نعیم بخاری سے طاہرہ کاظمی اور پھر نعیم بخاری


ننگے پاؤں (9)

قرض داری بشرط استواری
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
تجھ سے کچھ ملتے ہی وہ بے باک ہو جانا مرا
اور ترا دانتوں میں وہ انگلی دبانا یاد ہے

غلام علی نے اس غزل کو کیا گایا کہ اس کلاسیک شاعری کو عوام کے دلوں میں امر بنا دیا۔ اس غزل میں حسرت موہانی نے محبت کی بیتابیوں کا کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا بلکہ انہیں جذبات کی ایسی باریکیوں کے ساتھ بیان کیا ہے کہ انہیں مولانا لکھتے ہوئے قلم کے پر جلتے ہیں۔ اور غلام علی نے اس کو سروں کی وہ رونق عطا کی ہے کہ یہ غزل ان کے ساتھ منسلک ہو گئی۔ اس نے اس غزل کے ساتھ وہ حسن سلوک کیا ہے جو مہدی حسن نے سلیم کوثر کی اس غزل کے ساتھ کیا

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

غلام علی کی آواز سے میری پہلی شناسائی پاکستان آرٹس کونسل لاہور میں ہونے والی محفل موسیقی میں ہوئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب آرٹس کونسل کے ہال میں دو سو کے قریب تماشائی سمایا کرتے اور وہاں انتہائی تخلیقی اور نفیس ڈرامے اسٹیج کیے جاتے۔ یہ محفل ہال میں نہیں تھی۔ اور اس بزم میں اس وقت کے معروف فلمی پلے بیک گلوکار سلیم رضا بھی مدعو تھے جن کے دامن سے ان گنت دلنشیں گانوں کی خوشبو لپٹی ہوئی تھی۔

جان بہاراں رشک چمن
غنچہ دہن سیمیں بدن اے جان من
جان بہاراں

کس نے نہیں سنا تھا۔ حفظ مراتب میں پہلے غلام علی کو بلا لیا گیا۔ انہوں نے اپنی نوجوانی کی آواز کا جادو جگایا اور لوگوں پر وہ سحر پھونکا کہ میری آنکھ نے وہ منظر دیکھا جو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ جب سلیم رضا کی باری آئی تو لوگوں نے انہیں سننے سے انکار کر دیا۔

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
اس غزل کی گائیکی میں لہر کا لفظ گاتے ہوئے انہوں نے اتنے لہریئے ڈالے ہیں کہ سننے والے لہرا جائیں

وہ ایک بہت دوست دار انسان ہیں اور میں ان کا قرض دار ہوں۔ انہیں تو شاید یاد بھی نہیں ہو گا۔ میں نے اپنی ایک دوست کو اسلام آباد ہوائی جہاز سے چھوڑنے جانا تھا اور میرے پاس موجود رقم ٹکٹ کی قیمت سے کچھ کم تھی جو غلام علی نے پوری کر دی۔ یہ قرض میں نے جان بوجھ کر نہیں چکایا کہ ان کے میرے درمیان ایک رشتہ ہے ایک سریلا بندھن ہے۔ ان کے ساتھ سریلا بندھن تو یوں بھی ہے کہ اس نے میری ایک غزل ایک بزم میں اسی لمحے کمپوز کر کے گا دی۔

اس کے ساتھ ایک بندھن اور بھی اور وہ ایک ان جانی محبت سے بندھا ہے۔
وہ جب حسرت موہانی کا یہ شعر گاتے ہیں
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لئے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے

تو مجھے وہ انجانی یاد آ جاتی ہے جن کے گھر کی چھت میرے گھر کی چھت کے سامنے تھی اور وہ گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں چھت پر میرے کالج سے لوٹنے کا انتظار کیا کرتی تھی۔ اور اگر کبھی میں جلدی آ جاتا تو ننگے پاؤں بھاگ کر چھت پر آ جاتی۔ بس مجھے دیکھتی رہتی اور کچھ نہ کہتی۔ قرض دار تو میں اس کا بھی ہوں کہ میں اس کی محبت کا جواب نہ دے سکا کیوں کہ میں تو اس کی محبت میں گم تھا جو اس عمارت میں آ کر بسی جہاں میرے بچپن میں ایک گراموفون والی خالہ رہتی تھی اور جس کے گراموفون ریکارڈ سے بیگم اختر کی آواز ہمارے کچے گھر کی دیوار کو پار کر کے مجھے اپنی طرف بلاتی تھی

جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

اس کی شادی ہوئی تو پوری گلی سے فقط میں ہی مدعو تھا۔ اور جب میں ایک چھوٹا سا تحفہ اس کی نذر کرنے گیا اور اسے خبر ہوئی تو وہ آدھے میک اپ میں ہی کمرے سے صحن میں نکل آئی اور تحفہ قبول کیا۔ پھر یہیں پر تو بس نہیں اس نے مجھے ولیمے پر آنے کی دعوت دی۔ ان دنوں شادی ہال نہیں تھے اور ہزاروں مہمان بھی کہاں آتے تھے۔ میں اس کے گھر، ایک مختصر تقریب میں پہنچا تو اسے اپنا منتظر پایا۔ اس کی آنکھوں میں یہی کیفیت تھی

میں وہی ہوں مومن مبتلا
اس کا قرض تو چکایا ہی نہیں جا سکتا۔ چاہوں بھی تو نہیں چکا سکتا
”زیر زمین“ اور ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
قرض دار تو میں ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا بھی ہوں۔

میرے عمر بھر کے دوست، شاعر اور پی ٹی وی پروڈیوسر شوکت زین العابدین نے انہیں اپنے پروگرام جہاں نما میں شرکت کے لئے بلایا جس کی میزبانی نعیم بخاری اردو، پنجابی اور انگریزی کے امتزاج سے کیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے ان سے کہا کہ مجھے پی ٹی وی پر کچھ اور کام بھی کرنا ہے تو انہوں نے انہیں میرے پاس بھیج دیا۔ میں ان دنوں موسیقی کا ایک پروگرام بساط نغمہ پروڈیوس کیا کر تا تھا جس کے موسیقار خلیل احمد تھے۔ وہ ان دنوں فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں آخری برس کی طالبہ تھیں۔ میں نے ان کا آڈیشن کیا اور وہ اس پروگرام کی میزبان ہو گئیں۔

ادب سے انہیں ابتدا ہی سے لگاؤ رہا ہو گا کہ جب بھی آتیں شعر و ادب پہ ضرور بات ہوتی۔ ان دنوں میری شاعری کا دوسرا مجموعہ زیر زمین پی ٹی وی کے خطاط سلام شاد کے پاس زیر کتابت تھا۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی سے بارہا اس کتاب کا ذکر ہوا مگر جب اس کی اشاعت میں دیر ہی ہوتی چلی گئی تو انہوں نے تاخیر کا سبب پوچھ لیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ کتابت کا معاوضہ ادا کرنا باقی ہے۔ خاموش سی ہوئیں اور اٹھ کر چلی گئیں۔ آئندہ دن آئیں اور پانچ ہزار روپے میری میز پر رکھ دیے جو میں نے اسی وقت سلام شاد کی نذر کیے اور کتابت حاصل کر لی۔ وہ میں نے آج تک واپس نہیں کیے اور اگر کر بھی دوں تو کیا اس خلوص کا قرض ادا ہو جائے گا جو اس عمل میں کار فرما رہا۔ کتاب کے آخر میں ان کا شکریہ بھی ادا کیا مگر اس سے بھی کیا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے ایک اور نیا کام کیا انہوں نے مجھے پزا سے متعارف کرایا، گھر کے کھانوں کا عادی پزا کے نام سے بھی واقف نہیں تھا۔ شاید ان کی سالگرہ تھی، جیل روڈ پر لینڈ مارک پلازا کے پہلو میں وہ پزا شاپ تھی جہاں ان دنوں پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی دفتر ہے۔

انہیں اپنی عزت نفس کا ہمیشہ بہت خیال رہتا۔ ایک دن پی ٹی وی کی کوریڈور میں انہیں طارق عزیز مل گئے اور انہوں نے ازراہ تفنن پوچھ لیا

” بھئی آپ نے ہمیں سلام نہیں کیا؟“
تو فوراً ”جواب دیا“ آپ نے بھی تو نہیں کیا
انہوں نے مجھے اپنی شادی میں بھی مدعو کیا اور میں نے اپنی بیوی نادرہ کے ساتھ شرکت کی
پھر وہ زندگی کے میلے اور جھمیلے میں کھو گئیں
کوئی دس برس بعد ان کا فون آیا
” میں بھلا کون بول رہی ہوں؟“
میں بالکل نہیں پہچان پایا اور یونہی کوئی نام لے دیا
سخت ناراض ہوئیں کہ ہاں بہت سی لڑکیاں ہیں آپ کی زندگی میں کہاں یاد رہتا ہے، طاہرہ کاظمی بول رہی ہوں
”حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑنا“ اس محاورے کا مطلب پہلی بار سمجھ میں آیا۔ انہوں نے بات جاری رکھی

” وہ جو آپ نے میری تصویر اتار کر مجھے تحفتاً دی تھی وہ میں نے کمرے میں لگا رکھی ہے۔ میرے بچوں نے کہا“ ماما تصویر اتارنے والے کا حال احوال تو پوچھیں، اس لئے فون کیا ہے اور اس لئے بھی کیا ہے کہ میں اپنے پانچ ہزار روپے مع سود وصول کروں گی۔ ”ہم دونوں ہنسنے لگے۔

کچھ عرصہ رابطہ رہا اور وہ پھر کھو گئیں اور کوئی دس سال کے بعد ”ہم سب“ کے صفحات پر مل گئیں۔ ان کا کالم کسی نے میری فیس بک وال پر شیئر کر دیا۔ کیا اچھا کالم تھا۔ پھر میں نے ان کے اور کالم بھی پڑھے اور لکھا

Welcome to the tribe of writers

اور پھر میں نے انہیں ان کی کتاب ”عورت بھی خواب دیکھتی ہے“ کی تقریب میں ڈھونڈ لیا۔ انہوں نے مجھے اپنی ساری کتابیں دیں۔ جوں جوں میں وہ کتابیں پڑھتا گیا ان کے طرز تحریر کا قائل ہوتا گیا۔ جس طرح وہ اپنی طب میں ادب کا تڑکا لگاتی ہیں وہ کچھ انہی کا حصہ ہے۔ فیمی نزم کے حوالے سے کچھ لوگوں کو ان کے طرز تحریر کی جرات کھٹکتی ہے مگر کینسر کا علاج تھروٹ پینٹ سے تو نہیں کیا جاسکتا۔

نعیم بخاری کا ذکر ہوا تو ایک معطر واقعہ کا ذکر بھی ہو جائے۔ ایک دن مجھے ان کے لاہور آفس سے فون آیا کہ آفس تشریف لائیں نعیم بخاری صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ملاقات تو پی ٹی وی میں ہو سکتی تھی آفس میں کیوں؟ بہر طور ایک سسپنس کے عالم میں، میں ان کے آفس پہنچا تو وہ میرے منتظر تھے۔ تمہیدی کلمات کے بعد انہوں نے اپنی میز کی دراز کھولی اور پرفیوم کی خوبصورت بوتل میز پر رکھ دی۔ کہنے لگے

” میں پچھلے دنوں فرانس گیا تھا، وہاں مجھے آپ کے ایک دوست ملے اور انہوں نے آپ کے لئے یہ فرانسیسی پرفیوم بھیجا ہے۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میں ان کا نام بھول گیا ہوں“

میرا دل معطر ہو گیا لیکن اگر میرے دوست کا نام نعیم بخاری کو یاد ہوتا تو میں شکریہ کا قرٖض ادا کر دیتا۔ مگر یہ قرض تو شاید عمر بھر کا قرض ہے۔ (جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments