مزاح اور ماحولیات


”ماحولیات“ سے کیا مراد ہے؟

اپنے اس سوال کی سادگی پر پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون ”ہوسٹل میں پڑنا“ یاد آ گیا ہے جس میں ایک ”ہونہار“ فرزند سے اس کا والد استفسار کرتا ہے :

”تمہارا ‘شخصیت’ سے آخر مطلب کیا ہے؟“

بات ادھوری رہ جائے گی اور اثر بھی زائل ہو جائے گا، اس لیے پدر و پسر کے مابین یہ مکالمہ پطرس بخاری ہی کے الفاظ میں بیان کرنا مناسب ہو گا:

”میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض و معروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا“ دیکھیے نا۔ مثلاً ایک طالب علم ہے، وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے دوسرا اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے۔ اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے ہی۔ لیکن ان کے علاوہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی گویا پہچانا جاتا ہے، میں اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہو اور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو، لیکن پھر بھی اس کی شخصیت، نہ خیر دماغ تو بے کار نہیں ہونا چاہیے ورنہ انسانی خبطی ہوتا ہے لیکن پھر بھی اگر ہو بھی تو بھی، گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے، ٹھہریے، میں ابھی ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ”

ایک منٹ کی بجائے والد نے مجھے آدھ گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے، اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ ”

حضرات گرامی! اس خاک سار کے لیے بھی ”ماحولیات“ کی تعریف کرنا آسان نہیں ہے۔ ماحولیات۔ بظاہر ایک لفظ ہے مگر اس میں ایک جہان آباد ہے۔ جہاں رنگ و بو! ماحولیات۔ بظاہر ایک اصطلاح ہے مگر اس میں ایک دنیا موجود ہے۔ دنیائے آب و گل!

شفق، دھنک، مہتاب، گھٹائیں، تارے، نغمے، بجلی، پھول
اس دامن میں کیا کچھ ہے، وہ دامن ہاتھ میں آئے تو
(عندلیب شادانی)

فطرت کے دامن میں جتنی وسعت ہے، اتنی ہی اس علم میں ہے جو فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کے لیے متعارف ہوا ہے۔ علم کی یہ شاخ فرد اور فطرت کے مابین رشتے کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ فرد بھی فطرت ہی کا ایک فرزند ہے۔ علم کی یہ شاخ مسائل فطرت سے آگاہ کرتی ہے اور یہ شعور پیدا کرتی ہے کہ فطرت خطرات سے دوچار ہے۔ فطرت کو لاحق یہ خطرے بھی شاید قانون فطرت کا نتیجہ ہیں۔ ماحول میں تبدیلی اور تخریب بھی شاید فطرت کا تقاضا ہے۔

فطرت شاید خود بھی اس سازش میں شریک ہے مگر حضرت انسان کی چیرہ دستیوں اور دست درازیوں کو روکنا تو اولاد آدم ہی کا فریضہ ہے۔ ہمارے لیے سمندر کی سطح کو بلند ہونے سے روکنا محال ہو سکتا ہے۔ اسی طرح زیر زمین پانی کی کم ہوتی ہوئی سطح پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے مگر ہم پانی کو صاف اور شفاف تو رکھ سکتے ہیں، آبی حیات کو آلودگی سے محفوظ تو رکھ سکتے ہیں۔ زمین کو جنت ارضی بنانا محال سہی، مگر اس کی زندگی کے عارضی ہونے کو معطل تو کر سکتے ہیں۔ زمین پر شجرکاری کی جا سکتی ہے، ماہی پروری کی جا سکتی ہے، پرند بازی اور مردم سازی کی جا سکتی ہے۔

خدا ساز تھا آذر بت تراش
ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں
(میر تقی میر)

”آدمی بنانے“ کا مطلب کلوننگ ہرگز نہیں ہے۔ کلوننگ بھی فطرت میں ایک طرح کی مداخلت ہے جس سے انسانی معاشرہ اور سماجی ماحول میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔

زمین پر اور بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے مثلاً میر صاحب سے درخواست کی جا سکتی ہے کہ زور سے نہ روئیں، شور مت کریں، بے چارے ہمسائے کو سونے دیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر شور قیامت انسانیت کا مقدر ہے۔

ماحولیات۔ اردو شعر و ادب کے لیے ایک نیا مضمون اور ایک نئی بحث ہے۔ اس موضوع پر ’اردو کی پہلی کتاب‘ انور مسعود کی ہے جس کا عنوان ”میلی میلی دھوپ“ ہے۔ انور مسعود جن کی ”بنیان فروشی“ کی صدا، سماعت پر اب گراں گزرنے لگی تھی، بازار تبسم میں نیا سامان لائے ہیں۔ مال نایاب ہے اور بے خبر گاہکوں کو ایک ایسی آگہی عطا کرتا ہے جس کا تعلق عصر حاضر کے ایک بڑے انسانی مسئلے اور زمینی خطرے سے ہے۔ انور مسعود نے اس شعری مجموعے میں کرۂ ارض کو لاحق مسائل اور خطرات کو نشانۂ ظرافت بنایا ہے۔

انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کی جملہ صورتوں۔ فضائی، آبی اور شور کی آلودگی وغیرہ۔ کی جانب بزبان شعر توجہ دلائی ہے۔ انور مسعود شاعر بھی ہیں اور شعر دوست بھی مگر اس مجموعے میں وہ ایک شجر دوست انسان کے طور پر بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے حیات انسانی اور بقائے زندگی کے لیے شجرکاری کو اہم اور لازمی قرار دیا ہے اور شگفتہ انداز میں درختوں کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

ایک نظم میں انور مسعود نے نیم کے درخت کے فوائد اور فضائل اتنے شیریں انداز میں بیان کیے ہیں کہ وہ محاورہ ”نیم دشمنی“ کا شاخسانہ محسوس ہوتا ہے جس میں کریلے کی تلخی میں اضافے کا باعث اس شجر سایہ دار کو ٹھہرایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیم کئی کار خیر انجام دیتا ہے جنہیں انور مسعود نے زبان شعر میں یوں بیان کیا ہے :

مہاگنی کے قبیلے کا سایہ دار شجر
جو سنگلاخ زمینوں میں بھی پنپتا ہے
یہ وہ نہال تنومد و پاسباں کردار
جو اب تحفظ ماحول کی علامت ہے
حد شمار سے بڑھ کر ہیں اس کی تاثیریں
عجیب قرص شفا ہیں نمولیاں اس کی
فساد خوں کے لیے اور ملیریے کے لیے
اور اس کی شاخ بھی درمان درد دنداں ہے
جہاں بھی دشمن جاں اس سے خوش نہیں کوئی
کہ اس سے بڑھ کے جراثیم کش نہیں کوئی

نیم کے اوصاف کے تو مشتاق احمد یوسفی بھی قائل ہیں۔ اس درخت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے انہوں نے قلم دو نیم کر دیا ہے۔ ان کے قلم کی شگفتگی سے اس شجر پر گل ہائے شگفتہ نمودار ہو گئے ہیں۔ یوسفی صاحب نے ذکر نیم تلخ و شیریں الفاظ میں کیا ہے :

”یار! ان دنوں سالے نیم نے بھی جان عذاب کر رکھی تھی۔ غریب غربا کو یہ رئیسوں کا روگ لگ جائے یا معمولی پھوڑے پھنسیاں نکل آئیں تو گاؤں قصبے کے جراح شروع سے اخیر دم تلک نیم ہی سے علاج کرتے تھے۔ ساری ادویات نیم سے ہی بنتی تھیں۔ نیم کے صابن سے نہلواتے۔ نیم کی نبولی اور بکل کا لیپ بتاتے۔ نیم کا مرہم لگاتے۔ نیم کی سینکوں اور خشک پتوں کی دھونی دیتے۔ جوان خون زیادہ گرمی دکھائے تو نیم کے بور اور کونپلوں کا عرق پلاتے۔

نیم کے گوند کا لعوق بنا کر چٹاتے۔ نبولی کی گری کا سفوسف زہر مار کراتے۔ ہر کھانے سے پہلے نیم کی مسواک کرواتے تاکہ ہر کھانے میں اسی کا مزہ آئے۔ فاسد مادہ نکالنے کے بہانے جونکوں کو آئے دن سیروں خون پلوا دیتے، یہاں تک کہ اگلا بالکل چسا آم ہو جاتا اور حرامزدگی تو درکنار دو رکعت نماز بھی پڑھتا تو گھٹنے چٹ چٹ چٹخنے لگتے۔ ناسور کو نیم کے اونٹتے پانی سے دھارتے تاکہ مرض کے جراثیم مر جائیں اور اگر مریض جراثیم سے پہلے ہی جراح کو پیارا ہو جائے تو گھڑے میں نیم کے پتے ابال، غسل میت دے کے جنازہ نیم تلے رکھ دیتے۔

پھر تازہ قبر پہ تین ڈول پانی چھڑک کے سرہانے نیم کی ٹہنی گاڑ دیتے۔ دفنا کے گھر آتے تو مرنے والے کی بیوہ کی سونے کی لونگ اتروا کر اسی نیم کی سینک ناک میں پہنا دی جاتی جس میں جھولا ڈال کے وہ کبھی ساون میں جھولا کرتی تھی۔ پھر اسے سفید دوپٹہ اڑھاتے اور ایک ہاتھ میں سروتہ اور دوسرے میں کوے اڑانے کے لیے نیم کی قمچی تھما کر نیم کی چھاؤں تلے بٹھال دیتے۔“

