بوسنیا کی چشم دید کہانی-57-
سٹولک میں اب ایک بار پھر وہی موسم لوٹ آیا تھا جو ایک سال قبل ہماری آمد کے موقع پر تھا۔ بیرکووچی کے پہاڑوں سے پگھلنے والی برف کی وجہ سے دریائے بریگاوا کے بہاؤ میں اب وہ سست روی نہ تھی جو موسم سرما کے دوران پائی جاتی تھی۔ گھنے درختوں کی پھیلی ہوئی شاخیں ایک بار پھر سبز پتوں سے ڈھک چکی تھیں۔ سٹولک کے مرکز میں واقع سب سے بڑے قہوہ خانے، کیفے اوڈین کے صحن میں چناروں کے سائے میں ایک بار پھر کرسیاں اور میزیں سجنے لگی تھیں۔
میری چھٹی کے دوران ہی ہمارے اور نیپالی ساتھیوں کے اختتام مشن کا پروگرام سرائیو سے جاری ہو چکا تھا جس کے تحت 25 مئی کو ہماری موسطار سے زغرب، پھر 26 مئی کو زغرب سے اسلام آباد اور کھٹمنڈو روانگی طے پائی تھی۔ اسی دوران میری جگہ ارجنٹائن کے ساتھی روقے کو ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر مقرر کر دیا گیا تھا۔ اقبال اور میرا کے نزدیک یہ ایک غیر اصولی فیصلہ تھا کیونکہ ماضی میں ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ ایک عہدے دار کی روانگی سے قبل ہی اس کے متبادل کا انتخاب کر لیا جائے۔
اس فیصلے کی وجہ سے بہر حال مجھے وہ فراغت حاصل ہو گئی جس کی وجہ سے تمام جان پہچان والے لوگوں سے الوداعی ملاقات کا وقت نکالنا آسان ہو گیا۔ ہم دو پاکستانیوں اور پانچ نیپالیوں کی جدائی کا سب سے زیادہ افسوس بچے کھچے اردو مافیا کو تھا جو ہمارے بعد اب تین پاکستانیوں، دو بنگلہ دیشیوں اور دو بھارتیوں پر مشتمل رہ گیا تھا۔ بھارتیوں کے اختتام مشن میں تو بس ایک ماہ باقی تھا جب کہ بنگلہ دیشیوں نے مزید پانچ ماہ اور پاکستانیوں نے نو ماہ یہاں گزارنے تھے۔ الوداعی دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اب روزانہ شام کسی نہ کسی گھر میں اردو مافیا کا اکٹھ دیکھا جاتا تھا۔
الوداعی ملاقات کے لیے میں سب سے پہلے موسطار میں مصطفیٰ سارچ سے ملنے گیا۔ وہ مسلمان تھا اور اس کی بیوی کروایٹ تھی جس کا نام لوبیثا تھا۔ ان کی دو بیٹیاں تھیں جن میں سے ایک ویانا میں اور دوسری ان کے ساتھ رہتی تھی۔ اس خاندان سے میرا تعارف ہماری ترجمان سلاجہ نے کروایا تھا۔ قیام بوسنیا کے دوران میری ان سے دو ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس خاندان کا ہر فرد سراپا محبت اور شفقت تھا۔ مصطفیٰ سارچ کی عمر 65 کے لگ بھگ ہو گی۔
اسے اقرار تھا کہ وہ کبھی بھی با عمل مسلمان نہیں رہا اور نہ ہی اس نے مذہب سے کبھی ایسا جذباتی لگاؤ محسوس کیا۔ اس کی یادوں کا موسطار وہ شہر تھا جہاں بین النسل شادیوں کا تناسب پورے یوگوسلاویہ میں سب سے زیادہ تھا۔ اور اس کا چپہ چپہ مذہبی رواداری کی مثال تھا۔ لیکن آج کا موسطار ماضی کے موسطار سے بہت مختلف تھا جس کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آواز بھرا جاتی تھی۔ آج وہ برائے نام مسلمان بھی محض اس وجہ سے کٹر مسلمانوں کی طرح غیر محفوظ تھا کہ اس کی رہائش کروایٹ اکثریتی علاقے میں تھی۔
آخری ملاقات کے موقع پر بھی اس کی گفتگو کا محور یہی دکھ رہا۔ میں جب اس سے رخصت ہوا تو ہمیشہ کی طرح وہ مجھے پانچویں منزل پر واقع اپنے فلیٹ سے نیچے تک چھوڑنے آیا۔ وہ ہمیشہ کروایٹ اور سربوں کے انداز میں ”دودے جینیا“ کے الفاظ کے ساتھ مجھے الوداع کہا کرتا تھا لیکن آج اس نے مجھے گلے لگایا اور پھر ”اللہ امانت“ کہہ کر خاموش ہو گیا۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے موسطار کے ماضی سے عہد وفا استوار رکھنے والے مصطفیٰ سارچ کوبھی یہ یقین ہو چلا ہے کہ بدلتی رت میں گردش لیل و نہار کا نہ اس کے پاس کوئی علاج ہے اور نہ موسطار کے پاس۔
موسطار میں مصطفیٰ سارچ سے ملاقات کے اگلے دن میں ٹرے بینیا میں میرا کے اہل خانہ سے ملنے گیا۔ دوپہر کا کھانا ہم نے اکٹھے کھایا اس کے بعد میں اور میرا دوبرونک کو جانے والی سڑک پر نکل گئے۔ واپسی پر ہم نے ”ستاری گرادا“ (پرانے شہر) کی فصیل کے باہر اس کیفے بار میں کافی پی جہاں ہم اکثر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ اپنے تاثرات کو چھپانے کی کوشش میں ذہن کو حاضر نہیں رکھ پا رہی تھی۔ اس کا لوبینا تک میرے ہی ساتھ آنے کا پروگرام تھا۔ مجھے وداع کرتے ہوئے اس کی ماں نے کرسٹل کے گلاسوں کا ایک سیٹ اور کروشیے سے خود بنا ہوا ایک چھوٹا سا میز پوش تحفے میں دیا۔ اس نے بہت ضبط کیا لیکن وقت آخر اس کے آنسو آنکھوں سے نکل کر چہرے کی جھریوں میں تیرنے لگے۔ اس کی حالت دیکھ کر میں بھی بہت رنجیدہ ہوا۔
میری واپسی ہونے تک میرا کی طبیعت قدرے خوش گوار ہو گئی تھی۔
تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ میں اپنی ماں سے کافی مختلف ہوں لہٰذا مجھ سے تحفے وغیرہ کی امید نہ رکھنا۔ وہ بولی
آزمائے ہوؤں کو بھلا کیا آزمانا۔ میں نے کہا
وہ کچھ دیر خاموش رہی
جنگ نے میری جذباتی زندگی میں اتنی بے رحمی سے لوٹ کھسوٹ کی ہے کہ میرے لیے اب نارمل انسان کی طرحbehave کرنا مشکل ہے۔ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا
اس سے پہلے کہ وہ مزید سنجیدہ ہوتی میں نے موضوع بدل دیا
تمہاری بھابھی سے ملنے چپلینا کب جایا جائے۔ میں نے پوچھا
جب تمہیں آسانی ہو۔ اس نے جواب دیا
میں نے کہا تو پھر کل صبح چلتے ہیں۔ میں نے رائے دی
ٹھیک ہے۔ جیسے تمہاری مرضی
مشن کے اختتام کے موقع پر ہر افسر کو ریجنل ہیڈ کوارٹر اور ہیڈ آفس سرائیوو کے مختلف شعبوں سے کلیرنس لینا ہوتی تھی۔ اس سے قبل وہ سازو سامان متعلقہ شعبوں کو واپس کرنا پڑتا تھا جو دوران قیام مہیا کیا گیا ہوتا تھا۔ ریجنل ہیڈکوارٹر موسطار سے کلیرنس حاصل کرنے کے بعد ہمیں سرائیوو جانا تھا۔ لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ سرائیوو کا دورہ کھانے کی آخری دعوت کے بعد رکھا جائے۔ یہ دعوت لیپا، سیکا اور میرا کی طرف سے تھی۔
اس مشترکہ دعوت کا اہتمام انھوں نے لوبینا میں اپنی رہائش گاہ پر کیا تھا۔ لیپا، سیکا اور لیجا نے یہ گھر جولائی 1996 ء میں کرائے پر حاصل کیا تھا۔ سال کے دوران اس کی چھت کے نیچے بہت سے تلخ و شیریں واقعات رونما ہوئے تھے۔ اس گھر کے برآمدے میں رات بھر وہ پارٹی منعقد ہوئی تھی جس کا اہتمام ڈینش ساتھیوں کو الوداع کہنے کے موقع پر کیا گیا تھا۔ سیکا کے نزدیک اس کی یاد رفتگاں میں اس پارٹی کی حیثیت کسی خزانے سے کم نہ تھی۔
اس گھر میں بعد میں میرا، ساشکا اور ویسنا بھی مقیم رہی تھیں۔ ساشکا کے اختلافات لیپا، سیکا اور میرا سے کچھ ایسے بڑھے کہ ان کی آپس میں بول چال تک بند ہو گئی۔ یوں میرا اور سیکا نے یہ گھر چھوڑ دیا۔ بعد میں ویسنا کی نوکری ختم ہو جانے کی وجہ سے ساشکا نے یہاں اکیلے رہنا پسند نہ کیا۔ یوں میرا اور سیکا ایک بار پھر یہاں واپس آ گئیں۔
مچھلی سے ہماری رغبت ہماری میزبانوں سے کوئی ڈھکی چھپی بات نہ تھی، لہٰذا دعوت کی سب سے نمایاں ڈش بھی یہی تھی۔ مچھلی کے ساتھ سیکا شمپین ضرور پیتی تھی اور کہا کرتی تھی کہ مچھلی کی قسمت میں تین بار تیرنا لکھا ہے۔ ایک بار پانی میں، دوسری بار تیل میں اور تیسری بار شمپین میں۔
اس نے شمپین کی بوتل میز پر سجائی تو اقبال بولا
سیکا۔ وضع دار شرفاء والے سارے عیوب اگر کسی میں پائے جاتے ہیں تو وہ تم ہی ہو۔ اس نے قہقہہ لگایا اور بولی۔ گوسپودینے حوالہ پونوں (جناب بے حد شکریہ) ۔


