شب ظلمت میں نکلا چاند قسط نمبر 5
دو ماہ بعد خضر کی والدہ رشتہ لے آئیں۔ مسز احمد نے ایک مختصر سی منگنی کی تقریب رکھی تو حمیرا خالہ اور شاہ بانو کو بھی بلایا۔ وہ خضر کے گھر والوں سے اپنی ہونے والی بہو کو ملوانا چاہتی تھیں۔ اس دن شاہ بانو بہت دل سے تیار ہوئی، کائی گرین پشواز اور آتشی گلابی چوڑی دار پاجامے دوپٹے میں وہ کوئی مغل شہزادی لگ رہی تھی۔ رحمان نے اسے دیکھا تو چند لمحے دیکھتے رہ گئے بلاشبہ و مہرین سے بھی زیادہ حسین تھی۔ تقریب میں رحمان نہیں گئے تھے حمیرا خالہ اور شاہ بانو ثمر کے ساتھ چلی گئیں۔
واپسی میں شرجیل اپنی گاڑی میں انہیں چھوڑنے آئے تھے۔ ثمر اور حمیرہ خالہ گھر کے اندر چلے گئے تو شرجیل نے شاہ بانو کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور اس کے کانوں میں کوئی ایسی بات کہی جسے سن کر وہ بری طرح شرماتی گھر کے اندر بھاگ گئی۔ یہ سارا منظر رحمان اپنی انکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ محبت کے اس منظر نے نفرت کا الاؤ ان کے اندر بھڑکا دیا تھا۔ حمیرا خالہ نے شادی کی تیاریاں تیز کر دیں۔ شاہ بانو کا چہرہ آنے والے شب و روز کے خیال سے ہر دم جگمگاتا رہتا۔
تینوں خاندانوں نے مشترکہ مہندی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تقریب والی رات سب ایک ہی پنڈال میں جمع تھے۔ مہرین اور شاہ بانو پیلے جوڑوں میں گیندے کا پھول ہی لگ رہی تھیں۔ خضر اور شرجیل اپنی قسمت پر نازاں اترائے اترائے پھر رہے تھے۔ مہرین کی نظر رحمن کی طرف اٹھی تو اس نے غفلت سے منہ پھیر لیا شرجیل نے بھی انتہائی سخت نظروں سے انہیں دیکھا تھا۔ پوری محفل میں ان کا وجود مجرم بن گیا تھا۔ تمام وقت وہ پچھلی کرسیوں کی رو میں بیٹھے رہے کھانا بھی نہیں کھایا اور نہ ہی کسی نے انہیں پوچھا سوائے ثمر اور حمیرا خالہ کے۔ گھر آتے آتے ایک بج گیا تھا۔
***********
صبح فجر کی نماز پڑھ کر حمیرا خالہ جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھیں جب رحمن ان کے قریب آ بیٹھے ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی شیشی تھی ”یہ کیا ہے رحمان“
انہوں نے دعا سے فارغ ہو کر پوچھا
” زہر“
ان کے ہاتھ میں زہر تھا اور لہجے میں بھی۔
” زہر۔ پر تمہارے ہاتھ میں کیوں ہے“
” میں یہ پی کر مر جانا چاہتا ہوں“
” یہ کیا کہہ رہے ہو رحمان مریں تمہارے دشمن تم کیوں مرنا چاہتے ہو“
ایک تلخ مسکراہٹ رحمان کے چہرے پر آ گئی
” آپ چاہتی ہیں پھوپھی جان میں زندہ رہوں“
” ہاں ہاں بیٹا! تم میرے بھائی کی آخری نشانی ہو میرے بچوں کی طرح ہو، ایک ماں کیوں چاہے گی کہ اس کی اولاد اس کے سامنے مر جائے“
رحمان اٹھے اور کچھ دور فریج پر رکھا قرآن پاک اٹھا لائے
” اگر اپ واقعی چاہتی ہیں کہ میں یہ زہر نہ پیوں تو قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں آپ میری صرف ایک بات مانیں گی ورنہ میں یہ زہر ابھی پی کر اپنی جان دے دوں گا“
انہوں نے شیشی کا ڈھکن کھولا تو حمیرا خالہ نے فوراً قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا لی
” میں تمہاری ایک بات نہیں ہر بات مانوں گی پر تم یہ زہر نہ پیو“
انہوں نے ڈھکن بند کر دیا
” بولو۔ کیا بات ہے“
رحمان نے نگاہ ان کی طرف اٹھائی
شاہ بانو کا نکاح آج شرجیل سے نہیں مجھ سے کر دیں ”
کچھ دیر تو حمیرا خالہ سمجھی نہیں اور جب سمجھ آئی تو تھپڑ رحمان کے منہ پر مار دیا۔ قرآن ان کے ہاتھ میں تھا اور دل ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔ رحمان نے نہایت چالاکی سے جذبات کی مار دے کر ہاری ہوئی بازی جیت لی تھی۔ حمیرا خالہ قسم توڑ کر یتیم بھتیجے کی موت کا ذمہ سر نہیں لے سکتی تھیں۔ اس لیے حمیرا خالہ نے اپنی قسم اور عزت کا واسطہ دے کر شاہ بانو کو رضامند کر لیا۔ جاں بہ لب ہوتی ماں کی حالت شاہ بانو سے دیکھی نہ گئی اور ان کے جڑے ہاتھوں کو بوسہ دے کر ان کی لاج رکھ لی۔
دن چڑھے رحمان مولوی اور اپنے چند دوستوں کو لے آئے۔ تین بار ہاں بول کر شاہ بانو نے اپنے لب سی لیے۔ شرجیل پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔ ان کا ہنستا مسکراتا وجود زندہ لاش میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔ ہر شخص ششدر تھا کہ اناً فاناً یہ کیا ہو گیا۔ ہر طرف سے لوگ آئے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا نکاح ہو چکا تھا۔ بیٹے کا صدمہ دیکھتے ہوئے مسز احمد نے سادگی سے مہرین کو خضر کے سنگ رخصت کر دیا۔ دوسری طرف سہاگ رات کا تحفہ رحمن نے شاہ بانو کو ایک زوردار تھپڑ اور طنز برساتی زبان کی صورت میں دیا۔ اگلے تئیس سال تک مہرین اور شرجیل کی دی ہوئی ذلت کا انتقام وہ شاہ بانو کے وجود اور اس سے لپٹی شرجیل کی محبت سے لیتے رہے۔ اس پر بھی ان کے اندر لگی آگ بجھی نہیں بلکہ مہرین کو دیکھ کر ایک بار پھر شدت سے بھڑک اٹھی تھی۔
***********
اکثر و بیشتر پیش آنے والے اتفاقات انسانوں کی زندگیاں بدل دیتے ہیں شاید وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا جس میں ہونے والا حادثہ شاہ بانو اور شرجیل کو ایک دوسرے کے سامنے لے آیا۔ زینب کو اپنی سہیلی سے ضروری نوٹس لینے جانا تھا۔ رحمان صاحب گھر کی عورتوں کا بلا ضرورت باہر جانا پسند نہیں کرتے تھے اور شاہ بانو کا تو ضرورتاً بھی نہیں مگر وہ بندہ بشر تھیں کبھی کبھی اپنی اشد ضرورتوں کے لیے قریبی مارکیٹ تک رحمان صاحب کے علم میں لائے بغیر چلی جاتی تھیں۔
