استاد امانت علی خان: راگ داری اور ریاست


(امانت علی خان کی وفات ( 18 ستمبر 1974 ) پر تحریر کیا گیا یہ پرانا مضمون ابا کے کاغذوں سے ملا تو پڑھ کر حیران ہو گئی۔ اس قدر علم، اس قدر تاریخی حوالے، سوچا۔ اسے پڑھنے والوں کی نظروں سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ نیلم احمد بشیر)

استاد امانت علی خان کی جواں مرگ کا ماتم دیکھتے ہوئے یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ قوم ابھی مردہ نہیں ہوئی۔ ان کا فن خاص تھا مگر لگتا ہے عام لوگوں کو بھی فن کے سرمائے کی فکر لاحق ہو گئی ہے۔ اس پریشانی کا تھوڑا بہت نتیجہ یہ بھی نکلا کہ جیسے بڑی دقت سے قبر پکی تو ہو جائے مگر بچے پالنے کا خاطر خواہ انتظام نہ ہو سکے۔ دراصل بچے پالنا تو اس نظام کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ عام غریب غربا کی تو کوئی قبر تک کھدوا کے نہیں دیتا۔ کسی کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتا۔

استاد امانت علی خان ایک بہت بڑی روایت کے فرزند ارجمند تھے۔ اب صرف فتح علی خان رہ گئے ہیں۔ (مضمون کی تحریر کے وقت وہ حیات تھے) یعنی روایت آدھی رہ گئی ہے۔ اب خطرہ یہ ہے کہ کل کلاں کو یہ مکمل طور پر ہی ختم نہ ہو جائے اور فنکاروں کی سینکڑوں برس کی محنت اور ریاضت کا باغ اجڑ نہ جائے۔

ان کا تعلق پٹیالہ گھرانے سے تھا مگر پٹیالہ شہر یا ریاست سے اتنا ہی تعلق تھا کہ ریاست فنکاروں کی روٹی پانی کا بندوبست کر دیتی تھی۔ جہاں دوسرے گھرانے موجود ہیں۔ ہندوستان کو ہمیشہ ہم سے نفرت رہی پھر یہ دونوں بھائی جب جب ہندوستان گئے تو ان کے لیے مندروں میں آرتیاں اتاری گئیں۔ ان پاکستانی ملیچھ مسلمانوں کی خوب عزت افزائی کی گئی۔ ویسے یہ مضمون لکھنا کوئی ضروری نہیں تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اس نظام کی جگہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں فن بھی زندہ رہے اور فنکار بھی۔ ایک امانت علی خان مرے تو دس پیدا ہو جائیں اور مرنے سے پہلے دس پیدا کرنے چاہئیں کیونکہ فنکار نے جو سینکڑوں برس میں کمایا ہوتا ہے اسے لے کر مٹی میں سو جانا انصاف نہیں۔ کچھ روز پہلے میں نے اپنے ایک دوست سے ایک ایسی بات بھی سنی کہ جس کی وجہ سے یہ بنیادی سوچ پیدا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا یار امانت علی خان مر گئے، بہت برا ہوا مگر اس پر شور مچنا کچھ سمجھ میں نہیں آیا کیونکہ مالکونس تو مالکونس ہوتا ہے اور مالکونس خان سیدھا ہے نہ الٹا۔ مطلب یہ کہ امانت کے مرنے سے کچھ نہیں بگڑا۔ اصل کام راگ مالکونس کو دفنانا ہے تو اس کا جلدی جلدی کچھ بندوبست کرو۔

سچ ہے کہ مالکونس الٹا ہوتا ہے نہ سیدھا مگر نہ جانے میرا قلم کیا چیز ہے۔ لکڑی کا بنا ہوا ہے اور لکڑی الٹی ہوتی ہے یا سیدھی؟ سیانے بتا سکتے ہیں کہ استاد اللہ بخش کی تصویر کے رنگ الٹے ہیں کہ سیدھے۔ موہنجو داڑو کی ناچ کرنے والی رقاصہ اور گنجا کاہن، گندھارا کے ٹوٹے ہوئے بت، مغلوں کے پھٹے ہوئے کپڑے اور صادقین کی رنگی ہوئی دیواریں الٹی ہیں یا سیدھی؟

