پنڈت نہرو کا دادا کشمیری پنڈت تھا یا دہلی کا مغل کوتوال؟


دہلی کا تخت چھینا جا چکا تھا۔ لال قلعہ پہ برطانوی جھنڈا لہرا تھا۔ تحریک آزادی غدر کا نام پا چکی تھی۔ انگریزی افواج کتوں کی طرح سونگھتی مغلیہ شاہی خاندان کے افراد، ان کے بچوں، عزیز و اقارب اور ہمدردوں کو کونوں کھدروں سے بھی ڈھونڈتی سر قلم کرتی جا رہی تھیں۔ کوئی ایسا متنفس باقی نہ رہے جو کل کہاں مغلیہ سلطنت کا وارث ہونے کا دعویٰ کر سکے۔ اس عتاب کا نشانہ غیر مسلم، ہندو سکھ وغیرہ بہت کم تھے۔ اس لئے بہت سے مغل اور خطرہ سونگھتے لوگ حلیہ بدل ہندو نام رکھ روپوش ہو رہے تھے۔ خواجہ حسن نظامی کی تحاریر آج بھی ان رونگٹے کھڑے کر دینے والی داستانوں کو سنانے کو موجود ہیں۔

شاہی خاندان کے متعین کردہ اور تعلق والے دہلی کے کوتوال، آج کا انسپکٹر جنرل پولیس سمجھ لیں، غیاث الدین غازی نے بھی ہندوانہ نام رکھا اور لال قلعہ کے قریب نہر کنارے اپنے گھر میں جا بسا۔ نہر کی نسبت سے نہرو کا لاحقہ لگاتے اب وہ گنگا دھر نہرو بن چکا تھا۔ موقع پا کر آگرہ کو نکل پڑا۔ رستے میں برطانوی افواج سے واسطہ پڑا تو انہیں دہلی کے مسلمانوں سے جان کے خطرہ کی وجہ سے مسلم حلیہ اختیار کرنے کا یقین دلا کر بچ جانے میں کامیاب ہو گیا۔

اٹھارہ سو اکیس میں پیدا ہونے والا اب گنگادھر نہرو بنا، غیاث الدین غازی آگرہ ہی میں اٹھارہ سو اکسٹھ میں آنجہانی ہو گیا۔ موتی لال نہرو تین ماہ بعد پیدا ہوا اور پھر انقلابات زمانہ سے مقابلہ کرتے گھومتے گھماتے آخر یہ خاندان الٰہ آباد کے میر گنج کے اس زمانہ کے بازار حسن کے ایک مکان میں مستقل رہائش پذیر ہو گیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی پیدائش اسی مکان میں ہوئی۔ بعد میں اس مکان کے آدھے حصہ کو طوائف لالن جان کے ہاتھ بیچ دیا گیا اور یہ امام بارگاہ میں تبدیل ہو گیا۔

شاید اس کے محل وقوع کے پیش نظر ہی جواہر لال نہرو کے نام پر سینکڑوں دوسری یاد گاریں تو بنیں مگر ستتر میر گنج اس کی جائے پیدائش ہونے کی تختی لگنے یا یادگار ورثہ قرار دیے جانے سے محروم رہا۔ (اس حقیقت کا بیان وکی پیڈیا اور انٹرنیٹ کی دوسری سائٹس پر متعدد جگہ موجود ہے)۔ انتہائی محنتی قابل اور لائق موتی لال نہرو جب کامیاب وکیل بن گیا تو یہ مکان بیچ کر ایک پرانی شان دار حویلی خرید کر، اسے آنند بھون کا نام دے کر وہاں منتقل ہو گیا۔ موتی لال نہرو سیاست میں آیا تو ایک کامیاب سیاستدان بن کرکانگریس کا ایک فعال اور نامور لیڈر بنا۔ دو مرتبہ کانگرس کا صدر بنا اور اٹھارہ سو اکسٹھ میں باپ گنگا دھر نہرو کے آنجہانی ہونے کے بعد پیدا ہونے والا موتی لال آسمان سیاست پر چمکتا بالآخر انیس سو اکتیس میں بھگوان کو پیارا ہو گیا۔

