زوروں پہ پھر سے ہے نفرت کا بہاؤ
سانحہ 9 مئی کے ذمہ داران کو اگر ثبوتوں کے ساتھ بروقت اپنے انجام کو پہنچا دیا جاتا، انہیں سزائیں دے دی گئی ہوتیں۔ عمران خان کو انتخابات سے چند روز پہلے تین مقدمات خصوصاً عدت والے مقدمے میں بھونڈے انداز میں سزائیں نہ سنائی گئیں ہوتی۔ تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کو بنیاد بنا کر ان سے انتخابی نشان نہ چھینا گیا ہوتا۔ ان کے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی میں غیر ضروری روڑے نہ اٹکائے جاتے، انہیں آزاد آزادانہ انتخابی مہم چلانے کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جاتی تو شاید آج انتخابات کو اس طرح مینیج کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ جو غلطی 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کے لیے کی گئی آج اسے اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے بدترین حماقت کی گئی، غلطیوں اور حماقتوں کا سفر قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہے اور نجانے کب ہمارے طاقتوروں کو یہ بات سمجھ آئے گی جو بات جالب کئی برس قبل کہہ گئے تھے کہ
” محبت گولیوں سے بو رہے ہو، وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو،
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے، یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو،
پاکستان کی عوام بھیڑ بکریاں نہ پہلے تھیں اور نہ اب ہیں۔ یہ ہی قوم تھی جس کی سیاسی قیادت نے متحدہ ہندوستان سے ایک آزاد پاک دھرتی پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پہ روشناس کرائی تھی کسی فوجی جرنیل یا اس کے ماتحتوں نے پاکستان کو آزادی نہیں دلائی اور یہ کسے خبر تھی کہ یہ پاک دھرتی چند مفادات کے غلاموں کے ذاتی مفادات کے تحفظ کی جنت بن جائے گی جس کی آزادی کے لیے خون کی ندیاں بہانی پڑی تھیں۔
پاکستان کو دولخت، متحدہ پاکستان کی سیاسی قیادت نے نہیں کیا تھا بلکہ ایک فوجی آمر اور اس کے حواریوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ، اپنی جنسی اور مالی بھوک مٹانے اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے ملکی سالمیت کو ریزہ ریزہ کیا اور پھر اسی قوم کی سیاسی قیادت نے ٹوٹے دولخت ملک کے ایک حصے کو بنایا، سجایا سنوارا، ایٹمی طاقت بنیا، متفقہ آئین دیا، جنگی قیدی آزاد کرائے اور دشمن سے مفتوحہ علاقے آزاد کرائے، ادارے بنائے، عوام کو سیاسی شعور دیا اور بدلے میں اسے کیا ملا، ایک اور بیرونی آقاؤں کے زرخرید غلام فوجی آمر نے اس ہردلعزیز عالمی مدبر سیاسی لیڈر کا عدالتی قتل کروایا۔
آج ایک بار پھر پاکستان اس نہج پہ پہنچ چکا ہے کہ اس کی سیاسی، جمہوری اور معاشی آزادی داؤ پہ لگی ہوئی ہے اور اس کی آزادی کے لیے اپنوں کی غلامی نامنظور کا نعرہ آج ہر طرف ورد زباں ہے۔ آج ملک کی عوام خصوصاً نوجوان طبقے کا بڑا حصہ ملک کے محافظوں کو گھس بیٹھے لٹیروں، آئین، قانون شکنوں کا ٹولہ اور ایک ایسے شخص کو اپنا لیڈر اپنا مسیحا مان بیٹھا ہے جس کی نظر میں عام آدمی کی حیثیت اس کے پالتو جانور سے بھی کم ہے جو کہ غماز ہے اس تباہی کا جو بڑی تیزی سے ہماری اوڑ بڑھ رہی ہے۔
ڈیڑھ کروڑ سے زائد پاکستانیوں نے عمران خان کو اپنا مسیحا سمجھ کر ووٹ دیے ہیں۔ عوام سمجھتے ہیں کہ عمران ہمیں مہنگائی بیروزگاری کے بھنور سے نکال سکتا ہے، ان کے دردوں کا درمان کر سکتا ہے، وہ انہیں آئین میں دیے گئے انسانی، شہری حقوق کے مطابق زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کر سکتا ہے، مگر جس شخص کی ساری سیاست اس کی ذات کے گرد گھومتی ہو، انسانی احساسات اور جذبات اس کے سامنے کوئی معنی نہ رکھتے ہوں وہ قوم کا مسیحا کیسے ہو سکتا ہے۔ عمران خان ان ہی طاقتوروں کے ہاتھوں سے تراشی ہوئی ایک کٹھ پتلی ہے جسے بنا سجا کر اس کی نوک پلک درست کر کے، 2011 سے ایک بھرپور پلانگ کے تحت ملک کی باقی سیاسی قیادت کے خلاف عوام کی دلوں اور ذہنوں میں زہر گھول کر ان کے خلاف کرپشن کا بیانیہ بنا کر اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھایا گیا تھا۔
عمران خان کو تراشنے خراشنے والوں کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ جس ہیرے کو پالش کر کے قوم پہ مسلط کرنے جا رہے ہیں وہ عنقریب ان کے اپنے ہی گلے کی وہ ہڈی بننے جا رہا ہے جو نہ نگلنے سے نکلے گی اور نہ ہی اگلنے سے۔ عمران خان نے اپنے محسنوں کے ساتھ وہ کیا جس کے شاید وہ حقدار بھی تھے۔ ایک مادر پدر آزاد، خود اس کے بقول کہ اس کا تو (نعوذ با اللہ) اللہ جل شانہ پہ ایمان ہی نہیں تھا، ناسور کو قوم پہ مسلط کرنے کی سزا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دینی ہی تھی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ پنجاب، کے پی کے اور قومی اسمبلی جہاں تحریک انصاف کی خاصی مضبوط حمایت اور اراکین موجود ہیں مچھلی بازار بنی ہوئی ہیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد اراکین جو اب سنی اتحاد کونسل کا روپ دھارن کرچکے ہیں ان اسمبلیوں میں وہ طوفان بدتمیزی بپا کیے ہوئے ہیں جو ان کی سیاست کا خاصہ رہا ہے۔ ان کے بانی کی سیاسی حکمت عملی، ان کے جارحانہ عزائم ان کے رویوں سے عیاں ہیں کہ وہ سیاست صرف انتشار اور افراتفری پھیلانے کے لیے کر رہے ہیں، ملک کے نازک سیاسی اور معاشی مسائل سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی مختلف عہدوں کے لیے نامزدگیاں پیغام ہیں اسٹیبلشمنٹ اور طاقتوروں کو کہ ہم نے مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت کرنی ہے۔ ہم پاکستان کی ترقی خوشحالی نہیں بلکہ پاکستان کی ابتری اور بدحالی چاہتے ہیں۔
عمران خان اور ان کے رفقاء ان اسمبلیوں اور حکومتوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں مگر اسی اسمبلی میں اپنی اور ساتھیوں کی رہائی کی قرارداد پیش کر کے اپنی منافقانہ سیاست کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے رفقاء ملکی سلامتی کے اداروں، عدلیہ، الیکشن کمیشن، پارلیمان کی عزت و توقیر پہ کھلے عام حملہ آور ہیں، لیکن ملکی ادارے ایک غیر ملکی ایجنٹ اور اس کے انتشاری ٹولے کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ ان کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی ہے کہ آخر کس طرح وہ ملکی تاریخ کے اس خوفناک عفریت سے نمٹیں گے۔
پاکستان اس وقت صرف سیاسی اور معاشی دیوالیہ پن کا شکار نہیں ہے بلکہ تمیز، کردار، اخلاقیات، برداشت، انسانیت، حیا، غیرت اور مذہبی رواداری کے معاملات میں بھی دیوالیہ پن کی حدود کو چھو رہا ہے۔
عمران خان کو ووٹ دینے اور ان کی اندھی تقلید کرنے والے پاکستانیوں کو بھی سوچنا پڑے گا کہ جس شخص کو وہ اپنے مسائل اپنی مشکلات اپنی تکالیف کا مداوا کرنے والا مشکل کشا سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ صرف عمران خان ہی ہے جو پاکستان کو اس سیاسی اور معاشی بھنور سے نکال سکتا ہے تو ان سے پوچھیں کہ کیا پاکستان کے مفاد میں اپنے ذاتی مفاد، اپنی انا، خود پرستی، ہٹ دھرمی، تکبر کو ایک طرف رکھ کر صرف اور سب سے پہلے پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا جا سکتا۔ کیا نفرت کے اس بہاؤ کے آگے صرف پاکستان کی بقا، سالمیت، سیاسی اور معاشی استحکام کی خاطر بند نہیں باندھا جا سکتا۔ امید ہے کہ پاکستان سے محبت کرنے والے یقیناً اپنے لیڈر اور ان کے انتشاری رفقاء سے یہ سوال ضرور پوچھیں گے


