عورت حقوق کی شہر بانو


آج مجھے فارس اور نینوا کی تہذیب کے اس اہم کردار کی یاد آ رہی ہے جس نے ایران کے بادشاہ یزد گرد کی سوم بیٹی ہونے کے باوجود جنگی قیدی ہونے میں بھی ”عفت“ کی ایسی مثال قائم کی کہ محمد ﷺ کے نواسے حسینؓ کی شریک حیات بن کر ”شہر بانو“ کہلائیں اور نہایت جرات مندی سے کربلا میں حق کو بلند کرنے کے لئے پورے کنبے کی تربیت میں اپنا حصہ ڈالا اور کنبے کی قربانی دے کر کربلا کو حق کا استعارہ بنایا، شاید کہ لاہور کی اے ایس پی ”شہر بانو“ بھی اسی صفت کے تحت بہادری کا۔ استعارہ بنی اور اہل ہوس و تنگ نظری کے جہل بھرے پیٹ پھلاتے بھیڑیوں سے سہمی ہوئی عورت کی عصمت و توقیر بچا لے گئی

سوچتا ہوں وہ مہان، کم پڑھے لکھے سماج کے احساس مند والدین کہاں ہیں جو صبح کو پھول بننے کے مرحلے میں کھلتی کلی کو توڑنے سے منع کرتے تھے، پھول کی حفاظت میں اس کے مرجھانے پر گھنٹوں افسردہ رہا کرتے تھے۔

شام ڈھلے پودوں کے تحفظ اور آرام کی خاطر ان کے قریب جانے سے روکتے تھے، اپنے چمن میں کھلتے ہر پھول کو سینچنے میں شرابور ہو جایا کرتے تھے۔ اپنی جنم کلی کی پائل لانے اور اس کی چھن چھن جھنکار میں گم ہو جانے کو عبادت سمجھا کرتے تھے، ان کی صبح ہی کلی کی حفاظت سے طلوع ہوتی تھی اور اندھیارے میں اپنی کلیوں کے لیے روشنی کے بندوبست میں ہلکان ہو جایا کرتے تھے۔

اس بظاہر تعلیم یافتہ اور بزعم جدید سماج سے نجانے وہ ماں باپ کہاں گم ہو چکے ہیں جو اپنی بیٹیوں کے ”بر“ سے زیادہ ان کی تعلیم اور تربیت کے لیے متفکر رہا کرتے تھے۔ بیٹیوں کے ناز نخروں کو اپنا ایمان ایقان اور سکون کا ذریعہ سمجھا کرتے تھے۔

ان کے سکھ میں اپنی آنکھوں کی تھکن کو بھول کر ترو تازہ ہونے کا عندیہ دیا کرتے تھے، اپنی بیٹیوں کی آزادی پر سماج کی فرسودہ روایتوں پر پرکھوں کی ناراضگی بھی مول لے لیا کرتے تھے، بس ان مہان اور شعور سے لیس والدین کو اپنی بیٹیوں کی طاقت پر یقین تھا اور اسی خاطر وہ جنس کی تفریق سے ماورا بیٹیوں کے اعتماد کا نشان ہوا کرتے تھے، اپنی بیٹیوں کے خوف کی دہلیز پار کرنے میں ان کے ہم رکاب ہوا کرتے تھے، ان کی سماجی اور سیاسی تربیت میں ان کے حوصلوں کو جلا بخشتے تھے، انھیں بیٹیوں کے مضبوط ارادے امید سحر کی نوید کا پیغام دیا کرتے، وہ بیٹیوں کے کھلکھلانے مست رہنے اور ان کی آزاد منشی کو زندگی سمجھا کرتے تھے، بیٹیوں کے لیے ”زیب النسا“ ”حور“ ”پاکیزہ“ اور خواتین ڈائجسٹ پڑھنے کا انتظام کیا کرتے تھے۔