نہرو خاندان کے مغل نسل سے ہونے کی یہ ہے وہ داستان جو ونشاج آنند نے اٹھارہ اگست دو ہزار گیارہ کو انٹرنیٹ پر ڈالی اور اردو میں اس موضوع پر شائع شدہ اکثر لٹریچر اسی ماخذ سی لیا گیا لگتا ہے۔ گو ماضی کے ہر ہندوستانی الیکشن میں کانگرس مخالف پارٹیاں اور امید وار اس کے کسی نہ کسی حصہ کو اچھال کر اپنا مطلب نکالتی رہی ہیں مگر یہ پہلا مکمل مقالہ اس کہانی پہ ہے اور اس کے بیانیہ کو اب بہت زیادہ نمک مرچ لگا کر اچھالا جاتا ہے۔ اسی سال متوقع الیکشن میں بھی یقینی ہے کہ کانگرس مخالف پارٹیوں کے ہاتھ یہ اور نہرو خاندان کی ذاتی زندگی کی دوسری کہانیاں مزیدار چٹنی بنیں گی۔

ونشاج آنند نے اپنے دعاوی کے ثبوت بھی پیش کیے ہیں۔ کہتا ہے کہ پوری دنیا میں اس سے قبل نہرو لاحقہ والے کسی ہندو خاندان کا سراغ نہیں ملتا۔ پنڈت نہرو کی دوسری بہن کرشنا ہتھی/ہاتھی سنگھ اپنے دادا کے بہادر شاہ ظفر کے دور میں دہلی کا کوتوال ہونے کا اعتراف تو کرتی ہیں مگر بطور ہندو۔ جب کہ ایم کے سنگھ کی کتاب انسائیکلوپیڈیا آف انڈین وار آف انڈیپینڈنس کی تیرہویں جلد میں انکشاف ہے کہ ہندوستانی حکومت نے یہ حقیقت چھپا رکھی ہے کہ پورے مغل دور کی تاریخ میں کسی ہندو کا دہلی کا کوتوال ہونے کا سراغ نہیں ملا۔

پنڈت نہرو نے بھی اپنی خود نوشت داستان حیات میں بتایا ہے کہ اس نے اپنے دادا کی تصویر دیکھی جس میں وہ ایک معزز مغل لگ رہا ہے۔ لمبی گھنی داڑھی، مسلمانوں والی ٹوپی/ پگڑی اور دو تلواریں دونوں ہاتھوں میں۔ افغانستان کے پہلے دورے پر شاید انیس سو اڑسٹھ میں، اندرا گاندھی کے سیر پر نکلنے، بابر کے مزار پر جانے کے اصرار اور وہاں سر جھکائے کھڑے رہنے کا ذکر ساتھی نٹور سنگھ نے اپنی کتاب میں وہاں ادا کردہ فقرہ ”آج میرا اپنی تاریخ سے ٹاکرا ہوا ہے“ ک صورت کیا جو بہت شہرت پا چکا ہے۔ مؤرخوں نے من گھڑت تبدیل شدہ الفاظ استعمال بتائے ہیں۔

لطف کی بات ہے پنڈت نہرو انیس سو انسٹھ کے دورے میں اور اندرا، راجیو اور راہول کے ہمراہ انیس سو چھہتر میں افغانستان گئے تو بابر کے مقبرہ پہ تو فرمائش کر کے گئے مگر بہت ہی نزدیک واقع ہندوؤں کے مہان لیڈر پرتھوی راج کی سمادھی پہ جانے کی زحمت نہیں کی۔ (کتاب ون لائف از ناٹ اینف) ۔ اندرا گاندھی کے بیٹے سنجے گاندھی کی اپنی ماں سے کبھی نہ بنی۔ اس کے متعلق بھی یہ روایتیں اکثر موجود ہیں کہ اس میں ہندوؤں کے روایتی دھیمی پن کی بجائے مغل سرداروں کا سا رعب دار مزاج نظر آتا تھا۔

مغل کوتوال کی نسل ہونے کا بیانیہ گو نہرو خاندان کے بر سر اقتدار آنے کے ساتھ ہی اشاروں کنایوں میں سامنے آتا مگر ان کے لمبے اقتدار میں محدود ذرائع ابلاغ ہوتے زیادہ نہ عام سکا۔ مگر پچھلی دہائیوں کے اس شعبہ میں انقلاب اس کے آگے بند نہ باندھا جا سکا۔ ابتدا میں تو صرف یہ جواب آتا تھا، جو پنڈت نہرو کی خود نوشت سوانح حیات ”میری کہانی“ میں درج ہے کہ نہرو خاندان کشمیری پنڈت خاندان ہے اور آبا و اجداد انیسویں صدی کے آغاز میں پیسہ اور شہرت کمانے ”سمندر کے نیچے سے“ زرخیز میدانی علاقوں میں آئے تھے۔ ( کشمیر سمندر سے ہزار میل سے زیادہ فاصلہ پہ اور سطح سمندر سے ہزار ہا فٹ کی بلندی تک پہنچا ہوا جنت نظیر علاقہ ہے ) اور یہ کہ وہ دن مغل سلطنت کے زوال کے دن تھے۔

ونشان آنند کے مقالہ کے آٹھ سال بعد چوبیس اکتوبر دو ہزار انیس میں فیکٹ چیک میں وشواس نیوز نے مسلم غازی کی نفی کرتے گنگا دھر نہرو کی اولاد کے ہندو نام لکھ کر اسے ہندو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ جب کہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر بطور ثبوت یہ معرکہ مارا کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی والدہ کی دریا میں کسی مردہ کی خاک یعنی استھی بہاتے، ہندوؤں کی مخصوص نشانی جنیو کہلاتا مخصوص دھاگہ پہنے ہوئے فوٹو موجود ہے۔ ہندو وہ غدر کے دوران ہوا اور یہ واقعہ موتی لال کی پیدائش جو باپ کی وفات کے بعد پیدا ہوا۔ تو ظاہر ہے ہندو رسومات ہی ہونا تھیں۔

وکی پیڈیا انسائیکلوپیڈیا میں گنگادھر نہرو اور نہرو فیملی کے متعلق دو ہزار سات میں اخبار گارڈین میں شائع شدہ (جو شائع کروایا گیا زیادہ لگتا ہے) میں گنگادھر نہرو کا سلسلۂ نسب دو تین پشت پہلے کشمیری برہمن راج کول سے جا جوڑا جو شاہ فرخ سیر کے دور میں اپنے علم و فضل میں شہرت کے باعث شاہ کی نظروں میں آئے اور اس کی دعوت پر دہلی آئے۔ اور راج کول نے نہر کنارے جاگیر ہونے کے باعث کول کا لاحقہ چھوڑ نہرو کا نام اختیار کر لیا۔

لطف یہ کہ پنڈت نہرو نے اوپر مذکور بیان میں شہرت اور دولت کمانا اپنے پرکھوں کی نقل وطن کا مقصد لکھا جو بعد میں علم و فضل کی شہرت بنا دیا گیا۔ اسی مضمون میں گنگا دھر کی پیدائش بجائے اٹھارہ سو اکیس کے اٹھارہ سو ستائیس کی لکھی گویا گنگا دھر پچیس سال کے لگ بھگ عمر میں کوتوال بن گیا تھا اور وہ بھی دہلی کا۔ جو یقیناً سوالیہ نشان ہے، اور غدر کی ابتدا ہی میں ملازمت چھوڑنے یا چھوٹتے وقت تیس سے بھی کم تھا۔ جھوٹ کے پاؤں تو ہوتے نہیں۔

اسی آرٹیکل میں یہ بیان ہے کہ آگرہ جاتے رستے میں چیکنگ ہونے پہ اس کے دونوں جوان بیٹوں کی انگلش بولنے کی صلاحیت انگریزوں کو خاندان کے ہندو ہونے کا باور کرانے میں کامیاب ہوئی۔ گویا اس کی تیسری یا چوتھی اولاد نند لال کی عمر پندرہ سال سے اوپر تھی۔ جو آگرہ کی طرف جاتے چیکنگ پر اپنی انگریزی بول سکنے کی صلاحیت کے باعث انگریزوں کو ہندو ہونے کا باور کرا گیا۔ اس حساب سے گنگا دھر گیارہ بارہ سال کی عمر میں باپ بن چکا تھا۔

