ارشاد حقانی سے ارشاد بھٹی تک
یوں تو ہمارے جیسے ہر ڈھلتی عمر کے شخص کو لگتا ہے کہ ”ہمارا زمانہ اچھا تھا“ اور ہمارے ہاں تو قومی شعراء کے ذریعے باقاعدہ ماضی پرست بنانے کا کام تسلی بخش کیا جاتا ہے۔ اس سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ بعض شعبوں میں واقعی ایسے ہیں جن میں نے ترقی کی بجائے تنزلی کا سفر بہت تیزی سے کیا ہے۔ چونکہ تمام شعبوں پہ بات کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں لہذا آج ہم صرف صحافت تک محدود رہتے ہیں۔ اور چلتے ہیں اپنے بچپن کے دور میں جب ذرائع ابلاغ بہت محدود تھے۔
کوئی چار پانچ قومی سطح کے اخبارات ہوا کرتے تھے۔ ٹیلی ویژن پہ خبرنامہ اور کچھ ٹاک شوز ہوتے جو رات دیر گئے نشر کیے جاتے۔ ان دنوں جو لوگ صحافت سے وابستہ ہوتے انہیں بڑے نستعلیق قسم کے افراد سمجھا جاتا۔ اس صحافیوں میں نوے فیصد شاعر ہوتے یا شاعری کا گہرا شغف رکھتے۔ شورش کاشمیری شاعر صحافی اور مدیر ہوتے، رئیس امروہی جیسے لوگ اخبارات سے وابستہ ہوتے، فیض صاحب بھی ایڈیٹر رہے غرض ایسے سینکڑوں نام ہیں جن کی نثر شعر سے بڑھ کر مزہ دیتی۔
زبان پہ ان کی گرفت بہت مضبوط ہوتی، اختلاف و اتفاق اس خوبصورت پیرائے میں ہوتا کہ کسی تعصب کی بو تک نہ آتی، رمز و کنائے میں لکھی ہوئی تحریر روزنامچے کی بجائے ایک ادبی تخلیق لگتی۔ ہمیں اساتذہ اہتمام سے یہ نصیحت کرتے کہ اپنا املاء درست کرنا ہے تو اخبار پڑھا کرو۔ سی ایس ایس کرنا ہے تو سارے انگریزی اور اردو اخبار پڑھو۔ اپنی زبان اور محاورے کو درست کرنا ہے تو اخبار میں لکھے کالم پڑھا کرو۔ ان دنوں ایک نام ”ارشاد حقانی“ صاحب کا بھی ہوا کرتا تھا جو روزنامہ جنگ کے لیے لکھتے تھے۔ ان کے کالموں میں ایسی آئینی اور قانونی موشگافیاں ہوتی کہ ہمیں کالم پڑھ کر کچھ سمجھ نہ آتا کہ کیا لکھا ہے۔ البتہ بطور سٹیٹس سمبل ہم بتاتے کہ میں ارشاد حقانی صاحب کے کالم پڑھتا ہوں!
ان دنوں صحافتی ضابطہ اخلاق ایسا سخت ہوتا کہ بقول رضی دادا ”ہمارے دور میں صحافی کی خبر اس کی اولاد کی طرح ہوتی تھی اور خبر کا غلط ثابت ہونا اتنا ہی شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا تھا جتنا کسی کی اولاد کا ڈی این اے ٹیسٹ غلط نکل آنا“ یوں جس طرح آپ اپنی اولاد ”ذرائع“ کے سہارے نہیں چھوڑ سکتے ویسے ہی آپ کو اپنی دی ہوئی خبر کی بھی ذمہ داری لینی چاہیے ! اس پس منظر میں ملک کے پانچ بڑے اخباروں میں کالم نگار ہونا تو دور کی بات کسی حادثے کا شکار ہونے پر ان اخبارات میں کسی کا نام آ جاتا تو لوگ وہ اخبار سنبھال سنبھال کر رکھتے۔
”اخبار میں بس نام مرا چھاپ دیجئے“ کے مصداق بعض مرحومین کے ورثاء وہ اخبار بھی ہر تعزیت کرنے والے کو دکھاتے جس میں مرحوم کے کسی حادثے میں چل بسنے کی تین سطری خبر لگتی! اس دور میں کسی کا صحافی ہونا کالم نگار ہونا یا سیاسی تجزیہ کار ہونا اس بات کی دلیل سمجھا جاتا تھا کہ یہ شخص تعلیم یافتہ ہو گا، ادبی ذوق رکھتا ہو گا، زبان و بیان پہ اس کی گرفت لاجواب ہوگی، تلفظ باکمال ہو گا اور یہ شخص کڑے تربیتی مراحل سے گزر کر اس قابل ہوا ہے کہ اب اس کے نام سے اخبار میں کوئی بات چھپ رہی ہے۔
