اجتماعی جنون اور سرکاری معافی نامہ


پاکستان میں اب ایک واقعہ ہو جاتا ہے پھر دوسرا ہونے کے بعد پہلا بھلا دیا جاتا ہے، تیسرا واقعہ ہو جائے تو گویا ایسا لگتا ہے کہ پہلی بار ہوا ہے۔ سوات میں ملالہ پر گولیاں چلائی گئیں تو ہم نے اس سے پہلے ہوئے واقعات بھلا دیے تھے اور جب مشال کا قتل ہوا تو ہم ملالہ کو بھی بھول گئے۔ اب کسی کو شاید مسیحی جوڑا شمع اور شہزاد مسیح کو اینٹوں کے بھٹے میں جلا دینا یاد بھی نہ ہو۔ سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی تو ویسے بھی گورنر اور وزیر تھے جن کو حکومت اور ریاست نے ہی بھلا دیا ہے۔ اقبال مسیح کو کس نے یاد رکھنا تھا اس جیسے تو روز قتل ہو جاتے ہیں کبھی کسی کارخانے میں، کبھی کسی کھیت اور کبھی کسی دکان یا ورکشاپ میں۔ ہمیں تو روز کراچی، اسلام آباد اور لاہور کے بنگلوں سے کمسن گھریلو ملازمین کی چیخیں اب سنائی بھی نہیں دیتی ہیں کیونکہ یہ بھی معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔

ابھی گزشتہ مہینوں کی بات ہے بنوں میں حیاتیات کے ایک معلم کا ڈارون کا نظریہ ارتقاء پڑھانا علمائے کرام کہلانے والوں کے نزدیک جرم بن گیا اس سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں معافی نامہ پڑھوا کر نشر کیا گیا۔ یہ صرف بنوں تک محدود نہیں لاہور اور کراچی جہاں اس خطے کی سب سے پرانی درسگاہیں موجود ہیں وہاں لٹھ بردار اساتذہ پر نظر رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ایسا ویسا تو نہیں پڑھاتے جو سائنس کی بدعت کے زمرے میں آتا ہو۔ ان ہی درسگاہوں میں طالبات اور خواتین اساتذہ کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات بھی اب کوئی خبر نہیں کیونکہ یہ بھی معمول کا حصہ ہے۔

کوئٹہ کے پرانے لوگ جعفر خان اچکزئی کے نام سے واقف ہیں جو اپنے طرز کا ایک مصنف اور قلم کار ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کا متحرک کارکن رہا اور پشتو میں ’چپلاخ‘ اور اردو میں ”سوالاً جواباً“ کے نام سے کتابوں کا ایک سلسلہ بھی لکھا۔ ان کتابوں میں وہ لوگوں کی طرف سے روزمرہ زندگی میں پوچھے گئے سیاسی، سماجی اور دیگر موضوعات پر سوالات کے جوابات ایک مخصوص انداز میں دیتے تھے۔ ان میں مذہبی معاملات پر بھی سوالات ہوتے تھے، زعما، مذہبی و سیاسی راہنماؤں اور مشاہیر کے بارے بھی پوچھا جاتا تھا تو جعفر خان اچکزئی استہزائیہ انداز میں جواب دیا کرتے تھے۔

جعفر خان کی لکھی کتابیں وہ بھی پڑھتے تھے اور حظ اٹھاتے تھے جن کے بارے میں وہ لکھتا تھا۔ ایک بار انھوں نے کہا کہ ایک سوال پوچھا گیا کہ ”روس کی طرف سے فیض احمد فیض کو لینن امن ایوارڈ دینے پر ان کا کیا تبصرہ ہے؟“ انھوں نے انگریزی کی کہاوت دوہرائی تھی ”عظیم لوگ عظیم غلطیاں کرتے ہیں“ ۔ بقول ان کے انجمن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس میں بیگم ایلس فیض سے ملاقات ہوئی تو وہ خوب ہنس کر ملی تھیں جبکہ وہ خود اندر سے بزبان کوئٹہ بڑی ’کوچرائی‘ محسوس کر رہے تھے۔ یہ سب ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں بطور مزاحمت ہوتا رہا مگر جب جمہوریت آئی تو دیواروں پر جعفر خان اچکزئی کے خلاف بھی نعرے درج ہوئے اور وہ زیر زمین چلے گئے پھر اس کے بعد کسی کو چپلاخ یا سوالاً جواباً کی کتابیں نہیں ملیں۔

اقبال ہمارے عہد میں ہوتے تو شاید وہ بھی شکوہ لکھنے کی جرات ہی نہ کرتا نہ جواب شکوہ کو تلافی سمجھا جاتا، غالب تو دیر و حرم کے تقابل میں ہی مارا جاتا۔ دنیا میں ابلاغ کے فروغ کے ساتھ فہم و فراست، روشن خیالی اور بالغ نظری میں اضافہ ہوا ہے مگر ہمارے ہاں محسوس ہوتا ہے کہ ابلاغ کوتاہ خیالی، تنگ نظری اور جہالت کا باعث بن گیا ہے۔