اس دن بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ زینب کو ادھے گھنٹے کے لیے اس کی سہیلی کے گھر چھوڑ کر جو مارکیٹ کے قریب ہی رہتی تھی شاہ بانو خود مارکیٹ آ گئی تھیں۔ سروس روڈ پار کرتے ہوئے ایک تیز رفتار موٹر سائیکل سے انہیں دھکا لگا اور وہ فٹ پاتھ سے رگڑ کھاتی ہوئی گر پڑیں۔ ان کے دائیں بازو پر چوٹ آئی۔ قمیض کہنی سے پھٹ گئی اور بازو بری طرح چھل گیا
” سنبھل کر خاتون! آپ کو زیادہ چوٹ تو نہیں آئی“ راستے سے گزرتے شخص نے انہیں سہارا دے کر اٹھایا۔ جب دونوں کی نظریں ملیں تو پھر ایک دوسرے میں پیوست ہی ہو کر رہ گئیں
” شرجیل“
” شاہ بانو“
دونوں نے کانپتے ہوئے لبوں سے ایک دوسرے کو پکارا
” تم۔ شاہ بانو یہ تم ہی ہو نا“
شرجیل کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ شاہ بانو کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہیں۔ شرجیل کی نگاہ شاہ بانو کے بازو پر پڑی تو تڑپ سے گئے
” تم تو زخمی ہو گئی ہو شاہ بانو، آؤ میں تمہیں کلینک لے چلوں“
” نہیں میں ٹھیک ہوں بس اب گھر جاؤں گی“
” پاگل ہو رہی ہو کیا، اپنا بازو تو دیکھو کس بری طرح چھل گیا ہے میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گا تمہیں مرہم پٹی کروانی ہی ہوگی۔ چلو میرے ساتھ، یہاں قریب ہی گلی میں کلینک ہے“
وہی محبت بھرا حق جتاتا ہوا انداز آج بھی ان کے لہجے میں بول رہا تھا۔ ان کی ہمدردی پر شاہ بانو کی انکھیں بھیگ گئیں۔ شرجیل نے انہیں کاندھوں سے تھام کر چلنے میں مدد دی تو نہ چاہتے ہوئے بھی شاہ بانو کے قدم ان کی معیت میں اٹھ گئے اور وہ کلینک تک چلی گئیں یہ جانے بغیر کہ مین روڈ کے پار دو قہر برساتی نگاہیں ان کے تعاقب میں تھیں۔
******
ماحد اور زینب دونوں چپس کھاتے ہوئے ٹام اینڈ جیری شو دیکھ دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ بڑے ہو جانے کے بعد بھی دونوں یہ کارٹون بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ شاہ بانو کچن سمیٹ کر باہر آ رہی تھیں ان کے بازو میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں مگر وہ کمال ضبط سے سہ رہی تھیں۔ بچے ان کی تکلیف پر پریشان ہو جاتے تھے اس لیے اپنے ساتھ ہونے والے حادثے کی خبر انہوں نے بچوں کو نہ ہونے دی تھی۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے جب رحمان صاحب سپاٹ چہرے سے لاؤنج میں داخل ہوئے۔ زینب نے ٹی وی بند کر دیا
” کھانا کھائیں گے یا کھا کر آئے ہیں“
روز کی طرح آج بھی شاہ بانو نے رحمان صاحب سے پوچھا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ان کے قریب آ گئے۔ آج ان کی چال میں کچھ غیر معمولی پن تھا۔ قریب آتے ہی انہوں نے ایک زناٹے دار تھپڑ شاہ بانو کو رسید کر دیا
” بے غیرتی کا گھونٹ پی کر آیا ہوں، دل تو چاہ رہا تھا تمہارے عاشق کی بانہوں میں ہی تمہارا گلا گھونٹ دوں“ ۔
” ابو جی“
ماحد ماں کے کردار پر رقیق الزام برداشت نہیں کر سکا
” برا لگ رہا ہے نا ماں کے لیے، ذرا سوچو، سوچو میں شوہر ہوں مجھ پر کیا گزری ہوگی اپنی بیوی کو کسی اور کی بانہوں میں سرعام دیکھ کر۔ تم نے ایک بار بچپن میں کبھی مجھ سے پوچھا تھا ماحد کہ میں تمہاری ماں کو کیوں مارتا ہوں اس وقت میرے پاس جواب نہیں تھا پر آج ہے، تمہاری ماں ایک بد کردار اور بے حیا عورت ہے“ ۔
ماحد کی رگیں تن گئیں۔ زینب نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے۔
” ایسا نہیں ہے ابو جی! امی ایسی نہیں ہیں“ ۔
” اچھا۔ تو پھر پوچھو۔ پوچھو اپنی ماں سے، کس کے ساتھ شام گزاری ہے آج اس نے“ ۔
زینب کا دل چاہا بول دے کہ وہ اپنی سہیلی کے گھر گئی تھی مگر یہ حقیقت تھی کہ ادھے گھنٹے کا کہہ کر شاہ بانو تین گھنٹے بعد اسے لینے آئی تھیں۔ ماحد کی سوالیہ نگاہیں شاہ بانو کی طرف اٹھ گئیں مگر شاہ بانو کا جھکا سر نہ اٹھا
” امی! آپ بولتی کیوں نہیں“
ماحد کی نبض ڈوب رہی تھی
” امی خدا کے واسطے بول دیں یہ سب جھوٹ ہے، ایسا نہیں ہو سکتا“
شاہ بانو نے آنسوں سے بھری انکھیں اٹھا کر بچوں کو دیکھا لیکن ان کے لبوں پر لگی چپ نہ ٹوٹی
” کیسے بولے گی، آنکھوں دیکھا تو جھوٹ نہیں ہوتا اور میں اپنی انکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں۔ پچیس سال تک میں نے بڑے ضبط کے ساتھ اس عورت کو برداشت کیا ہے مگر اب نہیں کر سکتا۔ اس عمر میں بھی اس نے اپنی بد چلنی نہیں چھوڑی۔ یہ اب میرے گھر میں نہیں رہ سکتی ابھی اور اسی وقت اسے یہ گھر چھوڑنا ہو گا“
انہوں نے شاہ بانو کا بازو پکڑا اور مین گیٹ کی طرف گھسیٹنے لگے
” رحمان۔ رحمان خدا کے واسطے مجھے گھر سے نہ نکالیں۔ میں کہاں جاؤں گی“
” جہاں مرضی جاؤ لیکن میرے گھر میں تمہارے لیے اب کوئی جگہ نہیں ہے“
رحمان صاحب نے گیٹ سے باہر شاہ بانو کو دھکا دے کر گیٹ بند کر دیا۔ بد چلنی کے الزام پر ماں کی خاموشی نے زینب اور ماحد کے پیروں میں زنجیریں ڈال دی تھیں۔
********
” آپ نے غلط کیا آپا، آپ کو چاہیے تھا ماحد اور زینب کو ساری حقیقت بتا دیتیں۔ ثمر کے اتنی رات کو تنہا آنے کا سبب پوچھنے پر انہوں نے ساری بات اسے اور اس کی بیوی ماہم کو بتا دی
” کیسے بتاتی ثمر شرجیل ایمن کے ماموں ہیں ماحد جوان ہے، گرم خون ہے ان سے جا کر الجھ پڑتا تو بات کتنی خراب ہوتی پھر رحمان نے خود نہیں بتایا کہ میرے ساتھ کون تھا وہ میرے منہ سے اگلوانا چاہ رہے تھے“ ۔
” مگر اپ کی خاموشی نے ان کی بات تو سچ کر دی نا آپا“
ثمر کا دکھ سے برا حال تھا۔ وہ اس سے عمر میں دس سال بڑی تھیں، اس کی ماں کی جگہ تھیں۔ حمیرا خالہ کی وفات کے بعد شاہ بانو نے چاہا تھا کہ وہ ثمر کو اپنے ساتھ رکھ لیں لیکن رحمن صاحب کو سگے بھائی کا ساتھ بھی شاہ بانو کے لیے قبول نہیں تھا۔ ثمر اچھی طرح جانتا تھا کہ رحمان صاحب کا سلوک اس کی آپا سے اچھا نہیں ہے۔ وہ چھپ کر ان سے ملتا تھا۔ بھائی کی شادی کے سارے ارمان بھی ان کے دل میں گھٹ کر رہ گئے تھے۔ اس نے رحمان صاحب کے بڑے ترلے منتیں کیں کہ شادی والے دن تھوڑی دیر کے لیے ہی صحیح اس کی آپا اور بچوں کو بھیج دیں مگر انہوں نے شادی والے دن ان تینوں کو گھر میں محصور کیے رکھا۔ اگر کسی دن رحمان صاحب کو پتہ چل جاتا کہ ثمر گھر آیا تھا یا شابانو اس کی طرف گئی تھیں تو بس اس دن قیامت ہو جاتی تھی۔
