اور ”میری“ سوتی رہ گئی


جب میری رچرڈ ہین سے پہلی ملاقات ہوئی اس کی عمر پچیس سال کچھ ماہ تھی۔ اس کے چارٹ پہ یہی درج تھا۔ بھاری بھرکم جسم، گول مٹول چہرہ، دبی ناک، چھوٹی چھوٹی کھنچی ہوئی آنکھیں، جن میں جواں عمری کے باوجود جوانی کی مستی کی رمق تک نہ تھی۔ جھانکو تو لگے جیسے دور تک پھیلا درد کا صحرا ہو، جہاں تا حد نگاہ تنہائی کی خاک اڑ رہی ہو۔ نسبتا پتلے ہونٹ جنہیں وہ بات کرتے دانتوں سے یوں دباتا جیسے خود کو اذیت دینا چاہتا ہو۔ گفتگو کے دوران اس کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ بھی بہت تکلف سے آتی، حالانکہ امریکی مسکراہٹیں بکھیرنے میں عادتا خاصے فیاض ہوتے ہیں۔

لیکن رچرڈ خالص امریکی نہیں تھا۔ وہ امریکہ نقل مکانی کرنے والے کورین والدین کی اولاد تھا۔ ایسے بہت سے غیرملکی مہاجرین کی طرح جو امریکہ میں خود کو مٹا کر اپنے بچوں کی قسمت بنانے کے لیے آتے ہیں۔ رچرڈ کے چہرے پہ امڈتی اداسی اور جسم پہ چڑھی چربی کی تہوں کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا جانے یہ نوجوان کون سے غم پال رہا ہے۔ مجھے معاف کر دیجیے گا جب کبھی میں اتنا بھاری جسم دیکھتی ہوں تو اوپر کا فاضل گوشت مجھے اندر کی کسی مسرت کی کمی کی چغلی کرتا نظر آتا ہے۔ گو پوری طرح جانے بغیر ایسا سوچنا کچھ درست نہیں مگر اکثر میری سوچ کچھ ایسی غلط بھی نہیں نکلتی۔

میری رچرڈ سے یہ پہلی ملاقات شہر سے دور واقع جیل کے بوٹ کیمپ کے اس کمرے میں ہوئی، جہاں کی اونچی چھتوں پہ پرانے وقتوں کے بد صورت سرسراتے پنکھے لگے تھے۔ میں نے اسے اپنی میز کے مقابل پڑی ہوئی کرسی پہ بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ وہ جو بیٹھا تو کرسی اس کے وجود سے لبالب بھر گئی۔ کولہوں کا گوشت کرسی کے دونوں جانب ہتھوں اور سیٹ کے درمیان کی خالی جگہوں سے کچھ ابلنے سا لگا۔

میں جیل میں منشیات کے عادی مجرم افراد کی تھراپسٹ تھی۔ رچرڈ نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے کم ازکم تین چار دفعہ پکڑا جا چکا تھا۔ اور اب اپنے اس غیر ذمہ دار رویے کو قید کی صورت بھگت رہا تھا۔

داخلے کے بعد اس کا تفصیلی تجزیہ فارم بھرنے کا کام شروع ہوا جیسا کہ ہر نئے داخل ہونے والے قیدی کا ہوتا ہے۔ موثر تھراپی کے لیے مریض کی ہسٹری کا لینا سب سے اہم ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ جس کے بعد ہی مسائل کی بنیاد پہ ابتدائی گول (goal) کا بھی تعین ہوتا ہے۔ رچرڈ کے تین گول شراب سے مکمل پرہیز اور جسم پہ اس کے اثرات کے متعلق معلومات کا حصول، وزن میں کم ازکم پچاس سے سو پونڈ کی کمی طے پایا۔

ابتدائی حالات زندگی کو پوچھنے سے پتہ چلا کہ اس کے والدین کوریا سے امریکہ یعنی لینڈ آف اپارچیونٹی (مواقع کی دھرتی) پچیس سال قبل امریکہ کی ریاست ویسکونسن پہنچنے والے امیگرنٹ تھے۔ اس وقت اس کی ماں پانچ ماہ کی حاملہ تھی۔ پیٹ میں پلنے والا بچہ رچرڈ تھا جبکہ انگلی پکڑے تین سالہ ایک اور بیٹا تھا۔ بعد میں اس جوڑے کی تین اور اولادیں ہوئی ہیں۔

