خدا را ہوش کیجیے
پاکستان کے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں، سیاسی و معاشی عدم استحکام قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ ماضی میں ہر انتخابات کے بعد ہارنے والے دھاندلی کا الزام عائد کرتے رہے۔ تمام انتخابات کو متنازع قرار دیا جاتا رہا۔ مینڈیٹ چرانے کے الزام لگے اور ووٹ کو عزت دلانے کے لیے احتجاج بھی ہوتے رہے۔
حالیہ انتخابات سے قبل جو صورت حال رہی وہ کسی محب وطن کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اداروں کی بے توقیری کی گئی اور بے امنی و افراتفری کو فروغ دیا گیا۔ ایسے حالات پر عوام جن کا جینا مرنا وطن عزیر میں ہے سخت کرب میں مبتلا رہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے جمہوریت پر احسان کیا اور انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے مداخلت کی۔ آخر کار 8 فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات کا انعقاد ممکن ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران کچھ جماعتوں کے امیدواروں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور امتیازی سلوک کی شکایات کیں۔ ایسے غیر جمہوری رویے کسی جمہوری ریاست کے لیے نیک شگون نہیں ہو سکتے۔ جن سے عوام نے بھی ووٹ کی صورت میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ جو جماعت یا امیدوار امتیازی سلوک کا نشانہ بنا عوام میں اسے پذیرائی ملی۔ ماسوائے چند ناخوش گوار واقعات کے مجموعی طور پر پرامن انتخابات منعقد ہوئے جس پر سیکیورٹی ادارے خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
لیکن 8 فروری رات 10 بجے کے بعد ایسی بد بختی کی ہوا چلی کہ سارا نظام الٹ پلٹ ہو گیا۔ جو رات کو فتح پر جشن منانے کی تیاری کر کے سوئے تھے صبح احتجاجی اور پر شکوہ پریس کانفرنسز کرتے دیکھے گئے۔ الزامات اور شکایات کی ایسی کالی آندھی نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو گیا۔ میڈیا بھی منقسم دکھائی دینے لگا۔ انتخابات میں رائے دہی کا حق استعمال کرنے والے ووٹرز بھی سہم گئے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ کوئی اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کے لیے بضد ہے تو کئی اپنی جیت کو دوسرے کی کامیابی قرار دے کر خیرات میں ملی نشست قبول کرنے سے معذرت کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال 9 مئی کے دل خراش اور قابل مذمت واقعات کے بعد سیاست دانوں کی پریس کانفرنسز کا سلسلہ چلا تھا یہاں اس کا ایک نیا موڑ دیکھنے کو ملا۔ کل کے حریف آج کے حلیف بن گئے۔ لرزہ خیز انکشافات کی گونج نے سب کو چونکا دیا اور نظام بے نقاب ہونے لگا۔ ہر بدلتے لمحے کچھ نیا دیکھنے اور سننے کو ملا۔ بریکنگ نیوز کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
جیتنے والی جماعتوں کو اپنی فاتح حیثیت برقرار رکھنے کا یقین نہیں اور ہارنے والے شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ جس کرسی کے لیے کشمکش تھی وہ کانٹوں کی سیج میں بدل چکی ہے جسے قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔
تازہ صورت حال پر صرف ملکی سطح پر تبصرے نہیں ہو رہے بلکہ دیگر ممالک بھی گہری نظر سے جائزہ لے رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مذاکروں میں ہم ہی موضوع بحث ہیں۔ بھارتی میڈیا چینلز کی رپورٹس دیکھ کر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستانی اداروں کی کارکردگی اور کردار پر طنز کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بد قسمتی سے اب ہم خود ان کو طعن و تشنیع کا موقع مہیا کر رہے ہیں۔ ایٹمی قوت کے حامل ملک کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
عوام افسردہ ہیں۔ ملکی مستقبل اور جمہوریت کی بقا کو درپیش خطرات نے انہیں بے چین کر رکھا ہے۔ غربت اور مہنگائی کے ستائے عوام حالات کی بہتری کے خواہاں ہیں۔ پاکستانی عوام تمام سیاسی جماعتوں اور قومی اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ خدا را ہوش کیجیے ملکی سلامتی اور جمہوری بقا کی خاطر کوئی راستہ نکالیں۔ جو راستہ سب کے لیے قابل قبول ہو۔ اس ملک نے آپ کو بہت کچھ دیا۔ عوام نے اپنے پیٹ کاٹ کر آپ کی مراعات اور شاہ خرچیوں کا بندوبست کیا۔ عوام پر ترس کھائیے اور اس ملک کے حالات پر رحم کیجیے۔ خدا کے لیے مزید دیر نہ کریں۔ کوئی باہر سے آ کر آپ کی مدد نہیں کرے گا۔ آئین میں متعین کی گئیں حدود کا خود کو پابند بنائیں۔


