جواں ہمت عابد انوار، فلاحی مملکت، پھونک سے چلتی وہیل چیئر


وہیل چیئر میں ہر طرف سے جکڑے گئے مکمل مفلوج جسم مگر مکمل ہوش و حواس میں پہلے سے زیادہ شگفتہ چہرے والے عابد انوار سے گپ شپ جاری تھی۔ اسے پاکستان کی اور کینیڈا اور دنیا کی سیاست اور حالات حاضرہ پر حسب معمول بات کرتے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مکمل صحت مند ہو۔ وہ اپنے خاندان کی، اپنے بچپن کی، اپنی دیکھی ہم دوستوں کی محفلوں اور ہمارے اور اپنے والد کے دوستوں سے وابستہ یادوں کا ذکر کر رہا تھا اور جوانی کی اور شادی کے اور کینیڈا کی زندگی کے متعلق بے تکان بول رہا تھا۔ عابد اپنے ہاتھ کی ہتھیلی اور پنجے کو کلائی تک اوپر نیچے خاصی حد تک اٹھا گھما سکتا تھا آر یہ بہت بڑی مثبت پیش رفت اور امید کی کرن تھی۔

اس کی بیوی اٹھی۔ اس کی کرسی کے دائیں بازو سے بندھا دھاگہ کھولنے لگی۔ کافی دیر سے میری نظر بار بار اس دھاگے کی طرف اٹھ رہی تھی جس کے ذریعہ ایک لمبے سے سپرنگ سے جھانکتے پلاسٹک کے باریک سے پائپ کو سیدھا کر باندھا گیا تھا۔ سپرنگ نے یو ٹرن لیا اور پائپ کا سرا عابد کے ہونٹوں کے قریب پہنچ گیا اور عابد اسے اب سگریٹ کی طرح ہونٹوں میں دبا اپنے گالوں کے زاویے بدل رہا تھا۔ بیگم عابد مجھے بتا رہی تھی، ”انکل، وہیل چیئر کو منہ کی پھونک سے کنٹرول کر کے چلانے پھرانے کا تجربہ الحمد للہ کامیاب ہو گیا ہے۔

مرکز بحالی معذوراں کے ڈاکٹروں، انجینئروں اور کمپیوٹر ماہرین کی سر جوڑ کر سوچے گئے تصور کی عملی شکل آپ کے سامنے ہے۔ خصوصی عابد کی جسمانی حالت کے مدنظر بنائی اور ڈھالی گئی کرسی آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ کھل کے بستر بن جاتی ہے۔ آگے پیچھے جھکتی ہے۔ دائیں بائیں آگے پیچھے تھوڑی زیادہ گھوم سکتی اور چل سکتی ہے۔ عابد کو اس چلانے ہلانے کے ہر عمل کے لئے علیحدہ انداز سے پھونک مارنے کی مشق کرائی گئی اور کرائی جا رہی ہے۔

یہ پھونک اندر لگے سینسرز کو ٹکرا اس سے متعلقہ حرکت کے سسٹم کو چالو کر دیتی ہے۔ “ اب عابد ہمیں کرسی پیچھے جھکا، آگے جھکا، ذرا سا دائیں ذرا سا بائیں موڑ۔ ایک قدم ریورس کرتا دکھا آگے راہداری میں اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ہم منہ پھاڑے حیرت زدہ آنکھوں گنگ ہو چکی زبان سے یہ عجوبہ دیکھ رہے۔ عابد کبھی سانس سے ایک انداز میں پھونک مارتا کبھی حقہ کی طرح کش لیتا، کبھی دایاں گال پھلاتا کبھی بایاں۔ کبھی نتھنے پھولتے نظر آتے اور کبھی جیسے چوسنی چوس رہا ہو اور وہیل چیئر بڑی آہستگی سے کچن کے ڈائیننگ ٹیبل سے گھر کے ڈرائنگ ڈائٹنگ کی طرف لے جا رہا تھا جسے اب اس کے بیڈروم میں ڈھالا جا چکا تھا۔

