دیہات میں نوجوانی کی منہ زور محبت


زمانے بیت گئے بے فصیل دل محلہ کسی فاتح کی توجہ حاصل کر سکا نہ کوئی مسافر دم بھر کو رکا۔ یادوں کی بے قفل حویلی پر نقب لگی نہ کسی مکڑی نے جالا تن کر اسے قصہ پارینہ بنانے کی جرات کی تھی۔ چٹخنی کے تکلف سے آزاد ماضی کی کھڑکی کسی مانوس چاپ پر باہر بند گلی میں کھلتی رہی، آہٹوں کے لاشے گرتے رہے، سماعتوں کے زخم رستے رہے روایات کے ماتھے پہ بل آئے نہ کھڑکی کو دیوار میں چنوایا گیا۔

شام ہو رہی تھی، خالی پن سے لبالب بھری شام۔ پرانے محلے سے میلوں دور، شہر کے بیچوں بیچ ایستادہ بلند و بالا عمارت کی چھت پر رکھی آرام دہ کرسی کی پشت سے سر ٹکاتے ہوئے وارث نے سورج کی نرم کرنوں کو اپنے چہرے پر محسوس کیا اور پھر دھیرے سے آنکھیں موند لیں۔ اس کی کشادہ پیشانی پر ان گنت تحریریں درج تھیں اور ہوا سے ہلتے چند سفید بال ماتھے پر یوں دائیں بائیں حرکت کر رہے تھے جیسے قسمت کا لکھا مٹانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

ناک پر ٹکا نظر کا چشمہ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے چھپانے میں ناکام رہا تھا۔ بڑھی ہوئی شیو اور گلے میں جھولتی ڈھیلی ڈھالی ٹائی سے وہ تنہائی اور مصروفیت کا مارا معلوم ہوتا تھا۔ آفس سے واپس آتے ہی وہ چھت کا رخ کرتا اور کچھ وقت اپنے ماضی کے ساتھ گزارتا۔ یہ لاحاصل سا معمول اس کی زندگی کا حاصل تھا جس پر اسے رائیگانی کا احساس کبھی نہیں ہوا کہ گزری تلخ حقیقت میں اپنی خواہش کے مطابق رنگ بھرنے کا ہنر اسے آتا تھا۔

فقط چند گھڑیوں میں یہ شخص ان اونچی عمارتوں کو زمین بوس کر کے اپنا گاؤں برآمد کرنے والا تھا۔ اس کے کانوں میں گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی اور پھر بل کھاتی پگڈنڈیوں نے لپک کر حد نگاہ تک سیدھی جاتی تارکول کی سڑک کو نگل لیا۔ گاڑیوں کی پوں پاں کا بدترین شور گاؤں کے کھیتوں کو سیراب کرتی پرسکون نہر میں اک ہلکی سی آواز کے ساتھ ڈوب گیا۔ مشہوری کے لیے لگے قدآور بورڈ درختوں کے جھنڈ میں کہیں غائب ہو گئے۔

پارک میں فٹ بال کھیلتے صاف ستھرے، اچھے بچے اچانک دست و گریباں ہو کر دھول سے اٹ گئے۔ وہ نیم برہنہ، بہتی ناک کے ساتھ نہر کنارے ایک پہیے کے پیچھے بھاگتے بھاگتے گاؤں کی سرحد تک آن پہنچے تھے۔ سب کی سانس پھولی ہوئی تھی اور ہری گھاس پر لیٹنے کے لیے ڈھے گئے تھے۔ بادل کی چند ٹکڑیاں مغرب کی سمت ڈوبتے سورج کو دیکھ کر کسی سازشی کھسر پھسر میں مصروف تھیں اور غصے سے لال پیلا ہوتا سورج پہاڑی کے پیچھے چھپ کر ان کی سرگوشیاں سن رہا تھا۔ پرندے غول در غول اپنے ٹھکانوں کو لوٹ رہے تھے۔ بھیڑ بکریاں ٹہلتے، چرتے ہوئے گھروں کی جانب بڑھ رہی تھیں۔

