بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے سد باب کیلئے چند تجاویز


سیف الرحمان کو اچانک اپنے دفتر میں دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔ جہاں تک میرا خیال تھا اسے غالباً کسی ملازمت کے ٹیسٹ کے لئے اس دن کسی اور شہر میں ہونا چاہیے تھا۔ چھوٹتے ہی بولا: ”سر جی کاش دو سال پہلے آپ کے دیے ہوئے مشورے پر عمل کر لیتا اور اپنا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کر لیتا تو اب تک سیٹل ہو چکا ہوتا، نوکری کے لالچ نے تو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ الٹا دو سال میں کبھی لاہور، کبھی اسلام آباد اور کبھی فیصل آباد وغیرہ میں دھکے کھاتے کھاتے جو اخراجات اب تک اٹھے ہیں اس میں تو چھوٹا موٹا اپنا کاروبار ہو سکتا تھا۔

پہلے ٹیسٹ کی فیس بھرو، پھر بڑے شہروں میں جا کر ٹیسٹ دو ، پھر اگر خوش قسمتی سے ٹیسٹ پاس کر لو تو انٹرویو کے لئے بڑے شہروں کا ایک اور پھیرا۔ کل ملا کے ایک نوکری کی بھاگ دوڑ کے لئے کل خرچہ کوئی دس پندرہ ہزار اٹھتا ہے اور نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات“ ۔ ریاست کی حیثیت ایک ماں کی سی ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کا خیال رکھنے کی پابند ہے وگرنہ دوسری صورت وہ ایک ناکام ریاست ہے۔ تعلیم، ہنر، روزگار، صحت ہو تو روٹی، کپڑا اور مکان کا بندوبست خود بخود ہی ہو جاتا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں نوکری دینے کا پراسیس بہت سی معاشرتی ناہمواریوں کو جنم دے رہا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ظلم چھوٹے شہروں کے نوجوانوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ جن کے غریب والدین پہلے ہی معاشی بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ یوں تو حکومت ہر طرح کی ملازمت اخبارات میں ایڈورٹائز کرنے کی پابند ہے لیکن اکثر سننے میں آتا ہے کہ نوکری کے اشتہارات اپنے چند مخصوص چہیتوں کو نوازنے کے لئے دیے جاتے ہیں اور باقی لوگ جو دور دراز علاقوں سے ٹیسٹ وغیرہ دینے کے لئے آتے ہیں وہ محض وقت اور وسائل کا ضیاع کر رہے ہوتے ہیں۔

نوکری کے تمام مراحل میں دور دراز اور چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں خاص طور پر خواتین کو انتہائی مشکل پیش آتی ہے۔ مجھے کئی ایسے نوجوان ملے ہیں جو مہینے میں کتنی ہی نوکریوں کے لئے درخواست دیتے ہیں اور ہر دفعہ اس عمل پر ان کے ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں جس سے ان کے مزاج میں چڑچڑا پن واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا یہ بے روزگاروں، خاص طور پر چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال نہیں ہے؟

اس وقت معاملہ اور زیادہ تشویشناک ہو جاتا ہے جب یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ یہ استحصال ریاست کی زیر نگرانی ہوتا ہے۔ ایک تو یہ نوجوان پہلے ہی بے روزگار ہوتے ہیں الٹا روزگار کے نام پر ان سے ٹیسٹ یا پراسیسنگ فیس وغیرہ کی مد میں جگا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ اگر یہ سارا عمل بغیر نفع نقصان کے ہو تو بہت ہی اچھا لیکن ٹیسٹ کا انتظام کرنے والے ادارے اور ملازمت کا اشتہار دینے والے اداروں نے تو اس عمل کو باقاعدہ کاروبار بنا رکھا ہے جو خاص طور پر ایک ایسے ملک میں انتہائی تکلیف دہ ہو جاتا ہے کہ جہاں پچاس فیصد لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہر نوکری کے لئے اپلائی کرنے پر 500 سے 2000 تک فیس۔ پھر ایک امیدوار اگر راجن پور سے ہے تو سوچیں اسے لاہور، ملتان یا اسلام آباد ٹیسٹ اور انٹرویو کے لئے آنے جانے اور قیام و طعام کے لئے کتنے اخراجات کرنے پڑیں گے؟

ادارے لوگوں کے خدمت گزار ہوتے ہیں اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے بنے ہوتے ہیں لیکن ہر ادارہ ایک چھوٹے سے کام کے لئے جس طرح عوام کی دوڑیں لگواتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ ان اداروں میں بیٹھے پبلک سرونٹ، پبلک ماسٹر بنے ہوئے ہیں اور عوام کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو آقا اپنے غلاموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور نہیں تو کم از کم معذور افراد کو درخواست فیس میں ضرور استثنا ملنا چاہیے۔ کچھ سال قبل پنجاب پبلک سروس کمیشن نے معذور افراد کی درخواست فیس معاف کر کے ایک مستحسن فیصلہ کیا ہے اور ایک شاندار مثال قائم کی ہے جس کے لئے تمام متعلقہ افسران و حکام شاباش کے مستحق ہیں۔

اگرچہ این ٹی ایس اور دیگر ریکروٹمنٹ ایجنسیاں یا ادارے حتی الامکان ضلعی لیول پر مختلف ٹیسٹوں کا انعقاد کرتی ہیں، لیکن ٹیسٹ فیس کو جتنا کم کیا جاسکتا ہے کم کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔ چھوٹے اور دوردراز شہروں کے نوجوانوں کے لئے ٹیسٹ فیس 250 تک رکھی جائے کہ وہاں بڑے شہروں کی بہ نسبت اکثریت کے اتنے وسائل نہیں ہوتے۔ تمام اداروں کو ہر پوسٹ کے لئے ایک سخت میرٹ کی پالیسی اور پیمانہ وضع کرنا چاہیے تاکہ غیر ضروری درخواستیں نہ آئیں اور سکروٹنی کا عمل آسان ہو سکے۔

کسی زمانے میں نوکری کے لئے درخواستیں دینے والوں کو ٹی اے ڈی دیا جاتا تھا اگرچہ اب ہزاروں امیدواروں کی صورت میں ایسا تو ممکن نہیں لیکن یوں بھی نہیں ہونا چاہیے کہ آپ الٹا بے روزگاروں پر ہی بلا جواز مالی بوجھ ڈالنا شروع کر دیں۔ سکروٹنی کا عمل ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے بلا جواز درخواست جمع کرانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ ہمارا نظام تعلیم غیر پیداواری ہے جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں غیر پیداواری نظام تعلیم سے پیداواری نظام تعلیم کی طرف آنا ہو گا اور ہنر مند افرادی قوت کو فروغ دینا ہو گا اور انھیں آسان شرائط پر خود انحصاری پر مبنی کاروبار کے لئے قرضے دینے ہوں گے تاکہ سروس کے شعبے میں بے جا دباؤ کو کم کیا جا سکے اور کاروبار کو فروغ دیا جا سکے۔

اس سلسلے میں بورڈ آف انویسٹمنٹ، دیگر متعلقہ اداروں اور حال ہی میں وفاقی سطح پر بننے والی ایک کونسل کے افسران اور اہلکاروں کی تربیت ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان بزنس کرنے کے لحاظ سے ایسے ممالک میں سے ایک ہے جہاں سرخ فیتے کی وجہ سے بے شمار رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔ سرخ فیتے کی وجہ سے نہ صرف فارن انویسٹمنٹ بلکہ مقامی سطح پر بھی سرمایہ کاری کا رجحان کم ہے۔

ہمارے ملک میں کم شرح خواندگی کے با وجود سروس سیکٹر پر بہت دباؤ ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پیشہ وارانہ تعلیم کا دائرہ کار پھیلایا جائے۔ نیوٹک، پاکستان بیت المال، ٹیوٹا، ٹسڈک اور ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ جیسے ادارے جو ہنر مند افراد کو تربیت دے رہے ہیں ان کے بجٹ میں اضافے کی ضرورت ہے۔ بہت اچھی بات ہے کہ پاکستان کی ہر حکومت ہنر مند افراد کی تربیت میں دلچسپی لیتی رہی ہے، لیکن ان شعبوں کی ترقی کے لئے ابھی بہت محنت اور سرمائے کی ضرورت ہے جس کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تصور کو فروغ دیا جاسکتا ہے اور بین الاقوامی ڈونر اداروں سے بھی بات کی جا سکتی ہے۔

اس وقت حال یہ ہے کہ درجہ چہارم کی سیٹوں کے لئے بھی سینکڑوں ایم اے پاس افراد درخواستیں دے رہے ہیں جو بذات خود ہمارے نظام تعلیم پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ روایتی تعلیم کو ضرور فروغ دیں لیکن کوالٹی پہ کمپرومائز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہمارے ہاں صورتحال ایسی ہے کہ ماضی قریب میں لاکھوں افراد پرائیویٹ ایف اے، بی اے اور ایم کے امتحانات دیتے آئے ہیں اور یہ امتحانات ہمارے ناقص نظام تعلیم کے سبب راتوں رات تیاری کر کے پاس بھی کر لیتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے پوسٹ گریجوایٹ طالبعلم کی ذہنی حالت کا اندازہ لگائیں تو اس کے پلے کچھ بھی نہیں ہوتا۔

پرائیویٹ ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحانات میں کامیابی کو 60 % نمبروں سے مشروط کر دینا چاہیے۔ علامہ اقبال یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی بھی ضرورت ہے اگرچہ اپنے ملک میں نہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر ان اداروں کی ڈگریاں زیادہ مستند سمجھی جاتی ہیں۔ صرف انھی طلباء کو یونیورسٹیاں اور کالج داخلہ دیں جو ریگولر کلاسز میں میرٹ پر داخلہ لے سکیں، ہمیں بڑھتی ہوئی آبادی کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یا تو مزید یونیورسٹیاں قائم کرنی چاہئیں یا مزید کالجز کو اپ گریڈ کرنا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر ان میں شام کی کلاسز بھی ہونی چاہئیں۔ کم گریڈ والے طلباء کو ٹیکنیکل اور ہنر مند تعلیم کی طرف راغب کیا جانا چاہیے اور خود روز گار سکیموں کو مزید فروغ دینا چاہیے تاکہ بے روزگاری کے جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے۔

تحقیق کے شعبے کو فروغ دینے سے ہی غیر پیداواری نظام تعلیم کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمارے نظام تعلیم میں پی ایچ ڈی حضرات بھی غیر پیداواری رہتے ہیں اور انھیں باقاعدہ سائنسدان نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کا مقصد ڈاکٹریٹ کی ڈگری کر کے تحقیقی پروگراموں کو فروغ دینے سے زیادہ اپنی روزی روٹی کے معاملات سے غرض ہوتی ہے۔ یوں دوسرے لفظوں میں ہم پڑھے لکھے جاہل افراد کی کھیپ پیدا کر ہے ہیں جو اختیارات کی لڑائی میں اپنی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتیں کھو بیٹھتے ہیں۔

ہمارے کم و بیش تمام تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم یافتہ اساتذہ کی عہدوں اور اختیارات کے لئے سرد جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ ہمارے طلباء کی ذہنی استعداد بھی بہت پتلی ہے اور مطالعے کا رجحان بہت کم ہے جس کا اندازہ مقابلے کے امتحانوں میں پاس ہونے والوں کی شرح سے لگایا جا سکتا ہے۔ ملازمت کے لئے صرف تعلیم اور ڈگری ہی کافی نہیں، اصل امتحان ڈگری کے بعد شروع ہوتا ہے جب آپ کو مختلف امتحانوں کو پاس کرنے کے لئے اپنی اہلیت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

ملازمت کا حصول ایک آرٹ ہے۔ نوجوانوں کو ڈگری کے بعد باقاعدگی سے اخبارات، پبلک سروس کمیشنز، سوشل میڈیا پیجز اور جاب ایپز کو گاہے بگاہے سرچ کرتے اور درخواستیں جمع کرواتے رہنا چاہیے ایک وقت تھا جب طلباء غیر نصابی کتب کا مطالعہ شوق سے کرتے تھے اب غیر غیر نصابی سرگرمیوں کی جگہ سوشل میڈیا اور موبائل نے لے لی ہے اور اس پہ مستزاد لمبے کال پیکجز جبکہ اب واٹس ایپ پہ یہ سہولت مفت دستیاب ہے۔

اب مقابلے کے امتحانوں میں مطلوبہ استعداد کی تعلیمی قابلیت کا فقدان نظر آتا ہے، خدشہ ہے کہ تعلیمی زوال یوں ہی جاری رہا تو شاید ہم مستقبل میں افسر تو کجا شاید ڈھنگ کے کلرک بھی پیدا نہ کر سکیں۔ ڈگریاں ہیں لیکن علم مفقود ہے۔ ایسے میں بے روز گاروں کی ٹڈی دل فوج معاشرتی ابتری میں جو اضافہ کرے گی کاش ہمارے پالیسی ساز اور حکمران اس کا بروقت ادراک کر لیں تو شاید کچھ تدبیر بن پڑے ورنہ معاشرے کی چولیں ہل جائیں گی۔

شکر ہے کہ دوست ملک چین یہاں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے جس سے یقینا ہزاروں لوگوں، خاص طور پر ہنر مند افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کو اپنی خود غرضی کی خاطر متنازعہ بنانے والے ملک کے ساتھ ساتھ بے روزگار نوجوانوں کے بھی سب سے بڑے دشمن ہیں، حکومت کو ایسے عناصر کا دانشمندی سے محاسبہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک میں نے اس منصوبے کی جزئیات کا مطالعہ کیا ہے اس سے تمام صوبے یکساں طور پر مفید ہوں گے اور پاکستان ترقی کرے گا۔

پاکستان میں موجود سیاسی عدم استحکام ملکی معیشت کے لئے بہت خطرناک ہے۔ امید ہے کہ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت حالیہ الیکشن کے بعد حکومت سازی کے لئے بصیرت کا مظاہرہ کریں گے اور نئی حکومت کو بیرونی سرمایہ کاری، ایکسپورٹس میں اضافے کے اقدامات کے علاوہ ٹورازم، شوبز پروڈکشنز کے ساتھ کچھ اور سیکٹرز کو فروغ دینا پڑے گا تاکہ بے روزگاری کے ساتھ ساتھ معیشت اور دیگر مسائل بھی حل کرنے کی طرف مثبت پیش رفت کا آغاز ہو سکے۔

Facebook Comments HS