چھوڑ دیا سگریٹ (عربی ادب سے ماخوذ)
مصنف: ابو المعاطیٰ ابو النجا
مترجمہ رمثہ شاہد
ہاشم نے سگریٹ کا ڈبہ نکالا اور بہت اہتمام کے ساتھ کھول کر اپنے ساتھی فتحی کو پیش کیا۔ اس کا ساتھی دوسرے کیبن میں بیٹھتا تھا اور ہاشم اکثر اس کے کے ساتھ گپ شپ کے بہانے سگریٹ کا لطف اٹھاتا تھا۔ اب بھی اس نے حسب عادت سگریٹ کا ڈبہ فتحی کی طرف بڑھایا تھا لیکن فتحی نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس کے چہرے پر واضح تذبذب دکھائی دے رہا تھا۔ ہاشم حیرانی سے اپنے دوست کو دیکھنے لگا۔ پھر فتحی نے خود پر قابو پایا اور فیصلہ کن لہجہ میں کہنے لگا:
” شکریہ! میں نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے“ ۔
ہاشم کے حیران چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
” واہ! اتنا اہم فیصلہ کب کیا؟“ ۔
” کل ہی! “ ۔
” ارے! کیوں فتحی؟“ ۔
” میں اس موضوع پر طویل عرصے سے غور کر رہا تھا۔ میں ان افکار پر سوچ بچار کر رہا تھا جو مجھے سالہا سال کے سگریٹ پینے کے تجربے سے حاصل ہوئے اور پھر کل رات میں نے اسے ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا“ ۔
” فتحی! وہ افکار کیا ہیں؟“ ۔
یہ سوال سن کر فتحی اپنی کرسی پر سیدھا ہو گیا۔ اس نے اپنے سامنے بکھرے کاغذ ات سمیٹ کر ایک طرف کیے۔ اس اثنا میں کیبن میں موجود بقیہ ساتھی بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہو چکے تھے۔ فتحی نے محسوس کیا کہ تمام نگاہیں اسی پر مرکوز ہیں۔ دفتر میں اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا تھا کہ فتحی کوئی موضوع چھیڑ دیتا اور تمام ساتھی فائلوں سے سر اٹھا لیتے۔ فتحی نے سب کو متوجہ دیکھا تو اس کی آواز بھی بلند ہو گئی، کہنے لگا:
” ہم سب سگریٹ پیتے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیں۔ “ ۔
” ذرا رکو! “ ، ہاشم نے اس کی بات کاٹی :
” ذرا رکو! میں اپنا سگریٹ سلگا لوں تا کہ اطمینان سے تمہارے خیالات سن سکوں“ ۔
اسی لمحے باقی ساتھیوں نے بھی اپنے اپنے سگریٹ سلگا لئے۔
فتحی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا:
” کیا تمہیں علم ہے کہ سگریٹ کے ساتھ تعلق کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟ انسان کے ساتھ اس کے تعلق کا آغاز بالکل ایک ایسے جگری دوست کی طرح ہوتا ہے جس سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی ہے۔ میں ذاتی طور پر سگریٹ اس وقت پیتا تھا جب کوئی کتاب پڑھنی ہوتی یا کسی خاص دوست کے ساتھ مل بیٹھتا یا پھر کسی ایسے اہم کام کے دوران جو عرق ریزی کا متقاضی ہوتا۔ لیکن عموماً ہوتا یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ تمباکو انسانی زندگی کے ہر لمحے کا جزو بن جاتا ہے۔
خوشی کے لمحات کا کوئی مزہ تمباکو نوشی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ دکھ درد کے لمحات کو سہنا بھی سگریٹ نوشی کے بغیر ممکن نہیں۔ اور کام کے بعد تھکاوٹ دور ہوتی ہی نہیں سوائے تمباکو کے دھوئیں کے حلقات سے۔ اور جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو تمباکو نوشی ہی ہمارا اہم ترین کام بن جاتا ہے۔ پھر اسٹاپ پر بس کا انتظار کرتے ہوئے ہاتھ خود بخود جیب سے ڈبی نکالنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ کافی، چائے، قہوہ جات ہر ایک چیز کا ذائقہ تمباکو دار ہو جاتا ہے۔
