رنگ غالب میں پیروڈی


بنام شبیر حسن

شبیر حسن بے جوش!

سلامت رہو۔ فقیر کا ایک سخن ہمیشہ یاد رکھو کہ یہ دنیا دارالمکافات ہے اور انسان اشرف المخلوقات ہے۔ طبائع کے اعتبار سے انسان کی پانچ قسمیں ہیں : شریف الطبع، ظریف الطبع، حریف الطبع، کثیف الطبع اور نحیف الطبع۔ تم طبع ثالث کے مالک ہو کیوں کہ اوت ہو نہ بھوت ہو، تم راج پوت ہو۔ دامن کو حریفانہ کھینچتے ہو۔ سوپشت سے پیشۂ آبا سپاہ گری ہے، شمشیر بازی ہے۔ سخن طرازی تمہارے قبیلے کا شیوہ نہیں۔ شاعری عزت کا ذریعہ نہیں۔

”تاریخ راج پوتاں“ میں تحریر ہے کہ قبیلے میں غلطی سے اگر کوئی شاعر پیدا ہو جائے تو نوزائیدہ کو بوسوں سے ہلاک کر دیتے ہیں۔ حیران ہوں کہ اس رستاخیز میں تم کیسے بچ رہے۔ جوان ہو کر تم نے غزل میں خوب رنگ نکالا ہے۔ نئی راہ نکالی ہے، واہ واہ! مضامین نو کے انبار لگاتے ہو، گاہے گاہے مجھے بھی اشعار سناتے ہو، کرم فرماتے ہو۔ سنا ہے کہ نثری نظم بھی تحریر کرنے لگے ہو، اس سخن زادی پر تم بھی مرنے لگے ہو۔ واقعی یہ دنیا دارالمکافات ہے۔

غیر ملیح آبادی!

ایک زمانے میں خامہ خراب نے چند نثری نظمیں بنائی تھیں، تمہیں بھی دکھائی تھیں۔ ایک آدھ کی تم نے ازراہ مروت ستائش کی، پھر چپ سادھ لی۔ میں اتنا نادان نہیں کہ ’سکوت سخن شناس‘ کا مطلب نہ جانوں۔ بلاتاخیر نظم گوئی ترک کر دی۔ وہ دن اور آج کا دن لکھنا تو کجا، کسی کی نثری نظم پڑھی تک نہیں، لیکن آنکھیں سخن زادی کو دیکھنے کو ترستی ہیں۔ اپنی چند نثری نظمیں بھیجو کہ چشم شاد ہو، دل آباد ہو۔ جناب بھیجو، شتاب بھیجو۔

عزیزی سجاول کو پیار کرنا۔ وہ لہک لہک کر توتلی زبان سے تمہارے اشعار سناتا ہے تو بہت پیارا لگتا ہے۔ اسے کوئی نثری نظم بھی یاد کرائی ہے کہ نہیں؟

متشاعر زماں
خامہ خراب
بنام محمد افتخار شفیع
افتخار، میرے یار!

کار سرکار تو ایک بہانہ تھا، اصل مدعا تو دیدار یار تھا۔ اسی لیے ساہی وال پہنچتے ہی تمہیں اپنی آمد کی خبر کی۔ تم بھی الٰہ دین کے جن نکلے۔ چشم زدن میں تشریف لے آئے۔ میرے ہم راہ احباب بھی تھے۔ ایک، دو نہیں، پورے سات تھے، سبع معلقات تھے۔ تم نے سب کا اکرام کیا، دعوت سمرقند کا اہتمام کیا۔ میاں! دریا دلی عادت حسنہ ہے مگر یاد رکھو کہ اگر ”ڈیم“ نہ بنائے جائیں تو سمندر سے گہرے دریا بھی بے آب ہو جاتے ہیں۔ بندہ نواز! کچھ پس انداز بھی کیا کرو۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ خست پر اتر آؤ، اگلی بار آؤں تو مجھے بھی ٹھینگا دکھاؤ۔ نہ بھئی نہ، فقیر کو فاقہ کشی گوارا نہیں۔ یوں سمجھو کہ تم نے کچھ سنا نہیں۔ میں تو جنوں میں بکتا ہی رہتا ہوں۔

شکرگزار
خامہ خراب
بنام حافظ محمد نعیم خان
لحیم شحیم!
حافظ نعیم!

جانتا ہوں کہ لحم خنزیر تم نہیں کھاتے، شراب تم نہیں پیتے، مسائل تصوف سے تمہیں گونہ دل چسپی ہے۔ اس باب میں تمہارا فرمایا ہوا میرے نزدیک مستند ہے۔ خواجہ علام فریدؒ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جن کی دو سو بہتر کافیاں تمہیں ازبر یاد ہیں، تم میرے لیے بمنزلہ ولی کے ہو۔ میں ہر دم ولی، ولی پکارتا ہوں۔ لیکن خاطر نشاں رہے کہ ولی را ولی می شناسد۔ تمہارے معمولات سے یہ عاصی بخوبی آشنا ہے۔ ماہ صیام میں تمہاری صورت سے جو شادابی ٹپکتی ہے، روزہ داروں کے نورانی چہروں میں مفقود پاتا ہوں۔ خانۂ خدا سے متصل طہارت خانے اکثر جاتے ہو کہ غربال مثانہ ہو لیکن کبھی تمہیں کسی ایاز کے ساتھ صف میں کھڑے نہیں دیکھا۔ کہاں کے محمود ہو؟

حافظ جام پوری!

کل کا واقعہ سنو۔ اردو بازار کی طرف جاتا تھا کہ کلیہ علوم شرقیہ کے صدر دروازے کا پہرے دار مل گیا۔ حال احوال معلوم کیا کہ آشنائی اس سے اس زمانے سے ہے کہ جب یہ جاہل مطلق، دیوار دبستاں پر لام الف لکھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ اماوس کی راتوں میں کلیہ کے عشاق دیرینہ کی ارواح نیرینہ سبزہ زار میں جمع ہوتی ہیں اور اپنی اپنی ستم پیشہ نازنینوں کو یاد کر کے ماتم کناں ہوتی ہیں۔ ایک طرف آہ و بکا کا یہ عالم اور دوسری جانب مکتب کے در و دیوار سے نعیم خان کے جناتی قہقہے بھی سنائی دیتے ہیں جو عشاق کے نالوں سے زیادہ بلند ہوتے ہیں۔ یا الٰہی، یہ ماجرا کیا ہے؟ تم ہی کچھ بتاؤ کہ احوال کے واقف، اسرار کے عارف اور حجابات کے کاشف ہو۔ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ حسرت سے گریہ اور حیرت سے قہقہہ پیدا ہوتا ہے۔ وا اللہ اعلم بالصواب۔

نعیم خان، میری جان!

اب ایک بات کہتا ہوں۔ میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو۔ تمہارے جواں مرگ والد نے تمہیں ناز و نعم سے پالا، نعیم نام تجویز کیا مگر تم جواں ہو کر نعم سے گریز کرتے ہو، لذات کو ترک کرتے ہو۔ دیکھو یہ روش سعادت مندی کے برخلاف ہے۔ مزید کچھ نہیں لکھتا ورنہ میری آنکھ نم ہو جائے گی اور تمہارا کلیجہ شق۔ بے شک!

ناصح مشفق
خامہ خراب
بنام بندو خاں

حضرت! میں عام طور پر دال دلیے سے پرہیز کرتا ہوں۔ سبزی سے گریز کرتا ہوں۔ حمام و کبوتر کا بھوکا ہوں۔ مرغ و ماہی کا شیدا ہوں لیکن جب سے تمہاری دال کھائی ہے، تمہارا دل دادہ ہو گیا ہوں۔ ’ذائقہ‘ انگشت بدنداں ہے، ابھی تک انگلیاں چاٹ رہا ہوں۔ میاں! تم نے دال کو وہ ذائقہ عطا کیا ہے کہ یہ ہم سر مرغ سلیماں ہو گئی ہے۔ گھر کا مرغا ہنوز اس کے برابر نہیں ہوا۔ تمہاری دال میں کچھ بھی کالا نہیں تھا، سوائے کالی مرچ کے۔ میں نے دانۂ فلفل کو ترک ملتانی کا تل جانا ہے اور دال کو سی پارۂ دل مانا ہے۔

بندو میاں! عام طور پر دال کھا کر لوگ ’اسیر کمند ہوا‘ ہو جاتے ہیں، ان کے شکم جاری ہو جاتے ہیں لیکن تمہاری دال نے میری طبع رواں کر دی ہے۔ غیب سے ایک مصرع خیال میں آیا ہے۔ حضور کی نذر کرتا ہوں :

ع بدال بندواش بخشم ثمر قندوبخارا را

اہل سخن، سخی ہوا کرتے ہیں۔ تم بھی اہل سخن پر مہربانی کیا کرو۔ نرخ میں رزانی کیا کرو۔ خدا تم پر مہربان ہو گا۔

شکم مست
خامہ خراب
بنام شاہد مصطفے لغاری

آہاہاہا! کون آیا ہے؟ شاہد خان آیا ہے۔ عزیز از جان آیا ہے۔ تحفہ بدست آیا ہے۔ حلوا بکف آیا ہے۔ کس کا حلوا ہے؟ کس کا فرستادہ ہے؟ حضرت اللہ بخش کا حلوا ہے۔ تونسے کی سوغات ہے۔ بہ از قند و نبات ہے۔ عتیق بزدار کی جانب سے ارمغان ہے۔ موصوف خود سویڈن میں ہیں۔ وہیں سے حکم جاری فرمایا ہے کہ اٹھو، اب کوچ کرو۔ سو، بندہ حاضر ہے۔ حلوا پیش ہے۔

شاہد خان!

معلوم نہیں کہ لوگوں نے یہ کیوں فرض کر رکھا ہے کہ حور اور حلوے پر صرف مولوی کا حق ہے۔ میاں، قدرت کی جانب سے تو صلائے عام ہے لیکن عجب زمانہ آ گیا ہے۔ نہ کوئی صدائے حق سنتا ہے اور نہ کوئی نوائے سروش۔ ہیہات، گراں گوش۔ اللہ بخش کے حلوے پر اللہ کے تمام بندوں کا حق ہے۔ عتیق نے نیک کام کیا ہے۔ ’حق بہ حق دار رسید‘ کا اہتمام کیا ہے۔ حلوا رنگ، خوش بو اور ذائقے میں بے مثال ہے۔ صحائف ملتانی میں تحریر ہے کہ مٹھاس میں مرتبہ شہد بہشت کے بعد ملتان کے آموں کا ہے۔

حافظ عبدالودود کا ملتانی سوہن حلوا تیسرے درجے پر فائز ہے لیکن حوران بہشت کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ دم تحریر اگر کوئی تونسے کا آدمی بھی موجود ہوتا تو اللہ بخش، عبدالودود کا ہم مرتبہ ہوتا۔ ویسے حق یہ ہے کہ یہ مرتبہ، یہ مقام فانی ہے۔ اللہ کا نام جاودانی ہے۔ یہ ذائقہ، یہ حلوا نقل ہے۔ موت کا ذائقہ اصل ہے۔ االلہ، بخش! اللہ، بخش!

سنا ہے عتیق میاں 10 فروری کو لوٹ کے گھر آئیں گے۔ چکوال جائیں گے جہاں فضائیہ کا دفتر ہے۔ وہاں وہ ہوائی جہاز بنائیں گے، ہم یہاں ہوائی قلعے بنائیں گے۔

خیر طلب
خامہ خراب

Facebook Comments HS