بیٹیوں کے شعور کو صیقل کرنے میں تن من دھن وار دیا کرتے تھے، میلوں ٹھیلوں میں لے جا کر بیٹیوں کے سماجی شعور میں اجتماعی مفادات کی سوچ پیدا کیا کرتے تھے، کٹھناؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم جولیوں کی منڈلیاں سجانے کا اہتمام کیا کرتے تھے، بیٹیوں میں سماجی اور سیاسی حقوق کی جوت جگایا کرتے تھے، انھیں یقین تھا کہ ان کی بیٹیوں کا سیاسی اور سماجی شعور ہی ایک طاقتور سماج کی تشکیل کا سبب ہو گا۔

یہ کمال ارادوں کے وہ والدین تھے جو سماج کی تہذیب، شائستگی کو سماجی رواداری اور اس کی ترقی میں ”نظریاتی سیاست“ کے انسان دوست نکتہ نظر کی آبیاری کو اپنی نسل میں منتقل کرنے کے لیے بیقرار رہا کرتے تھے، وہ ہر انسانی المیے اور انسانی تفریق کو نظریاتی سیاست سے تبدیل کرنا چاہتے تھے، یہ ڈاکٹر سرور اور ڈاکٹر ادیب رضوی ایسے لوگ رہے جنہوں نے اپنی بہن بیٹیوں کو ساتھ رکھ کر سب کے لیے مفت تعلیم عام کرنے کی 1953 میں جدوجہد کر کے تمام طبقات کی تعلیم کے لیے کالج اور یونیورسٹیوں کا جال قائم کرنے کے لیے ریاست کو مجبور کیا اور سماج میں ”عورت حقوق“ کے سیاسی حق اور جدوجہد کے لیے کامریڈ عزیز سلام بخاری کی سیاسی شریک حیات رچنا دیوی کو متحرک کیا، جن کی سیاسی جدوجہد کو طاہرہ مظہر علی نے ایلس فیض، ہاجرہ مسرور، امت الرحمن، خدیجہ عمر، نسیم شمیم اشرف، تنویر اعزاز، نسیم تجمل حمیدہ گل، ڈاکٹر بلقیس، منیزہ انعام، حمزہ واحد اور بیگم نسیم ولی خان کی مدد سے ملکی خواتین کے سماجی و سیاسی حقوق کے لیے ”انجمن جمہوریت پسند خواتین“ میں جوڑا اور عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی بنیاد اس زمانے میں رکھی جب وسائل اور ابلاغ کے ذرائع آج کے مقابلے میں کچھ نہ بھی تھے۔

رچنا دیوی سے لے کر عورت حقوق کی اس تحریک میں آپا ممتاز، زارا داؤدی، سعیدہ گذدر، شمیم سیف خالد، سکھاں جام، لالہ رخ، آپا خورشید، رعنا رضوی، غزالہ رضوی اور آصفہ رضوی کے شاندار کردار اور جدوجہد بھلا کس طرح بھلائی جا سکتی ہے، یہ کمیونسٹ نظریے کا عورتوں کی سیاسی بیداری کا وہ روشن خیال نظریہ تھا کہ جس نے غیر جمہوری جبر اور ریاستی تشدد میں بھی عورتوں کی سیاسی اور سماجی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا اور اسی طرح ”انجمن جمہوریت پسند خواتین“ کی جانثار ساتھیوں نے سرمائے کی چمک کو ٹھکرا کر خواتین کے نظریاتی شعور کو بلند رکھا۔

آج بھی اسی نظریاتی سیاسی اساس کی تربیت یافتہ خواتین سمیرا خلیق، اقبال اختر، افشاں صبوحی، حمیدہ گھانگرو، شکیلہ صفت پیرزادو، بلقیس عزیز، زبیدہ گھانگرو، شاہینہ رمضان، عابدہ منصور، کلثوم جمال، فاطمہ زیدی، قرۃ، یلی رضا سرمایہ داروں کی دم چھلہ این جی اوز کے مفاد پرستانہ کردار اور رویے کے مقابل عورت دشمن اور تنگ نظر سماج میں عورت حقوق کی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد میں اپنے نظریاتی آدرش لیے مصروف عمل ہیں اور عورت حقوق کو این جی اوز کی چادر میں لپٹے ہوئے سرمایہ دارانہ مفاد پرست اور عورت دشمن نکتہ نظر سے بچانا چاہتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ عورت حقوق اور ان کے سماجی کردار کی یہ جدوجہد کیوں سمٹ کر صرف 8 مارچ کے دن یا مظاہروں تک رہ گئی ہے جب کہ اس فرسودہ اور ریاستی جبر کے پدر شاہی سوچ کے سماج میں تو خواتین حقوق کی یہ جدوجہد ہر لمحے ہر گھر اور سماج کی مسلسل سیاسی و نظریاتی جدوجہد ہونا چاہیے۔

آج کے جدید سماج میں عورت حقوق کی نظریاتی سوچ رکھنے والی رچنا دیوی، طاہرہ مظہر علی اور ایلس فیض بننے کی طرف جانے سے نوجوان نسل کو کیوں روکا جا رہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک دن کے عورت حقوق کے یہ وقتی مظاہرے عالمی طور سے تنگ نظر اور غیر جمہوری ریاست کے اظہار کی آزادی کا نام نہاد جمہوری چہرہ دکھانے کے سہولت کار بن رہے ہوں؟

اس سوال کی باز گشت اس وقت زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے جب عورت حقوق کے بڑے بڑے مظاہرے اور سیمینار ہونے کے باوجود یہ سماج پہلے کے مقابلے میں عورت کے ظلم و ستم پر انتہائی ڈھٹائی اور فرسودہ سوچ کے ساتھ کھڑا لاہور میں عورت کو سنگسار کرنے پر تلا ہوا ان تمام سرمایہ دارانہ این جی اوز مفادات کے مظاہروں کا منہ چڑا رہا تھا۔

جب پدر شاہی سماج کے مکروہ کردار کبھی مذہب اور کبھی فرسودہ روایتوں کا سہارا لے کر خواتین کی آبرو ریزی، گھریلو تشدد یا طالبات کی ہاسٹل میں خود کشی کے نام پر قتل کر رہے ہوتے ہیں اور سرمایہ داروں کے دم چھلہ ادارے اور این جی اوز چند گھنٹوں کے مظاہرے اور پلے کارڈ پر عورت حقوق پر اپنے وقتی غصے کا اظہار کر کے سماج میں عورت حقوق سے ایک سال تک کی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں تو پھر دوبارہ سماج کے فرسودہ چہرے ہر گھر گلی، محلے میں کبھی زینب کبھی نمرتا اور کبھی مقدم کا قتل کر کے عورت کے سیاسی اور سماجی شعور کو چیلنج کرتے ہیں اور سرمایہ دارانہ مفادات کی این جی اوز کو ان کی کمزوری کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

سماجی شعور کے اس پورے بگاڑ کی کمزوری ملک میں اجتماعی طور سے عورت کی تنظیم کاری کا سیاسی اور نظریاتی طور پر منظم نہ ہونا ہے، لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ سرمایہ دارانہ مفادات سے لبریز این جی اوز کی جگہ انجمن جمہوریت پسند خواتین اور سندھیانی تحریک کی طرز پر خواتین کو سیاسی طور سے جوڑا جائے کیونکہ عورت حقوق کی حاصلات سیاسی نظام میں عورت کی نظریاتی پختگی اور شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔ آخرکار ہم ساحر لدھیانوی کے لہجے میں یہ کب تک کہتے رہیں گے کہ!

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے
یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے
کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی

وارث رضا

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 35 posts and counting.See all posts by waris-raza

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments