بلوچستان کے حقوق اور بجلی کے بل



حال ہی میں پاکستان اور ایران کے درمیان جو تنازع پیدا ہوا، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ چونکہ یہ حملے بلوچستان کے علاقہ میں ہوئے تھے، اس لئے ان کے بعد ایک نئے انداز میں عالمی میڈیا کی توجہ بلوچستان پر مرکوز ہوئی۔ اس سلسلہ میں الجزیرہ چینل کے پروگرام انسائڈ سٹوری میں پاکستان کے نامور مصنف احمد رشید صاحب اور سابق سفارتکار ملیحہ لودھی صاحبہ کو بھی مدعو کیا گیا اور ایران کی طرف سے تہران یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب شامل ہوئے۔ پروگرام کے آغاز پر مکرم احمد رشید صاحب نے بجا طور پر بلوچستان کی پس ماندگی اور اس صوبہ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذکر کیا۔ جب اس سلسلہ میں گفتگو آگے بڑھی تو اس پروگرام کی میزبان نے یہ دعویٰ کیا کہ بلوچستان کا صوبہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا نصف فراہم کرتا ہے۔

اس دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور مجھے اس بات پر کافی حیرت ہوئی کہ ملیحہ لودھی صاحبہ اور احمد رشید صاحب نے اس کی تصحیح بھی نہیں کی۔ جب ہم کسی ملک کی توانائی کی ضروریات کی بات کرتے ہیں تو اس میں تمام اقسام کی توانائی شامل ہوتی ہے۔ اس میں تیل کی ضروریات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس میں قدرتی گیس کی ضروریات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس میں بجلی کی ضروریات اور دوسری اقسام کی توانائی کی ضروریات بھی شامل ہوتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اس وقت بلوچستان پاکستان کی کل توانائی کی ضروریات کا نصف پورا کر رہا ہے؟ اس دعوے کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سب سے پہلے قدرتی گیس کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ اس حوالے سے بلوچستان کے لوگوں سے بہت زیادتی ہوئی ہے۔ اس بارے میں گزشتہ سال مئی میں خاکسار نے ایک کالم ’آئین بلوچستان کے حقوق کی حفاظت کیوں نہیں کر سکا؟‘ تحریر کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ 1970 سے قبل پاکستان کی قدرتی گیس کا نوے فیصد بھی زائد حصہ بلوچستان سے نکل رہا تھا۔ اور ستر کی دہائی میں بلوچستان پاکستان کی قدرتی گیس کا چوراسی فیصد پیدا کر رہا تھا۔ اسی کی دہائی میں یہ شرح 68 فیصد پر آ گئی۔ پاکستان کے آئین کی شق 158 یہ ہے

”صوبے میں قدرتی گیس کا کوئی سرچشمہ واقع ہو اسے اس سرچشمے سے ضروریات پوری کرنے کے سلسلہ میں، ان پابندیوں اور ذمہ داریوں کے تابع جو یوم آغاز پر نافذ ہوں پاکستان کے دیگر حصوں پر ترجیح ہو گی۔“

یہ درست ہے کہ ایک طویل عرصہ تک پاکستان کے دیگر علاقوں کو سوئی سے نکلنے والی گیس مہیا کی گئی اور آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کو اس سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا۔ یہ بھی درست ہے کہ زیادتی کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس وقت یہ سوال پیش نظر ہے کہ کیا بلوچستان اس وقت پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا پچاس فیصد مہیا کر رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ 2005 کے بعد سے پاکستان کی قدرتی گیس کی کل پیداوار کا بھی صرف بیس فیصد بلوچستان سے نکل رہا ہے اور صوبہ سندھ کی قدرتی گیس کی پیداوار بلوچستان سے کافی زیادہ ہے۔

Cry for Justice By Kaiser Bengali P 3

لیکن توانائی صرف قدرتی گیس سے پیدا نہیں کی جاتی۔ اب خام تیل کی پیداوار کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ توانائی کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی خام تیل کی پیداوار کا سب سے زیادہ حصہ صوبہ خیبر پختونخوا میں، پھر سندھ میں، پھر پنجاب میں اور سب سے کم حصہ صوبہ بلوچستان میں پیدا ہو رہا ہے۔ اور ایک طویل عرصہ سے یہی صورت حال چل رہی ہے۔

https://www.ceicdata.com/en/pakistan/oil-statistics

اسی طرح جب بجلی کی پیداوار کی بات ہو تو آبی وسائل سے بجلی کی پیداوار یعنی ہائڈرالک طریق پر بجلی کی پیداوار کا ذکر ضرور آئے گا۔ کیونکہ اب بھی ملک کی بجلی کا چوبیس فیصد اسی طریق پر پیدا کیا جا رہا ہے۔ نیپرا کے مطابق اس وقت پاکستان میں بتیس چھوٹے بڑے ہائڈرالک پاور سٹیشن کام کر رہے ہیں جن کی بجلی پورے پاکستان کو مہیا کی جا رہی ہے۔ اور ان میں سے ایک بھی پاور سٹیشن بلوچستان میں نہیں ہے۔

جب توانائی اور بجلی کی بات ہو تو بجلی کے بلوں کی بات بھی ضرور ہوگی کیونکہ اس وقت بجلی کے ہوشربا بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اس بحران کی ایک وجہ بلوں کی عدم ادائیگی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ کئی سرکاری ادارے بھی یہ بل ادا نہیں کرتے لیکن بعض علاقے ایسے بھی ہیں جن میں باقی پاکستان کی نسبت بہت کم بلوں کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ اور اس کا بوجھ باقی ملک کو اٹھانا پڑتا ہے۔ 2021۔ 2022 کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس سال کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی جو کہ بلوچستان کو بجلی فراہم کرتی ہے صرف پینتیس فیصد بجلی کے بل وصول کر پائی یعنی اس علاقہ میں 65 فیصد لوگوں نے بجلی کے بل ادا ہی نہیں کیے ۔ اور اسی سال کے دوران فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 99.5 فیصد بل وصول کیے ۔ اور اسی سال کے دوران گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 99.7 فیصد بلوں کی ادائیگی وصول کی۔ یہ ایسا فرق نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ اب جبکہ بجلی کے بلوں کی وجہ پاکستان بھر کے گھرانے بحران کا شکار ہیں ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنا بل ادا کرے۔ اور بلوچستان کے شہری اس فرض سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کے حقوق کی بات ضرور ہونی چاہیے لیکن اس کی بنیاد حقائق پر ہونی چاہیے۔ مگر الجزیرہ پر نشر ہونے والے اس پروگرام میں غلط حقائق پیش کیے گئے تھے اور اس موقع پر جو معزز پاکستانی اس پروگرام میں شریک تھے وہ اس کی بر وقت تصحیح نہ کر سکے۔ اور ہر علاقہ کے لوگوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کریں لیکن دوسرے علاقہ کے لوگوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ بصد ادب ان احتجاج کرنے والوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائیں۔

Facebook Comments HS