نیکولا ٹیسلا


1856 ء میں پیدا ہونے والے امریکی سائنسدان اور موجد، نکولا ٹیسلا اپنی فطانت کے علاوہ منفرد مزاج، رویے اور ٹھامس ایڈیسن کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے مشہور ہیں۔

ذیل میں ان کے بارے میں چند دلچسپ و عجیب حقائق بیان کیے جا رہے ہیں۔

1: وہ دوران طوفان پیدا ہوئے تھے۔ 9 اور 10 جولائی 1856 ء کی درمیانہ رات کو جب ٹیسلا پیدا ہوئے تو اس وقت آسمانی بجلی کا ایک بدترین طوفان جاری تھا۔ دائی نے اسے بدشگونی سمجھ کے ان کی والدہ کو کہا کہ ”یہ بچہ تاریکی میں پیدا ہوا ہے (گویا برائی کی جانب راغب ہو گا)“ جس پر انہوں نے کہا کہ ”نہیں، یہ بچہ روشنی میں پیدا ہوا ہے چنانچہ روشنی لانے کا موجب بنے گا“

نوٹ: گیم آف تھرونز کے مداح انہیں آج سے نکولا ”سٹورم بورن“ ٹیسلا بھی کہہ سکتے ہیں۔

2:ناقابل یقین یاداشت: ٹیسلا کا حافظہ غضب کا تھا جسے انگریزی میں ”فوٹو گرافک میموری“ کہتے ہیں۔ انہیں پوری کی پوری کتابیں حفظ تھیں اس کے علاوہ ان کا تخیل بھی باکمال تھا اور وہ تین جہتی تصور کرنے کے قابل تھے۔ اسی صلاحیت کے استعمال سے انہوں نے اپنے بچپن کے ڈراؤنے خوابوں پر بڑی حد تک قابو پا لیا تھا۔ نوجوانی میں ہیضے کے شدید حملے کے بعد وہ جراثیم کے خوف میں مبتلا ہو گئے تھے اور ہر لحظہ صاف ستھرا رہنے پر اصرار کرتے تھے۔

3:زبان ہشت رنگ: اپنی شاندار یاداشت کی بدولت وہ زبانیں سیکھنے کی حیران کن صلاحیت رکھتے تھے جس کا ثبوت ان کی 8 زبانوں پر مکمل مہارت ہے۔ سرب (کروشین) ، چیک، جرمن، ہنگرین، فرنچ، انگلش، اٹالین اور لاطینی۔

4: حس مزاح : ان پر کتاب ”جادوگر:نکولا ٹیسلا کا عہد اور زندگی“ لکھنے والے مصنف، مارک سائفر بتاتے ہیں کہ ٹیسلا غضب کی حس مزاح بھی رکھتے تھے۔ مثلاً رڈیارڈ کپلنگ کے ساتھ ڈنر کے بعد انہوں نے اپنی دوست کو خط لکھا :

یکم اپریل 1901 ء
پیاری مسز جونسن،

یہ مصنف کپلنگ کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھے ایک نامعلوم ہوٹل میں ڈنر پر بلانے کی جرات کی جہاں میرے سوپ میں بال اور کاکروچ پڑنے کے امکانات یقینی ہیں۔

آپ کا
نکولا ٹیسلا

5: وہ اور ٹھامس ایڈیسن حریف تھے، دشمن نہیں : بہت سے لوگ انہیں اور ٹھامس ایڈیسن کو باہمی دشمن قرار دیتے ہیں لیکن ان پر کتاب ”ٹیسلا: برقی عہد کے موجد“ کے مصنف، برنارڈ کارلسن اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔

عملی زندگی کے آغاز میں ٹیسلا نے ایڈیسن کے لیے ڈی سی بجلی بنانے والے جنریٹر (ڈائریکٹ کرنٹ جنریٹرز ) پر کام کیا تھا لیکن بعد میں اپنے ذاتی منصوبے ”الٹرنیٹنگ کرنٹ انڈکشن موٹر“ یعنی اے سی بجلی پر کام کرنے کے لیے ایڈیسن کی نوکری سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ ٹھیک ہے کہ وہ دونوں نام نہاد ”جنگ برقی رو“ میں مدمقابل تھے جہاں ایڈیسن ڈی سی بجلی ( ڈائریکٹ کرنٹ ) کے حامی تھے تو ٹیسلا اے سی بجلی (آلٹرنیٹ کرنٹ ) کے وکیل لیکن برنارڈ کارلسن انہیں اپنے زمانے کے بل گیٹس اور سٹیو جابز قرار دیتے ہیں کہ ایک کاروباری (ایڈیسن) تھا جسے تشہیر میں مہارت حاصل تھی تو دوسرا مستقبل بین اور ٹیکنالوجی کا ماہر (ٹیسلا) ۔

ایک مرتبہ ایڈیسن بھی اسی کانفرنس میں شریک تھے جہاں ٹیسلا تقریر کر رہے تھے۔ ایڈیسن جن کی سماعت کمزور تھی، نے حاضرین کے پیچھے رہ کر تقریر سننی چاہی لیکن ٹیسلا نے انہیں دیکھ لیا اور سٹیج پر بلا کر حاضرین سے انہیں بھرپور داد دلائی۔

مارک سائفر بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں میں گویا ایک محبت/نفرت کا تعلق تھا۔ پہلے پہل تو ایڈیسن ٹیسلا سے قطعاً متاثر نہ ہوئے لیکن بعد میں ان کی تعظیم کرنے لگے۔ ایک مرتبہ جب ٹیسلا کی لیبارٹری میں آگ لگی تو ایڈیسن نے انہیں دوسری لیبارٹری دلا دی۔

6: انہوں نے 1901 ء میں سمارٹ فون ٹیکنالوجی کا خیال پیش کیا تھا: برنارڈ کارلسن کہتے ہیں کہ ٹیسلا فطین ہونے کے باوجود اپنے خیالات کو عملی شکل دینے میں اتنے ماہر نہیں تھے۔ بحر اوقیانوس کے پار روابط قائم کرنے کی دوڑ کے دوران انہوں نے اپنے سرمایہ کار دوست، جے پی مورگن کو فوری رابطے کا ایک خیال پیش کیا جس میں وہ سٹاک مارکیٹ کی صورتحال اور ٹیلی گرام پیغامات کو اپنی لیبارٹری میں نئی فریکوئنسی پر نشر کرتے جسے صارف کے ہاتھ پر بندھا ایک آلہ وصول کرتا۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے سمارٹ فون اور وائرلیس انٹرنیٹ کا آئیڈیا 1901 ء میں ہی پیش کر دیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اس پر مزید کام نہ کر سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایکس رے، ریڈار، ذراتی لہر (پارٹیکل بیم) اور ریڈیائی خلائی رابطے کے خیالات بھی پیش کیے۔ (لیکن ان کے لیے درکار مطلوبہ ٹیکنالوجی کے بغیر)

7: مشہور دوست: مارک سائفر کہتے ہیں کہ کم ہی لوگ اس حقیقت سے واقف ہوں گے کہ مشہور زمانہ ”سئیراہ کلب“ کے بانی اراکین میں سے ایک جان موئیر، ٹیسلا کے قریبی دوست تھے۔ انہیں ٹیسلا کا ”پن بجلی نظام“ بہت پسند تھا جو آبشار کی طاقت پر چلنے کے سبب توانائی کا صاف ستھرا اور قدرتی نظام تھا۔

اس کے علاوہ ان کے دوستوں میں ماہر معاشیات ہنری کلے فرک اور ٹھامس فورچیون رائن بھی شامل تھے۔

ٹیسلا اس زمانے کے پرتعیش ہوٹل، ”والڈورف ایسٹوریا“ میں رہائش رکھتے تھے جو مین ہیٹن، نیویارک میں واقع ہے۔

8: انہیں موتیوں سے نفرت تھی: ٹیسلا کو موتی ایک آنکھ نہ بھاتے تھے، اس حد تک کہ اگر کسی خاتون نے موتی پہن رکھے ہوتے تو ٹیسلا ان سے بات کرنے تک سے انکار کر دیتے۔ جس دن ان کی سیکرٹری موتیوں کا ہار پہن کر آتیں تو ٹیسلا انہیں چھٹی دے دیتے۔ لیکن اس نفرت کی وجہ کسی کو نہیں معلوم

9: اعلیٰ لباس کے شوقین: ٹیکسلا کا کہنا تھا کہ کامیاب ہونے کے لیے کامیاب *نظر آنا* بہت اہم ہے چنانچہ وہ بہترین لباس پہننے پر توجہ دیتے اور عشائیے پر ہمیشہ سفید دستانے پہن کر آتے۔

10 : 1898 ء میں ٹیسلا نے ایک پورے مجمعے کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ ایک کشتی محض باآواز بلند حکم دے کر چلا سکتے ہیں۔ درحقیقت انہوں نے ”ریڈیو کنٹرول“ ایجاد کر لیا تھا اور کشتی کو خود چلا رہے تھے۔

مجمع اس مظہر کی کوئی عقلی توجیہہ پیش نہ کر سکا، کچھ نے اسے جادو یا ٹیلی پیتھی سے تعبیر کیا تو کچھ کا کہنا تھا کہ ٹیسلا نے کشتی میں کوئی تربیت یافتہ بندر چھپا رکھا جو اسے چلا رہا ہے۔

ٹیسلا نے لوگوں کا ردعمل دیکھ کے شرارتاً ان سے کہا کہ وہ کشتی کو محض حکم دے کر چلا سکتے ہیں، نیز اگر کسی کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو ”کشتی“ اس کا جواب بھی دے گی۔ جب ”کشتی“ سے 64 کا مکعب معلوم کیا گیا تو اس پر نصب روشنیاں چار مرتبہ جھمکیں۔

یہ مجمع کوئی عام افراد پر مبنی بھی نہیں تھا بلکہ امریکی فوج اور محکمہ خارجہ کے ذہین ترین حکام پر مشتمل تھا جنہوں نے پھر بھی بغیر انسان کے چلنے والی گاڑی کو ”بے کار“ قرار دے دیا۔

11 : انہوں نے مارک ٹوین کو ڈرا کر رکھ دیا: ان کے بارے میں مشہور تھا کہ انہوں نے اپنی مین ہیٹن والی تجربہ گاہ میں ایک ”زلزلہ مشین“ رکھی ہوئی تھی جس نے پوری عمارت کو جھنجھنا کے رکھ دیا اور پورا محلہ تباہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔

درحقیقت یہ کوئی ”زلزلہ مشین“ نہیں تھی، بلکہ ایک پسٹن تھا جسے ایک چبوترے کے نیچے نصب کیا گیا تھا جو اسے شدت سے ہلاتا تھا۔

برنارڈ کارلسن اس بارے میں کہتے ہیں کہ اس سے محلہ تو تباہ نہ ہوا لیکن مارک ٹوین کا معدہ ضرور خراب ہو گیا۔

ٹوین کو ہاضمے کی خرابی کا مرض لاحق تھا، ٹیسلا جو اس بارے میں جانتے تھے، نے انہیں تجربہ گاہ میں بلا کر چبوترے پر کھڑا ہونے کو کہا اور اسے ہلانے کی مشین چالو کر دی۔

دو منٹ کے اندر اندر ہی مارک ٹوئین چبوترے سے چھلانگ لگا کر اترے اور سیدھے *بیت الخلاء* کی طرف بھاگے۔

واضح رہے کہ ساتھ منسلک تصویر میں ٹیسلا کوائل کے تجربے کا منظر ہے جب پورے کولاراڈو سپرنگز کے علاقے میں اس کی وجہ سے بجلی منقطع ہو گئی تھی۔

یہ تصویر ڈکنسن ایلی نے جریدے سنچری میگزین کے لیے کھینچی تھی۔

Facebook Comments HS