زیب سندھی کے افسانوں کا مجموعہ: ڈانسنگ گرل

صاحب کتاب زیب سندھی کا آبائی شہر لاڑکانہ ہے، سندھ کے شہر خیر پور میڑس میں پیدا ہوئے اور مستقل سکونت حیدرآباد سندھ میں ہے۔ سندھ یونیورسٹی سے سندھی ادب میں ماسٹر کیا۔ درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کے عہدہ پر بھی فائز رہے۔ ادب کی دنیا میں سترہ سال کی عمر میں 1974 میں پہلا افسانہ لکھ کر قدم رکھا اور انیس سال کی عمر میں افسانوں کا پہلا مجموعہ شائع ہوا۔ ان کی ادبی اور تخلیقی جہتوں کا شمار حیران کن ہے۔ افسانہ نگاری، ناول نگاری، شاعری، کالم نگاری، ترجمہ نگاری، ٹی وی ڈرامہ رائٹر، کمیپرنگ غرض ایک طویل فہرست ہے جو زیب سندھی کو متعارف کروا کر ممتاز کرتی ہے۔ ٹی وی پر ان کے لکھے ڈرامے ”جانشین“ کو ان کی شہرت کا حوالہ قرار دیا جا سکتا ہے جو یورپ اور امریکہ میں بھی ٹیلی کاسٹ ہوا۔ ان امتیازات کے باعث زیب سندھی بہت سے ایوارڈز اور انعامات کے مستحق قرار پائے۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف سندھیالوجی، سندھی لینگوئج اتھارٹی، ریڈیو پاکستان اور دیگر کئی ادارے شامل ہیں جنہوں نے زیب سندھی کی ادبی خدمات کو سراہنے کے لیے ایوارڈ عطا کیے۔ نصف صدی سے تخلیقی جوہروں کے آب رواں کو قلم کے ذریعہ بہاتے ہوئے اتنے ادب پارے تخلیق کیے اور مقبولیت کی ایسی بلند سطح پر پہنچے کہ انہیں لکھا تو سندھی میں گیا مگر اردو میں ترجمہ ہو کر متعدد دیگر زبانوں میں بھی در آئے۔ جن زبانوں میں ان کی تخلیقات منظر عام پر آئیں ان میں اردو، انگریزی، پنجابی، پشتو، بلوچی، پہاڑی، بنگالی، ہندی، ہریانوی اور دیگر زبانیں شامل ہیں۔
زیر نظر کتاب ”ڈانسنگ گرل“ پر یہ تحریر کسی تنقیدی زاویے سے نہیں بلکہ تعارفی مقصد سے لکھی جا رہی ہے۔ یہ تعارف ایک قاری کی حیثیت سے اپنا فرض نبھانا ہے تاکہ کتاب پڑھنے کو فروغ حاصل ہو۔ ” ڈانسنگ گرل“ ایک لفظ ہے جس کے معنی ہیں رقاصہ جو منہ سے بولیں، قلم سے لکھیں یا لکھا ہوا پڑھیں تو ہر جہت سے کسی بھی انسان کو نہ صرف چونکا سکتا ہے بلکہ چشم زدن میں ایک رقاصہ کو دیکھتا ہے۔ اور اس کے ذہن میں رقص کے ہزار زاویے ابھرتے ہیں۔
میرے سامنے ”ڈانسنگ گرل“ ایک لفظ کی صورت میں نہیں بلکہ ایک کتاب کے نام کی صورت میں آیا۔ یہ بنیادی طور پر سندھی زبان میں تحریر شدہ افسانوں کی کتاب ہے جو اردو ترجمے کے بعد مجھے مطالعے کے لئے موصول ہوئی۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ سندھیا پبلشرز کراچی نے 2017 میں شائع کی تھی۔ اس کا بیک ٹائیٹل ٹی وی میڈیا اور ادب کی نامور مصنف نورالہدی شاہ نے لکھا۔
اس کتاب میں شامل 20 سندھی کہانیوں کے اردو ترجمے کئی مترجمین نے کیے، جن میں محمد ابراہیم جمالی، نوشابہ صدیقی، رمضان کمبوہ، عظمت اللہ کنبھر، اظہر الحق نسیم، ننگر چنا، شاہد چنائی کے نام سر فہرست ہیں اور شاہد حنائی نے ہی ان کہانیوں کو کتابی صورت میں ترتیب دیا ہے۔
اس کتاب کی ایک کہانی ”ڈانسنگ گرل“ جو ٹائٹل کا نام بھی ہے، صرف اسی ایک کہانی کو ہی نہ صرف پانچ زبانوں میں ترجمہ کیا گیا بلکہ سندھی کہانیوں کے سو سالہ انتخاب (1914 تا 2015) کے انگریزی تراجم پر مبنی کتاب ”Hundred Years Of Sindhi Short Stories“ میں بھی شامل ہوئی، جو یقیناً مصنف کے اعلی تخلیقی اوصاف کا اعتراف ہے۔ اس زیر نظر کتاب ”ڈانسنگ گرل“ کے دوسرے ایڈیشن انڈیا اور پاکستان میں زیر اشاعت ہیں۔
کتاب گرچہ پی ڈی ایف میں موصول ہوئی اس لئے کتاب کی ظاہری صورت اور اس کے طبعی محسوسات کو زیر گفتگو لانا مشکل ہے۔ لیکن مصنف نے میری درخواست پر کتاب کے ٹائٹل اور بیک ٹائٹل کی تصویر ارسال کی جس سے نہ صرف تسلی ہوئی بلکہ اس کو بے حد خوبصورت پایا۔ مصوری کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ایک رقاصہ کی تصویر جس سے کتاب کو اسم بہ مسمیٰ پایا۔ اور اس رقاصہ کی تصویر نے دو تاثرات چھوڑے۔ ایک کتاب پڑھنے سے قبل اور دوسرا کتاب پڑھنے کے بعد ۔ قبل مطالعہ کا تاثر وہی تھا کہ، ”ڈانسنگ گرل“ سماعت اور بصارت میں آتے ہی یہ خیال آتا ہے کہ یہ کسی کلب کی ڈانسر کی کہانی ہوگی۔ لیکن جب کہانی کو پڑھا تو تاثر بالکل مختلف تھا۔
کیوں نہ اس ٹائٹل کہانی سے ہی زیب سندھی کے افسانوں کے مجموعے پر بات کرنے کا آغاز کیا جائے۔
یہ کہانی یا افسانہ میری نظر میں مصنف کا تخلیقی شاہکار ہے۔ اس میں اولین تاثر مصنف کی اپنی ذاتی خیال آفرینی کی انتہا کو ثابت کرتا ہے۔ ایسی خیال آفرینی جو اس کی اپنی دھرتی یعنی سندھ دیس سے ہے، اتنی شدید محبت کو ظاہر کرتی ہے جو اس کے تخیل کو اس کے تاریخی دور یعنی موہن جو داڑو کے دور میں اس طرح لے جاتی ہے کہ لگتا ہے کہ مصنف آج کے دور میں نہیں بلکہ موہن جو داڑو کی تہذیب کا باسی ہے۔ یہ کہانی اپنے اندر ایسی دیو مالائی پر اسراریت رکھتی ہے کہ منظر اور پس منظر کی طرح کبھی مصنف موہن جو داڑو کی بھٹکی روح کی طرح موجودہ زمانے میں بھٹک رہا ہے اور کبھی ڈانسر کا کردار (جو موہن جو داڑو کے زمانے کا ہے) کسی بھٹکی ہوئی روح کی طرح موجودہ زمانے میں وارد ہو جاتا ہے۔
یہ افسانہ یا کہانی پڑھنے کے بعد ہی لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن قارئین کی دلچسپی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ کہانی مصنف کی تخیل پرواز کی انتہائی بلند سطح کو ظاہر کرتی ہے اور فکشن کی دنیا کا شاہکار ہے، جس میں مصنف اپنے قاری کو چشم زدن میں اپنے پروں پر بٹھا کر اس قدیمی دور میں لے جاتا ہے، جس کی آج باقیات کھنڈروں کی صورت میں ہیں، جس کی افادیت آج کے سائنسی دور میں محض ایک تاریخی باب کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس کہانی کو غور سے پڑھیں تو یہ اپنے اندر پراسراریت اور میٹا فزیکل پہلو لئے ہوئے ہے۔ اس کو سائنس فکشن کا درجہ دیا جا سکتا ہے جو بیک وقت جستجو اور قدیمی فنون لطیفہ یعنی رقص کی تاریخ کا بھی مزا دیتا ہے۔ یعنی موہن جو داڑو کی تہذیب میں رقص کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے اور ہم بہ آسانی رقص کی انسانی زندگی میں اہمیت کو جان سکتے ہیں
یہ دلفریب کہانی موہن جو داڑو کی تہذیب کی ایک رقاصہ سمبارہ کی کہانی ہے۔ یہ افسانہ کسی کو بھی سندھ کی تاریخ پڑھنے پر مجبور کرتا ہے اور وہیں رومانویت، روحانیت، پراسراریت اور رقص کا سرور بھی بخشتا ہے۔ یہاں میری اپنی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اس کہانی کا نام بھی رقاصہ ہوتا۔ لیکن ”ڈانسنگ گرل“ بہت توجہ کھینچنے والا منفرد نام ہے۔ اس میں رقاصہ سے ملاقات کے وقت ماحول کی جس طرح منظر کشی کی گئی ہے وہ لاجواب ہے۔ یوں لگتا ہے کہ قاری خود اس رقاصہ سے ملاقات کر رہا ہے اور وہ کسی صورت بھی موہن جو داڑو سے نہیں نکل سکتا۔
اسی طرح کی پر اسراریت اور جن بھوتوں کے تصور پر دیگر کہانیاں بھی موجود ہیں جو سسپنس اور جاسوسی کہانیوں کا انداز لئے ہوئے ہیں۔ جن سے سنسنی خیزی پیدا ہوتی ہے اور اس میں انسانی نفسیات کے ایک اہم پہلو یعنی خوف کی فطری موجودگی کا بھی علم ہوتا ہے۔ زیب سندھی کے اس مجموعے میں شامل ان سنسنی خیز کہانیوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں عام جاسوسی ڈائجسٹوں جیسا عامیانہ پن اور بے ہودہ پن نہیں ہے بلکہ یہ انسانی نفسیات کی پراسراریت کو بہت سنجیدگی سے پیش کرتی ہیں۔ اسی قسم کی خیال آفرینی سائنس استفادہ کرتی آئی ہے۔ ایسی کہانیوں میں ریلوے ٹریفک پر چلتا ہوا آدمی، سڑک کی دوسری طرف کھڑا آدمی، حیدرآباد 47 کلو میٹر شامل ہیں۔ یہ کہانیاں کیا ہیں قارئین خود پڑھیں تو لطف اٹھائیں گے اور انسان کی ماورائے حسیات پرسیپشن کے راز کھلیں گے۔
دیگر کہانیوں کے نام بھی بہت منفرد اور مضامین کے تنوع کو لئے ہوئے جو معاشرے میں ہونے والے جرائم منافقت، غریب کے نوحے اور امیر کے استغنا پر مبنی داستانوں کو بیان کرتے ہیں۔ ان کہانیوں میں جاگیر دار، سیاستدان اور افسر شاہی اور غریب کے لئے نظام عدل کی لاپرواہی کا ذکر بہت موثر اور پرملال طریقے سے اظہار کرتے ہیں۔ دہشت گردی قتل و غارت کے گرم بازار اور بے بس انسانوں کی بے زبانی کا احوال درج کرتے ہوئے مصنف کو انسان دوست کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان افسانوں کے ذریعے مصنف نے آواز اٹھا کر اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں سندھ کی غیر انسانی سماجی روایات میں پسنے والی عورت کے لئے بھی آواز بلند کی ہے۔ انقلاب کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو جھانسہ دینے اور غریب کے لئے بنیادی ضروریات سے محرومی کو بھی زیر قلم لایا گیا ہے۔ کارو کاری کی قبیح رسم کی بھی مذمت کی ہے۔ ہر افسانہ خواہ طویل ہے یا مختصر ایک اصلاحی پیغام ہے جس میں دردمندانہ اپیل بھی اور جھنجھوڑنے کا پہلو بھی۔ لیکن خوبی یہ ہے کہ انداز بیان بہت منفرد اور پرتاثیر ہے۔ ان افسانوں کے نام کچھ یوں ہیں : گمشدہ منظر، فیصلہ، مسڈ کال، گمشدہ بچہ، مینڈا عشق وی توں، نسخہ، خزانہ، قصاب، دانشور، ٹارگٹ کلر، ٹائم بم، حیدرآباد 47 کلو میٹر، دربان، انقلاب، سڑک کے دوسری طرف کھڑا آدمی، سچل سرمست ان سچل کانفرنس، بزرگ کے تین دن،
اس کتاب کے نئے ایڈیشن پاکستان اور انڈیا میں زیر اشاعت ہیں۔
قارئین سے میری سفارش ہے کہ رقص کی طرح دلفریب کتاب کو ضرور اپنی ذاتی لائبریری کی زینت بنائیں جو زندگی کے ایسے رقص کا منظر پیش کرتی ہے جس میں بیک وقت زمینی اور آسمانی بصری اور غیر مرئی واقعات ایسے پیش کیے گئے ہیں کہ قاری انہیں اپنے تجربات سمجھتا ہے اور کسی کہانی کی یہی فسوں کاری ہوتی ہے کہ وہ واردات قلبی محسوس ہو۔




