نواز شریف الوداع؟
یہ منظر راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ کا ہے۔ اپریل 1986 میں بہار کی خوبصورت شام ہے۔ کرسیوں کے تکلف کے بغیر انسانوں سے بھرے لیاقت باغ میں ارد گرد سڑکوں سے آگے پھیل کر پیپلز پارٹی کے جوشیلے کارکن ایک طرف کمیٹی چوک، دوسری طرف مریڑ چوک اور تیسری جانب راجہ بازار کے فوارہ چوک تک نعرہ زن ہیں۔ لیاقت باغ کے سٹیج پر موجود نوجوان بے نظیر بھٹو ”جاوے جاوے کا نعرہ بلند کرتی ہے تو جواب میں جیالے پوری وقت سے“ ضیاء جاوے ”کا جواب دے کر دھرتی ہلا دیتے ہیں۔
اور پھر واقعی ایک دہائی سے اقتدار کے مسند پر بلا شرکت غیرے براجمان ضیاءالحق رخصتی کی منزل کی جانب چل پڑا۔ اس کے اپنے ہاتھوں سے قائم کی گئی جونیجو حکومت اسے اپنے خلاف اقدامات کرتی نظر آئی۔ اوجھڑی کیمپ میں دھماکے اور آتشزدگی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ اس کے ایک رکن اسلم خٹک نے جنرل ضیاء کو افشاء کر کے اپنی نوکری تو پکی کر لی لیکن وہ جنرل ضیاء کے اقتدار کی گرتی عمارت کو سہارا نہ دے سکے۔
اوجھڑی کیمپ کی رپورٹ میں فوج کے جرنیلوں پر تباہی اور بربادی کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ ایسا تو ممکن نہ ہو سکا لیکن جنرل ضیاء نے اپنا غصہ نکالتے ہوئے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا۔ اس کے چند ماہ بعد جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور کے نواح میں خیرپور ٹامیوالی میں جنرل ضیاء کا طیارے حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوا تو 17 اگست کو ان کی یاد میں منعقدہ تقریب میں اس وقت کے قومی رہنما نواز شریف نے جنرل ضیاء کا مشن آگے بڑھانے کا اعلان کیا۔
نواز شریف جنرل ضیاء کے گیارہ سالہ دور میں پاکستان کے قومی منظر پر ابھرنے والے ایسے نوجوان سیاستدان تھے جن پر جنرل ضیاء کی خصوصی نظر تھی اور جب ان کی وزارت اعلیٰ کو پنجاب اسمبلی کے اس وقت کے اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے چیلنج کیا تو جنرل ضیاءالحق سرکاری دورے پر لاہور جا پہنچے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق ائر پورٹ میں موجود صحافیوں سے گفتگو میں واضح کر دیا کہ، ”نواز شریف کا کلہ بڑا مضبوط ہے“ ۔ پھر کس کی جرات تھی کہ نواز شریف کے خلاف کوئی مہم جاری رکھ سکتا۔
سب کچھ وہیں ختم ہو گیا۔ اور پھر آگے بڑھتے نواز شریف پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے۔ نکالے گئے، پھر واپس آئے اور پھر نکالے گئے اور پھر واپس آئے، ابھی چوتھی بار واپس آتے آتے رہ گئے۔ دلچسپ پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ نیب اور پانامہ کیسز میں عدلیہ کو ساتھ ملا کر انہیں سزا دلوانے والی اسٹیبلشمنٹ نے لندن کی مبینہ ملاقاتوں میں نواز شریف سے ”سوری“ کیا اور اپنی غلطی تسلیم کی لیکن مستقبل میں تمام تر تعاون اور مل کر چلنے کی یقین دہانیوں کے باوجود عمران خان کے نام کا جو ”جن“ اسٹیبلشمنٹ بوتل سے نکال چکی تھی اس نے صرف پاکستان کی دیگر سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں پاکستان کے سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
8 فروری کے عام انتخابات اس سارے منظر میں ایک پیمانہ تھے کہ پاکستان کس سمت میں چلے گا لیکن بدقسمتی سے انتخابی نتائج نے پاکستان کو استحکام کی راہ نہیں دکھائی اور وہ تمام معتدل سیاسی جماعتیں جو حالات و معاملات کی نزاکت کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے آگے بڑھ سکتی تھیں، مسترد کر دی گئیں۔ میاں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ نواز بھی اسی ”سونامی“ کا شکار ہوئی جس کا غلغلہ ایک عرصے سے بپا تھا۔ عدم استحکام کی اس فضا میں تاحال یہ فیصلہ بہت مشکل نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف یا ان کا نامزد کردہ کوئی ذمہ دار آگے بڑھ کر معاملات کو سنبھال لے گا۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک بار پھر ”معلق پارلیمنٹ“ کی صورتحال کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ”منقسم مینڈیٹ“ کے باعث نواز شریف ذمہ داری لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔
کیا پیپلز پارٹی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے گملے میں پروان چڑھنے والی دوسری بڑٰی قومی سیاسی جماعت اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کیا سیاسی منظر جسے ہر کچھ عرصے بعد قرار دیا جاتا ہے کہ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ ایک بار پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو اب ہو رہا ہے یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اور شاید اب کی بار یہ بات حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔
ایک جانب پاکستان کی 1958 سے 1967 تک کی تاریخ ہے کہ جب جنرل ایوب خان کی آمریت کی گود میں پلنے والے ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر 1967 کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر بغاوت کا علم بلند کیا دسمبر 1971 کے شفاف انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بحران کے بعد بھٹو انتہائی تکلیف دہ صورتحال میں مسند اقتدار پر بیٹھے اور پھر 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں اقتدار سے الگ کیے گئے اور پھر حالات نے بھٹو کو پھانسی کے پھندے تک پہنچا دیا۔
میاں نواز شریف جنرل ضیاء الحق کے دور میں پنجاب کے سیاسی منظر پر ابھرے۔ پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کی کابینہ میں وزیر خزانہ کا منصب سنبھال کر انہوں نے 1985 کے غیر جماعتی عام انتخابات کے بعد سیدھی وزارت اعلیٰ کے منصب پر چھلانگ لگائی۔
محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کیے جانے کے بعد جنرل ضیاء الحق کے غیر مستحکم اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے نواز شریف نے بھرپور کوششیں کیں۔ وہ تو وقت نے جنرل ضیاء الحق کو مہلت نہ دی اور وہ طیارہ حادثے میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔
فوجی گملے میں پروان چڑھنے کے باوجود نواز شریف کی قسمت اس حوالے سے کچھ خراب ہی رہی کہ جنرل آصف نواز جنجوعہ، وحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت تک ان کی تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے اور جنرل پرویز مشرف سے تو معاملات اتنے بگڑے کہ جنرل مشرف نے نواز شریف کو اقتدار کی مسند سے اٹھا کر اٹک کے قلعے میں قید کر دیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں 25 سال قید کی سزا بھی سنا دی۔
لیکن نواز شریف پھر واپس آئے اور وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہو گئے۔ 2013 کے الیکشن کے نتیجے میں قائم ہونے والی نواز شریف کی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے واضح مداخلت اور عدلیہ کے ساتھ مل کر کی جانے والی ساز باز کے نتیجے میں فارغ کر دیا گیا۔ مسلم لیگ نون نے اقتدار میں پانچ سال پورے کیے لیکن وزارت عظمیٰ کے منصب پر ان کی نامزد کردہ شاہد خاقان عباسی موجود تھے۔
نواز شریف نیب مقدمات میں گرفتار کیے گئے جیل بھیجے گئے۔ بیٹی، بھائی اور بھتیجے سمیت زیر عتاب رہے۔ با الآخر ایک مفاہمت کے نتیجے میں برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔
نواز شریف کی حکومت کو رخصت کرنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے کرکٹر عمران خان کے سر پر ہاتھ رکھا اور ایک انتہائی متنازعہ الیکشن کے نتیجے میں انہیں اقتدار میں لایا گیا۔ عمران حکومت کے دور میں تین سال کے لگ بھگ عرصہ لندن میں گزارنے کے بعد نواز شریف نے تب واپسی کا سفر اختیار کرنے کا سوچا جب عمران حکومت اپنی ساکھ کھو چکی تھی اور ملک کی معیشت تباہی کے دھانے پر کھڑی تھی۔ اسی فوجی جرنیل نے نواز شریف سے واپسی کی درخواست کی جس نے ان کو اقتدار سے رخصت کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
کڑی شرائط کے ساتھ نواز شریف واپس آئے۔ ان کی آمد سے قبل عمران حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے رخصت کر دیا گیا لیکن عمران خان لوہے کا چنا ثابت ہوئے انہوں نے ابتداء میں ہی خبردار کر دیا تھا کہا گر انہیں رخصت کیا گیا تو وہ بہت خطرناک ثابت ہوں گے اور پھر واقعی اقتدار سے الگ کیے جانے کے کے بعد عمران خان نے وہ سب کچھ کر دکھایا کہ جس کا کبھی کسی نے پاکستان میں تصور بھی نہیں کیا تھا۔
9 مئی کے واقعات کے جواب میں فوج کے ادارے کی طرف سے شدید ردعمل کے باوجود اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کی پارٹی 24 فروری کے الیکشن میں قومی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔
نواز شریف نے الیکشن کے دن اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں واضح کر دیا تھا کہ وہ واضح اکثریت ملنے کی صورت میں ہی اقتدار سنبھالیں گے لیکن قومی اسمبلی میں واضح اکثریت ملنا تو دور کی بات مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما بھی الیکشن میں اپنی نشستیں گنوا بیٹھے۔
ایک طرف نواز شریف پر خاندان کے افراد کی طرف سے اقتدار کی مالا گلے میں ڈالنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب نواز شریف کو غلط فیصلے کی صورت میں سیاست کے میدان سے ہمیشہ کی رخصتی نظر آ رہی ہے۔
لگتا یوں ہے کہ نواز شریف پاکستان کی سیاست سے ہمیشہ کے لیے رخصتی کی بجائے اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے کوئی آخری کوشش کر گزریں گے۔ اس حوالے سے اگلے 48 گھنٹے بہت اہم ہیں۔ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

