بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ


تاریخ کے اوراق پلٹتے پلٹتے کب میں اجودھن جا پہنچی خبر ہی نہ ہو سکی یہ تو منشائے الٰہی ہے نا آپ کب کہاں پہنچا دیے جائیں۔

دریائے ستلج کے کنارے پر واقع اجودھن ایک پسماندہ، بے آب و گیاہ، جنگلات سے گھرا ہوا غیر معروف، گمنام علاقہ تھا۔ میری ادب سے نا آشنا گستاخ نظریں مغرب کی سمت کریر کے درخت کے نیچے جا ٹھہریں۔ اس جمود و تعطل، ضلالت و گمراہی کے گڑھ میں ایک فقیر بادہ توحید میں سرمست سر نیہواڑے نظر آیا۔ تھوڑا آگے بڑھی تو وہاں کفر و شرک میں ڈوبی مخلوق پر باران رحمت برس رہا تھا جس سے اجودھن کے در و دیوار لا الہ الا اللہ کی پکار سے گونجنے لگے۔

رفتہ رفتہ گمنام اجودھن خلق خدا کے لیے روحانی فیض کا مرکز بننے لگا۔ بعض کوتاہ اندیش بغض و حسد میں مبتلا شر پسندوں کی وجہ سے حق و باطل آمنے سامنے آ گئے۔ اس درویش نے کفر و بے دینی کی باد سموم کا حق پرستی سے مقابلہ کیا لیکن اسلامی تعلیمات اور نور الٰہی کے چراغ کو بجھنے نہیں دیا۔ یہ مرد حق درویش بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ نام پڑھتے ہی منہ میں شکر گھل گئی۔ دل بیتاب کہہ رہا تھا آگے لے کر چلو نا!

میں اس سر پھرے دل کی انگلی تھامے کریر کے درخت کے قریب آ گئی۔ جس کے بغل میں بہتے نالے سے اس درویش کو وضو کرتے دیکھا۔ ان ہی کی نسبت سے اس علاقے کا نام ”پاک پتن“ مشہور ہوا۔

شہر پاکپتن کا نام لب پر آتے ہی محبت کی خوشبو میرے چار سو پھیلنے لگی۔ میں اس خوشبو میں پور پور بھیگنے لگی۔ باد نسیم نے آ کر ہلکے سے کان میں سرگوشی کی کہ آپ یعنی بابا فرید ؒ سلسلہ چشتیہ کے گوہر آبدار ہیں۔ آپ ؒ کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے۔ آپ ؒ کی شاعری اتنی مقبول ہے کہ سکھوں نے اپنی مذہبی کتاب ”گرنتھ“ میں بھی اس کو شلوک فریدی کے نام سے شامل کر لیا۔ شلوک فریدی کا نام بچپن میں بہت سنا تھا لیکن کبھی پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ آج سے تین ماہ پہلے شلوک فریدی کے چند اشعار نظروں کے سامنے سے گزرے۔ وہ الگ بات ہے کہ پلے کچھ نہ پڑا تو گوگل سے ترجمہ کر کے مطلب سمجھ لیا۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئیے

فریدا تن سبھورت ہے، رت بن تن نہ ہو ء
جو شوہ رتے اپنے تت لوبھ رت نہ ہو ء

( انسان کا جسم اللہ کی محبت کے بغیر نہیں رہ سکتا پر جو لوگ اللہ کی محبت میں رنگے جاتے ہیں۔ وہ حرص لالچ طمع جیسے روگ نہیں پالتے )

پنجابی صوفی شاعری کے عمیق سمندر سے غوطہ لگا کر ابھری تو دیکھا برصغیر پاک و ہند کے علاقے نہ صرف آپ ؒ کے دامن فیض سے بہرہ مند ہو رہے ہیں بلکہ بہت سے بادشاہوں قطب الدین ایبک، سلطان التمش، رکن الدین شاہ، شہاب الدین غوری اور غیاث الدین بلبن اپنے تاج سمیت آپ ؒ کے قدموں میں بیٹھے ہیں۔ آپ ؒ کو مقبولیت اور محبوبیت خاص کی خلعت فاخرہ پہنے دیکھ کر میں حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطے کھانے لگی کہ میرے ذہن کے خالی گنبد میں قرآن کریم کی ایک آیت گونج اٹھی :

” بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے ان کے لیے ضرور اللہ مہربان لوگوں کے دلوں میں محبت اور الفت پیدا کر دے گا۔“

پھر میں نے آپ ؒ کو رشد و ہدایت کے آفتاب کی مانند طریقت کے آسمان پر چمکتے دیکھا۔ جس کی روشنی سے جنوبی پنجاب منور ہو گیا اور اسی روشنی کی کرنوں سے آپ ؒ کے مرید خاص خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہی ؒ اور علی احمد علا الدین صابر کلیری ؒ نے دہلی اور برصغیر کو روشن کیا۔

یہاں پہنچتے میں نے سوچا تھوڑا سانس لے لوں لیکن دل نے کہا کہ جو طلب اور شوق کو زاد راہ بنا کر سفر شروع کرتا ہے تو وہ انسان پھر منزل تک پہنچ کر ہی دم لیتا ہے۔ ہمت مرداں مرد خدا کے تحت میں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ اس صحرا نوردی کے دوران میرے دل کی سرزمین پر ایک خیال کی کونپل پھوٹی کہ جہاں جہاں محبوب کے قدم لگے وہ سب دیکھ لیا نہیں دیکھا تو ابھی تک وہ دیس نہیں دیکھا جہاں محبوب نے اپنا بچپن گزارا۔ اس لامتناہی سفر پر نکل تو چکی ہوں کیوں نہ اس شاہباز لامکانی کی جائے پیدائش قصبہ کھتوال کی سیر کی جائے۔ جہاں محبوب کے بچپن کے قصے بکھرے پڑے ہیں۔ وہاں پہنچتے ہی میری ملاقات مختلف تذکرہ نگاروں سے ہوئی۔