بازار سے پون گھنٹے کی مسافت پر واقع اس گاؤں کی مسجد سب سے پہلے دکھائی دیتی تھی۔ عقب میں ٹرانسفارمر اور کھمبے لگے تھے جن سے ہوتی ہوئی بجلی کی تاریں مسجد سے الگ تھلگ بے ترتیب گھروں کو روشن کرتیں۔ اندھیرا پھیل رہا تھا اور مکانوں کی چھتوں پر کھیلتے بچے منظر سے غائب ہو رہے تھے۔ عجیب آوازیں نکال کر عورتیں اپنے مویشیوں کو ہانک رہی تھیں۔ ایک نوجوان لڑکی شیر خوار بھائی کو اٹھائے باہر دروازے میں کھڑی تھی۔ مغرب کے نمازی مسجد کی جانب چل پڑے تھے ان میں اکثریت ان لڑکوں کی تھی جو ابھی ابھی کرکٹ کھیل کر آ رہے تھے۔

کچھ ہی دیر میں چمنیوں سے اٹھتا دھواں اور اندھیرا تقریباً گڈ مڈ ہو کر رات میں بدل چکے تھے مگر وارث ابھی تک گھر نہیں لوٹا تھا۔ کچن میں پڑی چارپائی پر نیم دراز اس کے ابا چھت کو گھور رہے تھے اور پائنتی کی جانب ٹکٹکی باندھے اپنے مجازی خدا کو دیکھتی اماں کے دل میں ہول اٹھ رہے تھے۔ ساتھ والے کمرے میں وارث کی چچا ذاد فوزیہ چارپائی پر بیٹھی اپنے ناخن کھرچتے ہوئے وقفے وقفے سے آنسو صاف کرتی رہی۔ وہ عمر میں وارث سے چھ سال بڑی تھی۔

فوزیہ کے والدین کی وفات کے بعد ابا اماں کو بیٹی کی کمی محسوس ہوئی نہ فوزیہ کو ماں باپ کی۔ صبح تک سب ٹھیک تھا اور پھر وہ ہوا جس کی توقع کسی کو ہو نہ ہو کم از کم فوزیہ اپنے چھوٹے بھائیوں جیسے چچا ذاد وارث سے تو نہیں کرتی تھی۔ آج بائیس سالہ فوزیہ کے لیے باقاعدہ وہ رشتہ آیا تھا جس کے بارے اشاروں کنایوں میں خواتین کے درمیان یہ ذکر پہلے بھی کئی بار ہوا تھا۔ محلے کے پڑھے لکھے، سلجھے ہوئے اور اکلوتے سرکاری ملازم کا رشتہ کسی نعمت سے کم نہ تھا۔

وہ لوگ جلد شادی کرنا چاہتے تھے کہ لڑکا مختصر چھٹی پر گھر آیا تھا۔ لڑکا دیکھا بھالا تھا پھر بھی ابا اماں نے سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگا۔ سکول سے واپسی پر اماں نے کھانا کھاتے وارث کو یہ خوشخبری سنائی تھی جسے سنتے ہی منہ کا نوالا نیچے پلیٹ میں تھوک کر وہ فوزیہ کے کمرے کی طرف بھاگا تو اماں کا ماتھا ٹھنکا اور چہرے پر کئی رنگ آ کر گزر گئے۔

نوجوانی کی منہ زور اور یک طرفہ محبت کی عمارت خوش فہمیوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ یہ عمارت گر اچانک گر جائے تو نقصان کا ہو جانا کسی اچنبھے کی بات نہیں۔ غصے، دھمکی اور شکوے میں لتھڑا اعتراف محبت سنتے ہوئے فوزیہ بے یقینی کی کیفیت میں کبھی وارث تو کبھی پیچھے کھڑی اماں کو دیکھ رہی تھی۔

