہی کہنے لگا تھا! اور چوتھے استاد تھے خاں صاحب چھوٹے غلام علی خاں صاحب۔ خاں صاحب چھوٹے غلام علی خاں صاحب کمال کے لے کار تھے“۔
” مجھے علم نہیں تھا کہ خاں صاحب چھوٹے غلام علی خاں کے کوئی اولاد نہیں۔ ایک مرتبہ ہم سب لاہور میں تکیہ مراثیاں میں بیٹھے ہوئے تھے تو میرے دوست غلام شبیر جو خود بہت اچھے کلاسیکل گائیک تھے کہنے لگے کہ خاں صاحب تمہیں شاگرد کرنے کا کہہ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ یہاں تو کوئی بھی سکھاتا نہیں۔ تو خاں صاحب چھوٹے غلام علی خاں نے کلمہ پڑھ کر ایک جملہ کہا کہ اگر میرا بیٹا ہوتا تو بدر! تیرے جتنا ہوتا اور ایسا ہی گاتا! میں نے ہاتھ آگے کر دیا اور کہا کہ گنڈا باندھ دیں! کلمے سے آگے کوئی چیز نہیں ہے! میں نے استاد چھوٹے غلام علی خاں صاحب کا نام لے کر پورے ہندوستان میں قصور گھرانے کو متعارف اور مشہور کرایا۔ پھر میں نے اس قصور گھرانے کی گائیکی کی چیزیں لیں“۔
” کیا خاں صاحب بڑے غلام علی خان صاحب کو بھی قصور گھرانے کا کہہ سکتے ہیں؟“۔
”جی ہاں! قصور میں گوئیوں کے تین گھرانے ہیں: سب سے پہلا اور مشہور ترین ’کلاونت‘ گھرانا، جہاں کے بڑے غلام علی خان صاحب مشہور ترین ہیں۔ دوسرے ’سرودیے‘ تھے (ساز سرود بجانے والے نہیں) جن کی عورتیں شادی بیاہ کے موقع پر خوشی کے نغمات اور کلاسیکی موسیقی سناتی تھیں۔ اور تیسرے ’نقی‘ تھے“۔
” استاد صاحب! لاہور میں مقیم آل انڈیا ریڈیو کے مشہور گائیک، خانوادہ محمد رفیع صاحب کے دوست جناب فاروق بمبے والا صاحب کے مطابق محمد رفیع بھی استاد چھوٹے غلام علی خاں صاحب کے شاگرد تھے؟“۔
” جی ہاں! فاروق بمبے والا بالکل درست فرماتے ہیں! میں خود اس بات کی تصدیق کرتا ہوں۔ میری موجودگی میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ موسیقی میں رفیع صاحب کے بھائی حاجی صدیق صاحب کو گانے کے لئے بلایا گیا۔ ان کا مجھ سے بھی بڑا پیار تھا۔ انہوں نے کلمہ پڑھ کر کہا کہ رفیع کے استاد صرف چھوٹے غلام علی خاں صاحب ہیں حالانکہ خاں صاحب تو اس وقت دنیا سے جا چکے تھے۔ یہ ریکارڈنگ آج بھی پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ موسیقی میں موجود ہے جو سننا چاہے سن سکتا ہے! حالانکہ یہ بات محمد رفیع نے پبلک میں کبھی نہیں کہی نہ ہی کبھی خود خاں صاحب چھوٹے غلام علی خاں صاحب نے کی۔ وہ بہت ہی سادہ آدمی تھے۔ نام و نمود سے ان کو کوئی علاقہ نہیں تھا“۔
کلاسیکی موسیقی پیچیدہ کیوں ہے؟
” استاد بدر الزمان صاحب! عام آدمی کلاسیکل موسیقی کا لفظ سن کر خوف زدہ ہو جاتا ہے! لوگ کلاسیکی موسیقی سے کیوں بدکتے ہیں؟“۔
” بہت شکریہ اس سوال کا! بات یہ ہے کہ میوزک کوئی خوفناک چیز نہیں ہے! یہ تو پھر کلاسیکل گویوں سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کلاسیکل میوزک کو ایسا کیا کر دیا ہے کہ آپ کو قیامت تک بول نہیں سمجھ آنے دینے! “۔
استاد بدر الزماں صاحب نے مجھے موسیقی کے پانچ عناصر بتلائے :