” نہیں ثمر! رحمان کی بات سچ نہیں ہوگی۔ میں اپنے بچوں کو سب کچھ بتاؤں گی پر ایسے کہ ان کی خوشیاں متاثر نہ ہوں۔ میرے بچوں نے بہت ڈر اور خوف کی زندگی گزاری ہے مگر اب ان کے ساتھ برا نہیں ہو گا ماحد کو اس کی محبت ضرور ملے گی“
ان کی انکھوں میں ان کے عزم کی جھلک صاف دکھائی دے رہی تھی۔
********
اس رات رحمان صاحب کے گھر میں کسی کی بھی انکھوں میں نیند نہیں اتری تھی۔ انسان کے ساتھ برا ہو یا وہ کسی کے ساتھ برا کرے دونوں صورتوں میں نیند اڑ جاتی ہے۔ رحمان صاحب بھی مسلسل جاگ رہے تھے اور آگے کے لیے اپنے ذہن میں لائحہ عمل تیار کر رہے تھے۔ ماحد اور زینب بھی جاگ رہے تھے۔ ماں کی خاموشی نے ان پر قیامت ڈھا دی تھی۔ زینب کا رو رو کر برا حال تھا۔ صبح تک زیادہ رونے کی وجہ سے اسے بخار چڑھ چکا تھا ماحد نے اسے بخار کی دوائی کھلا کر سلا دیا۔
رحمان صاحب ناشتے کے بغیر ہی آفس چلے گئے اور ماحد آفس گیا ہی نہیں۔ اس نے اپنا فون بھی بند کر رکھا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگر کچھ دیر مزید اسے کوئی جذباتی سہارا میسر نہ آیا تو اس کے دماغ کی کوئی رگ پھٹ جائے گی۔ اس جذباتی سہارے کی تلاش میں وہ سامنے ایمن کے گھر آ گیا۔ اس کے ملگجے کپڑے اور الجھے بال سرخ آنکھیں دیکھ کر مہرین سمجھ گئیں کہ وہ پریشان ہے ”کیا بات ہے ماحد، یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے۔ تم ٹھیک تو ہو“ ۔
” جی آنٹی۔ میں ٹھیک ہوں۔ کیا میں ایمن سے مل سکتا ہوں“
مہرین اثبات میں سر ہلاتی اندر چلی گئیں اور ایمن کو بھیج دیا مگر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئیں۔ کل شرجیل نے انہیں بتایا تھا کہ وہ مارکیٹ میں شاہ بانو سے ملے تھے اور آج ماحد کا آ جانا حیرت انگیز تھا
” ماحد۔ آپ۔ کیا ہوا، سب خیریت تو ہے نا۔ آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں“
” میں واقعی پریشان ہوں ایمن۔ میرا سب کچھ برباد ہو گیا“
” ایسے کیوں کہہ رہے ہیں ماحد میں ہوں نہ اپ کے ساتھ“
” اسی لیے تو میں تمہارے پاس آیا ہوں“
اس نے بے قراری میں ایمن کا ہاتھ تھام لیا وہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی
” رات ابو جی نے امی کو گھر سے نکال دیا“
” واٹ“
اور پھر جیسے جیسے وہ اس کے سامنے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتا گیا ویسے ویسے اندر ایمن کی اور باہر مہرین کی انکھیں پھیلتی چلی گئیں۔
جاری ہے