اگر شاہ حسین یا بلھے شاہ کو نہیں پتا تو پھر ہم سب کو مل کر سوچنا پڑے گا کہ فن کس طرح نسبتاً اور بڑھنا ہے اور اسے بیدار کرنے والے کون ہوتے ہیں اور اس سے کن حالات میں کام لینا چاہیے۔ اگر یہ بات ہماری سمجھ میں آ جائے تو پھر لوگ مالکونس کی قبر نہ ٹاپتے پھریں گے۔

فن بہت سارے ہیں مگر ان کے بننے اور ڈھے جانے کی ترکیب ایک ہی ہے کیونکہ اس کا تعلق کسی فرد یا ادارے سے نہیں جو اتفاق سے کسی حادثے کے نتیجے میں پیدا ہو جائے اور پھر کہے چلو آج مالکونس ہی بنا ڈالتے ہیں یا یہ کہ ہم تو راگ داری کر رہے ہیں اس لیے دیگر فنون کا ذکر نہیں کرتے۔ راگ داری کے سلسلے میں پہلی بات یہ سمجھ لو کہ اس کی بنیاد علاقے کے لوک گیتوں پر ہے۔ نزدیک ہی نظر ماریں تو دیکھ سکتے ہیں کہ پنجاب میں باگیشری کا رواج زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ”لنگھ آ جا پتن چناں دا یار“ کی طرز پر ملاح یا کسان کو آتی ہے۔ بلوچستان یا ڈیرہ اسماعیل خان کی لوک طرزیں سن لو جو فقیر گاتے پھرتے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں بھیرویں ہے۔ پہاڑوں میں پہاڑی ہے۔ اسی طرح بنگال میں راگوں کی پسند اور چڑھت کا وہاں کی لوک طرزوں سے تعلق ہے۔ ایسے ہی یو پی اور مدراس کے لوک گیت اور راگ ہیں۔ ہر کلچر کی قدریں سیاسی اور سماجی قدروں کے ماتحت چلتی ہیں اور رائج نظام میں سے جنم نہیں لیتیں۔ جہاں کسی کا سیاسی اور اقتصادی غلبہ ہو گا وہیں اس کی ثقافتی قدریں متاثر ہوں گی۔ مدراس میں شمالی ہند کے راگوں کا چلن وہی ہے مگر ان کی گائیکی عربی سی ہے اور گٹکری جس کی خاص صفت ہے۔ یقین نہ آئے تو لنکا سن لیں۔ خلیج کی ریاستوں بلکہ لیبیا تک دیکھ لیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عربوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے وہاں آنا جانا شروع ہو چکا تھا۔ عرب مہذب اور طاقتور تھے لہٰذا ان کے طور طریقے جنوبی ہند کے مقامی لوگوں نے ہنسی خوشی قبول کر لیے، زیادہ اس لیے کہ شروع کے زمانوں میں مدراس ساحلی علاقوں میں کوئی مرکزی ریاستی نظام نہیں تھا اور عربوں نے بابل اور سکندریہ بھی دیکھ رکھا تھا، توتخ آمون کے مقبرے بھی تیار کر چکے تھے۔ ہمارے ہندو بھائی جو چاہیں جہان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، فن کی وہ شکل جسے ہم کلاسیکی کہتے ہیں ہر ملک کے ریاستی نظام کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ جب سے ریاستی ادارے قائم ہوئے اور جس جس طاقت اور تنظیم کے ساتھ ساتھ قائم ہوتے۔ تب سے ہی ان کے ساتھ فن اور تنظیم نے بھی مضمون حاصل کیا اور اس کے بیان کی ضرورتیں اور تیکنیک ایجاد کی۔ دنیا کے سارے فنون کی بنیاد لوک ریت ہے۔ یہ بات ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ عوام کو جاہل اور بے شعور سمجھتے ہیں وہ ناک چڑھا کے چپ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کی تردید کا کوئی سامان نہیں ہوتا۔

ہماری راگ داری کی تاریخ اصل میں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ کے ساتھ چلتی ہے۔ اس میں مسلمانوں کا مسلمان ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا جیسے حکومتی ادارے انہوں نے بنائے ہیں اگر کوئی ہندو بنا لیتا تو بھی راگ داری کی تاریخ یہی ہونی چاہیے تھی مضمون کچھ بھی ہوتا۔

ہمیں یہ علم نہیں کہ جب محمد بن قاسم سندھ آیا تو سندھ میں راگ داری کی کیا حالت تھی؟ مگر ہمیں راجہ داہر کے ریاستی نظام کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ راجہ داہر کی ریاست نویکلی تھی مگر سندھ میں عرب تاجروں کا آنا جانا صدیوں سے موجود تھا۔ سندھ کے ہندو تاجر حجاز تک جا پہنچتے تھے۔ لنکا میں راون ایک ریاستی نظام بنا چکا تھا جس کو یو پی کے جاگیردار راجے، شری رام چندر جی مدراس کے قبائلیوں کی مدد کے ساتھ (جن کو وہ بندر کہتے تھے ) اجاڑ چکے تھے۔ وہ دراوڑوں میں سے تھے جن کو آریاؤں نے ویدوں میں ڈھیر ساری گالیوں سے نوازا اور آج وہ ان سے مدد لینے کے باوجود انہیں انسان نہیں مانتے۔ سندھ اس جھگڑے میں نہیں پڑا مگر یہاں مسلمانوں کے آنے کے وقت ایک جاگیرداری نظام تھا اور اس کی راگ داری اور دوسرے فن کسی باقاعدہ قسم کے تسلیم شدہ نظام میں ڈھلے نہیں تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وہاں آج بھی لے کاری کا کوئی وجود نہیں ہے اور گائیکی اور لوک گیت آگے نہیں بڑھے مگر سندھ میں عربوں، ارغونوں، ترخانوں، مغلوں، کلہوڑوں، پٹھانوں اور انگریزوں کے باوجود کبھی کوئی سندھی ریاستی نظام پیدا نہ ہو سکا۔ وہاں کے حاکم آج تک جاگیرداری اور قبائلی زندگی سے باہر نہیں نکل سکے اور وہاں راگ داری کی شکل بھی مرکزی طور پر منظم اور باریک نہیں ہے بلکہ لوک گیت کے ارد گرد ہی پھرتی رہتی ہیں۔ بلوچستان میں یہ بات اور بھی صاف ہے۔ وہاں لوگ طرزیں ڈھونڈتے ہیں۔ یہ بات نہیں کہ بلوچستان میں تخلیق کرنے والا دماغ پیدا نہیں ہوا یا وہاں ریاستی ادارے قائم نہیں ہوئے۔