پہلا عنصر سر ہے۔ اگر کسی کے پاس سریلی نغمگی نہیں تو اسے یہ پیش کرنے کا کوئی حق نہیں! دوسرا عنصر ہے لے (ٹمپو یا رفتار)۔ یہ گلوکار نے خود مقرر کرنا ہوتی ہے، طبلے والے نے نہیں! (یہاں استاد صاحب نے مشہور فلمی گیت ’زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں۔ کا پہلا مکھڑا مثال دینے کے لئے صحیح طریقہ اور غلط طریقہ میں گا کر بتلایا)۔ جب سننے والوں نے بول ہی نہیں سمجھے تو گانے کا کیا خاک مزہ آیا! آپ نے اپنی زبان، سننے والوں کے کانوں کے ذریعے دینی ہے۔
مثلاً ’پگ لاگن دے‘ کو اگر کوئی گائیک اس طرح سے توڑ اور جھٹکے دے دے کر پیش کرے : ’پا ہاہاہا گ آ لا لا ہا ہا گا ہن د دھ دھ ہے ہے‘ (استاد بدرالزمان صاحب نے عملاً یہ کر کے دکھایا) تو بول کہاں سمجھ آئیں گے۔ یوں لگے گا گویا سننے والوں پر الفاظ کا لاٹھی چارج ہو رہا ہے! اب اسی کو ایسا گایا جائے کہ سننے والے ’پگ لاگن دے‘ مزے لے کر سمجھیں بھی! اس طرح سے بولوں کو بگاڑ کر گانا ایک جاہلانہ سوچ ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اول درجے کے جاہل ہیں! ”۔
” تیسرا عنصر راگ یا کمپوزیشن ہے۔ چوتھا عنصر تال اور پانچواں عنصر بول ہیں۔ یہ پانچوں عناصر ایک ساتھ ہی پیش کیے جاتے ہیں۔ ایسا ہو گا تب ہی موسیقی بھلی لگے گی! جیسی کلاسیکی موسیقی، بندشوں کے نام پر منہ بگاڑ کر اور الفاظ کی ایسی تیسی پھیرتے ہوئے پیش کی جاتی ہے ویسی کوئی صنف کلاسیکی موسیقی کی تاریخ میں نہیں ہے! میں نے اپنی کتاب ’میرٹس اینڈ ڈی میرٹ آف سنگر‘ Merits And Demerits Of Singer میں گویوں کے محاسن کا ذکر کیا ہے۔ ان کے بارے میں موسیقی کی قدیم تاریخی کتاب ’معارف نغمات‘ میں بھی لکھا گیا ہے۔ پھر اپنی کتاب ’نوائے موسیقی‘ میں بھی لکھا ہے۔ اس پر کہا گیا کہ یہ تو مکھی پہ مکھی بٹھانا ہوا! یہ مکھی پہ مکھی بٹھانا یا نقل کرنا کیسے ہو گیا؟ ارے یہ تو موسیقی کے بنیادی اصول ہیں! “۔
” آپ کلاسیکل گانا سنیں تو یوں لگے گا جیسے اسٹیج پر اچھل اچھل کر لڑائی یا فساد ہو رہا ہے! پوچھیں کہ یہ ’یو یو یو یو یا یا یا‘ کیا ہے؟ تو کہا جاتا ہے ’گمک‘ کی جا رہی ہے۔ اب گمک کیا ہوتی ہے؟ ان کو اس کا بھی پتا نہیں! اس قسم کا کلاسیکل میوزک بند ہو جانا چاہیے! موسیقی تو اسے کہتے ہیں جو سننے والے کے کانوں اور روح کو خوشی دے۔ اگر یہ اس کے برعکس کام کرے تو پھر اس کو بند کر دینا چاہیے۔ پھر جو گانا کل مرنا ہے وہ آج ہی مر جائے! “۔
” اب دیکھیں لتا منگیشکر نے خیال گایا ہے ’من موہنا بڑے جھوٹے، ہار کے ہار نہیں مانے‘ اب اسے ’مھھن موھھنا بڑے جھوھوھوٹے‘ گایا جائے۔ یہ کیسا کمر توڑ گانا ہے! اب لتا کا گانا ہمیں کیوں برا نہیں لگتا؟ شکر کیجئے کہ لتا نے ’اس‘ قسم کا کلاسیکل میوزک نہیں شروع کیا! سچ کہتا ہوں کہ اگر وہ کلاسیکل میوزک شروع کر دیتی تو ایک بھی کلاسیکل گانے والا نہیں ملتا! ان کی کیا آواز تھی! یہی بات آشا بھوسلے کے لئے بھی کی جا سکتی ہے۔ ان کے کون سے فلمی کلاسیکل گانے ہٹ نہیں ہوئے؟ اب لتا کے ایسے کلاسیکل گانے لوگ گاتے ہیں میرا گانا کوئی نہیں گاتا؟ اس کا مطلب میں ہی برا گا رہا ہوں (قہقہے) ! دیکھیں ہاتھ کنگن کو آرسی کیا!“۔