اور ہر ایک بات دھواں بن جاتی ہے اور یہ دھواں انسان کی پوری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے اور انسان کو ایک ایسے عجیب و غریب احساس سے دوچار کرتا ہے جو ناقابل بیان ہے۔ اور میں شرط لگا سکتا ہوں کہ آپ سب بھی یہی محسوس کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سگریٹ ہمارا قریبی دوست نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارا دوست خواہ ہم اس سے کتنی ہی محبت کیوں نہ کرتے ہوں اگر وہ سگریٹ کی طرح ہماری زندگی میں شریک ہونے لگے اور اسی طریقے سے ہمارے ساتھ بندھنے لگے تو یقیناً ہمارے دلوں میں اس دوست کے لئے ناپسندیدگی کے جذبات جنم لیں گے بلکہ اس کی محبت کراہت میں بدل جائے گی۔
میرے ساتھیو! سوچو! ۔ پھر ایک اور بات۔ عموماً ہم تمباکو نوشی پریشانی اور تناؤ رفع کرنے کے لئے کرتے ہیں جبکہ خود تمباکو نوشی بعد ازاں تناؤ کا باعث بن جاتی ہے۔ ایسا تناؤ جو انسان سے اس کی آزادی چھین لیتا ہے اور اسے آزادی کی نعمت سے محظوظ ہونے کے بجائے اس کا مزہ کر کرا کر دیتی ہے۔ اب انسان کے پاس دو ہی راستے ہیں :
یا تو انسان سگریٹ نوشی جاری رکھے اور اس سے پیدا ہونے والے تناؤ اور کھچاؤ میں مبتلا رہے۔ جبکہ ہم سب اس تناؤ کو اچھی طرح محسوس کرتے ہیں لیکن اس کا اعتراف کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔
یا پھر انسان تمباکو نوشی ترک کر دے اور اس سے پیدا ہونے والے تناؤ اور کھچاؤ کا مقابلہ کرے جو چاہے کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو آخر کار چند دنوں یا چند ہفتوں میں اپنے انجام کو پہنچ کر ختم ہو جائے گا۔ اور یہی بات اس موضوع کی کنجی ہے۔
اور میں اس موضوع کے اقتصادی زاویے پر بحث نہیں کروں گا کیوں کہ آپ اس معاملے کو بخوبی جانتے ہیں۔ ایک تمباکو نوش ہر ماہ تقریباً چھ ہزار پانسو روپے پھونک دیتا ہے۔ جو اندازہ سالانہ 72000 روپے بنتا ہے۔ اور میں اس تناؤ کا ذکر بھی نہیں کروں گا جو اس موازنے کو سوچ سوچ کر جنم لیتا ہے ”۔
بات مکمل کرنے کے بعد فتحی نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی پشت کرسی سے ٹکا دی۔ اب وہ اطمینان سے اپنے ساتھیوں کے چہرے پڑھ رہا تھا۔ ان کے چہرے دھوئیں کے مرغولوں میں چھپے تھے جو گول گول گھومتے ہوئے رفتہ رفتہ کھڑکی کی طرف رواں دواں تھے۔
ایک ساتھی نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لیا اور کہنے لگا:
” تمہاری بات بالکل درست ہے لیکن ہم سگریٹ ترک کرنے سے قاصر ہیں۔ میں کئی مرتبہ کوشش کر چکا ہوں لیکن ہر ایک مرتبہ ناکامی ہوئی۔ اب تو میں نے کوشش کا ارادہ ہی ترک کر دیا ہے“ ۔
ایک اور ساتھی نے آدھا سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا:
” میں اس تجربے میں فتحی کے ساتھ ہوں۔ اس کی بات 100 فی صد درست ہے۔ وہ اس تجربے میں اکیلا نہیں ہو گا“ ۔
