نفاذ اردو، کیا کیوں اور کیسے


دنیا کے کسی بھی ملک میں جب کسی بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اس سے جڑے تمام رشتے، اس کی پیدائش سے متعلق تمام احساسات اور معاملات کم و بیش ایک ہی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اس بچے کی قوت گویائی کے وقت اس کے والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ سب سے پہلے امی یا ابو کہنا سیکھے اور یہاں یہ فرق واضح ہوتا ہے کہ عموماً ہر ملک کے لوگ اپنے بچے کو اپنی زبان میں ماں یا باپ کہنا سکھاتے ہیں مگر آج کے ترقی یافتہ دور میں اگر ہم پاکستان میں اس معاملے پہ نظر ثانی کریں تو تمام والدین بچوں کو ”ماما یا پاپا“ کہنا سکھاتے ملیں گے۔ ہمارے ملک میں امی عموماً نانی تک محدود ہو گیا ہے اور ابو نانا تک۔ کہنے کو یہ ایک نہایت معمولی عنصر ہے مگر یہ چھوٹا سا معاملہ ہمارے معاشرے میں پھیلتے ایک طاعون کے آثار میں سے ایک ہے۔

جب برصغیر پر انگریزوں نے قبضہ کیا تو انھوں نے غلامی کی زنجیر برصغیر کے لوگوں کے پاؤں میں ڈالنے کی بجائے ان کی زبانوں میں ڈالی اور آج، آزادی حاصل کر لینے کے کئی سالوں بعد بھی پاکستان کے عوام اپنی زبان میں پڑی وہ زنجیر نکال نہیں پائے کیونکہ وہ اپنے پیر آزاد کرنے میں مشغول تھے۔ آج ہمارے ملک میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا پہلا لفظ اردو نہیں بلکہ انگریزی زبان کا لفظ ہوتا ہے اور سد افسوس کہ ہم ان الفاظ کے پر مسرت نعرے ہر ہر گھر میں با آواز بلند لگاتے پھرتے ہیں۔

اردو پاکستان کی قومی زبان ہے مگر محض آئین کی حد تک۔ اردو کے نفاذ سے کیا مراد ہے، یہ کوئی نہیں جانتا ہے اور نہ ہی شاید جاننے کا ذوق رکھتا ہے۔ قومی زبان کا مقصد کیا ہے جب اس زبان کا نفاذ نہ تو گھروں میں دیکھنے کو ملتا ہے، نہ درسگاہوں میں اور یہاں تک کہ نہ ہی سرکاری دفاتر میں۔

رئیس امروہی کہتے ہیں کہ،
یہ فال ہر ایک دفتر منظوم سے نکلے
اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

لیکن ہر دفتر منظوم سے یہ فال کیوں نکلے کہ اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے؟ ہر دفتر سے نکلنے والی فال یہ کیوں نہیں کہتی کہ اردو کا جنازہ نہ نکالا جائے بلکہ اس زبان کو ایک نئی زندگی بخشی جائے، اردو کا نفاذ نہ صرف قومی زبان کے طور پر بلکہ دفتری زبان کے ناتے بھی کیا جائے۔

کسی بھی ملک میں قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری اور طاقت حکومت کی ہوتی ہے۔ حکومتی اداروں کا نہ صرف کام ہے بلکہ فرض بھی ہے کہ ملک میں قانون کا مکمل نفاذ ہو۔ آئین پاکستان کی شق نمبر 251 کے مطابق

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے جسے پندرہ سال کے دورانیے میں دفتری زبان کے طور پر مکمل نافذ کیا جانا چاہیے تھا مگر آج تک حکومت کے کسی بھی ادارے نے اس معاملے میں کسی قسم کا رد عمل نہیں لیا جس کی وجہ سے 33 سال کے بعد نہ صرف پاکستان کی ہر حکومت اردو کو دفتری زبان کے طور پر نافذ کرنے سے قاصر رہی ہے بلکہ اردو قومی زبان کے کلیے سے بھی باہر ہوتی جا رہی ہے۔