” گیت و غزل کی دھنیں پیچیدہ اور مشکل کیوں بنائی جاتی ہیں؟“۔
” جو فخریہ کہتے ہیں کہ دیکھی میری کمپوزیشن؟ کیسی بنائی کہ اچھے اچھے گا نہ سکیں تو ایسے موسیقاروں کو میرا مشورہ ہے کہ پھر خود ہی گھر بیٹھ کر سن لیا کریں! بھائی موسیقی کو اتنا خوفناک نہ بنائیں! یہ میوزک کمپوزیشن پبلک کام ہے۔ جب ایک اچھے بھلے کہنہ مشق گلوکار سے وہ پیچیدہ دھنیں نہیں گائی جا رہیں تو پھر میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے؟ فخریہ کہنا کہ دیکھی میری کمپوزیشن کسی سے نہیں گائی جا سکی! تو ایسے موسیقاروں کو چاہیے کہ جا کر خود کشی کر لیں! “۔
” اب ایک گانا ’کو ہو کو ہو بولے کوئلیا۔ ‘ میں کتنے راگوں کے نقشے بدلے ہیں۔ میں یہ گانا بچپن سے اب تک سنتا آ رہا ہوں۔ یہ گانا دل و دماغ سے نکلتا ہی نہیں! کوئی تو ایسی تاثیر اور نغمگی ہو گی نا! (یہ گیت فلم ’سورنا سندری‘ (1957) کا ہے جس کے موسیقار ’پی ادی نارائین راؤ‘ اور گلو کار لتا اور محمد رفیع)۔ ایسی باتوں سے بہتوں کے ماتھے پر تیوریاں چڑھ جاتی ہیں! ارے ’ان‘ کا بس چلے تو وہ مجھے قیمے والی مشین میں سے نکلوا دیں! خود اپنی کہی ہوئی باتوں کو سنو اور سوچو۔ حضرت علی ؓ کا فرمان ہے : ’یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے، یہ سنو کہ کیا کہہ رہا ہے‘ اس کی سنو اور سن کر فیصلہ کرو“۔
” پہلی مرتبہ دہلی اور دیگر جگہوں پر جانے پر آپ کی کس طرح سے پذیرائی ہوئی؟“۔
” دیکھئے میں حق بات کرتا ہوں جو نہ ان کی خوشامد ہے نہ ان کی بڑائی! عوام کا رویہ اور پذیرائی کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ وہ لوگ اچھے کام کی کبھی برائی نہیں کرتے! کوئی کسی کو برا کہہ کر بھی یہ ضرور کہے گا : ’چلو خیر! یہ تو ماننا پڑتا ہے کہ آخر اس نے کام بھی تو کیا ہے نا! ‘۔ میں نے بڑے بڑے لوگوں کے بارے میں باتیں سنیں! اچھے گانے یا موسیقی کی تو تعریف ہی یہ ہے کہ وہ روح اور کانوں بھلی لگے! تو میں کیوں نا اس میں کوشش کروں؟“۔
” گویا اللہ ہی آپ سے یہ مشکل کام کروا رہا ہے“۔
” اللہ آپ کی زبان مبارک کرے! ہر کام میں برکت اور تاثیر تو اللہ کے ہی حکم سے ہوتی ہے۔ وہی مجھ سے کام کرواتا ہے۔ یہی میں خود بھی چاہتا ہوں۔ جب میں بیمار ہوا تو میں نے کہا بدرالزمان تو تو گیا اور کام بیچ میں ہی رہ گیا! میں نے دعا کی کہ میں بالکل تیرے پاس آنے سے خوف زدہ نہیں میں تو تیری ہی تخلیق ہوں مجھے بھی تھوڑی سی شیخی مار لینے دے! میں تو اگلی نسلوں کے لئے کام کر رہا ہوں۔ یہ جسم تو مٹی میں مل جائے گا۔ میرے اعمال میرے ساتھ جائیں گے لیکن میرا یہ کام آنے والوں کے لئے یہاں رہ جائے گا“۔
” سر دست تو آپ پنجاب یونیورسٹی میں نہیں پڑھا رہے تو وہاں کون پڑھا رہا ہے اور معیار کیا ہے؟“۔