اس تمام عرصے ہاشم خاموش تھا۔ وہ تمام ملازمین میں بالحاظ عمر سب سے بڑا تھا اور اس کے بچے اسکولوں میں پڑھتے تھے۔ اب ہاشم شائستگی سے بولا:
” میں بھی فتحی کے فیصلے اور رویے سے متفق ہوں لیکن میں اس موضوع پر مزید غور کرنا چاہوں گا کیونکہ ابھی میں اچنبھے میں مبتلا ہوں“ ۔
فتحی کی تمباکو نوشی ترک کرنے کی خبر پورے کارخانے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ یہ خبر صرف تمباکو نوشی ترک کرنے کی نہیں تھی بلکہ تمباکو نوشی کے آغاز اور اختتام والے خیالات کا بھی ہر طرف چرچا ہونے لگا۔ اور اس خبر کو پھیلانے میں اس کے دفتر کے ساتھیوں کا اہم کردار تھا۔ فتحی اپنے فلسفے اور منطقی آراء کے ساتھ مسائل حل کرنے میں تمام ملازمین میں پہلے ہی مشہور اور ہر دلعزیز تھا۔ اب کارخانے کے ارکان میں سے کوئی نہ کوئی روزانہ فتحی کے ساتھ چائے پینے کے لئے آنے لگا تا کہ وہ براہ راست اس کے خیالات سن سکیں۔ اس کے دفتر کے ساتھی بھی ان آراء کی تشریح کرتے رہتے خواہ حق میں ہو یا مخالف۔ یہ موضوع ان کے کمرے کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ دو ہفتوں کے اندر اندر پورے کارخانے کے ملازمین کا موضوع سخن فتحی کی ترک تمباکو نوشی اور اس کی آراء بن چکا تھا۔
اس بحث و تمحیص کا نتیجہ یہ نکلا کہ کارخانے میں دو دھڑے بن گئے۔
ایک وہ جو قولا اور فعلا فتحی کی تائید کرتے تھے۔ اور دوسرا وہ جو یہ سمجھتے کہ ان افکار اور آراء کی عمر ایک دو ماہ سے زیادہ نہیں ہے۔
دونوں دھڑوں کے مابین تنازعہ بڑھتا گیا اور یہ سرد جنگ شدت اختیار کر گئی۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ یہ جنگ کارخانے کی حدود پار کر گئی۔ کارخانے کے باہر بھی ملازمین کا حلقۂ احباب تھا۔ ان محفلوں میں بھی فتحی کی تمباکو نوشی سے متعلق آراء زیر بحث آنے لگیں اور یہاں بھی تائید کرنے والے اور مخالفین کے گروہ بننے لگے۔ طبعی طور پر یہ آراء گھروں تک بھی پہنچ گئیں۔ جب خواتین کو علم ہوا کہ ان کے شوہروں نے تمباکو نوشی ترک کر دی ہے اور اس کے روح رواں فتحی صاحب اور ان کی آراء ہیں تو وہ سب بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر ان کی عزت افزائی میں لگ گئیں۔
ایک ماہ کے اندر اندر فتحی کے تائیدی دھڑے نے ایک ”تنظیم برائے ترک تمباکو نوشی“ قائم کر لی۔ اس تنظیم کے معرض وجود میں آنے کی خصوصی تقریب ہاشم کے گھر منعقد ہوئی جو خود بھی ان آراء کا شیدائی بن چکا تھا۔ اس موقع پر فتحی کو تنظیم کا صدر مقرر کیا گیا۔
دوسری طرف ہاشم کی کی بیگم نے چند دیگر بیگمات کے ساتھ مل کر ایک ”اقتصادی تنظیم“ بنانے کا اعلان کیا جس کا سرمایہ تمباکو نوشی ترک کرنے سے ہونے والی بچت کی رقم قرار پایا۔ یہ بیگمات ہر مہینے کے آغاز پر اپنے شوہروں سے بچت والی رقم وصول کریں گی تا کہ انہیں بچوں کے جیب خرچ یا گھریلو ضروریات کے لئے جدید آلات خریدنے میں صرف کر سکیں۔
