جو کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں

بعض لوگ آپ سے ملتے رہتے ہیں، ہر پروگرام نہیں تو کئی ایک پروگرامز میں بار بار مل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن کسی بھی حوالے سے آپ پر ظاہر ہی نہیں کرتے کہ وہ ایک لکھاری ہے، شاعر ہے ادیب ہے بلکہ ہمہ جہت شخصیت ہے۔ لیکن جب وہ آپ کو کسی پروگرام میں چپکے سے تین کتابوں کا ایک سیٹ بڑی احترام اور محبت سے تھما دیتے ہیں تو آپ کے سامنے بیٹھے بیٹھے ان کی شخصیت بدل جاتی ہیں اور آپ جس پروگرام کو سننے کے لئے گئے ہوئے ہوتے ہیں وہ کچھ لمحوں کے لئے بھول جاتے ہیں، اور ان صاحب کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں کہ میں ان کے بارے میں کتنا محدود سوچ رکھ رہا تھا یا ایک حد تک ان سے شناسائی تھی اور ان کی شخصیت کتنی ہمہ جہت اور باکمال ہے تو زرہ سہ اپنی کم علمی اور کم مائیگی پر خفت سی محسوس ہونے لگتی ہے۔
محمد اصغر خان جن کو میں کئی پروگرامز میں حصہ لیتے ہوئے دیکھتا رہا ہوں اور ہمارے مشترکہ دوست ڈاکٹر عمیر احمد خان کے ساتھ کئی نشستیں بھی ہوئی اور میرے سامنے ایک پبلشر کی حیثیت سے اپنی پہچان بنائی ہوئی تھی۔
لیکن بائیس جنوری کو پی اے سی سی میں انگلینڈ سے آئی ہوئی شاعرہ تسنیم حسن کی کتاب یافت کی تقریب رونمائی تھی۔ اس پروگرام میں جناب محمد اصغر خان صاحب نے اپنی تین کتابوں خان کی ڈائری، آتش زیر پا اور سیل رواں کا سیٹ عنایت فرمایا۔
جب میں نے ان کتابوں کا مطالعہ کیا تو وہ محمد اصغر خان صاحب جو میرے سامنے صرف ایک پبلشر کی حیثیت میں سامنے تھے اب کئی حیثیتوں میں سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ لیکن میں خوش ہونے کے ساتھ ساتھ حیران اور پریشان بھی ہوا کہ اتنی ساری حیثیتوں میں اب ان کو کس حیثیت کے نمبر مساوی اور کس حیثیت کے نمبر کم دیدوں، کیونکہ میرے سامنے جوان کی حیثیت پر حل کرنے کا پرچہ تھا وہ نمبرات میں مساوی تھا اور حل سوال لازمی تھا لیکن میں نے اس کا حل یہ نکالا کہ جو سوال میرے لئے آسان ہو وہ پہلے حل کر دیا جائے۔
میں نے سب سے پہلے جب ان کی طنز و مزاح کی کتاب خان کی ڈائری یعنی نثر پر نگاہ ڈالی تو مجھے بہترین سیٹائر کے روپ میں نظر آئے۔ دھیمی، کھری، سچی، واضح، بغیر لگی لپٹے، من کی، دھن کی وہ باتیں پڑھنے کو ملی جو یہ سب لوگ کرتے ہیں لیکن کہیں کہیں سمجھوتے اور تعلق داری سے کام ضرور لیتے ہیں لیکن، ادھر ایسا بالکل نہیں تھا جو سوچا تھا وہ لکھا ہوا تھا، جو مشاہدہ تھا، جو تجربہ تھا وہ تحریر میں تھا یعنی تقریر اور تحریر میں کوئی فرق نہ تھا ہاں اگر فرق تھا تو اسلوب کا تھا جو ان کا اپنا تھا اس میں مجھے کوئی تقلید نظر نہیں آئی۔
اس کتاب میں مضامین، تنقید اور تنقیدی تبصرے، خاکہ نگاری، حکایات اصغری، اصغری ٹپے اور پھر اس ہی کتاب میں خان مشاہیر کی نظر میں دیکھنے اور پڑھنے کو ملی جس میں ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی، محمود اختر خان، سید معراج جامی، نسیم انجم، ڈاکٹر ساجدہ سلطانہ، واصف علی واصف اور عزیر جبران انصاری جیسے پختہ کار طنزو مزاح کے لکھاریوں نے تقریظ اور تنقیص کے ترازو کے تول سے گزارہ ہو تو مزید کس کی مجال کہ ان کو تولا یا پرکھا جائے۔
جس بندے نے آپ کو کئی نشستوں یا ملاقاتوں میں کوئی ایک مصرعہ تک نہ سنایا ہو اور نہ کسی شعر یا شاعر پر بات کی ہو اور یکایک ان کا ایک اچھا خاصا شعری مجموعہ آپ کے سامنے ہو اور اس پر اردو ادب کے چوٹی کے شاعروں جس میں جون ایلیا، احمد ہمیش، پروفیسر سحر انصاری، فضا اعظمی، عشرت رومانی، سعید الظفر صدیقی، زیب اذکار، شاعر علی شاعر اور حمیدہ کشش نے اپنی اپنی آرا کی مہر بھی ثبت کی ہو تو آپ ویسے بھی ایک لمحے کے لئے دوہری سوچ میں پھنس جاتے ہیں، کہ ان تبصروں کو پہلے پڑوں یا پھر شاعری کو، لیکن میری عادت ہے کہ میں کسی کی بھی کتاب ہو پہلے خود پڑھتا ہوں بعد میں اپنی بنی ہوئی رائے کو دیگر تحریروں سے موازنہ کرتا ہوں اور ادھر بھی ایسا ہی ہوا
میں نے ان کی شاعری میں جس، جس شعر یا جس صفحے کو موڑا تھا وہ، وہ اشعار ہر تبصرہ نگار کے تبصرے میں ستائش یا گفتگو میں شامل رہے تھے جس سے خود پر بھی اعتماد بڑھا کہ میں بھی اچھے شعر کو سمجھنے کی کسی قدر صلاحیت رکھتا ہوں۔
وہ اشعار آپ سے بھی شیئر کرتا ہوں تاکہ آپ بھی اس سے مستفیض ہو سکیں۔
راستے گرچہ دیکھا بھالے ہیں
پھر بھی اکثر میں بھول جاتا ہوں
لہریں جب بے قرار ہوتی ہیں
کشتیاں جب پار ہوتی ہیں
دیوار جب گری تو یہ ہر بار بچ گیا
اک پیڑ زیر سایہ دیوار بچ گیا
تم ہو ابھی حیات یہ سن کر خوشی ہوئی
ماتم کو میرے ایک عزا دار بچ گیا
اتنا مجھ سے دور ہوا دل
جتنا پاس مرے وہ آیا
اور پھر یہ کہ
اپنا بیوپار چاہتوں کا ہے
جتنی چاہو ادھار لو صاحب
پھر نہیں رہتی رہائی کی سبیل
قید جب ہو کوئی اپنی ذات میں
سیل رواں ان کی تیسری کتاب ہے جو بقول ان کے تجرباتی تحریریں ہیں جن کو موضوعاتی اور غیر موضوعاتی تحریروں میں منقسم کیا گیا ہے لیکن پڑھ کر یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ اصغر خان نے سیل رواں کی صورت میں لطف و انبساط کا ایک دفتر کھولا ہے اور ان کی یہ تحریریں فکاہیہ ادب اور انشائیہ کے زمرے میں رکھی جا سکتے ہیں۔ ان تحریروں میں اصغر خان نے خود پر کوئی قدغن نہیں رکھی ہے اور ان کی اس عدم پابندی نے خود مصنف کو بہت دلچسپ اور بامعنی بنا دیا ہے۔
اور آخر میں بقول زیب اذکار کے کہ خان صاحب کی یہ تحریریں انوکھی تو نہیں ہیں بس ان کا کمال یہ ہے کہ ان تحریروں سے قبل ایسی کوئی تحریر کسی رسالے، کسی اخبار یا کسی کتاب میں نہیں پڑھی ہے۔ یا کامران مغل کی رائے کو سیکنڈ کرتے ہوئے کہ لاشعور میں لکھی گئی یہ تحریریں حقیقت پر مبنی ہے، جن کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے۔