بتایا گیا کہ گھر والوں کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ سوائے اشد ضرورت کے وہیل چیئر کو خود نہ دھکیل لے جائیں تا عابد کو مکمل مشق بھی ہو جائے اور خود پہ انحصار کرتے اعتماد اور ترغیب بڑھے۔ وہیل چیئر راہداری سے کمرے میں داخل ہو رہی تھی اور سامنے اس کے ساتھ ہمیں پھر ویسی ہی مگر چھوٹی سی آگے کنڈا لٹکے کرین فرش پہ پڑی نظر آ رہی تھی جیسی بحالی معذوراں مرکز میں چند ماہ قبل دیکھی تھی۔ یہ عابد کے اب خاصے بھاری ہو چکے جسم کو کرسی سے اٹھا بستر پہ لٹانے یا حوائج وغیرہ کی ضروریات کے لئے تھی۔ ساتھ دو مزید بستر تھے اور پیچھے صوفے پہ بیٹھی دو نرسیں منہ پہ ماسک لگائے عابد کی منتظر تھیں کہ اس کے آرام اور ورزش وغیرہ کا وقت ہو چلا تھا۔ کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا محسوس ہی نہ ہوا تھا اور ہم اب اجازت لے باہر نکل رہے تھے۔

ڈیڑھ گھنٹہ قبل کار پارک کرتے ہی جو چیز سب سے پہلے نظر پڑی وہ ڈرائیو وے سے سیڑھیوں کے اوپر سے گزر دروازے تک جاتا چمکتا ریمپ تھا۔ نیچے دانے دار قسم کا لگتا پھسلن سے محفوظ فرش اور دونوں طرف سے ایزل سے محفوظ کیا گیا یہ پل نما ریمپ ظاہر ہے وہیل چیئر کے لئے تھا۔ دروازہ کھلتے ہی ادب سے صابن سے مل ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کی درخواست ہوئی۔ سامنے راہداری کے دوسری طرف کچن میں رکھی چھوٹے سے ڈائیننگ ٹیبل کے ساتھ وہیل چیئر پہ بیٹھا عابد سلام کرتے استقبال کر رہا تھا۔

بیگم عابد تفصیل بتا رہی تھیں کہ چونکہ اب لمبا باقاعدہ علاج ورزشیں وغیرہ تھیں۔ ہسپتال میں نئے مریضوں کے لئے جگہ درکار تھی اور عابد بھی گھر کے لئے اداس تھا، اس لئے اسے گھر بھیج دیا گیا تھا مگر ہسپتال میں موجود تمام سہولتیں گھر پہ پہلے مہیا کی جا چکی تھیں۔ ڈرائنگ ڈایننگ ( یہاں لیونگ روم کہلاتا ہے ) کو بیڈروم میں بدل دیا گیا تھا خدمت کے لئے دن رات موجود نرسیں مہیا تھیں جو اسے مکمل سنبھالتی ہیں۔ نہلانے دھلانے، بستر پہ لٹانے اٹھا وہیل چیئر پہ بٹھانے۔

گھر ہو سکنے والی ورزشیں، مالش اور فزیو تھیراپی، وہیل چیئر چلانے کی مشق کروانا، اس کی خصوصی خوراک تیار کرنا، کھلانا پلانا سب ان کے ذمہ تھا۔ گویا بیگم عابد اور دونوں بیٹیوں کو اپنی ملازمت یا یونیورسٹی جانے یا گھر کی روزمرہ مصروفیات میں کوئی خلل نہ پڑا تھا۔ پورا ہفتہ کا شیڈول مقرر تھا۔ پیرامیڈکس کی معذور افراد کے لئے خصوصی گاڑی آتی۔ لفٹ کے ذریعہ وہیل چیئر اٹھا اندر رکھتی ضرورت کے مطابق گھمانے کے لئے کمیونٹی سنٹر یا ورزش کے جم یا تیراکی کے تالاب یا ڈاکٹر کے معائنہ کے لئے لے جاتی۔

جی ہاں اس کے بے حس و حرکت جسم کو تیراکی کے مخصوص لباس میں ہوا بھری گول یا لمبی سے تیراکی والی ٹیوب پہ بیلنس کیا جاتا ہے۔ انسٹرکٹر جسے ایکویٹک ٹرینر کہتے ہیں گرم پانی میں اپنے ساتھ چمٹائے سنبھالے ورزش کراتی ہے۔ ہم نے ویڈیوز دیکھیں، جس میں وہ تیراکی کراتے یا پانی میں سیدھا کھڑا کر یا بیٹھنے کے پوز میں اپنے ہاتھوں سے اس کے بازوؤں، کلائی تک ہاتھوں اور پنجوں، ٹانگوں یا ٹخنوں تک پاؤں کو آگے پیچھے یا گھماتے ہلا ہلا کے ورزش کراتی ہے۔