اتنی شگفتہ نثر پڑھنے کے بعد کوئی سفاک شخص ہی ایسے بندہ نواز اور ماحول دوست درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

پطرس بخاری نے ’لاہور کے جغرافیے‘ میں ماحولیاتی آلودگی کے المیے کو طربیہ اور شگفتہ انداز میں پیش کیا ہے تاہم سطور خنداں میں ان کے اس شعور اور احساس کو دیکھا جا سکتا ہے جس کا تعلق ماحولیاتی آلودگی سے ہے۔ انہوں نے آب و ہوا کی کثافت کا تذکرہ لطیف پیرائے میں کیا ہے :

”لاہور کی آب و ہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں، جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے، میونسپلٹی بڑی بحث و تمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جب کہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں بل کہ ہمدردانہ غور و خوض کی مستحق ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس لیے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں، بل کہ جہاں تک ہو سکے کفایت شعاری سے کام لیں۔ چناں چہ اب لاہور میں عام ضروریات کے لیے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جا بجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے کے لیے مرکز کھول دیے ہیں۔ جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے، کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔ ”

پطرس بخاری نے اگر لاہور کے فضائی ماحول پر لاحول پڑھی ہے تو کراچی کے موسم کا احوال مشتاق احمد یوسفی نے سنایا ہے۔ یوسفی صاحب نے کراچی کے موسم اور ماحول کا ذکر کرتے ہوئے ایک طرح سے ماحولیات پر ہی تبصرہ کیا ہے۔

اردو ظرافت میں ماحولیات کا مثبت اور روشن پہلو اجاگر کرنے والے ادیب شفیق الرحمن ہیں۔ وہ ماحول کو درپیش مسائل اور خطرات کا ذکر نہیں کرتے بل کہ ایک ایسے مثالی ماحول کو پیش کرتے ہیں جس میں حسینہ ٔ فطرت کو آرائش جمال میں مصروف دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مثالی ماحول محض ایک ادیب کا نہیں، ”ماحولیات“ کے کسی بھی ماہر کا خواب ہو سکتا ہے۔ حسینۂ فطرت کی ادائیں، شفیق الرحمن کے آئینۂ تحریر میں یوں ظاہر ہوئی ہیں :

”مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب روفی اور میں جھیل کے کنارے لمبی لمبی گھاس میں بیٹھے تھے۔ رات کو بارش ہوئی تھی۔ صبح بالکل صاف طلوع ہوئی۔ خنک ہوائیں چل رہی تھیں۔ بادل تیر رہے تھے۔ جھیل کے نیلے پانی پر ہلکی ہلکی دھند چھائی ہوئی تھی۔ ہر چیز میں نکھار تھا، تازگی تھی۔ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے دنیا ابھی ابھی تخلیق ہوئی ہے۔

ہم کہانیاں پڑھتے رہے۔ باتیں کرتے رہے، کھیلتے رہتے۔ زقندیں بھرتے ہوئے پرندوں اور ناچتی ہوئی تتلیوں کو دیکھتے رہے۔ ہماری ڈوری پانی میں تھی، دن بھر ہمیں مچھلیوں کا انتظار رہا۔ ہم انہیں بھوننے کا سارا سامان لائے تھے۔ دن ڈھلے ہمیں رستم لینے آیا۔ ایسے خوشنما نظارے کو دیکھ کر وہ بھی ہمارے پاس بیٹھ گیا اور عجیب عجیب سی باتیں سنانے لگا۔ ”

سورج غروب ہو رہا تھا۔ یکایک دوسرا کنارہ جگمگا اٹھا۔ وہاں بادل کے ٹکڑوں اور دھند نے ایسا رنگین اور خوش نما محل بنا دیا کہ ہماری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ نازک سی حسین محرابیں، رنگ برنگے برج اور مینارے، بل کھاتے ہوئے زینے، دور دور تک پھیلی ہوئی فصیلیں۔

پھر سب کچھ نیلا ہو گیا۔ آسمان، جھیل، بادل اور فضا اور دوسرا کنارہ۔ کائنات نیلی ہو گئی۔ بادلوں کا بنا ہوا وہ حسین محل سنگ مرمر کا بن گیا اور اس پر ہلکی ہلکی چاندنی چھا گئی۔ ”

”ماحولیات“ ایک نئی زمینی حقیقت اور آسمانی مصیبت ہے۔ ابھی اہل زمین پر اس کا ادراک مکمل طور پر نہیں ہوا۔ لیکن اس کے باوجود غنیمت ہے کہ اردو ظرافت میں اس مسئلۂ زمین کو موضوع تبسم بنایا گیا ہے۔

Facebook Comments HS