یہ سب ایک دن ایک ماہ یا ایک سال میں نہیں ہوا ہے۔ سنیما کو صنم خانہ کہہ کر اس کی مخالفت کی گئی اور آج ملک میں کوئی سنیما موجود ہی نہیں۔ موسیقی ایک طرف یہاں تو قوالی کو بھی چار دیواری میں قید کر دیا گیا ہے اور قوال جان کی امان مانگتے پھرتے ہیں کہ کہیں امجد صابری کی طرح تاریک راہوں میں مارے ہی نہ جائیں۔ سکولوں کے اساتذہ، کالج کے لیکچرار اور یونیورسٹی کے پروفیسر اب پڑھانے سے پہلے سلیبس کی انتظامیہ سے منظوری لیتے ہیں ورنہ وہ پڑھانے کے لئے نہیں رہتے۔

عمار علی جان اور عادل نجم کسی مدرسے یا دارالعلوم سے نہیں بلکہ یورپی نظام تعلیم کو فروغ دینے والی جامعات سے صرف اس بات پر فارغ کیے گئے کہ ان کے خیالات سے انتظامیہ متفق نہیں تھی۔ میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ اگر میرے اساتذہ، ذاکر نسیم، ن۔ م دانش، توصیف احمد خان آج پڑھا رہے ہوتے تووہ بھی صبا دشتیاری کی طرح کسی اندھی گولی کا نشانہ بن جاتے۔

حن کو حلوہ اور قل ہو اللہ میں فرق نظر نہیں آتا وہ ایک خاص نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے۔ ایسی کیفیت میں خاموشی میں بھی مختلف آوازیں سنائی دیتی ہیں یا اندھیرے میں بھی مختلف اشیا، ہیولے اور شکلیں نظر آتی ہیں جو حقیقت نہیں ہوتے۔ ایسی کیفیت انفرادی طور پر لاحق ہو جائے تو علاج بھی موجود ہے، مگر اجتماعی طور جیسے ہمارے ہاں اب یہ کیفیت زور پکڑ رہی ہے اس کا علاج ابھی تک شاید ہی دریافت ہوا ہو۔

کسی کو چاند پر مرشد کا چہرہ نظر آتا ہے تو کوئی چاند کے داغوں میں اپنے کسی مربی کا نام پڑھ لیتا ہے۔ کہیں بادلوں میں شبیہ نظر آتی ہے تو کہیں پتھر کی لکیروں میں کلمات مقدسہ پڑھے جاتے ہیں۔ کسی کو درخت پر لکھا نظر آتا ہے تو کسی کو جلی ہوئی روٹی پر بھی کیلیگرافی دکھائی دیتی ہے۔ جو کچھ کسی نے سوچ رکھا ہے وہ کہیں نہ کہیں ڈھونڈ لیتا ہے۔ یہی فریب نظر ہے جس کا اب پورا معاشرہ شکار ہے۔

ایک ہجوم کو ’حلوہ‘ قل ہو اللہ نظر آئے تو یہ اجتماعی فریب نظری ہے جو اب جنون کی شکل میں قومی وتیرہ بن چکی ہے۔ جانے کب آپ کے منہ سے نکلا کوئی لفظ کسی کو مقدسات کی توہین سنائی دے، جانے کب آپ کے پیر کسی مقدس نام والے ریپر پر پڑ جائے، جانے، کب آپ کسی بڑے نام کے حامل شخص کا بزنس کارڈ وصول نہ کرنے کی جسارت کریں، جانے کب آپ اپنے کلمات میں ح، خ، ق، ع، غ، ض، ظ، ث کا تلفظ ادا نہ کر پائیں اور توہین کا مرتکب ہو کر ہجوم کے رحم و کرم پر ہوں۔

گزشتہ ہوئے واقعات اور حفظ ماتقدم کا تقاضا یہی ہے کہ اپنے متوقع گناہ کا سرزد ہونے سے پہلے ہی اقرار کیا جائے اور معافی طلب کی جائے۔ ہمیشہ ایک معافی نامہ لکھ کر ساتھ جیب میں رکھا جائے کہ نہ صرف جو کچھ دوسروں نے دیکھا سنا ہے بلکہ اس کی تعبیر بھی صحیح ہے۔ ہر جگہ پولیس وقت پر پہنچے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں اس لئے ہجوم کو اپ کے ناکردہ گناہ کے بارے میں جو باریش قائل کر رہا ہے اس کے پیر پکڑ کر جان بخشی کی درخواست کریں کیونکہ پولیس نے بھی اسی سے معافی دلانی ہوتی ہے۔

واقعہ کا جھوٹا ثابت ہونے پر ایسے معافی نامہ کا بھی سرکاری طور پر بھی اجرا ہونا چاہیے جو ہر ڈپٹی کمشنر کے دفتر، تھانہ اور تحصیل میں ہمہ وقت موجود ہو کہ ’ہجوم نے جو کچھ کیا وہ سب غلط فہمی کا نتیجہ تھا‘ اس لئے کسی بھی شخص کو انفرادی یا اجتماعی طور پر ہر اسان کرنے، نقصان پہنچانے یا جان سے مارنے والوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے کیونکہ اجتماعی جنون کو عام معافی ہے۔

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan