دوسری شادی، تیسرا رخ


آج صبح سے سوشل میڈیا پر ایک ہی خبر ٹرینڈنگ پر ہے، کرکٹر شعیب ملک نے اداکارہ ثنا جاوید سے دوسری شادی کر لی۔ معلوم نہیں یہ ان کی دوسری شادی ہے یا تیسری، شادی ہے اور کنفرم بھی ہے کہ ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق اداکارہ ثنا جاوید بھی پہلے سے نکاح میں تھیں اور کچھ عرصہ کے بعد ان کا نکاح ختم ہو گیا تھا۔ شادی کی تصاویر دیکھ کے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں اپنے نئے رشتے سے بے حد خوش ہیں۔ (مولا خوش رکھے بھاگ لگے رہن) ۔

شعیب ملک اور ثانیہ مرزا دو نامور شخصیات، اپنے اپنے ملک کے ہیروز، جب ان کی شادی کا فیصلہ ہوا تو دونوں ممالک میں اس کے خوب چرچے ہوئے۔ بظاہر یہ شادی بھی محبت کی تھی اور کافی دھوم دھام سے سر انجام پائی۔ ثانیہ مرزا کو پاکستان میں بھابھی کا درجہ دیا گیا جس کی وہ حقدار بھی تھی۔ البتہ شعیب ملک کو وہ مان سمان نہیں ملا جو ایک پاکستانی ”داماد“ کی اولین خواہش اور طلب ہوتی ہے۔

شعیب ملک کی دونوں شادیاں ”محبت“ کی ہیں۔ لیکن اگر دونوں شادیوں کی تصاویر پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ثانیہ مرزا کے ساتھ جو شعیب ملک ہے اس کا سر جھکا ہوا ہے اور چہرے پہ وہ اعتماد بھی نہیں جو ثانیہ مرزا کے چہرے سے صاف جھلک رہا ہے۔ محبت کی شادی میں خوش وہ دکھائی دیتا ہے جو ”فاتح“ ہو اور شعیب ملک کی ثانیہ مرزا کے ساتھ ہوئی شادی میں وہ فتح جھلکتی ہے جو ”پا لینے“ کی سرشاری سے منسلک ہے۔ شعیب ملک کے چہرے سے ایک عجیب سی ”شرمندگی“ چھلک رہی تھی جیسے کوئی میڈل ملتے ملتے واپس چھن گیا ہو۔ ہم نے اسے معمول کا ”ہونق پن“ سمجھ کر نظر انداز کیا تھا جو شادی کے دن اکثر دلہا حضرات منہ پر رومال رکھ کے چھپاتے ہیں۔

دوسری طرف ثناء جاوید کے ساتھ تصاویر میں خوشی سے زیادہ وہ ”اعتماد“ ہے جو شعیب ملک کے چہرے سے چھپائے نہیں چھپتا۔ اسی اعتماد کی کمی پچھلی شادی کے تصاویر میں اب اور بھی شدت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ ثناء جاوید اب گویا شعیب ملک کی ”ملکیت“ قرار پائی ہیں اور ان کے نام سے ہی پہچانی جائیں گی۔ اس کا ثبوت ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں بھی ملتا ہے جہاں وہ اب ثناء جاوید سے ثناء شعیب ملک ہو چکی ہیں۔

شادی کسی کی ہو، کسی سے ہو، کسی قسم کی ہو فرد کا ذاتی معاملہ ہے۔ اگر فریقین اس میں خوش ہیں تو کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ہاں کسی کو دوسروں کے معاملات میں ”ٹانگ اڑانے“ کا زیادہ ہی شوق ہے تو اور بات ہے۔

ہمیں کسی کی شادی پہ کبھی کوئی اعتراض نہیں رہا، ہمارے مجازی خدا کو اس بات کی کھلی اجازت ہے وہ جب چاہیں، جس سے چاہیں، شادی کر لیں لیکن ہمیں یہ ضرور بتائیں کے دوسری شادی کے پیچھے کی ”نفسیات“ کیا ہے؟ مرد دوسری شادی کیوں کرتا ہے؟ کیوں کرنا چاہتا ہے؟ کب کرتا ہے؟ کس کے لئے کرتا ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات دے سکیں تو آگے آزادی ہے۔

یہ سوالات بظاہر سادہ سے ہیں لیکن ان کے جوابات ڈھونڈتے ہماری آدھی عمر نکل گئی ہے۔ ہمارا واسطہ ہمیشہ مڈل کلاس اور مڈل کلاسیوں سے رہا ہے۔ ہمارے مشاہدے کے مطابق مرد کو دوسری شادی کا ”چاہ“ ملا کے وعظ سن کر چڑھتا ہے جب وہ سنتا ہے کہ مرد ایک وقت میں ”چار بیویاں“ رکھ سکتا ہے۔ دوسری، تیسری یا چوتھی کسی بھی شادی کے لئے اس کو کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں، کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ثواب کا ”حقدار“ ٹھہرتا ہے کہ اس نے سنت پہ نا صرف عمل کیا بلکہ سنت کو زندہ رکھنے کا موجب بھی ٹھہرا۔ بس ہمارے ”ملا“ یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ سنت کو پورا کرنے کے لئے کتنے کٹھن ”فرائض“ ہیں جن کو ادا کیے بغیر سنت قبول نہیں ہوتی۔

دوسری وجہ دولت کی ”زیادتی“ ، مرد کا سادہ سا اصول ہے جیسے ہی نئی نئی دولت ملتی ہے پہلی بیوی ”پرانی“ لگتی ہے، پھر وہ ہر قیمت پر نئی بیوی لے آتا ہے۔ اولاد کی محبت، بیوی کے آنسو، سماجی دباؤ کوئی بھی اسے اپنے فیصلے سے باز نہیں رکھ سکتا۔

ایک اور وجہ اولاد کا نا ہونا، بیٹے کا نا ہونا، قصور وار عورت ہے تو سزا اسے ملے گی اس پر اور عورت مسلط کر کے۔ سب سے اہم ”انڈر سٹینڈنگ“ کی کمی، اور کوئی بہانہ نہیں تو یہ تو بہرحال موجود ہے۔

اس سارے قصے میں کوئی ”نظر انداز“ کر دیا جاتا ہے تو وہ ہے ”اولاد“ ۔ آپ کی سنت کو زندہ رکھنے کی ”چاہ“ آپ کی اپنی اولاد کو زندہ درگور کرتی ہے۔ سنگل مدر، سنگل فادر یا سوتیلی ماں اور سوتیلا باپ اولاد کے لئے ”امتحان“ بنے رہتے ہیں۔

ہمارے پدر سری سماج میں یہ سہولیات صرف مردوں کے لئے ”مخصوص“ ہیں۔ وہ جب چاہیں، جس سے چاہیں شادی کر لیں۔ دوسری طرف ہم خواتین کو نا ”ملا“ کا مذہب سہولت فراہم کرتا ہے نا سماج کے سیوک اجازت دیتے ہیں۔ اگر خاتون سماج سے بغاوت کر کے دوسری شادی کر بھی لے تو ساری زندگی اس کا تاوان ادا کرتی ہے۔

اپر کلاس پہ کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا، مگر ثانیہ مرزا اپنے بیٹے کو اکیلے پروان چڑھائیں گی اور اپنے شوہر کی ”دوسری شادی“ کے لئے اپنے بیٹے کے سامنے جوابدہ بھی ہوں گی۔ ہاں اگر زندگی نے کبھی ان کو موقع دیا اور انہوں نے بھی کسی اور کا ہاتھ تھام لیا تو ”گناہ“ سنگین ہو جائے گا۔ صد شکر کہ ثانیہ مرزا کی اولاد اکلوتی ہے اور وہ بھی بیٹا۔

آپ دوسری شادی کیجئے، ضرور کیجئے مگر یاد رکھئے آپ کی دوسری شادی کا ایک تیسرا رخ بھی ہوتا ہے جو نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ جس دن وہ سامنے آ جائے تو آپ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار پھر سے سوچ لیجیے گا۔ کہ فیصلہ کوئی بھی اس کے نتائج صرف آپ کو نہیں آپ سے منسلک تمام لوگوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

Facebook Comments HS