امریکہ میں بہتر زندگی کی غرض سے مواقع کی تلاش، اور گھر میں خوشیوں کا باغ اگانے کے لیے رچرڈ کے والدین نے سخت محنت کی لیکن اونچی مانگ والی سند نہ ہونے کی وجہ سے نوکری کی منڈی میں مناسب بولی نہ لگی۔ اور یوں ان کی محنت کی چکی، کوڑی کوڑی جمع کرتے، بغیر رکے بے تھکان چلتی ہی رہی۔

رچرڈ نے اپنی زندگی میں باپ کی موجودگی کو کم اور ان کی محنت کے ثمر کو سامان کی صورت میں زیادہ دیکھا۔ کم کم ملنے کے باوجود رچرڈ کا رول ماڈل اس کا باپ ہی تھا۔ جس نے کبھی کام سے واپس آ کر غم غلط کرنے کے لیے شراب پی کر بیوی بچوں کے ساتھ گالم گلوچ اور مار پیٹ نہیں کی۔ وہ دیہاڑی کی مزدوری پہ منہ اندھیرے کام پہ نکلتا اور اکثر رات گئے واپس آتا۔ خاموشی سے گھریلو ضروریات کا روزن بھرتا رہتا۔ غلہ چینی کپڑے لتے جوتے، تعلیم کا خرچہ اور مہینے کے بل وغیرہ وغیرہ۔ اس نے اپنی کمی کو سامان کی بیشی سے حتی المقدور پورا کیا۔ وہ چیزیں جن کے حصول کاوہ کوریا میں محض خواب ہی دیکھ سکتا تھا یہاں کڑی محنت کے بعد اس کے بچوں کو حاصل تھیں۔ بس چیزوں کی انہی پکڑ دھکڑ میں اکثر کہیں ہم اپنے آپ کو کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسا اس نے سوچا نہ بعد میں رچرڈ نے۔

جب ہی تو بھری جوانی میں بھی رچرڈ کو پتہ نہ چلا کہ کب بالکل غیر محسوس طریقے سے خوش شکل، نیک دل، قدرے حساس اور محبتی امریکی کلاس فیلو میری اس کی زند گی میں داخل ہو گئی۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں رچرڈ تو اپنے کو بھلا ہی بیٹھا تھا۔ اسے اپنے باپ کی طرف سے محنت سے حالات بدلنے کا عملی سبق ملا تھا۔ پڑھائی کے دوران پارٹ ٹائم ملازمت اور پھر کالج کورسز ختم ہونے کے بعد ایک فل ٹائم ملازمت کے ساتھ ایک اور ملازمت اس کی اپنے حالات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کی ایک کڑی تھی۔

مشقت کی چکی پیسنے کے درمیان اگر اسے کبھی ادھر ادھر جھانکنے کی مہلت ملتی تو وہ ہر پل میری کو اپنے ساتھ پاتا۔ جو اس کا خیال رکھتی اپنی ہر بات سے اس کو اپنی محبت کا احساس دلاتی۔

میری نسبتاً خوشحال گھرانے کی خوش مزاج امریکی لڑکی تھی جس کا دل مڈل اسکول سے ہی رچرڈ پہ بے طرح آ گیا تھا۔ اس نے اپنے کیتھولک چرچ سے ناتا جوڑے مذہبی والدین کو باور کرا دیا تھا کہ وہ اپنے ہائی اسکول ”سویٹ ہارٹ“ کے علاوہ کسی کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اپنے اسکول کے آخری سال میں ہونے والے پرام میں بھی اس نے رچرڈ کو ہی اپنا ڈانس پارٹنر منتخب کیا تھا۔ حالانکہ کئی اور لڑکے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کے رقص کرنے کے متمنی تھے۔

محبت کی اس کہانی کا انجام اچھا ہی تھا۔ باوجود کلچر اور طبقاتی فرق کے کوئی روڑا راہ میں نہ آیا۔ دونوں ایک سادہ سی تقریب میں یکجا ہوئے اور شادی کے بعد ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ماں باپ سے الگ رہنے لگے۔ جیسا کہ امریکہ میں ہوتا ہے۔ نہ سسرال کا زور نہ میکے کی ٹوہ۔

رچرڈ کی نوکری کمپیوٹر کے شعبہ میں تھی۔ شادی سے پہلے سے ہی اس کی کوشش یہ تھی کہ وہ جلد از جلد کامیابی کے زینہ چڑھتا ہوا سب سے اوپر کی منزل پہ پہنچ جائے جہاں میری کا نازک ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ میں ہو۔ اس کے پاس بہترین ساز و سامان سے لیس رہائش گاہ ہو۔ اور پھر ہر شے کے حصول کے لیے کی جانے جدوجہد کی طویل مسافت کے بعد وہ میری کی بانہوں میں سمٹ کر بہت سا آرام کرے۔ ان کے بچے ہوں جن سے وہ ہر روز باتیں کرے۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات پہ خوش ہو کر اونچے اونچے قہقہے لگائیں۔

رچرڈ ان کو اپنے مضبوط توانا کاندھوں پہ اٹھا سکے۔ اپنی بانہوں میں انہیں بھر سکے۔ پھر رات سوتے وقت وہ بچوں کے لیے متحیر کرنے والی کہانیاں پڑھے جنہیں وہ دم سادھے سنتے ہوئے نیند کی وادی میں اتر جائیں۔ رچرڈ کی اپنے باپ کے ساتھ گزاری عمر میں یہ ہی تو وہ حصہ تھا جو کہانی سے یکسر غائب تھا۔ اس کی زندگی میں باپ کا کردار ایک ایسے ہیولے کے مانند تھا جو زندگی کے پر دۂ اسکرین پہ چند ساعتوں کے لیے نمودار تو ہوتا تھا۔ مگر ٹھہرتا دو گھڑی بھی نہیں۔

اسی لیے رچرڈ اپنے بچوں کی زندگی میں سکون سے ٹھہر کر ان سے ملنا انہیں جاننا اور ان کی زندگی کا حصہ بننا چاہتا تھا۔ لیکن ان کی معمولی سے معمولی خواہشوں کا انتظام کر کے۔ اس کو اپنے تجربات سے یہ ہی بات سمجھ آئی تھی۔ تو بس اگر بات اتنی ہی سی تو تھی تو یہ اتنی آگے کیسے بڑھی کہ زندگی میں بچوں کے آنے سے پہلے رچرڈ کو جیل میں سزا بھگتنے آنا پڑا۔

رچرڈ نے مجھے بتایا کہ وہ ”میری“ کو بہت چاہتا تھا۔ شادی کے کچھ سہانے دن گزارنے کے بعد قسمت کی دیوی نے رچرڈ کے لیے بہتر ملازمت کا سامان کر دیا جو ان کے شہر بلکہ ریاست سے دور تھی۔ اور یوں وہ دونوں میاں بیوی اپنے خاندان سے دور ایک مختصر سے اپارٹمنٹ میں رہنے لگے۔

رچرڈ نے بتایا کہ نئی ملازمت میں وہ اپنے کو منوانے کے لیے سخت محنت کر رہا تھا۔ اور اکثر ہی نہ چاہتے ہوئے بھی دیر سے گھر لوٹتا۔ میری پورے دن انتظار کی کیفیت میں مبتلا رہتی۔ لیکن جلد ہی قریبی اسٹور میں ملازمت کرلی تاکہ وقت کو کاٹ اور رہائی سے لپٹی اداسی کو ڈھانپ سکے۔

لیکن رچرڈ کو یہ اندازہ نہیں ہو پایا کہ روز جلدی گھر آنے کی فرمائش کرنے والی میری کس ذہنی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ نئی جگہ نئے لوگ اور اکیلا پن۔ اس نے تو رچرڈ سے شادی کی تھی اور رچرڈ نے نئی ملازمت سے۔ اکثر وہ کام سے لوٹتا تو وہ کمرے میں ٹی وی چل رہا ہوتا اور میری سوئی ہوئی ملتی۔ لیکن ایک آہٹ پہ اٹھ بھی جاتی۔ کبھی دیر سے آنے پہ شاکی تو کبھی راضی۔ اسی دھوپ چھاؤں میں زندگی کا سفر رواں تھا۔

رچرڈ کو نئی ملازمت کے منوانے کے جنون میں نئی بیوی کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہی نہ ہوا، ”مجھے نہیں پتہ تھا کہہ وہ ڈپریشن کا شکار ہو گئی ہے۔ میں روز خود سے جلدی آنے کا وعدہ کرتا لیکن اکثر ہی دیر سے لوٹتا۔“ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ”ایک دن ایسا ہی ہوا۔ میں دیر سے لوٹا اس رات خلاف توقع ٹی وی نہیں چل رہا تھا۔ میری گہری نیند سو رہی تھی اس کے چہرے پہ ہلکا میک اپ تھا اور اس نے چھوٹے چھوٹے خوبصورت پھولوں والا لباس پہنا ہوا تھا۔

یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی کیونکہ بستر پہ نائٹ سوٹ میں ہی ہوتی تھی۔ اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر جی چاہا کہ اسے اٹھا دوں اپنی بانہوں میں بھر لوں۔ جی بھر کے پیار کروں اور دل سے ایک بار پھر دیر سے آنے کی معافی مانگوں۔ مجھے یقین بھی تھا کہ ہمیشہ کی طرح وہ ایک بار پھر مجھے معاف کردے گی۔ لیکن اس کے چہرے پہ اتنا سکون تھا کہ میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا۔

میں نے میری کو سوتا ہی چھوڑ دیا اور خود بھی سو گیا۔ دوسرے دن میں نے جانے سے پہلے میری کو خدا حافظ کرنے کے لیے اس کی پیشانی پہ پیار کیا۔ وہ نہ کسمسائی اور نہ ہی جو اباً پیار کیا۔ میں نے غور کیا میری جس کروٹ سے سو رہی تھی وہ اسی طرح سو رہی تھی۔ میرا ماتھا ٹھنکا۔ میں نے اس کے بدن کو چھوا تو محسوس کیا کہ اس کا جسم ٹھنڈا اور سانسوں کی آمد و رفت سے آزاد ہے۔ ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اسے مرے ہوئے بارہ گھنٹے ہوچکے تھے۔

اس نے بھاری مقدار میں خواب آور گولیاں لے لیں تھیں۔ مجھے یہ سوچ کے جھرجھری آئی کہ خوبصورت لباس میں ملبوس خوشبو میں بسی میری محبوبہ میرے ساتھ پوری رات مردہ حالت میں پڑی رہی اور میں یہ جانے بغیر کہ آج میری سوتی ہی کیوں رہ گئی، سکون سے اکیلے کھانا کھانے کے بعد خواب غفلت کے مزے اڑاتا رہا۔ ”وہ بلک بلک کے رونے لگا۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے غم غلط کرنے کے لیے فاسٹ فوڈ کھانا اور کثرت سے شراب پینا شروع کر دیا۔ وہ اپنے آپ کو معاف نہیں کر پا رہا ہے۔ وہ شدید غم میں مبتلا ہے۔ شراب نوشی، ایکسیڈنٹ اور بے قابو وزن اسی صدمہ کا نتیجہ ہے۔ جس کی وہ آج سزا بھگت رہا ہے۔

نو ماہ جیل میں گزارنے اور تھرپی کے بعد رچرڈ کا وزن پچاس پونڈز کم ہو چکا تھا۔ اس کو غم پہ قابو پانے کے حربے آچکے تھے۔ اسے یہ بھی یقین ہو چکا تھا کہ اس کی سوتی ہوئی میری اب کبھی نہیں جاگے گی اور مجھے خوشی تھی کہ جیل کے باہر کی دنیا میں لوٹنے سے پہلے رچرڈ جاگ چکا ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اور ”میری“ سوتی رہ گئی

  • 23/01/2024 at 12:00 شام
    Permalink

    woww you write so amazingly

Comments are closed.