اور اسے اپنے دماغ سے اسی طرح کام لینے کی کوشش کرتے، جیسے عام انسان اپنے اعضاء سے کام لیتا ہے کام لے اعضاء کو حرکت دینے کی کوشش کی مشق کراتی ہے۔ واٹر تھراپی اس تکلیف میں خاصی مدد گار ثابت ہوئی ہے۔ وہیل چیئر پہ بیٹھے بھی پوری توجہ مرکوز کرتے اپنے اعضا کو حرکت دینے کی کوشش کرتے رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ قدرتی اجزاء پھلوں سبزیوں یا ڈرائی فروٹ سے بنی خصوصی فارمولے کے مشروب اور غذائیں ہی اسے کھانے کو ملتی ہیں جن میں سے بہت سی گھر بنائی جاتی ہیں اور نرسیں اپنے طریقے سے کھلاتی ہیں۔

نرسوں گھر والوں سے رابطہ کرنے یا فون وغیرہ کے لئے کرسی پہ لگے نظام کا ذکر پچھلے مضمون میں گزر چکا۔ گو اس میں نرس کو بلا مدد لینا پڑتی ہے۔ یہ علاج کبھی جلد اثر کرتے ہیں کبھی بہت آہستہ سالوں تک۔ مگر یہ غیر اسلامی حکومت اسلامی فلاحی حکومت کے ریاست مدینہ کے تصور اور چارٹر کے اکثر حصوں پر عزم اور شفقت اور رعایا کے ریاست پر حقوق کی ادائیگی کے جذبہ سے عمل پیرا ہے۔

جی ہاں یہ تمام انتظام یہاں کا محکمۂ صحت کرتا ہے۔ سارا خر چہ حکومت کرتی ہے۔ اور ہر ایک کے لئے ایک ہی معیار ہے۔ یہاں تک کہ اگر گھر میں گراؤنڈ فلور پہ کوئی تبدیلی کرنا پڑے یا اوپر کی منزل تک مریض لے جانے کے لئے چیئر لفٹ چاہیے تو سیڑھیوں کے ساتھ لگوا دی جاتی ہے۔

دروازے سے باہر کھڑے ہو بیگم عابد سے گفتگو کا رخ محلہ داروں کی طرف مڑ گیا۔ وہ بتا رہی تھی کہ اس چھوٹی سی گلی جو ایک گول دائرہ بنے چوک میں ختم ہوتی ہے ( یہ کورٹ کہلاتی ہے۔ ) سوائے ان کے کوئی پاکستانی نہیں۔ نزدیکی دس بارہ گھروں میں مختلف ملکوں مذاہب، معاشروں کے اور مختلف زبانیں بولنے والے ہمسائے ہیں۔ ہمیشہ سے سب گھر ایک برادری کی طرح رہ رہے ہیں مگر جس دن سے عابد کا حادثہ ہوا ہے ہمیں لگتا ہے یہ سب ہمارے خاندان کے نگہبان بن گئے۔ گھر سے باہر کا کوئی کام، گھاس کاٹنا، پھلواری کیاری کی دیکھ بھال، لان میں پانی دینا، برف کی صفائی ان کے علم کے بغیر خود ہو جاتی ہے۔ جس دن عابد نے ہسپتال سے گھر آنا تھا سب نے مل کر دروازے کے باہر سجاوٹ کرتے ویلکم ہوم کے طغرے سجائے تھے اور تحفے لئے مرد و خواتین نے استقبال کیا تھا۔