اردو کے نفاذ کا مطلب ہے کہ اردو ہر حکومتی ادارے کی زبان ہو اور حکومت ہر نجی ادارے کو قانونی طور پر اس بات کا پابند کرے کہ وہ ہر معاملے میں اردو زبان کا استعمال کریں گے۔ اس سے مراد ہے کہ پاکستان کا ہر ادارہ، چاہے وہ حکومتی ادارہ ہو، یا درسگاہ، چاہے وہ نجی ادارہ ہو یا بین الاقوامی ادارہ، سب پر یہ لازم ہو کہ اگر انھیں پاکستان کی حدود میں کام کرنا ہے تو ان کی دفتری زبان اردو ہو گی۔ اردو کے نفاذ سے مراد ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ شستہ اردو میں گفتگو کرنے کے لائق ہو مگر اس سب کے بر عکس اردو کا استعمال نہ تو کسی حکومتی ادارے میں ہوتا نظر آتا ہے، نہ کسی نجی ادارے میں، نہ تو درسگاہیں اردو کو فروغ دیتی نظر آتی ہیں نہ ہی گھروں میں والدین۔

اردو زبان کے الفاظ چند ضعیف اور مجبور با ذوق لوگوں کے ذہنوں کے کسی کونے میں آبدیدہ پڑے مٹتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان الفاظ کی جگہ انگریزی کے متبادل الفاظ نے لے لی ہے اور پاکستان کے معاشرے میں اب وہ مستعمل نہیں رہے۔ انگریزی لغت میں الفاظ کا دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ اس کے بر عکس اردو کے کئی الفاظ مٹتے چلے جا رہے ہیں۔

اردو کے نفاذ کا مدعا اور معنی سمجھنے کے بعد اس بات پر روشنی ڈالنا ناگزیر ہے کہ آخر اردو کا نفاذ کیوں ضروری ہے؟ آج کے دور میں ممالک کی روح قومیت ہے اور قومیت کی بنیاد چند اہم چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ جب سر سید احمد خان پر پہلی بار یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ برصغیر کے مسلمان ایک الگ قوم ہیں تو اس کی وجہ مذہب یا سیاست نہیں تھی۔ مسلمان تو دنیا کے ہر کونے میں بغیر پاکستان کے بھی ایک الگ شناخت اور قوم تھے۔ پھر بر صغیر کے مسلمانوں کو الگ وطن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ سر سید احمد خان پر یہ حقیقت تب آشکار ہوئی جب ہندوؤں اور انگریزوں نے اردو کو دفتری زبان کے مقام سے ہٹایا۔ اس واقع نے ان پر یہ واضح کر دیا کہ برصغیر کے مسلمان ایک الگ شناخت رکھتے ہیں اور انھیں اس شناخت کو ہر قیمت پر بچانا ہے۔

سر سید احمد خان نے اردو کے نفاذ اور تحفظ کے لیے کام شروع کیا جو کہ بالآخر مسلمانوں کی پہچان بنی اور آج جب ہمارے پاس ملک بھی ہے اور آزادی بھی تو پاکستان کے عوام نے اپنی پہچان گنوا دی ہے۔ قومیت کی پہلی اور سب سے مضبوط بنیاد اس قوم کی زبان ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک یا معاشرے کی زبان نہ صرف اس کی ثقافت کو فروغ دیتی ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ قومی زبان کے نفاذ کے بغیر کوئی بھی قوم اپنی شناخت قائم نہیں رکھ سکتی اور بالآخر وقت کی گرد تلے دبتی ایک دن مٹ جاتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ پچھلے پانچ سو سالوں میں کسی ایسی قوم نے تاریخ میں اپنا نام نہیں بنایا جس نے اپنی قومی زبان کی اس قدر تذلیل کی ہو۔ جرمنی، چین اور ایران جیسے ممالک اپنی قومی زبان پہ نہ صرف فخر کرتے ہیں بلکہ اس کا استعمال بھی سر اٹھا کر کرتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس بات نے ان کو خود اعتمادی جیسی دولت سے نوازا ہے جس کے بل بوتے آج وہ دنیا کی معاشی طاقت کو ٹکر دینے میں کوئی خوف محسوس نہیں کرتے کیونکہ ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔

اگر انسان سے اس کا نام چھین لیا جائے جو اس کی شناخت ہے تو وہ اپنا تعارف تک کروانے سے قاصر ہو جائے اور یہی حال اقوام کا بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی ثقافت اور اس کی زبان اس کی پہچان ہوتی ہے۔ انگریزی زبان آج دنیا کے ہر معاملے میں نافذ نظر آتی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی شخص کچھ بھی خریدے تو اس پہ انگریزی زبان لکھی نظر آتی ہے۔ کچھ ممالک اپنی زبان کا استعمال بھی کرتے ہیں جن میں افسوس کے ساتھ پاکستان کا نام شامل نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی زبان کے نفاذ کے ذریعے انگریزوں نے پوری دنیا میں نہ صرف اپنی ثقافت کا نفاذ کیا ہے بلکہ پوری دنیا کے باشندوں کے ذہنوں پر اپنی حکمرانی کا لوہا بھی منوایا ہے۔ ہندوستاں بھی آج ہمیں اسی ڈگر پر گامزن نظر آتا ہے۔ اپنے آئین میں 23 علاقائی زبانوں کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کے باوجود ان کی حکومت ہندی زبان کو فروغ دینے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتی۔ ان کے ملک میں پارلیمنٹ اور نیشنل اسمبلی کی جگہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا ہیں۔

ان کی فلمیں اور ڈرامے ہندی زبان کو فروغ دیتے نظر آتے ہیں۔ اس کے بر عکس اگر پاکستان کے حالات اور اس کی شکست خوردہ ثقافت پر ایک سرسری سی نگاہ بھی دوڑائی جائے تو یہ پرکھنے میں زیادہ وقت صرف نہیں کرنا پڑے گا کہ پاکستان کی قدیم، شاندار اور منفرد ثقافت اپنی آخری سانسیں بھر رہی ہے اور جو تعلیم اور روایات ہم اپنی آنے والی نسلوں کو دے رہے ہیں وہ کسی طرح اس ثقافت کا ڈوبتا ہوا بیڑا نہیں بچا سکتیں۔

یہی معمہ اس گفتگو کی اگلی منزل کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آخر وہ کون سا راستہ اور کیا اقدام ہیں جن کی بدولت پاکستان کی ثقافت کے ڈوبتے ہوئے بیڑے کو کنارے لگایا جا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ طاقت رکھنے والا عنصر حکومت ہی ہے مگر اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ حکومت کے علاوہ اردو اور بالآخر پاکستان کی شناخت کو بچانے کے لیے اور کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ لیکن حکومت پر یہ دباؤ ڈالنا ہمارا فرض ہے کہ وہ اردو کا نفاذ کرے۔ تمام سرکاری ادارے جس میں عدالتیں، قانونی ادارے اور تمام وفاقی محکمے شامل ہیں، اردو کو دفتری زبان کے طور پر رائج کریں۔

جو بھی ادارہ اس کی خلاف ورزی کرے وہ سزا کا متمکن ہو۔ حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ تمام درسگاہوں میں نصاب کی کتب اردو میں ہوں گی جس میں تمام بین الاقوامی اور نجی سکول بھی شامل ہوں۔ تمام میڈیا چینلز اپنے پروگرام اردو زبان میں نشر کریں جس میں پروگراموں کیں ام بھی شامل ہوں یعنی ان کے عنوان اردو زبان میں ہوں اور اگر کوئی عنوان کسی اور زبان میں رکھنا ضروری ہو تو اس کا اردو ترجمہ بمع لکھا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ ان کے نام، نعرے اور پیغامات اردو زبان میں ہوں گے۔ سب سے اہم قدم یہ کہ پاکستان میں ہونے والے مقابلے کے امتحان میں، جن میں انگریزی زبان پر گرفت اور مہارت ہی پاس یا فیل کا فیصلہ کن عنصر ہے، اردو کی مہارت کو بھی پرکھا جائے تاکہ یہاں سے بننے والے سرکاری ملازم اردو کے نفاذ کی اہمیت سے واقف ہوں اور اس کے لیے کام کر سکیں۔

حکومت کے علاوہ پاکستان کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اردو کے نفاذ میں اپنا فرض ادا کریں۔ گھروں میں والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کو پاکستانی یا اردو ڈبنگ والے پروگرام دکھائیں اور بچوں سے اردو میں گفتگو کریں، انگریزی محض سیکھنے کی حد تک قائم رہنی چاہیے۔ ہم سب پر فرض ہے کہ اردو ادب کو فروغ دیں، اور اردو کتب کے مطالعے میں اضافہ کریں تاکہ اس کی مانگ اور شہرت میں اضافہ ہو اور دنیا بھر میں اردو کی حیات کا جشن منایا جائے۔

رئیس امروہی کے جواب میں میرا تو یہ ماننا اور کہنا ہے کہ
اب بات چل پڑی ہے تو کیوں میں بھی چپ رہوں
اردو میں کیوں نہ بول کر محفل میں رنگ بھروں
تو کیا ہوا اگر کشتی ہے ڈوبتی،
تو کیا ہوا جو کفن کی چادر ہے کٹ چکی
اردو کا ابھی وقت نزع نہیں ہوا،
باشندگان وطن کا ابھی سر نہیں جھکا
ہم بیڑا اپنی اردو کا خود ہی اٹھائیں گے
جس دور میں بھی ہوں گے، ہم اردو منائیں گے
رضیہ تسکین

Facebook Comments HS