چپ کر جا بے غیرت ”۔“

اماں کے زناٹے دار تھپڑ سے وارث کو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا لہذا نہیں پڑا۔ اسے سمجھایا گیا کہ وہ اس کی بہنوں جیسی ہے جسے وارث نے دونوں انگلیاں کانوں میں ٹھونس کر چلاتے ہوئے رد کیا۔ اسے باور کروایا گیا کہ وہ چھ سال بڑی ہے لیکن بات نہ بنی۔ وارث کی ضد تھی کہ فی الفور لڑکے والوں کو انکار کر کے فوزیہ سے اس کی منگنی کر دی جائے۔ اس کی محبت کو بالا آلاخر ابا کے کٹہرے میں حاضر ہونا پڑا۔ ابا کا لاٹھی چارج سب سے بودی دلیل ثابت ہوا اور وارث غصے میں بپھرا سب کو دھمکاتا چوبی دروازے سے نکل چکا تھا۔ وارث کے اس شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے ابا نے ٹھان لی تھی کہ کل ہی یہ رشتہ پکا کر کے فوزیہ کی جلد از جلد رخصتی کریں گے۔

وارث اپنے گھر سے کچھ دور ایک میدان میں بیٹھا ناممکنات کے بارے سوچتا، بے دلی سے لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھتا رہا۔ مغرب کی اذان ہوتے ہی سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے مگر وہ رات بھر مویشیوں کے درمیاں گھاس نیچے بچھا کر لیٹا کروٹیں بدلتا رہا۔ دن چڑھے سے پہلے ابا جب گائے کا دودھ دوہنے آئے تو وارث اٹھ کر جا چکا تھا۔ وہ آج سکول کی بجائے میدان کے شمال کی جانب چل پڑا جہاں درختوں کا جھنڈ تھا۔ اس جھنڈ کے ایک قدیم ترین درخت پر نوجوانوں نے اپنی من پسند لڑکی کے نام کا پہلا حرف اپنے نام کے پہلے حرف سے جوڑ کر لکھا تھا اور ساتھ ہی دل کا نشان ثبت کیا تھا۔ یہ درخت بودا ہو چکا تھا اور بزرگوں نے بارہا اسے کاٹنے کی کوشش کی مگر ان ہی بزرگوں میں سے چند ایک نے اعتراض اٹھایا۔ اڑتی اڑتی خبر تو یہی تھی کہ اس شجر پر اوپر، کہیں بہت اوپر ان کے نام بھی کھدے ہوئے تھے۔

اپنے اور فوزیہ کے نام کے پہلے حرفوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وارث کو وہ دن آیا جب فوزیہ نے ایک سفید رومال پر اپنے نام کے ساتھ وارث کا نام کاڑھ کر اسے دیا مگر دل نہیں بنایا تھا۔ خوش فہمیوں میں جکڑی یک طرفہ محبت کا مارا اتنا ہی سوچ سکا تھا۔ یہی محدود سوچ اسے آگے بڑھنے کی تحریک دے رہی تھی۔ اسے اپنے حق کے لیے آخری دم تک لڑنا ہے کا ورد کرتے اس نے اپنے گھر کی راہ لی تھی۔

گھر کے صحن میں سرکاری ملازم کی اماں بات پکی ہونے پر سب کو مٹھائی کھلا رہی تھی۔ مبارک باد کی گردان وارث نے اپنے کانوں سے سنی تھی۔ اس کا دماغ ماؤف اور دل دھڑکنے کی ترتیب بھول گیا۔ رشتہ پکا ہو چکا تھا اور اماں نے سب مہمانوں کے سامنے جو مٹھائی وارث کے منہ میں ٹھونسی تھی وہ دنیا کی پھیکی ترین مٹھائی تھی۔ اپنے کمرے تک جاتے جاتے وہ مٹھائی نگل چکا تھا۔

رشتے کی خبر پورے محلے میں پھیل گئی۔ شام کو وارث کے دوست اسے کرکٹ کھیلنے کے لیے بلانے آئے تھے مگر وہ سوتا بن گیا۔ رات کو اماں کھانے کا کہنے آئی تو وہ سو رہا تھا۔ ابا کا حکم تھا کہ فوزیہ اس کے سامنے نہ جائے وہ اپنے کمرے میں جائے نماز پر بیٹھی اس کے دل کے سکون لیے دعائیں مانگتی رہی۔ رات کے پچھلے پہر وارث کی آنکھ کھلی تو اسے شدید بھوک لگی تھی وہ کچن میں گھس گیا۔ مکئی کی ایک ٹھنڈی روٹی سے پیٹ کی آگ بجھائی اور واپس اپنے کمرے میں چلا گیا۔

اگلے دو چار روز تک اس کی ہر دھمکی کو سنجیدہ لیتے ہوئے ابا نے اپنا لاٹھی چارج جاری رکھا۔ وارث نے ہار مانی نہ ابا نے اپنی خو بدلی۔ یہاں تک کہ ایک روز گاؤں کا نائی دیگیں پکانے پہنچ چکا تھا۔ دبلا پتلا سا، لٹکی ہوئی مونچھیں گلے میں لال گمچھا وارث کو تپانے کے لیے کافی تھا۔ وہ بات بات پر اس سے اڑ جاتا مگر نائی ٹھان کر آیا تھا کہ یہ شادی ہو کر رہے گی۔ اسے ایک دوست نے بتایا جب تک نکاح نہیں ہو جاتا تب تک شادی نہیں ہو سکتی کیوں نہ مولوی صاحب کو اٹھا لیں۔

وارث نے ان سے سپارا پڑھا تھا لہذا یہ تجویز رد ہو گئی۔ اصل مسئلہ لاڑا تھا مگر اس سے بھڑنا وارث اور اس کے دوستوں کو خاصا مہنگا پڑ سکتا تھا کیوں کہ وہ ایک کڑیل جوان تھا۔ زنان خانے سے لڑکیوں کے گانے کی آوازیں مسلسل آ رہی تھیں۔ تمام حساب کتاب لگانے کے بعد طے یہ پایا کہ وارث اندر زنان خانے میں لڑکیوں کے درمیان بیٹھ کر کوئی دکھی گانا گائے گا۔ پہلے تو فوزیہ روئے گی اور پھر اس رشتے سے انکار کر دے گی۔

وارث نے گانا گایا، فوزیہ بہت روئی لیکن شادی سے انکار نہ کیا۔ رخصتی کے وقت اماں اور فوزیہ خوب روئیں ابا کی آنکھوں میں بھی نمی تھی مگر وارث چپ تھا۔ اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے ابا سے بس اتنا کہا تھا، ”ابا تم چاہتے تو میں خوش رہ سکتا تھا“ ۔ ابا نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی اور یوں بظابر یہ محبت اپنے انجام کو پہنچی۔

وارث دونوں ہاتھ اپنی گود میں رکھے کچھ دیر یوں ہی بیٹھا رہا۔ ابا نے سونے سے پہلے دروازے سے جھانک کر دیکھا تو وہ اپنے ہاتھوں کی لکیریریں بغور دیکھ رہا تھا۔ کچھ کہے بغیر وہ واپس پلٹ گئے۔ ابا کو صبح پتا چلا کہ رات کو وارث ہاتھوں میں محبت کی نہیں زندگی کی لکیریں دیکھ رہا تھا۔ اس نے بلیڈ سے اپنے ہاتھ کی نس کاٹی تھی۔

”چائے“

وارث چونک کر حال میں لوٹا تھا۔ وہاں کوئی گاؤں تھا نہ میدان کے پاس درختوں کے جھٹ میں وہ درخت۔ بل کھاتی پگڈنڈیاں، نہر کے پانی کی وہ مدھر آواز اور فوزیہ ایک ساتھ غائب ہوئے تھے۔ چائے کے دو کپ لیے ایک پاگل سی لڑکی سامنے کھڑی تھی۔ شانزے نے ایک کپ وارث کی طرف بڑھایا جسے وارث نے تھام لیا۔ وہ نچلے فلیٹ میں رہنے والی نہ صرف اس کی کولیگ بلکہ اس شہر میں واحد رازداں بھی تھی۔ اسے وارث سے بے پناہ محبت تھی۔

چائے پی کر وارث نیچے آیا اور لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا۔ اس کا دھیان بار بار بھٹک رہا تھا۔ آخری بار وہ ابا کی میت کو کاندھا دینے گاؤں گیا تھا۔ سرسری نظر فربہ سی فوزیہ پر پڑی تھی۔ آخر اس کا اب کیا رہ گیا تھا دل محلے میں؟ ماں باپ مر چکے، فوزیہ اپنے گھر میں خوش تھی۔ شاید اسے آبائی گھر کی یاد ستا رہی تھی یا پھر اماں ابا کی قبروں پر حاضری دیے عرصہ گزر گیا تھا۔ سر جھٹک کر وہ لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلانے لگا اور کچھ ہی دیر میں صبح کی فلائٹ کی ٹکٹ بک کروا چکا تھا۔

ٹکٹ ہاتھ میں لیے وارث سر جھکائے صوفے پر بیٹھا تھا اور سامنے بیڈ پر رکھے ایک بیگ میں شانزے کپڑے پیک کرتے ہوئے بار بار اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ بیگ پیک کر چکی تو وارث نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ فلائٹ میں ابھی وقت تھا دونوں کچھ دیر یوں ہی الگ تھلگ خاموش بیٹھے رہے۔ بیڈ اور صوفے کے درمیان دو قدم کا فاصلہ صدیوں کی مسافت معلوم ہوتا تھا۔ شانزے اٹھ کر صوفے کے پاس نیچے بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک گھڑی تھی۔ آنکھوں کے اشارے سے ہاتھ آگے بڑھانے کو کہا تو وارث نے اپنا بایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔

” دایاں“
شانزے نے دھیرے سے کہا تھا۔
” مرد دائیں ہاتھ پر گھڑی نہیں پہنتے“

وارث کی بات کو ایک لمحے کے لیے نظر انداز کر کے اس نے خود ہی اس کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اسی کلائی پر اس نے بلیڈ پھیرا تھا۔ شانزے اپنی پوروں سے زخم کے نشان کو محسوس کرتے ہوئے بولی۔

” تمہارے زخم پر گھڑی باندھ رہی ہوں تاکہ فوزیہ یہ نشان نہ دیکھ سکے“ ۔

وہ گھڑی باندھ کر اٹھی اور دروازے کے پاس جا کر ایک نظر مڑ کر اسے دیکھا۔ کیا کچھ نہیں تھا اس ایک نظر میں۔ بے پناہ محبت اور درد، تھوڑا سا شکوہ جیسے کہہ رہی ہو۔

”وارث تم اگر تھوڑی سی گنجایش پیدا کر لیتے تو ہم دونوں خوش رہ سکتے تھے“ ۔

وہ فقط خدا حافظ کہہ کر بھاگتی ہوئی سیڑھیاں اتر گئی۔ وارث نے ایک گہری سانس لے کر اسے نظروں سے اوجھل ہوتے ہوئے دیکھا۔

بٹوے میں جگہ نہیں تھی اور شانزے نے بیگ بھی سامان سے بھر دیا تھا۔ وہ ہاتھ میں پکڑی فلائٹ کی ٹکٹ آخر رکھتا تو کہاں رکھتا؟ کوئی گنجایش تھی ہی نہیں سو اس نے ٹکٹ پھاڑ دی۔

***           ***

میرا اصل نام فدا محمد جب کہ قلمی نام فدا حیدر ہے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مانسہرہ سے انگریزی ادب میں بی ایس کیا ہے۔ شعبہ تدریس اور ڈراما رائٹنگ سے وابستہ ہوں۔ اس کے علاوہ افسانہ نگاری اور شعر و شاعری میں دل چسپی رکھتا ہوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments