دھوپ چھاؤں سی۔ شمائلہ
صفحۂ ہستی پہ وارد مخلوق خدا بہ وجوہ کسی خاص مقصد، دھرتی کے سینے پہ وزن دراز ہیں۔ مخلوق خدا کے بے ہنگم اجتماع میں واحد اشرف مخلوق نے ایک طرفہ تماشا بپا کیا ہوا ہے۔ کوئی خوش تو کوئی غمزدہ، کوئی پرسکون تو کوئی بے زار، کوئی اعلیٰ تو کوئی آلہ کار۔ بعضے تو ایک جوش تغافل یا پھر تجاہل کامل کا طوفان لیے پھرتے ہیں، اور بعضے سینۂ دھرتی کی شش جہاتی تعمیر اور اسے سنوارنے سجانے کے درپے رہتے ہیں۔ اول الذکر کی تعداد آٹے جتنی جبکہ مؤخر الذکر آٹے میں نمک کے مصداق ہوتے ہیں۔ اور بلا شبہ نمک سے ہی روٹی کا ذائقہ بنتا بگڑتا ہے، اور کیونکر نہ ہو؟ کیونکہ
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
سرزمین خداداد کے سبھی رنگ ہی رنگریز ہیں اور الگ دنیا بسائے ہوئے ہیں۔ مؤخرالذکر فلسفی اور عالم، فاضل سکالرز، سائنسدان کہلواتے ہیں اور جستجو میں رہنے والے لوگ ہوتے ہیں، جبکہ اول الذکر، عقل کل پائے گئے ہیں، ان کے ہاں ہر بات، ہر جذبے، ہر رویے کا اختتام ملتا ہے، وہیں آخر والوں کے ہاں اختتام سے آگے دنیا وا ہوتی ہے۔ اسی دھن میں رہتے رہتے وہ نئی دنیا کی دریافت کرتے ہیں، نئی زندگی سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، نئی جہات کا سامنا کرتے ہیں اور دنیا کے لیے کچھ ایسا نیا کر جاتے ہیں جس میں رہتی دنیا کی انسانیت بقا اور شفا پاتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ
(Novelty is Better than Repetition) یعنی ”جدت تکرار سے بہتر ہے“
اب چونکہ دونوں، یعنی اول الذکر اور مؤخر الذکر طبع انسانی سے وابستہ ہیں، تو موخرالذکر میں وجود زن کا کردار بھی اس قبیل کے نابغوں میں شامل ہے۔ ایسے میں بھلا علامہ محمد اقبال کو کیونکر فراموش کیا جا سکتا ہے، میرا یہ ماننا ہے کہ اقبال بھلے ہی خود کو اپدیشک کہہ گئے مگر علم اور جہل میں بحر حال فرق تو جان کر ہی کچھ کہتے ہوں گے، سو انھیں کی زبانی ان کا مصرعہ یاد کرتے ہیں
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
خاکہ لکھنے کی جستجو ہمیں آج جس شخصیت کو صفحہ قرطاس پر بیان کرنے کے لیے لے آئی، وہ وہی وجود زن ہی ہے، مگر جناب من وہ صنف نازک سے صنف آہن تک کا سفر طے کرتے ہوئے شخصی آزادی اور حقوق نسواں کی تحریک کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔ انھیں کی زبانی، جناب قمر رضا شہزاد صاحب کا یہ شعر سنا تو بس سر دھننا لازم ٹھہرا، ملاحظہ کیجیے،
؎میں اتنا نرم طبعیت کہ یہ بھی چاہتا ہوں
جو آستیں میں رہتا ہے وہ بھی پل جائے
اس خاکے کو لکھنے کے دوران مذکورہ بالا شعر بطور محرک ذہن نشیں رہا، اور اسی خیال میں غالبؔ کا شعر یاد کے دریچے میں کودتا ہوا سامنے آ وارد ہوا، چچا نوشہ کے کیا کہنے، کون سی ایسی کیفیت ہے کہ جو گلدستۂ غالب ؔ میں نہ آوے۔ کہتے تھے کہ،
؎وا حسرتا! کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریص۔ لذت۔ آزار دیکھ کر !
سو ہمارا یہ خاکہ اس شخصیت کے لیے جو غاؔلب کی طرح آزاد منش، منٹو کی طرح آزاد لب، اور عصمت کی طرح آزاد طبع، مست مولا جیتی ہیں، اور جو وہ چاہتی ہیں کرنا، وہی کرتی ہیں، جو وہ چاہتی ہیں بولنا، وہی بولتی ہیں۔
ڈاکٹر شمائلہ حسین، یوں تو ان سے تعلق دور کا ہے لیکن علمی و ادبی حوالے سے قریبی رشتے داری ہے۔ راقم کی جان پہچان، آں جناب سے اردو ادب کے توسط سے ہوئی، جو حاضر وقت میں دیال سنگھ کالج میں معلمہ کے فرائض سر انجام دیتی ہیں، اور لاہور شہر کی فضا میں جیتی ہیں۔ بطور اسسٹنٹ پروفیسر اردو وہ اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، بلکہ یوں کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ اپنی علمی و ادبی ذوق کو جلا بخش رہی ہیں۔ مدت العمر سے شدت العمری تک کا فاصلہ طے کرنا ہر نابغہ روزگار کی قسمت کہاں؟
دھرتی کے سینے پہ نگینے کی مانند عیاں ہونا، عہد حاضر کی کشمکش اور بے ہنگم ماحول میں اپنے فنی جواہر کو ازبر کرانا اور آگے بڑھتے جانا، اور کڑے امتحانات کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ان کی بے چین روح ان کو ورثے میں نہیں بلکہ فطرت سے ملتی ہے۔ ایسے انسان سماج میں خال خال ملتے ہیں، جن کی چاہت خود پرستی کے دائرے سے نکل کر انسان دوستی اور اخلاقی اقدار میں رچ بس جاتی ہے۔ خاکہ لکھنا کوئی سہل نہیں بلکہ یوں سمجھیے جیسے کوئی ماہر فنکار پینسل سے تصویری سکیچ/خاکہ بناتا ہے، ٹھیک اسی طرح ایک خاکہ نگار لفظوں سے نہ صرف کسی شخصیت کی تصویری عکاسی کرنے کا اہل ہوتا ہے بلکہ اس سے شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ پس اسی حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ کی شخصی اور تصویری عکاسی کی سعی میں کہیں کوئی تشنگی رہے تو صرف نظر کیا جائے اور اسے ان کا شخصی خاکہ ہی گردانا جائے گا۔
ڈاکٹر شمائلہ حسین کون ہیں؟ کیا ہیں؟ کیسی ہیں؟ ان کے بارے میں کیا لکھنا ہے؟ کیسے لکھنا ہے؟ البتہ اتنا تو لازم ہے کہ وہ ایک پر اثر اور سحر انگیز شخصیت ہیں۔ 2 جنوری 1985 ء امین آباد تحصیل لیاقت پور میں جنمی ڈاکٹر شمائلہ حسین، کی ادبی و علمی دنیا، ان کی بنیاد گزاریں، ان کے ادبی کام، ان کی معاشرتی اور معاشی زندگی، اور ان کے زندگی کے مقاصد جو پورے ہوئے نا ہوئے، اور مستقبل کی بات ان سب پہ ہم درجہ بہ درجہ بات کریں گے۔
ان کے والد جناب الطاف حسین کے ہاں پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹے نے جنم لیا۔ آپ کی والدہ محترمہ کا نام شمیم اختر تھا۔ آپ کو علمی و ادبی ذوق اپنے نانا اور والدین سے ملا، اور خواتین کی تعلیم کو جس طرح سے ان کے گھر والے اچھا گردانتے ہیں، اس حوالے سے ڈاکٹر شمائلہ اپنی فیملی کو فیمنسٹ مانتی ہیں۔ اچھے شاگردوں کی طرح اپنے اساتذہ کے علم و فن اور شخصی تعمیری حوالے سے متاثر ہوئیں اور علم و ادب کی راہ کو چن لیا۔ پرائمری تک کی تعلیم اپنے شہر میں ہی لی، بعد ازاں آپ میاں چنوں فیملی کے ساتھ منتقل ہو گئیں۔