” دیکھیں گدھے پر موسیقی کی یا کسی اور مضمون کی کتابیں رکھ دی جائیں تو وہ دانش ور کیسے ہو سکتا ہے! انہیں تو آواز کو کلچر کرنے کا ہی پتا نہیں! موسیقی کی ابتدا یہی آواز کو کلچر کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ ڈاکٹریٹ یافتہ اسکالر سے کہیں کہ وہ الف لکھے اور وہ اسے لکھ نہ سکے! موسیقی کا شعبہ لڑائیوں جھگڑوں کی جگہ نہیں ہے۔ یہ پیار محبت سے جھکے ہوئے لوگوں کا کام ہے! “
” کیا پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ موسیقی میں کسی اچھائی یا بھلائی کی توقع کی جا سکتی ہے؟“
” کچھ بھی نہیں! کون کیا پڑھا رہا ہے میں نے تو کبھی سنا ہی نہیں! یونیورسٹی نے مجھے رکھا تھا تو مجھے میرے پیسے تو دو؟ میں کب کہتا ہوں یا کبھی کہا تھا کہ مجھے شعبے میں نوکری دو؟ میں نے سالہا سال وہاں گزارے۔ اب مجھے آپ وہاں کے انتظامی امور سکھائیں گے! اب تو ’کلچر پر ولچر‘ بیٹھا ہے“۔
” ’کلچر پر ولچر بیٹھا ہے‘ اس بات کو ذرا سمجھائیے“ ؟
” اس کا مطلب ہے کہ میوزک پر وہ لوگ بات کرتے ہیں جن کو میوزک کی اے بی سی کا ہی نہیں پتا! انہوں نے موسیقی کو مردہ کر کے اس پر ناول ’راجہ گدھ‘ کی مانند گدھیں بٹھا رکھی ہیں۔ راجہ گدھوں کا بھلا موسیقی سے کیا تعلق؟ وہ تو مردار کا گوشت نوچتی ہیں“۔
” ارے ایسا ہے؟“۔
” انہوں نے تو ایسا کر ہی دینا ہے! یہ تو موسیقی کو باتوں سے ہی مردہ کر دیں گے اور پھر اس کی بوٹیاں نوچیں گے! موسیقی جگتوں، لطیفوں اور تماش بینی کا کام نہیں! آپ نیک نیتی سے کام کریں تو اللہ بھی ساتھ دیتا ہے یہ میرا ایمان بھی ہے۔ کہنے کو تو لوگ اللہ کو برا بھی کہتے ہیں لیکن جو اللہ کو برا کہتا ہے وہی اللہ انہیں روٹی بھی دیتا ہے! اللہ تو یہ نہیں کہتا کہ او خانہ خراب تو نے تو مجھے کل یہ کہا چلو جاؤ میں تمہارا رزق بند کرتا ہوں! اس طرح سے تو خدا کی خدائی نہیں رہتی“۔
” بدر الزمان صاحب! بات کو سمیٹتے ہوئے بتایے کہ کلاسیکل موسیقی کا مستقبل کیا ہے؟“۔
” دیکھیں جی! مجھ سے 2005 یا 2006 میں پٹیالہ یونیورسٹی، انڈیا میں سوال ہوا تھا کہ شاستریہ سنگیت (ہندوستانی کلاسیکی موسیقی) تو اب ختم ہوا چاہتا ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ میں کون ہوں؟ کہنے لگے آپ ہمارے مہمان اور شاستریہ گائیک ہیں۔ میں نے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں، یہ زندہ ہے“۔
” واہ واہ!“۔ میں نے بے ساختہ کہا۔
” پھر میں نے کہا کہ میں اسی لئے یہاں آیا ہوں۔ اس پر ایک موسیقی کے اسکالر کہنے لگے کہ مہاراج! نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ میں نے کہا کہ طوطی اپنی آواز سے پورا نقار خانہ الٹا دے گا!“۔
” میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک میرے ہوش و حواس آخری وقت تک قائم رکھنا (اور ایسا ہی ہوا)۔ میں تو ایک فٹ x چھ فٹ جگہ پر سو لیتا ہوں۔ جب دل چاہتا ہے لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ اللہ ہی دماغ روشن کرتا ہے۔ مجھے جو بھی پیسے ملتے ہیں کچھ حسب ضرورت کپڑوں پر خرچ کرتا ہوں کہ باہر اندر جانا ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد کتابیں جو علم کا ذریعہ ہیں۔ میں اللہ ہی کی سکھائی دعا مانگتا ہوں رب زدنی علما“۔
ایک سوال کے جواب میں استاد بدر الزماں صاحب نے کہا : ”انسانی شکل میں جس نے خدا دیکھنا ہے وہ اپنے استاد کا رخ روشن دیکھ لے (اب کوئی مجھے جان سے ہی نہ مار دے) ! خدا جب کن کہتا ہے تو وہ ہو جاتا ہے۔ میرے استاد نے مجھے کتنی دعائیں دیں وہ سب مجھے لگیں! ہندوستان میں مجھ سے کسی نے پوچھا کہ بھگوان کو کسی نے دیکھا؟ میں نے کہا جی ہاں میں نے دیکھا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر ایک پلیٹ میں کھانا بھی کھایا اور اپنے ہاتھ سے کھلایا بھی!
وہاں بڑے بڑے دانشور بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ وہ کون تھے؟ میں نے کہا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ میں جو کہتا ہوں وہی ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طاقت اللہ نے گرو یا استاد کو بھی دی ہوئی ہے۔ وہ اگر کہہ دے کہ جا تیرا بیڑا غرق ہو جائے! تو شاگرد کبھی بھی نہیں ترے گا! اور اگر استاد جھولیاں اٹھا اٹھا کر شاگرد کے لئے دعا کرے تو دنیا اس کے پیچھے پھرے گی! یہی میرے ساتھ ہو رہا ہے! میں اور آپ نے بیڑے غرق ہوتے ہوئے بھی دیکھے ہیں! ”۔
” موسیقی کا کیا مستقبل ہے؟“۔
” ہمارے ملک میں جب تک تہذیب اور تمیز معاشرے میں نہیں آئے گی کبھی کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں ہو گی! یہ پکی بات ہے! “۔
” آخری سوال ہے کہ آپ نگار ویکلی اور نگار ایوارڈز کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“۔
” آپ کا نگار ایوارڈ والا تو بہت ہی دکھ بھرا سوال ہے! ہمارا ملک بھارت جتنا بڑا تو نہیں لیکن ہمارا یہ ایوارڈ کسی بھی طور ان کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی کم نہیں تھا! نگار ایوارڈ کا ایک مرتبہ اور مقام تھا۔ میرا کسی حد تک فلم سے بھی تعلق ہے کیوں کہ میں نے 18 سال نثار بزمی صاحب کے ساتھ گزارے ہیں۔ کام تو فنون لطیفہ کا ہے نا! لہٰذا نگار ایوارڈ کا بند ہونا بہت تکلیف دہ ہے! میں تو خود سوچتا تھا کہ نگار والوں کو کہاں ڈھونڈوں!
اب میں یہاں کسی سے نگار ایوارڈ نہ ہونے کی بات کروں تو کہا جاتا ہے کہ ادھر تو کھانے کو نہیں ملتا اور تم کو ایوارڈ کی پڑی ہے! اسی سلسلے میں بات یاد آئی۔ مجھ سے دو دن پہلے کوئی پوچھ رہا تھا کہ تمہیں اگر ڈھیر سارے پیسے مل جائیں تو تم کیا کرو گے؟ میں نے جواب دیا کہ مزید کتابیں شائع کروں گا۔ اس نے پوچھا کہ یہ کیا عجیب بات کر دی! تم خود کون سا کوئی اچھا وقت گزار رہے ہو؟ میں نے کہا کہ جیسا بھی وقت گزار رہا ہوں وہ میرے اور اللہ کے درمیان ہے لیکن کتاب شائع کرنے کا اللہ نے مجھ سے کوئی وعدہ نہیں کر رکھا۔ (قہقہے)۔ ہم نہیں ہوں گے لیکن حرف نہیں مرے گا! ”۔