ٹیلی وژن پہ معیار اس سے بھی کئی ہاتھ آگے۔ ضیا محی الدین جیسے لوگ، زیڈ اے بخاری جیسے زعما ایک ایک لفظ پہ رد و قدح کرنے والے۔ پھر طارق عزیز شو جیسے انٹرٹینمنٹ کے شوز ہوتے ان سب کی زبان، تلفظ، لہجہ، ادائیگی سمیت ایک ایک بات سے ریاضت ٹپکتی دکھائی دیتی! پھر زمانے نے کروٹ لی اور دنیا میں سیٹلائٹ ٹی وی کا آغاز ہوا اور پرائیویٹ چینلز کھلنے شروع ہوئے۔ ڈیجیٹل سکرین پہ فلیش ہوتی خبر ایک دم سے ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
انڈین ڈراموں والے بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ چیختی، چلاتی اور تڑتڑاتی بریکنگ نیوز نے سنسنی کا طوفان اٹھایا۔ یوں ناظرین گھنٹوں سکرین سے چپکے بیٹھے رہتے۔ شروع شروع میں یہاں بھی اچھے اور باقاعدہ صحافی رکھے گئے جو کسی نہ کسی طرح پرنٹ میڈیا سے منسلک تھے۔ لہذا ان کے زیر بحث موضوعات حیران کن اور تعمیری ہوا کرتے یہ ان موضوعات کو زیر بحث لانے لگے جو کبھی شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے! ان چینلز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، مہنگے اشتہارات، دوسری کمائی اور تعلقات کے باعث یہ شعبہ ان کاروباری لوگوں کے لیے بھی پرکشش بن گیا جو ہر اوپر جاتی مارکیٹ میں انویسٹ کر کے منافع کمانے کا ہنر جانتے ہیں۔
یوں ہاؤسنگ سوسائٹوں مالک اور بزنس ٹائیکونز نے اپنے چینل کھولنے شروع کر دیے اور ”پیسے پھینک تماش دیکھ“ کا گھناؤنا کھیل شروع ہوا۔ اب اس میدان میں صحافیوں کی طلب بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور رسد بہت کم! سو منڈی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کچے پکے، ہاف بوائل، کھٹے میٹھے ماس کمیونیکشن کے طلباء اور طالبات کو بھرتی کر لیا گیا۔ اور ایک نیا پیشہ متعارف ہوا جسے تہذیب کی زبان میں ”اینکر“ کہا گیا۔
تلفظ، زبان اور ادائیگی کی جگہ تند و تیز جملوں، کاٹ دار لفظوں، مسالے دار گفتگو نے لے لی۔ معیار یہ اپنایا گیا کہ جتنی سنسنی پھیلائی جائے اتنی ہی کامیابی، انداز و اطوار یہ کہ بات کرتے ہوئے اینکر یا ”اینکرہ“ کی زبان اور آنکھیں پوری باہر ہوں، حلق بلکہ انتڑیاں تک دکھائی دیں۔ ٹاک شوز کے نام پہ مرغوں کی لڑائی کروانا مرغوب کھیل بن گیا۔ ہر روز شام آٹھ سے رات دس بجے تک لوگ سکرینوں سے چپک جاتے کہ آج شام روم کے اکھاڑے کی طرح کون کون سا پہلوان اتارا جائے گا۔ اور کیسے وہ مخالف کی آنکھیں نوچ لے گا، کلیجہ باہر نکالے گا۔
سو پبلک ڈیمانڈ اور منڈی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے بھی ایسے ”پہلوان“ متعارف کروانے شروع کیے جو مخالف پہلوانوں کو پچھاڑ سکے، ان کو منہ توڑ جواب دے سکیں، الزام کے جواب میں دس گنا بڑا الزام لگا سکے! دھمی لہجے اور دلیل سے بات کرنے والوں کو بے وقوف اور کمزور سمجھ کے پردے ہٹا دیا گیا! اور جماعتوں باہر سے ممالک سے نوکری حاصل کرنے والے بھی بلا لیے!
یہاں اینکر اور اینکرہ ایمپائر بن جاتا اور اپنی نگرانی میں دنگل کرواتا ہے اور ایمپائر اسے ہی فاتح قرار دیتا بلکہ فاتح بنانے میں پورا حصہ ڈالتا جسے جتوانے کا حکم اکھاڑے کے مالک نے دیا ہوتا! یوں ہر اینکر اور ہر اکھاڑا کے میچ سے پہلے ہی ناظرین کو پتا ہوتا کہ یہ دنگل کون جیتے گا! ہر اکھاڑے کا مالک اپنی مرضی کے پہلوان کو جتوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے لگا بے سروپا الزامات، بے تکی تنقید، بنا ثبوت کے کردار کشی، ارب کا ہندسہ بہت چھوٹا دکھائی دینے لگا انڈین ڈراموں کی طرح پانچ سو کھرب دس ہزار ارب جیسے ہندسے زبان زد عام ہوئے۔
ان اکھاڑوں نے ناظرین کے منہ کو ایسا خون لگایا کہ وہ میڈیا ہاؤس/خبری اکھاڑے جو کبھی حکومت سے ڈرتے تھے پھر حکومتیں ان سے ڈرنے لگیں سو وہ اینکر جو پچیس تیس ہزار کی نوکری کرتے اور سی ڈی 70 چلایا کرتے تھے وہ پچاس پچاس لاکھ تنخواہ لینے لگے مرسیڈیز تک پہنچ گئے۔ ! سو اچھے خاصے معقول صحافی نے جب اپنے اردگرد لوگوں کو راتوں رات کروڑ پتی بنتے دیکھا تو انہوں نے بھی اپنی زندگی کے سارے پاپ دھونے کے لیے بہتی گنگا میں اشنان کر کے ہی دم لیا (سوائے چند ناموں کے ) ۔ یوں انفارمیشن کے نام پہ ایسا سیل رواں آیا جس کے تحت نہ خبر کی تصدیق کی ضرورت رہی نہ ملزمان کا موقف لینے کی!
اس سیل بے کراں کی طاقت کو بھانپ کر ”اسی ساحر بے نشاں“ نے بھی اپنے لیے جگہ بنائی۔ اپنے ادارے میں بلا کر انٹرن شپ کے نام پہ نابغے بھرتی کیے۔ جن کو بھرتی کرتے ہوئے یہ خاص خیال رکھا گیا کہ ان کی روایتی اور پیشہ وارانہ تعلیم واجبی سے بھی کم ہو۔ جو خود سے حقائق کو پرکھنے کی صلاحیت رکھنے نہ ہو ضرورت محسوس کرتے ہوں۔ جن کو جو رٹایا جائے وہ طوطے کی طرح سکرین پہ بول دیں۔ یوں عمران ریاضوں اور ارشاد بھٹیوں کی کھیپ تیار کی گئی جن کو بطور دانشور اور تجزیہ کار پیش کیا گیا۔ جو منہ سے دس الفاظ نکالیں تو ساڑھے نو کا تلفظ کا غلط ہوتا ہے۔ جو سکرین پہ بیٹھ کے گالی نکالنا، پھبتیاں کسنا اور ہر طرح کی الزام تراشی کو اپنا طرہ امتیاز سمجھتے ہیں۔ جو سب کے سامنے لکھا لکھایا سکرپٹ پڑھتے ذرا نہ شرماتے!
اگر کبھی پیمرا نے باز پرس کی تو پھر ان نابغوں نے جھوٹ ٹیوب چینلز کے ذریعے ہر طرح کا پروپیگنڈا کیا جھوٹ، کھٹے میٹھے تھمب نیل کے ذریعے پوری قوم کو جھوٹ سننے جھوٹ پسند کرنے اور اس میں زندگی گزارنے کے نشے پہ لگا دیا!
سو ہماری صحافت کا سفر ارشاد حقانی جیسے نابغہ روزگار صحافیوں سے ہوتا ہوا ارشاد بھٹی جیسے چغد پہ آ کر رک گیا۔ اب یہاں سے آگے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ خبر کی تصدیق مانگیں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ صحافی اپنا سورس نہیں بتاتے۔ ! قانونی چارہ جوئی کریں تو ”آزادی اظہار رائے“ پہ قدغن قرار دے کر سڑکوں پہ نکل آؤ۔ اللہ اللہ خیر صلا