تعلیم کے حصول کی خاطر ملتان کا رخ کیا جہاں بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے اردو زبان و ادب میں ماسٹر کیا۔ پھر اس طرح ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اور پی ایچ ڈی میں آپ کے مقالے کا عنوان ”ڈاکٹر اسلم انصاری کی علمی و ادبی خدمات“ کے نام سے تھا۔ اس کے علاوہ آپ نے ایک ریسرچ پیپر بھی لکھا جو کہ ”ڈاکٹر اسلم انصاری کی علمی و ادبی خدمات“ کے عنوان سے پبلش ہوا۔ زندگی کا ایک پہلو جسے ہم لوگ یا سماج شاید لازم سمجھتا یا قرار دیتا ہے وہ ہے شادی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر صاحبہ ہنوز مجرد ہیں۔
آپ نے کریئر کا آغاز روہی ٹی وی سے 2007 سے کیا اور 2009 تک وہاں انفوٹینمنٹ اینکر اور نیوز اینکر کے خدمات سرانجام دیں۔ آپ کی لیکچرر کی جاب کی پہلی پوسٹنگ میاں چنوں آبائی شہر میں ہوئی، بعد ازاں راولپنڈی میں تبادلہ ہوا، اس کے بعد لاہور میں دیال سنگھ کالج میں تبادلہ ہوا اور اب وہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ اس صنف نازک نے صنف آہن کے سفر کو طے کرنے میں سماجی یا معاشرتی اصلاح کار ہونے کا بیڑہ اٹھایا، ادبی، سماجی زندگی اور شخصی آزادی کے لیے بہت کچھ برداشت کیا اور اس آزادی کی قیمت چکائی اور اس کے عوض ان کا حوصلہ مزید بڑھا،
رکتی ہے میری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
انسان محض خودنمائی کا شکار ہو تو حلقہ تنگ ہونا ایک فطری عمل ہے۔ لیکن صفحہ ہستی پہ موجود حضرت انسان (مرد و زن) جب خود کو بلندی کی راغب گامزن کرنے کے در پے ہو تو اسے تاحد افلاک نگاہ دوڑانی پڑتی ہے، گویا Think about Sky، and then Sky کے مصداق مادام شمائلہ لاہور شہر میں، بطور استاد، ادیب، شاعر، سیاح، اور سماجی بہبود کا حوالہ گردانی جاتی ہیں۔ چونکہ نجی زندگی ایک ایسا مادہ ہے جس کی جیسے ہوتی ہے اسے ویسے بدلتی ہے، اور قدرت کا سب سے بڑا کمال کام یہ ہے کہ وقت کبھی بھی اور کسی کے لیے بھی نہیں رکتا، جبکہ وقت کا کمال یہ ہے کہ یہ ہر انسان کو دن میں 24 گھنٹے ہی دیتا ہے۔ اب اگر آپ کی زندگی میں رکاوٹیں، تندی باد مخالف یا پھر مسائل نہ ہوں تو ہم اور آپ شاید اپنی پہچان ہی نا پا سکیں اور نہ ہی کسی خاص مقصد کا تعین کرسکیں گے۔ جب نہ کوئی مقصد ہو گا تو پھر کسی مقام کا حصول چہ معنی است۔ لہذا صادق سیالکوٹی کے اس شعر سے مزید زندگی کے اس پہلو کو بیان کرتے ہیں کہ
؎تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
تو شمائلہ حسین، آج جو شمائلہ حسین ہیں وہ شاید آسانیوں، سہولتؤں اور آسائشوں میں پلی ہوتیں تو آج وہ یہ والی شمائلہ حسین نا ہوتیں۔ آپ کا مزاج زمانے کی تلخیوں نے گوندھا ہے، آپ کی تربیت راستے کی رکاوٹوں نے کی ہے، آپ کی شخصیت میں نکھار آپ کے خلاف کی جانے والی حرکات کی وجہ سے ہے۔ آج شمائلہ حسین علمی، ادبی، سماجی اور تاریخی شعور رکھنے والی وہ معلمہ اور طالبہ ہیں جنھوں نے زندگی کے دھارے سے خود کو کشید کیا، جیسے غالبؔ کا کہنا ہے کہ،
؎کانٹوں کی زباں پیاس سے سوکھ گئی یا رب
اک آبلہ پا وادی پرخار میں آوے
آپ کے دوست احباب کی ایک لمبی فہرست ہے سو وہ فہرست کہیں پھر کبھی سہی۔ آپ سماجی ایکٹوسٹ بن کر ابھریں، اور اساتذہ یا سرکاری ملازمین ہوں، طالبعلم ہوں، خواجہ سرا ہوں سب کے حقوق کے لیے کوشاں رہتی ہیں، بلکہ طالبعلموں کو حصول تعلیم کی خاطر معاشی معاونت کر کے بھی تسکین پاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحبہ کا ایک اور رخ ہے کہ وہ میڈیا پرسن بھی ہیں۔ روہی ٹی وی سے سکرین پر آنا جو شروع ہوا تو یہ سلسلہ مختلف اوقات میں کسی نہ کسی حوالے سے چلتا رہا۔
اگرچہ شعبہ بدل گیا مگر وہ سکرین پہ لازم آ موجود ہوتی ہیں، کبھی اپنے انٹرویوز کے لیے، کبھی کسی محفل کی صدارت کے لیے، کبھی کسی خاص شخصیت کے انٹرویوز کی خاطر، الغرض سکرین پہ کسی نہ کسی طور وہ آ ہی جاتی ہیں۔ آپ باقاعدہ طور پر مختلف کتابوں پہ تبصروں کے وی لاگز بھی کرتی ہیں اور ویب چینل پاکستان خبر کے ساتھ کرنٹ افئیرز اور انٹرویوز کے ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتی ہیں۔
عالموں کی دنیا شاید وسیع نہیں، ہاں مگر سبھی علم والے عالم کہاں ہوتے ہیں۔ اور جو عالم ہوتے ہیں ان کی موت اور زندگی ایک سی ہوتی ہے۔ یعنی وہ جسد سے مبرا مخلوق ہوتے ہیں۔ چونکہ ڈاکٹر صاحبہ پیشے سے معلم ہیں اور یہ شیوۂ پیغمبری یا شعبہ ء پیغمبری وہ چننے پہ مصر تھی اور خود کو استادی کے پیشے سے اپنی خواہش سے چنا، حالانکہ بقول ان کے وہ اتفاقی طور پر استاد بنی مگر یہ اتفاق ویسا نہیں تھا جیسے کہ لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم یہ بننا چاہتے ہی نہیں تھے لیکن بن گئے، مگر موصوفہ تو بلا شبہ اندر کہیں دور داخل میں خود کو By Choice Teacher بنا چکیں تھیں۔
اور اپنے اس دھرتی پہ ہونے کو ثابت کیا، بلکہ جب آپ نہ ہوں گی تب بھی موجودگی کو قائم رکھنے کے لیے سبھی حجتیں تمام کر چکی ہوں گی۔ پس لکھنا، پڑھنا ان کی زندگی کا اوڑھنا اور بچھونا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی علمی و ادبی زندگی کا جائزہ اور اندازہ ہم ان کی ادبی تحاریر سے لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کی دو عدد کتب درج ذیل ہیں۔
1۔ اردو ڈرامے میں نمائندہ نسائی کردار
2۔ سرائیکی دانش کے ساتھ مکالمہ
ان کی زندگی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات، خواہ وہ سماجی ہوں، تعلیمی ہوں، معاشی ہوں یا پھر ذاتی ہوں، وہ سب شمائلہ کی زندگی میں آگے بڑھنے کا زینہ بن گئے۔ وہ غم ان کے مشاغل، وہ پریشانیاں ان کی محفل کی دوست بن گئیں۔ بس پھر آپ نے علم سے وابستگی اختیار کی، مطالعہ کیا اور آج اس مطالعے کا نتیجہ ہے کہ وہ کمال فن کے سبھی رموز اوقاف سے بہرہ ور ہیں۔ ترقی اگر معیشت ہوتی ہے تو ان کی معیشت بھی اچھی ہے، ترقی اگر شہرت ہوتی ہے تو شہرت بھی ان کے آلے دوالے ہے۔
ترقی اگر خوبصورتی ہے تو یقناً حسن زن میں کہیں کوئی کمی نہیں۔ غربت نے، معاشرت نے، گھریلو ناچاقیوں نے ڈاکٹر صاحبہ کو اذیت تو پہنچائی ہو گی مگر ان کی ترقی کی راہ کو ہموار کیا۔ یہاں ڈاکٹر صاحبہ نے غربت کو خاص طور پر اپنا جرم نا بننے دیا اور راہ فرار پائی تو کتابوں کی دنیا میں۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے کتاب سے تعلق استوار کر لیا۔ اور آج کتاب ان سے اور وہ کتاب سے جان نہیں چھڑا سکتیں۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ، شہر لاہور میں جہاں جہاں بک فیئر ہوتا ہے، جہاں جہاں کوئی علمی اور ادبی محافل سجائی جاتی ہیں، جناب عالیہ وہاں لازماً موجود ملیں گی۔
ان کے چہرے مہرے اور ڈیل ڈول پر لب کشاں ہوں تو دو لفظوں میں صرف اتنا ہی کہنا کا فی ہے، کہ مشرقی حسن سے مالا مال ایک الہڑ مٹیار کا جو خاکہ ہمارے ذہنوں میں بنے بس ویسی ہیں شمائلہ۔ اجلی اجلی سفید مگر گندمی رنگ سے گندھی رنگت، آنکھیں بڑی بڑی، اور ماتھا کشادہ، اور بال ریشمی اور ملائم اس کے علاوہ سنہری رنگ کے حامل ہیں، ناک میں کوکا یا نتھلی اکثر دکھائی دیتی ہے۔ ڈیل ڈول متوسط، کہ نا تو بندہ فربہ کہے اور نہ ہی کمزور۔
ہاں اڑنے کا شوق ازحد ہے، اس لیے مینائی گردن میں کوئی مبلغ 3 عدد چڑیاں کندہ کروا رکھی ہیں جو ان کے حسن کو مزید نکھار دیتا ہے۔ اگر پہناوے کی بات جائے جائے تو اکثر روایتی شلوار قمیض ہی پہنتی ہیں البتہ سرحد پار کے پہناووں میں ساڑھی زیب تن کرتی ہیں اور ساڑھی پہننے کی نا صرف تمیز سے واقف ہیں بلکہ پھبانے کی بھی قائل۔ جسمانی صحت اچھی ہے، ہاں انسان ہونے کے ناتے کبھی کبھار جسم کا صدقہ نکل جائے تو بہتر ہے۔ کھانے پینے کی شوقین تو نہیں البتہ زندہ رہنے کے عوض ایک ذی روح کو جتنے کی ضرورت ہوتی ہے بس اتنا ہی فی نفسہ چاہت ہوتی ہے۔ الغرض، کبھی دھوپ سی تو کبھی چھاؤں سی ہیں یہ ڈاکٹر شمائلہ حسین اور شاید اس شعر سے ان کی شبیہ بیان ہو جائے۔
؎ ہم نے تمھارے نام کی تتلی دبوچ لی!
سب رنگ! کائنات کے مٹھی میں آ گئے۔
Facebook Comments HS