ہم واپس گھر کی طرف رواں تھے۔ بیٹا گاڑی ڈرائیو کرتے خدا کا شکر ادا کر رہا تھا کہ بروقت پاکستان سے نکل آئے اور میرے دھیان میں جامعۂ الازہر کے استاد کے دورۂ مغرب سے واپسی پر مشہور زمانہ بیان، جو چند روز قبل دوبارہ نظر پڑا تھا، گھوم رہا تھا مسلم ممالک مسلمان ہیں مگر اسلام کہیں نظر نہیں آتا اور مغرب میں مسلمان نہیں مگر اسلام پر عمل ہر جگہ دیکھا۔ ( و علی ہذالقیاس ) ۔ پھر اسی کی دہائی کے اواخر میں پاکستان سے جلاوطن مذہبی رہنما کی تقریر ذہن میں گونج اٹھی جس کے اواخر میں دعائیہ فقرے بولتے آپ نے رب العزت سے فریاد کی تھی اے خدا، اے پروردگار پاکستان کو بھی کینیڈا جیسا بنا دے اور پوری دنیا کو بھی کینیڈا کی طرح حقوق العباد ادا کرنے امن و آشتی اور بھائی چارہ قائم کرنے والے ہر قسم کے تعصب سے پاک ہونے توفیق عطا کر جو ( مغربی معاشرے کی برائیوں کے باوجود ) اسلامی فلاحی مملکت کے اکثر اصولوں پہ عمل پیرا ہے۔

ذہن گھوما۔ عابد کے پھونک مار وہیل چیئر کو چلانے کے کے مختلف انداز گھومے تو بچپن میں مٹی کے چولہے میں لکڑیوں کو جلانے کے لئے پھنکنی سے پھونک مارنا یاد آیا۔ نیچے جھک جھک پھونک مارنا اور دھوئیں سے سے آنکھیں دکھنا اور دم گھٹنا۔ حقہ کے کش لیتے پھونک کا استعمال۔ پھر وہ نظارہ کہ باوا جی ( نانا ) کے حقہ میں بجائے کش لگانے پورے زور سے پھونک مار کر راکھ اور چنگاریاں اڑاتے بھاگنا اور پیچھے سے آتی باوا جی کے مصنوعی غصہ کی آوازیں۔

پھر اپنے بزرگوں اور ماں کے صبح سرہانے ہو کے دعائیں پڑھتے دم کرتے شفقت سے پھونک مارنا۔ پھر پیروں، سادھؤؤں کے اپنے چیلوں مریدوں کو پھونک مارنے کے انداز سے چلتے اسلام کے قلعہ میں پچھلے ایک دو سالوں میں ایجاد ہو چکی الف لیلہ کے جادو گروں اور دیو اور جن کی طرح کی پھونکیں جو تیز بگولوں کی طرح اچھے بھلے گھر میں سوئے یا راہ چلتے باسیوں کو اڑاتی جانے کہاں کی سیر کراتی دنوں یا مہینوں گھماتی کبھی گھر کے دروازے پہ یا کھیت کھلیان ویران سڑک پہ یا پریس کانفرنس ہال میں لا پھینکتی ہیں۔

گھر آ چکا تھا اور میرے منہ سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ اے خدائے بر تر و عز و جل میرے ملک کے رہنماؤں اور طاقت کے محوروں کو وہ پھونک عطا فرما جو جو وہیل چیئر پہ ساکت، بے حس و حرکت پڑے، ملک پاکستان کو انصاف رواداری اور واقعی اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے راستے پہ چلانے کی ہمت اور سینسر رکھتی ہو۔ وہ مملکت جس کی سرحد میں انیس سو سینتالیس اواخر اکتوبر کی ایک شام پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا داخل ہو بس سے اترا تھا۔

اور پھر یاد آیا کہ اس سے چند روز پہلے جب محض چند منٹ کے نوٹس پر قادیان ضلع گورداسپور کے اپنے گھر سے پناہ گزین کیمپ کے لئے نکلے تھے تو ماں کے ہاتھوں کے بنے مٹی کے چولہے پر ہنڈیا ویسے ہی رکھی رہ گئی تھی اور چند لمحے پہلے پھونکنی سے پھونک مار لکڑیوں میں آگ بھڑکاتے نکلتے دھوئیں سے میرا دم گھٹنے اور آنکھیں دکھنے لگی تھیں۔

عابد انوار کی صحت کاملۂ و عاجلہ کے لئے گڑگڑاتے میں اپنے گھر کے دروازے سے اندر جا رہا تھا۔

Facebook Comments HS