گنگا دھر کی موت کے بعد دوسرے بیٹے نند لال نے جو ترقی کرتے جے پور کے راجواڑے کیتھری کے راجہ فتح سنگھ کا دیوان بن چکا تھا، خاندان کی کفالت سنبھالی اور موتی لال کی تعلیم کا انتظام کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں نند لال بھی چل بسا تو مشکلات کا شکار یہ خاندان الہ آباد آن بسا۔ اس طرح موتی لال کی ذمہ داری آ پڑی۔ موتی لال کے متعلق یہ امر بھی قابل توجہ ہے وہ ہند کی قدیم زبانوں کی نسبت عربی فارسی اور اردو میں زیادہ ماہر تھا۔ لطف یہ نہرو خاندان کے اخلاقی اقدار کا بانی بھی موتی لال لگتا ہے کہ پنڈت نہرو وزیر اعظم کا سیکرٹری ایم او میتھائی موتی لال نہرو کے اپنی بیوی کے علاوہ کم ازکم چار اور خواتین سے جنسی تعلقات کا دعویٰ کرتا ہے جن میں ایک مسلم طوائف اور گھر کی ملازمہ بھی شامل ہے

مختلف ادوار کی مختلف کتابوں، مضامین، بیانات اور دعاوی کا موازنہ کیا جائے تو ان میں آپس میں اتنے تضاد نظر آتے ہیں کہ نہرو خاندان کا کشمیری پنڈت ہونے کے دعوے کا کھوکھلا پن سامنے آ جاتا ہے۔ چھ اکتوبر دو ہزار بیس کو ویب سائٹ کری ایٹلی میں ان میں سے بہت دعاوی کا ذکر کرتے ان کے محض جھوٹ پہ کھڑی کی گئی دیوار ہونا ثابت کرتی ہے اور بخیہ ادھیڑ دیتی ہے تاہم اس کا مصنف بھی گنگا دھر کو معین الدین یا مبارک علی میں سے ایک بتاتا ہے جو غدر شروع ہونے کے بعد کوتوال بنے جب کہ ونشاج آنند تو غیاث الدین غازی کو غدر یا جنگ آزادی شروع ہونے کے وقت کا کوتوال بتاتا ہے۔ جو زیادہ اغلب ہے۔

ایک اور حیران کن اور ونشاج آنند کے دعویٰ میں وزن پیدا کرنے والی بات یہ ہے کہ کوئی بھی تحریر یا مقالہ یا کتاب ونشاج آنند کے اس خاصے طویل مقالہ، جو غیاث الدین غازی سے شروع ہو کر اندرا گاندھی کے پوتوں تک جاتا ہے، کے دعاوی کو مدلل یا غیر مدلل طور غلط ثابت کرنے یا کہنے والا نظر نہیں پڑا۔ گو ہر کہانی میں ایک دوسرے کی خود نفی کرتے بیانیے نظر آتے ہیں۔

نہرو خاندان نے جو بھی بیانیہ بنایا ہو وہ اس وقت دھڑام سے گر جاتا ہے جب ہم پنڈت جواہر لال نہرو کی بیوی کملا نہرو کی جیون کہانی کھولتے ہیں۔ جی۔ کملا نہرو کا اصل نام کملا کول تھا اور اس کے باپ کا نام جواہر مل اٹل کول تھا۔ اور اس کے آبا و اجداد کشمیر میں اپنے علم و فضل میں یکتا اور مشہور ہوتے مغل شاہ فرخ سیر کے بلاوے پر دہلی آئے تھے۔ اور ان آبا و اجداد کے نام بھی ایک ویب سائٹ پہ ہیں نہرو خاندان کے بیان کردہ سے مختلف اور ثقہ اور درست لگتے ہیں۔

گویا نہرو خاندان نے وجے لکشمی پنڈت اور سید حسین کے تعلقات سے جعلی بیانیے کے جو ڈرامے شروع کیے تھے وہ فیروز خان کے فیروز گاندھی بنانے کے لئے گھاندی یا گھانچی کو گاندھی بناتے اپنے آپ کو گنگا دھر نہرو بنے مغل کوتوال غیاث الدین غازی کو پہلے تجارت اور شہرت کے حصول کی خاطر کشمیر سے اترے کشمیری پنڈت بناتے کملا نہرو کے کول خاندان کی کہانی پہ قبضہ کرتے علم و فضل میں مشہور کول خاندان میں تبدیل کر چکے۔ مگر مغل سردار دہلی کا کوتوال غیاث الدین غازی اس خاندان کا جد امجد کے طور زیادہ قابل تسلیم ہے اور اس امر کو تسلیم کر لینا نہرو خاندان کے لئے زیادہ باعث تکریم کہ ایک معزز مغل سردار اسلام چھوڑ ہندو مذہب اختیار کر گیا تھا۔

Facebook Comments HS