صوبہ سرحد میں دیکھ لیجیے کہ کلاسیکی راگ داری کا رواج نہیں ہے۔ وہاں کے راج واڑیوں اور نوابوں نے اس فن کی پرورش کی مگر راگ داری کی کلاسیکی تربیت اور بڑھت وہاں بھی نہیں ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ چندر گپت موریہ نے پٹھان اور پنجابی فوجوں کی مدد سے یونانیوں سے ریاست چھینی اور چانکیہ کو ٹیکسلا کی وسنیکی چھڑا کے بہار لے گیا اور اس کی مدد سے اس نے ایک لمبی چوڑی ریاست قائم کی۔ پھر اشوک پشاور سے اٹھا اور جنوبی ہند تک حکومت کر گیا۔ اس کے بعد وہ بدھ ہو گیا اور اس کے زمانے سے بت بنانے کا رواج پیدا ہوا۔ بدھ اور بت گھرانے کے درمیان جس قسم کی آئیڈیلزم کا اظہار ہوا وہ اس کے ریاستی فلسفے کے مطابق ہے اور آپ کو تعلیم بذریعہ فن کے فلسفے کے ساتھ ساتھ اس کا عوامی اور ریاستی اداروں کا سلسلہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔ اس کا ریاستی نظام اس کے مرنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ٹوٹ پھوٹ گیا۔ ساتھ ہی علم اور فن کے مدرسے بند ہو گئے۔ ان ریاستوں میں مرکزی پنجاب بھی پشاور کے زیر اثر رہا۔ ان علاقوں نے ملتان، جہلم، سیالکوٹ اور شورکوٹ کی جاگیریں بھی دیکھیں مگر وہ لمبی چوڑی اور مستقل ریاستیں نہیں تھیں۔ ان جاگیروں نے فن کو کوئی تنظیم نہیں دی۔ دی ہوتی تو کچھ ہمارے ہاتھ بھی لگ جاتا۔ لوک فنکار اپنی انفرادی، مقامی اور نجی ایچ کے حساب سے فن پارے پیدا کرتے رہے۔ خواہ وہ بھینسوں کے گلے میں لٹکنے والے منکے ہوتے یا عورتوں کے سروں پر سجنے والے پھول یا لبوں پر کھیلنے والے گیت۔ لوگ ڈھولکیوں اور چمٹیوں سے ناچتے گاتے رہے۔ مسلمان پہاڑوں سے اترے اور راجہ ہرش کی ریاست کے ٹکڑے ہو گئے۔ اس کا ریاستی نظام علاقوں کی اقتصادیات پر قائم تھا۔ وہ نظام ختم ہو گیا تو جگہ جگہ جاگیردار پیدا ہو گئے جن کا کوئی مرکز نہیں تھا۔ لاہور میں راجہ جے پال مگر اس وقت لاہور صرف ایک پتن کا نام تھا۔ محمود غزنوی یہاں سے بار بار گزرتا اور لوٹ مار کرتا۔ پنجاب اور سندھ میں خوب لوٹا۔ اس کے بعد بھی ہندوستان پاکستان میں دیر تک کوئی مرکزی سلسلہ نہ بنا اور ایبک اور التمش اور غلام خاندان لاہور کو مرکز بنا گئے مگر جلدی جلدی اٹھتے رہے۔ علا الدین خلجی پہلا بادشاہ تھا جس نے دلی میں ایک مرکزی نظام قائم کیا۔ یہ زمانہ راگ داری میں خیال کی تخلیق کا زمانہ ہے مگر یہ بات ذرا جھگڑے کی ہے کیونکہ نہ جانے کس طرح یہ بات سر چڑھ گئی کہ اگر راگ داری ویدوں میں آسمانوں سے اتری ہے اور دھرپد کی شکل میں اتری ہے تو خیال بیچ میں سے کیسے پیدا ہو گیا۔ یہ ہمارے گویے بھی سننے کو تیار نہیں ہیں اور وہ لوگ جو اس دھرتی کی کوئی بات اور ادا بھی پسند نہیں کرتے اسی بات پر زور دیتے ہیں تاکہ اس بات کا کریڈٹ کسی طرح ہندوؤں کو ہی مل جائے مگر سائنسی اصولوں کے مطابق سوچیں تو پھر کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ خیال کی بندش خود اس بات کی گواہی دیتی ہے۔

خیال کی بندش لوک گائیکی سے بہت نزدیک ہے۔ لے کاری کی باریکیوں کے بغیر بھی خیال خیال ہی ہوتا ہے کہ لے کاری کی باریکیوں کے بعد میں ریاستی نظام کی باریکیاں بھی ساتھ ہی پیدا ہوئیں۔ بھارت ناٹیم اور کتھا گلی آج کی کتھک کی مانند باریک اور مزاج دار نہیں بن سکے۔ خیال میں الاپ طرز کے سروں کا تعارف ہوتا ہے۔ اس کا کوئی لازمی حصہ نہیں ہے۔ ہمارے فقیر آج بھی اللہ جانے مولا جانے گاتے پھرتے ہیں۔ ان کی طرز کو الاپ لگا دو۔ درمیانی آکاروں کو منظم کر دو۔ آخر میں لے تیز کر دو تو ”اللہ جانے مولا جانے“ کی فقیری طرز راگ میاں کی ٹوڈی بن جاتا ہے۔ خواہ فقیر نے کبھی اس کا نام تک نہ سنا ہو۔ تان، پلٹے اور سرگم اور تارا خیال کا بنیادی حصہ نہیں۔ بڑے چھوٹے فنکار کا تول وزن، اگر راگ کے اندر شیو جی کی تخلیق نہیں تو لازمی نہیں اس لیے کہ اندر اور شیو جی حقیقت نہیں متھ ہیں اور پھر راگ تو انسانوں نے بنائے ہیں اور پھر اگر یہ بات ہے تو پھر جس طرح دوسرے فن لوک ریت میں دھیرے دھیرے نکلے ہیں یہ فن بھی لوک گیتوں میں سے نکلا اور بڑھا ہے۔

یہ کالم علا الدین خلجی کی مرکزیت اور اس کے نظام کی بیٹھک کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ پہلا خیال اسی کے زمانے میں کیا گیا مگر یہ بات ضروری ہے کہ اس کے زمانے میں فن کے نئے میدان کھلنے کی گنجائش شروع ہو گئی۔ کچھ طرزیں ہم تک امیر خسرو کے حوالے سے پہنچیں اور ان کی شکل خیال کی ابتدائی شکل ہے۔ خلجی اور بلبن کے زمانے کا مزاج اور ریاستی اداروں کا نظام ایک ہی ہے۔ امیر خسرو کے ساتھ ہمارے لوگ طبلہ، ستار اور ترانے کی فارم بھی منسوب کرتے ہیں مگر یہ محض شاونزم ہے۔ ممکن ہے انہوں نے تار بڑھا دیے ہوں اور وہ موجودہ ستار کی ابتدا ہو مگر طبلہ انہوں نے ہرگز نہیں بنایا بلکہ مغلوں کے عروج کے زمانے میں اس کا وجود نہیں تھا۔ رہا ترانہ تو اس کی فارم ہی گواہی دیتی ہے کہ پختہ دربار کی پختہ ترکیب ہے۔ خلجی اور بلبن کی عامیانہ بادشاہتوں کے بس کی بات نہیں ہو سکتا۔ جن کے بیچ میں ابھی لوک ریت کا آنا جانا تھا۔

کلاسیکی فنون کی اصلی ترقی مغلوں کے درباروں کی پیداوار ہے جو لودھی اور سوری سے پہلے دہلی میں ایک مرکزی نظام کر چکے تھے۔ ان کے پاس مالیہ اکٹھا کرنے کا بندوبست تھا۔ بیورو کریسی، فوج کا نظام تھا، پھر انصاف کے محکمے تھے۔ دکانداری کے قانون تھے۔ خفیہ پرچہ نویسی، ترقی اور تنزل کے بندوبست تھے۔ اکبر نے بچپن میں ہی اپنا قبضہ حاصل کر لیا اور پچاس سال تک ڈٹ کر حکومت کی۔ اسی زمانے میں دربار داری کے اصول، قانون پختہ ہوئے، شاعری، مصوری، تال، رقص، حکمت، نجوم نے کلاسیکی شکل اختیار کی۔ اس نے بیورو کریسی کو کمال تک پہنچایا اور خیال اور دھرپد کو جگہ دی۔ کیوں دی اس کے لیے آپ کو دھرپدوی فارم کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ اکبر کے دربار میں بیربل جیسے بھاٹ بھی تھے مگر میاں تان سین کا مزاج دربار کا مزاج تھا جو خیال جیسی آزاد شے کو بادشاہی دبدبے اور تمیز داری کے سامنے برداشت کر سکتا تھا۔ میاں تان سین نے بادشاہ کی تعریف میں قصیدے کہے۔ ان کی ڈیوٹی یہ تھی کہ جب بادشاہ دربار میں آئے تو وہ اس کی تعریف میں ایک چھوٹی سی نظم پڑھیں۔ یہ دھرپد تھے۔ دھر یعنی پڑھا ہوا اور پرمعنی نظم یا کلام۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments