شکریہ اسٹیبلشمنٹ آپ کا بہت شکریہ۔


پاکستان کے متنازعہ ترین بلکہ ملکی انتخابی تاریخ پہ بدنما داغ کی مانند منعقد انتخابات گزر گئے، حکومتوں کی تشکیل مکمل ہونے کے مراحل میں ہے، مگر جو بات بلکہ ہولناک بات اب تک دور دور تک نظر نہیں آ رہی وہ ہے ملک میں سیاسی، معاشی استحکام، امن اور سلامتی جو ان انتخابات کے نتیجے میں متوقع تھی۔ پاکستان کی قوم پر امید تھی کہ انتخابات کے نتیجے میں ملک میں سیاسی استحکام آئے، معاشی بدحالی، معاشرتی افراتفری کے خاتمے کے اسباب پیدا ہوں گے، مگر غیر دانشمندانہ سیاسی فیصلوں اور سیاسی معاملات میں اداروں کی غیر ضروری و غیر آئینی مداخلت نے استحکام وطن کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے سے پہلے ہی ریزہ ریزہ کر دیا۔

آٹھ فروری کے انتخابات اپنے انعقاد سے پہلے ہی متنازعہ بن چکے تھے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں ماسوائے مسلم لیگ نون انتخابات پہ اپنے شدید تحفظات کا اظہار کر رہی تھیں۔ پیپلز پارٹی لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے پہ سراپا احتجاج تھی تو وہیں ملک کی ایک اور بڑی عوامی جماعت تحریک انصاف اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں پہ اداروں کو مورد الزام ٹھہرا رہی تھی جو کہ کسی حد تک ایک انتہائی تلخ حقیقت بھی تھی۔

تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو لے کر جس طرح بھونڈے انداز میں ان سے پہلے انتخابی نشان چھینا گیا اور پھر تحریک انصاف کو بحیثیت سیاسی جماعت انتخابات سے ہی باہر کر دیا گیا، اس سے شکوک و شبہات حقیقت کا روپ دھار گئے کہ کسی ایک کو تو فائدہ پہنچانے کا قصد کیا جا رہا ہے بالکل اسی طرح جیسے 2018 کے انتخابات میں عمران خان کے لیے سیاسی ماحول بنایا گیا۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک کے حقیقی عوامی جمہوریہ بننے کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے اور اس پہ مہر اس وقت ثبت ہوئی جب 1971 میں سیاسی معاملات سیاسی قیادت کو حل کرنے نہ دیے گئے ان کے مذاکرات میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور نتیجہ ملک کے دولخت ہونے پہ منتج ہوا۔ اسی طرح 1977 کے انتخابات میں متنازعہ امور پہ اس وقت شہید ذوالفقار علی بھٹو اور پی این اے کی قیادت میں معاہدہ طے پا چکا تھا، تو ضیاء الحق نے منتخب عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر منتخب و مقبول عوامی لیڈر شہید بھٹو کو گرفتار کر کے اور پھر ان کا عدالتی قتل کروا کر پاکستان کو ایک بار پھر جمہوریت کی پٹری سے اتار دیا جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں جس کے منحوس اثرات سے چار دہائیوں کے بعد بھی پاکستانی سیاست اور معاشرہ نہیں نکل سکا۔

اسٹیبلشمنٹ ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد بھی اپنا وتیرہ تبدیل کرنے کو تیار نہ ہوئی اور 1988 کے انتخابات میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ملنے والی دو تہائی اکثریت آئی جے آئی بنوا کر سادہ اکثریت سے بھی کم میں بدل دی گئی اور اس طرح جمہور پہ اسٹیبلشمنٹ کے اس کاری ضرب کا سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ 2002 کے انتخابات جو اس وقت کے آمر اور سنگین غداری کے الزامات کے تحت سزائے موت کے مجرم پرویز مشرف کی زیرنگرانی منعقد ہوئے پیپلز پارٹی ایک بار پھر ملک کی اکثریتی جماعت بن کر کامیاب ہوئی اور پھر چشم فلک نے دیکھا کس طرح راتوں رات پیٹریاٹ بنا کر اکثریت کو توڑا گیا اور جبراً ایک اقلیتی حکومت ملک پہ مسلط کی گئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔

پاکستان میں آزادی سے لے کر آج تک جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان آئین و پارلیمان کی بالادستی، اداروں کا اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اختیارات کے استعمال کی جو جنگ جاری ہے اس جنگ نے ان انتخابات کے بعد شدت اختیار کرلی ہے۔

تحریک انصاف جو اداروں کی سرپرستی میں ان ہی کے کندھے استعمال کر کے مسند اقتدار ہوئی آج وہی تحریک انصاف بڑی شدت سے ان طاقتور اداروں سے اپنی آئینی حدود میں رہنے کی جنگ میں پیش پیش ہے۔ نئے انتخابات نے جہاں ایک نہ تھمنے والے انتشار افراتفری کو جنم دیا ہے وہیں ان انتخابات نے پاکستان میں معاشی و سیاسی ابتری اور بے یقینی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس سیاسی تاپمان کو معمول پر لانے کے لیے سیاسی قیادت کو بھی دانشمندی اور معاملہ فہمی سے کام لینا چاہیے، انہیں باوجود بدترین انتخابی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں فہم و فراست سے کام لینا پڑے گا۔

مگر بدقسمتی سے اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں اور حکومتوں کے قیام کے عمل سے خصوصاً قومی اسمبلی، پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی اسمبلیوں میں جس طرح تحریک انصاف کے حامی یافتہ ارکان اسمبلی اور کارکنان کا رویہ غیر مہذبانہ اور جمہوریت دشمن رہا ہے وہ قابل افسوس و مذمت ہے۔ یقیناً انتخابی نتائج متنازعہ ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جسے عوام کی ایک بھاری اکثریت نے ووٹ دیا ہو وہ اس ووٹ اور قوم کے اپنے اوپر اعتماد کی اس طرح توہین کرے۔ تحریک انصاف کی حمایت کرنے اور انہیں ووٹ دینے والوں کو بھی چاہیے کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی بھی وضاحت مانگے کہ کیوں ایک غیر ملکی ادارے کو ہمارے ذاتی معاملات میں مداخلت کی درخواست کی ہے جس کا انہیں اختیار ہی نہیں ہے۔

ملکی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اب یہ طے کرنا پڑے گا کہ انہیں ملک میں سیاسی، معاشی استحکام، دہشتگردی کا خاتمہ، مہنگائی، بیروزگاری، انتشار و افراتفری کا خاتمہ چاہیے یا اسی طرح سیاسی معاملات میں مداخلت کر کے ملک کو غیرمستحکم کرنے اور ملک میں سیاسی اور معاشی ابتری پیدا کرنی ہے۔ کیا ہوتا اگر عوامی ووٹ کو عزت دیتے ہوئے ان کے فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کیا جاتا۔ مرکز سمیت پنجاب اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کو ملے عوامی مینڈیٹ کے مطابق حکومتوں کی تشکیل کا اختیار دیا جاتا، کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا بلکہ اس طرح عمران خان کو، ان کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو ایکسپوز کرنے کا ایک اور موقع ملتا، کیونکہ پاکستان کے زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ اقتدار پھولوں کی نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہو گا۔

ووٹ دینے والوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو جاتا کہ جس شخص کو مسیحا سمجھ کر ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کا دوسرا موقع دیا ہے وہ ایک خودغرض، خود پسند اور ذاتی مفادات کا پجاری ہے، اسے نہ تو عوام نہ ملک اور اس کے چاہنے والوں سے کوئی غرض ہے یہ ساری افراتفری، نفرت و انتشار صرف اپنے ذاتی اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لیے تھا۔

کل محمود اچکزئی نے قومی اسمبلی میں بڑی گہری اور خوبصورت بات کہی کہ ”جو بکے وہ وفادار، جو خریدے وہ وفادار اور جو بکنے سے انکار کردے وہ غدار، تف ہے ایسی وفاداری پہ“

ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی اب وفاداری اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند کر کے عوام کو فیصلہ کرنے کا اختیار دینا چاہیے کہ وہ اپنے اوپر کس کو حق حکمرانی دیتے ہیں۔ یہ بہترین موقع تھا پاکستان کی سیاست میں گالم گلوچ، سیاسی عدم برداشت، معاشرتی بے راہ روی کے موجد کے سیاسی خاتمے کا جو اسٹیبلشمنٹ نے انتخابات میں اپنی بے جا اور بھونڈی مداخلت سے گنوا دیا اور ایک سیاسی ناسور کو مزید عوامی طاقت و مقبولیت عطا کردی۔ شکریہ اسٹیبلشمنٹ بہت شکریہ۔

Facebook Comments HS