”ماں“ میکسم گورکی کا عظیم کارنامہ
میکسم گورکی، جن کا اصل نام الیکسی میکسمووچ پیشکوف تھا، نامور روسی مصنف، ڈرامہ نگار اور سیاسی کارکن تھے۔ وہ 28 مارچ 1868 کو روس کے شہر نزنی نو گوروڈ میں پیدا ہوئے اور 18 جون 1936 کو ماسکو، سوویت یونین میں ان کا انتقال ہوا۔
گورکی کا بچپن غربت اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے گزرا، جس کا اثر ان کے کام میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کم عمری میں ہی علم و ادب کی دنیا کی طرف مائل ہو چکے تھے۔ انہوں نے روسی معاشرے میں محنت کش اور پسماندہ طبقے کی جدوجہد پر واضح انداز فکر اپنایا اور بہترین نثر نگاری کرتے ہوئے روس میں بھی اپنی شناخت قائم کی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنا لوہا منوایا۔
یہ تو تھا میکسم گورکی کا مختصر تعارف اب آئیے اس شاہکار ناول پر گفتگو کرتے ہیں جس نے زار سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ناول ”ماں“ میکسم گورکی کا پراثر اور باکمال کام ہے۔ جب یہ پہلی بار 1907 ء میں روسی زبان میں چھپا تو اس وقت مصنف کی عمر 40 برس تھی اور اس کے پیچھے ادبی و سماجی سرگرمیوں کا پندرہ سالہ طویل سفر تھا۔ طاقتور بیانیہ، سماجی و سیاسی منظر نگاری کی وجہ سے اسے اشتراکی ادب کا سنگ بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ گورکی کی حقیقت پسندانہ نثر نے زار سلطنت کے اندھے قوانین اور سماجی نا انصافیوں کے خلاف محنت کشوں کی جدوجہد کو اجاگر کیا ہے۔ اس ناول کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے روسی انقلاب میں خواتین کی جدوجہد کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ہے۔
ناول انقلاب سے پہلے کے روسی نظام کے نقائص اور ان وجوہات کا احاطہ کرتا ہے جو انقلاب بپا کرنے کا سبب بنیں۔
عالم گیریت کا حامل یہ ناول دنیا کی کئی اہم زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپ چکا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ سید محمد مہدی نے 1956 میں کیا۔ اس کا اردو ایڈیشن 448 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
”ماں“ ناول ایک معمولی عورت کی زندگی کے تجربات اور اس کے انقلابی جذبات کا قصہ ہے جو انسانیت اور انقلابی شعور کی بنیادوں پر مشتمل ہے۔ ناول کی کہانی ایک بوڑھی خاتون ’پیلاجیا نیلونا ولاسوا‘ کے گرد گھومتی ہے جسے پیار سے سب ماں بلاتے ہیں۔ وہ غربت میں پلی بڑھی ایسی مظلوم عورت ہے جو گھریلو تشدد کا شکار بھی رہی ہے۔ وہ بناوٹ سے پاک ہے اور نا خواندہ بھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سماج کی تلخ حقیقتوں سے شناسا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے شرابی خاوند کے ساتھ ایک چھوٹے سے صنعتی شہر میں رہائش پذیر ہے جہاں مزدوروں کا استحصال کیا جاتا ہے۔
شوہر کی وفات کے بعد اس کا بیٹا پاول ولاسوف (مرکزی کردار) فیکٹری میں نوکری حاصل کر لیتا ہے۔ دوران ملازمت اس میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ محنت کش طبقہ مظالم اور نا انصافیوں کا شکار ہے اور انہیں وہ حقوق نہیں دیے جا رہے جن کے وہ حق دار ہیں۔ وہ یہ حقیقت جان جاتا ہے کہ جب تک مزدور اپنے حقوق کے لیے خود آواز نہیں اٹھائیں گے تب تک وہ سماجی نا انصافیوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائیں گے۔ وہ اشتراکی کتب کے مطالعہ کے بعد انقلابی نظریات کا قائل ہو جاتا ہے اور ایک کامریڈ بن کر ابھرتا ہے۔ اس کے گھر میں ہم خیال افراد کی بیٹھک ہونے لگتی ہے۔ پاول کے دلیرانہ برتاؤ کی وجہ سے وہ زار کی خفیہ پولیس کی نظروں میں آ جاتا ہے اور اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
ماں اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتی ہے اور اس کی گرفتاری پر گھریلو خاتون سے ایک مضبوط سوشلسٹ کردار میں سامنے آتی ہے۔ وہ بیٹے کی غیر موجودگی میں اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مشن کو جاری رکھتی ہے۔ وہ انقلابی مواد کو چھپا کر فیکٹری کے اندر پہنچانے کا کٹھن کام انجام دیتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد پاول رہا ہو کر واپس آتا ہے لیکن یوم مئی کے انقلابی مظاہرے میں اسے دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس پر مقدمہ چلا کر اسے سائبیریا جلاوطن کر دیا جاتا ہے۔ اس کی جلاوطنی کے بعد ماں پہلے سے بھی زیادہ متحرک ہو جاتی ہے اور انقلابی پمفلٹ تقسیم کرتے ہوئے تقریریں بھی کرنے لگتی ہے۔ وہ تشدد بھی برداشت کرتی ہے لیکن جدوجہد جاری رکھتی ہے۔
گورکی کی مہارت، اس کے کرداروں کی واضح تصویر کشی اور اس کی نفسیاتی گہرائیوں میں پنہاں ہے۔ اس نے مطیع و غیر سیاسی شخصیت سے متحرک اور انقلابی مقصد کی پرجوش خاتون کی سوچ کے ارتقاء کو بڑی حساسیت سے پیش کیا ہے۔ گورکی نے ماں کی داخلی کشمکش، جذبات کی ہنگامہ آرائی اور اس کے نظریے کے ارتقاء کو نفاست سے بیان کیا ہے۔
مزید برآں، اس ناول میں گورکی نے وسیع تر سماجی موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے علامات اور تمثیل کا استعمال کیا ہے۔ ماں اپنے سفر میں روس کے مظلوم عوام کی اجتماعی بیداری کو مجسم کرتی ہے۔ اس کی نظریاتی تبدیلی اور محنت کشوں کے حقوق کے لیے ان کی وسیع تر بے داری ایک استعارہ کے طور پر استعمال ہوئی ہے۔
عالمی کلاسیکی ادب میں ’ماں‘ میکسم گورکی کا عظیم کارنامہ ہے۔ یہ ناول زار حکمرانوں کے دور اقتدار میں عدم مساوات، محنت کشوں کی کٹھن زندگیوں اور ان کے استحصال کی بہترین تصویر ہے جس کی مدد سے گورکی نے اس وقت کے سیاسی و سماجی نظام پر کاری ضرب لگائی ہے۔ زبردست کردار نگاری، بھرپور ساختی بیانیہ اور گہرے سیاسی و سماجی تبصروں کی مدد سے گورکی نے اشرافیہ پر غیر متزلزل تنقید کے ذریعے پس ماندہ طبقے کی حمایت کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ ’ماں‘ ایک لازوال تخلیق ہے جو
نسل در نسل گونجتی رہے گی۔