قصۂ یار چھڑا تو دل کی دنیا اتھل پتھل ہونے لگی۔ محبوب کی باتیں سننا اور سنانا ہی عشاق کا مشغلہ ہوتا ہے۔ وہی عشاق جن کو زمانے والے فارغ ترین انسان سمجھتے ہیں۔

تذکرہ نگاروں نے میری ملاقات خواجہ جمال الدین سلیمان ؒ اور قرسم بی بی ؒ یعنی بابا صاحب ؒ کے والدین گرامی سے کروائی۔ دونوں ہی نہایت عالم و فاضل دیندار تھے۔ تذکرہ نگاروں نے مجھے بتایا کہ آپ ؒ ابھی کم سن ہی تھے جب آپ ؒ کے والد ماجد پردہ پوش ہو گئے۔ والدہ نے تربیت ایسی کی کہ نماز کے سخت پابند ہو گئے۔ تذکرہ نگار بتانے لگے :

اماں جی جائے نماز کے نیچے شکر رکھ دیا کرتیں کیوں کہ آپ ؒ کو شکر بہت مرغوب تھی۔ میں سوچ رہی تھی وہ مائیں کیسی عظیم تھیں جو اپنے بچوں کا اللہ پر توکل مضبوط کرنے کے لیے کیسی کیسی ترکیبیں استعمال کرتی تھیں۔ ایک دن شکر رکھنا بھول گئیں تو اللہ نے غیب سے ان کے جائے نماز کے نیچے شکر رکھ دی آپ کو لوگ اسی نسبت سے ”گنج شکر“ پکارنے لگے۔

جن کا توکل مضبوط ہوتا ہے ان کو اللہ غیب کے خزانوں سے نوازتا ہے۔ دو اور روایات سننے کو ملیں لیکن وہاں موجود جعفر قاسمی نے دریا کو کوزے میں بند کرتے کہا :

” حضرت بابا صاحب ؒ کو گنج شکر اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ آپ ؒ کا مزاج بہت میٹھا تھا“

پھر ملتان سے ہوتے ہوئے میں آپ ؒ کے پیر و مرشد ہادی برحق خواجہ قطب الدین بختیار کاکی اوشی ؒ کے پاس پہنچی۔ بڑے دربار میں قدم بوسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ دل ہیبت سے لرزنے لگا کہ ذرا خیال کر یہ بڑوں کے بڑوں کا دربار ہے۔ یہاں تو کم از کم اپنی نادانیوں کو قابو میں رکھ! آخر ادب بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ پاکوں میں اپنا آپ ناپاک لگنے لگا لہذا میں دہلی سے بھاگم بھاگ ہانسی اور وہاں سے ہوتے ہوئے دوبارہ پاکپتن شریف کی سرزمین پر دوبارہ پہنچ گئی اور کہا :

” بابا آپ کے بابا کے جلال سے قلم میرے ہاتھوں میں کپکپا کر رہ گیا۔“ نجانے یہ تذکرہ نویس ایسی ہستیوں کو احاطہ تحریر میں لاتے وقت کیسی کیسی کیفیات سے گزرتے ہوں گے۔

ظاہری سفر تو یہاں ختم ہو جاتا ہے لیکن باطن کا لامتناہی سفر جاری رہتا ہے۔ جس کی نہ منزل ہے نہ ٹھکانہ یہ لامتناہی ”اندر“ کا سفر کبھی نہ رکے تبھی تو کبوتروں کی طرح سرمست تصور میں ہی ان کے مزار مبارک کی فضاؤں میں اڑان بھرتی ان کی خوشبو اندر اتارنے کی کوشش کرتی ہوں کہ وہ نظروں کے سامنے ہو تو آنکھیں اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ تبھی نین کٹورے لبالب بھرتے ہیں اور زبان پر جاری ہوتا ہے :

کاگا سب تن کھائیو چن چن کھائیو ماس
دو نیناں مت کھائیو انہیں پیا ملن کی آس

آپ ؒ کا مزار مبارک ہر خاص و عام کے لیے مرجع خلائق بنا ہوا ہے۔ جس کے در و دیوار پر زہد و تقویٰ کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ صبر و رضا کی معطر فضا میں الا اللہ کی خوشبو رچی بسی ہوئی ہے۔ عشاق اشکوں کے موتی لٹاتے ہیں۔ سلاموں کی ڈالیاں لئے حاضر ہوتے ہیں۔ درودوں کے گجرے پیش کرتے ہیں۔ عشق کے گھنگھرو باندھ کر می رقصم کی مدھر تان پر مدہوش ہوئے جاتے ہیں۔

جلال ایسا کہ ادب کے باعث نگاہ اٹھنے سے قاصر جمال ایسا کہ آنکھوں سے گرتے سیال کو اپنے دامن شفقت میں سمیٹ کر روح تک کو معطر و پاک کر دیتے ہیں۔ کوئی آنکھ رکھتا ہو تو دیکھے اولیاء اللہ روحانی پہاڑ ہوتے ہیں۔ جن کے مزارات سے عرفان و ایمان کے چشمے پھوٹتے ہیں اور ہر ایک کو فیض ملتا ہے۔

Facebook Comments HS