اس تقریب کے اختتام پر فتحی اپنے گھر لوٹا تو وہ اکیلا تھا۔ کیوں کہ اس کی بیوی نہیں تھی۔ وہ تنہا بیٹھا اور پہلی مرتبہ اس صورت حال پر نئے سرے سے غور کرنے لگا۔ اسے یہ معاملہ بہت عجیب محسوس ہوا۔ کیسے؟ ایک ماہ کے اندر اندر کیسے یہ سب ہو گیا! اس رات جب اس نے تمباکو نوشی کو خیرباد کہا تھا تو وہ اس کا ذاتی فیصلہ تھا۔ یہ ذاتی فیصلہ ایک اجتماعی شکل اختیار کر لے گا، یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ واقعی! اگر اس کے ساتھی اس معاملے میں دلچسپی ظاہر نہ کرتے اور فتحی کو اپنے فیصلے کے اسباب بیان کرنے میں رغبت نہ ہوتی تو فیصلہ ذاتی نوعیت کا ہی رہ جاتا۔
یوں بھی اس خبر کے پھیل جانے کے باوجود، تمام معاملے پر طنز و مزاح کی فضا ہی غالب رہی تھی پھر نہ جانے اس پر سنجیدگی کا لبادہ کیسے اوڑھا دیا گیا! تنظیم بنانے کی سوچ میں بھی سنجیدگی اور مذاق ساتھ ساتھ تھے مگر ہنسی مذاق کا پہلو بہر حال اجاگر تھا۔ یہاں تک کہ بیگم ہاشم نے سنجیدگی کا سرا پکڑ لیا اور اس کو حقیقت کا روپ دے دیا۔ کہ مہینے کے آغاز میں خرچ کی جانے والی رقم جو دھواں بن کر ہوا میں اڑ جاتی تھی اب بچوں کے جیب خرچ اور دیگر گھریلو ضروریات میں بدلنے جا رہی ہے۔
فتحی نے سوچا، کیا یہ سب اس کی اپنی دریافتوں میں سے نہیں؟ تو پھر۔ اس سوچ سے وہ اتنا تناؤ کا شکار کیوں ہو رہا ہے؟
اس نے محسوس کیا کہ اسے سنجیدگی سے اپنے آپ کا سامنا کرنا چاہیے۔ اب! جبکہ وہ اکیلا ہے، کوئی دوسرا موجود نہیں تو وہ اطمینان سے غور و فکر کر سکتا ہے۔ اس نے سوچا واقعتاً اس کی آراء حقیقی اور سچی تھیں لیکن۔ اس وقت سے جب اس نے تمباکو نوشی سے حتمی کنارہ کشی اختیار کی تھی۔ ان کی عمر محض ایک ماہ ہے۔ لیکن ایک ماہ کے اندر اندر معاملہ اس کی ذات سے کہیں آگے گزر چکا۔ تائید
کرنے والے اور مخالفین۔ شرطیں۔ اور پھر تنظیم کا قیام!
قبل ازیں جب وہ اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنی آراء کا اظہار کرتا اور اس کی تشریح و توضیح کرتا پھر انہیں اس دوران ہمہ تن گوش پاتا اور اختتام پر سب کو اپنی مدح سرائی کرتے دیکھتا تو اسے اپنے اوپر بہت غصہ آتا تھا اور اپنے ساتھیوں پر بھی کہ وہ ایک خاص قسم کی آراء سننے آتے تھے۔ یہ آراء محض الفاظ نہیں تھے۔ یہ تو ایک جیتا جاگتا تجربہ ہے جس سے وہ ہر آن گزر رہا ہے اور یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو لمحہ بہ لمحہ اس کے اندر وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
وہ چاہتا تھا کہ آنے والے ان افراد میں سے کوئی ایک تو ہو جو ان آراء کے نتائج کو جاننا چاہے، اور اس تبدیلی کے بارے میں بات کرے جو تمباکو نوشی ترک کرنے کے بعد فتحی محسوس کر سکتا تھا تا کہ وہ بھی اپنے دل کی بات کہہ سکتا۔ لیکن کسی ایک نے بھی ایسا نہ کیا۔ کسی ایک نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اب اس کے احساسات کیا ہیں؟
واقعی دو ہفتے تک وہ اس شدید تناؤ اور پریشانی کا مضبوطی سے مقابلہ کرتا رہا تھا جو تمباکو نوشی چھوڑنے کی وجہ سے پیدا ہونے لگے تھے۔ پھر ویسے ہی ہوا جیسی اس کو توقع تھی۔ یہ پیدا ہونے والا تناؤ بالآخر ختم ہو گیا۔ اسے تمباکو کی طلب محسوس ہونا بالکل بند ہو گئی۔ کبھی چند لمحات کے لئے احساس جاگتا بھی۔ تو وہ آسانی سے اس پر قابو پا لیتا۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس نے ان زنجیروں کو توڑ ڈالا جس نے اس کی زندگی کو پابند سلاسل کر رکھا تھا۔ اب اس کی زندگی تمباکو کے منحوس ذائقے سے پاک ہو گئی تھی۔ لیکن اس خوشی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر ایک عجیب و غریب احساس اور رویے نے سر اٹھا نا شروع کر دیا کہ گویا اس کی زندگی کا ہر ایک کام ناقص رہ جاتا ہے۔ جیسے ہر کام کسی چیز کا منتظر ہے اس کمی کا احساس گویا اس کی زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہو۔
گو کہ وہ ترک تمباکو نوشی پر سختی سے عمل درآمد کر رہا تھا مگر ایک خلا بدستور موجود تھا۔ اکثر بے اختیار اس کا ہاتھ جیبیں ٹٹولنے لگتا، کبھی غیر شعوری طور پر اس کا ہاتھ میز کی درازوں کو کھنگالنے لگتا کبھی اس کا دل ماچس کی تیلی سلگانے کی خواہش کرتا۔ اس کی زندگی میں خوشی کے لمحات اپنی شدت کھو چکے تھے۔ اور یوں لگتا تھا کہ بوریت اور افسردگی اس پر حاوی ہو جائے گی۔ کام کے گھنٹے بہت سستی اور کاہلی سے گزرتے جبکہ فراغت کا وقت تو گویا تھم جاتا تھا۔ اب گفتگو میں بھی دلچسپی کم ہونے لگی تھی۔ ہاں ایک کام یہ شروع کیا کہ وہ چائے کی دو پیالیاں پینے لگا کہ شاید کوئی ذائقہ ہی آ جائے۔
تمام چیزوں کا احساس ختم ہوتا جا رہا تھا۔ وہ تھکنے لگا تھا مگر ایک احساس بہت واضح اور راسخ تھا کہ وہ ”انتظار“ سے نہیں تھکے گا۔
در اصل مشکل یہ تھی کہ وہ اپنے ان احساسات کا اظہار نہیں کر سکتا تھا کہ شاید وہ اظہار خیال کے بعد خود کو ہلکا محسوس کرتا۔ کسی بھی دوسرے شخص کے لئے یہ کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ پہلے ترک تمباکو کا اعلان کرے اور وہ دوبارہ تمباکو نوشی شروع کر دے، اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا، وہ آزاد ہے۔ لیکن ترک تمباکو نوشی تنظیم کا صدر ہونے کے ناتے اس کے لئے یہ ناممکن تھا۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اپنی ”آزادی“ اور تنظیم کی صدارت، دونوں کا وجود برقرار رکھ سکے۔
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال نمودار ہوا جو بیک وقت بے کار بھی تھا اور شاہانہ بھی! لیکن اس نے فوراً اس پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ فوری طور پر گھر سے نکلا اور قریب ہی ایک کھوکھے سے سگریٹ خرید لایا۔ صرف ایک سگریٹ!
اس نے اپنے اندھیرے کمرے میں سگریٹ سلگایا۔ گو کہ وہ گھر میں بالکل اکیلا تھا، کوئی ایک بھی اسے دیکھنے والا نہیں تھا مگر اسے اپنے منہ میں سگریٹ کا کوئی ذائقہ محسوس نہیں ہوا بلکہ اسے ایک چکر سا آیا اور سر میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہونے لگا۔ وہ کرسی سے اچھلا اور خوشی سے چیخا:
” اب میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے سگریٹ نوشی پر مکمل قابو پا لیا ہے۔ میں نے اسے شکست دے دی ہے۔ مجھے اس کی کوئی لذت محسوس نہیں ہو رہی۔ میں جس چیز کا انتظار کر رہا تھا وہ تو صرف وہم تھا۔ ایک ایسا وہم جس کا کوئی وجود نہیں“ ۔
اور اس نے سوچا کہ صبح وہ اپنے ساتھیوں کو ضرور اس تجربے سے آگاہ کرے گا جس نے اس کے تجربے کو حتمی یقین عطا کیا ہے۔

