تنہائی کیوں ضروری ہے


اتوار کی شامیں میں ریت کے اونچے ٹیلوں پر بیٹھ کے گزارتا ہوں، جہاں سے سردیوں میں آسمان اور سمندر کو دور تک جاتے ہوئے گلے مل کر دیکھتا ہوں، سارے شہر کو آہستہ آہستہ روشنی سے تاریخی کے دبیز پردے میں چھپتے ہوئے محسوس کرتا ہوں، یہ لمحہ جب مغرب قریب آتے ہی آسمان سے پرندے اور ریت کے ٹیلوں پر کھیلنے والے بچے ایک ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں دو قسم کی گھریں ایک وہ جہاں سے اٹھتا ہوا دھواں مزیدار رات کے کھانے کے لئے مزیدار پکوانوں کی تیاری کی نوید دیتی ہے تو دوسری طرف وہ گھر جن میں کھانا ہو نہ ہو لات، مکھے اور ہیرونچی باپ کی گالیاں اور ماں اور بہنوں کی آنکھوں سے باپ بنتے آنسوؤں کی لڑی۔

یہ سب تب محسوس ہو گا جب آپ تنہا ہوں گے۔ آپ خود سے باہر آ کر وہ سب محسوس کریں گے جو اس معاشرے میں ہو ریا ہے۔ آپ خود سے خودکلامی کریں گے۔ ہر وقت باہر کے لوگوں سے گفتگو کرنے سے انسان تھک جاتا ہے تو آپ کو اندر کے انسان سے بھی ہم کلام ہونا ہو گا۔

تنہائی آپ کو ایک بہتر، ہمدرد اور ایماندار شخصیت بنائے گی۔ آپ خاموشی کی زبان سمجھنے لگیں گے جو بہت ہی ضروری ہے کیونکہ یہ کائنات خاموشی کی زبان بولتی ہے۔ جیسے اقبال نے کہا تھا کہ ”اے خدا تمہاری یہ کائنات گونگی ہے ’تو اس گونگے کائنات میں آپ اندر کے انسان سے بات کریں تب ہی آپ پائیں گے کے از کجا می آید ایں آواز دوست۔

اگر ہم موجودہ دور کے انسان کو دیکھیں تو وہ ہر وقت کام میں مصروف رہتا ہے۔ اس کے بعد پھر جب کام سے فراغت ملتی ہے تو لوگوں کے ایک اور ہجوم جسے سوشل میڈیا کہتے ہیں وہاں پہ مصروف ہوتی ہے۔ خود میں ہزاروں مسائل ہے، ہزاروں جائز و ناجائز خواہشات ہیں۔ جب آپ تنہا بیٹھتے ہیں تو ضمیر بہ معنی آپ جب خود سے ہم کلام ہوں گے تو ان مسائل کے حل کے لئے بے شمار حل نکلیں گے۔ کسی نے کہا تھا کہ میں نے بات کرتے ہوئے کچھ نہیں سیکھا کچھ سیکھا تب جب میں خاموش رہا۔ تو خاموش آپ تب رہ سکتے ہیں جب آپ تنہا ہوں تنہائی میں آپ کے اندر سے ایک استاد برآمد ہوتی ہے۔

علامہ اقبال نے شاہین کو تشبیہ بنانے کی وجوہات میں ایک وجہ یہ بتائی تھی کہ شاہین تنہا رہتا ہے اور یہ تنہائی ضروری ہے۔ تاکہ انسان غور و فکر کرے۔ اور یہ الوہی صفت ہے۔

چرچل نے کہا تھا کہ وہی درخت سب سے مضبوط ہو گا جو اکیلا نشو و نما پائے، تو انسان کو مضبوط ہونے کے لئے بھی تنہا رہنا پڑتا ہے، چوبیس گھنٹے مشینوں کی طرح گڑ گڑ کرنے یا رات بھر ہوں ہاں کرنے سے انسان بس نکما ہی رہتا ہے۔ کسی دوسری کے حکم سے زندہ رہنا والا انسان انسان تو نہ رہا بقول کے فرنانڈو پیسووا جو شخص تنہا نہیں رہ سکتا وہ غلام ہی ہوتا ہے۔

سقراط نے کہا تھا کہ خود سے ملاقات زندگی بدل سکتی ہے۔ خلوت ایک تربیت ہے۔

سورن کیرکگارڈ کا کہنا ہے خلوت، اپنے آپ سے ملاقات کا ایک طریقہ ہے اور انسانیت کے اصل جذبات کو پہچاننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

”ژان جاک روسو کہتے ہیں خلوت میں انسان اپنی طبعیت کو سمجھتا ہے اور اس سے زیادہ آزادی اور اختیار کی قدرت حاصل ہوتی ہے۔“

آج کے دور میں انسان ہجوم کی گرفت میں ہے، لوگوں کا ہجوم مشینوں کا ہجوم، خیالات کا ہجوم۔ ہر گزرتا سیکنڈ معلومات اور گفتگو کا ایک سیلاب رواں کرتا ہے جس سے انسانی فکر، ارتقاء اور تخلیق کی تننزلی ہو رہی ہے۔ تخلیق محتاج ہے فکر کا جب ہم خیالات ہی پراگندہ اور بے معنی ترتیب دیں تو تخلیقات بھی ایسی ہی ہوں گے۔ اعلی تخلیقات اعلی خیالات کے محتاج ہیں۔

کبھی بھی تاریخ میں صرف ان شخصیات نے نام پیدا کیا جن میں تنہا رہنے کی صلاحیت تھی وہ تنہا رہ سکتے تھے۔ پھر انھوں نے ہجوم کی رہنمائی کی۔

اب آج کے انسان میں تنہا رہنا تو گناہ ہے جس کی وجہ سے آنے والا انسان اتنا بونا ہو گا، اتنا سست ہو گا کہ وہ سوچنے سے بھی عاری ہو گا۔ اور آنے والے انسان کی راہیں ہم ہموار کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنے اوقات کو ترتیب دیں اور اپنے خلوت میں فقط اپنے ساتھ رہیں۔

(نوٹ:۔ تنہائی اور خلوت کے معنوں میں بہت فرق ہے لیکن میں نے اس مضمون میں آسانی کے لئے خلوت کی جگہ تنہائی کو برتا ہے تاکہ پڑھنے والوں کو آسانی ہو۔ )

Facebook Comments HS