بھٹو ،سپریم کورٹ کا فیصلہ: حق جو حقدار تک نہیں پہنچا


پاکستانی تاریخ میں بہت سے مقدمات ایسے ہیں جنہیں حتمی فیصلہ دے کر بند نہیں کیا گیا کیونکہ قوم بالخصوص ادارے ان واقعات کے پیچھے چھپا ’پورا سچ‘ تلاش کرنے میں ناکام رہے۔ 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی برطرفی اور 1979 ء میں ان کی پھانسی بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ ان دونوں اہم ترین واقعات نے پاکستان کی تاریخ کی سمت ایسی تبدیل کی کہ ان کے اثرات اب تک ہمارے نظام پر مرتب ہو رہے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے بھٹو کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپریل 2011 میں ریفرنس دائر کیا تھا، جس کی پہلی سماعت 2 جنوری 2012 کو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کی۔ پھر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 12 دسمبر 2023 کو 9 رکنی بینچ نے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا آغاز کیا گیا۔ صدارتی ریفرنس 5 سوالات پر مشتمل تھا۔

1۔ بھٹو قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟

2۔ کیا بھٹو کو پھانسی کی سزا کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہو گا؟

3۔ کیا بھٹو کی سزائے موت منصفانہ فیصلہ تھا یا جانبدارانہ؟
4۔ کیا سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟
5۔ کیا بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات انہیں سزا سنانے کے لیے کافی تھے؟

43 برس پہلے کے عدالتی فیصلے پر نظرثانی یا اسے حرف غلط کی طرح مٹانا پارلیمان کی قانون سازی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر پارلیمان کسی عدالتی فیصلے پر تمام جزئیات کے ساتھ نظرثانی کا سپریم کورٹ کو اختیار دیتی ہے تو کیا یہ اختیار صرف ایک مقدمے کے لیے ہو گا یا پھر تمام مقدمات کے لیے؟ دساتیر اور عدالتی و پارلیمانی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں اور پھر کوئی پارلیمان ایسی قانون سازی کیسے کر سکتی ہے جس سے پنڈورا باکس کھلنے شروع ہوجائیں۔

اس لیے یہ کہنا درست ہو گا کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس کے صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بنچ کی جو متفقہ رائے سامنے آئی ہے وہی درست اور نظام عدل کے چہرے پر لگی سیاہی دھونے کی شعوری کوشش ہے۔

عدالتی معاون سابق جج، منظور ملک جو کریمنل لاء میں اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں یقیناً تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پاکستانی نظام انصاف کی کمزوریوں سے عدالت میں پردہ اٹھایا۔ منظور ملک نے ان دو بنیادی سوالات پر عدالتی معاونت کی بنیاد رکھی۔

1۔ مجسٹریٹ کی سطح پر انکوائری مکمل کر کے کیس داخل دفتر کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل ہوئی نہ مقدمے کو پھر سے عدالتی عمل کا حصہ بنانے کے لئے بھی کوئی درخواست دی گئی۔

2۔ مقدمہ سیشن کورٹ کی بجائے براہ راست ہائیکورٹ میں چلانے کے لیے بھی کوئی درخواست نہیں دی گئی، صرف ایک خصوصی حکم جاری ہوا اور داخل دفتر کیس سماعت کے لئے ہائیکورٹ بھیج دیا گیا۔

ریفرنس کی سماعت، کے دوران ججز نے مدعی احمد رضا قصوری سے چند چبھتے ہوئے سوالات کیے ۔ ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ وہ بھٹو کو اپنے والد کے قتل کا ذمہ دار سمجھتے تھے تو پھر دوبارہ پیپلز پارٹی میں کیوں شامل ہوئے؟

مقدمہ کوری اوپن کرنے کی درخواست کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا۔ توان کا جواب نفی میں تھا۔ لیکن حقائق یہ ہیں۔

• مقدمہ قتل کو ری اوپن کرنے کی احمد رضا قصوری نے رضا مندی براہ راست جنرل ضیاء الحق سے راولپنڈی ملاقات میں دی۔ قصوری کے ہمراہ جنرل جیلانی خان اور میاں طفیل محمد بھی تھے۔

قبل ازیں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد مری میں بھٹو ضیاء ملاقات تلخی پر ختم ہوئی تھی۔ بھٹو نے ضمانت پر رہائی کے بعد ناصر باغ لاہور میں جلسہ سے جو خطاب کیا اس کے بعد فوجی آمر جنرل ضیاء الحق اور اس کے ساتھیوں نے بھٹو کو منظر سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔

ابتداً ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے مقدمہ چلانے پر غور کے لئے تین رکنی کمیٹی بنی جنرل فیض علی چشتی کی سربراہ اور جنرل جمال سید میاں اور جنرل اعجاز عظیم ممبر تھے۔ کمیٹی نے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کا جائزہ لیا کمیٹی کے سامنے بھٹو مخالف رہنماؤں کے بیانات بھی تھے جن میں انہیں سقوط کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا لیکن کمیٹی نے رائے دی کہ اس طرح کا مقدمہ چلانے کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔

بھٹو کے خلاف احمد رضا قصوری کے والد کے قتل کا مقدمہ چلانے کی تجویز جماعت اسلامی کی قیادت کی طرف سے آئی۔ بھٹو کی پھانسی عالمی اسٹیبلشمنٹ کا فیصلہ تھا ضیاء رجیم نے عمل میں معاونت کی اور صلہ پایا۔

عالمی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ امریکہ کے نزدیک بھٹو کے دو جرائم ناقابل معافی تھے۔ ایک، پٹرولیم مصنوعات کے معاملے پر پٹرول پیدا کرنے والے مسلم ممالک کو ایک پیج پر لانا اور اسلامی بینکنگ کا تصور پیش کرنا۔ دوسرا، پاکستان کا ایٹمی پروگرام۔ اسی طرح خطے میں آنے والی تبدیلیوں سے امریکی پریشان تھے۔ جس کے لیے جولائی تا ستمبر 1976 ء ذوالفقار علی بھٹو سے امریکی سفیر نے متعدد ملاقاتیں کیں۔

امریکیوں کی سرپرستی اور جنرل جیلانی کی کوششوں سے احمد رضا قصوری نے مقدمہ ری اوپن کر کے عدالتی عمل کا حصہ بنانے پر رضامندی نے ضیاء رجیم کا کام آسان کر دیا۔ احمد رضا قصوری نے والد کے قتل کے بعد قومی اسمبلی اور پبلک مقامات پر بھٹو کے خلاف سخت تقاریر کیں۔ لیکن 1977 ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی۔ بھٹو نے انہیں ملاقات کے لئے بلایا تو قصوری نے نہ صرف بھٹو سے معافی مانگی بلکہ درخواست کی کہ بیگم نصرت بھٹو ان کے گھر آ کر پارٹی ٹکٹ کا اعلان کریں تو عزت افزائی ہوگی۔

نصرت بھٹو احمد رضا قصوری کے گھر گئیں جہاں ایک بڑے اجتماع میں قصوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیگم بھٹو میری بڑی بہن ہیں، میں اپنی غلطیوں پر معذرت کرتے ہوئے صدق دل سے بھٹو کی قیادت پر اعتماد کا اعلان کرتا ہوں، لیکن جولائی 1977 ء میں جب جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء لگایا تو یہ رشتہ داری دفن ہو گئی۔ بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔

1974 ء میں بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ نے قتل کا مجرم قرار دیا۔ 4 / 3 سے سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھ کر بھٹو کو پھانسی دینے کی توثیق کی۔

احتساب عدالتوں میں نواز شریف کے مقدمات کے بعد عدلیہ کو اسی طرح کی تنقید کا سامنا تھا۔ اور آج عمران خان کے مقدمات پر بھی ایسے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے مختصر فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں منصفانہ ٹرائل کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ گویا:

حق جو حق دار تک نہیں پہنچا

آبزرویشن نے اس نکتے کی توثیق کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سزا عدالتی قتل ہے۔ اس مقدمے سے واضح ہوتا ہے کہ منتخب وزرائے اعظم کو جیل بھیجا جا سکتا ہے حتیٰ کہ ریاست انہیں پھانسی گھاٹ تک پہنچا سکتی اور قانونی نظام طاقتور قوتوں کی خواہش کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا متفقہ اعتراف نہ صرف اہمیت کا حامل بلکہ ملک کی قانونی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ چیف جسٹس نے مختصر حکم میں کہا کہ خود احتسابی کے جذبے کے تحت، ماضی کی غلطیاں تسلیم کیے بغیر درست سمت میں آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ احتساب کی ضرورت عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی طبقہ سمیت تمام اداروں کو ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے پر سپریم کورٹ کی آبزرویشن اس حقیقت کی تصدیق ہے کہ ”نظریہ ضرورت“ کے تحت ماضی میں ریاستی ستونوں نے اسی آئین کو کمزور کرنے میں کردار ادا کیا جس کے تحفظ کا انہوں نے حلف اٹھایا تھا۔ اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہونے والی سنگین نا انصافی کا ازالہ تو نہیں ہو سکتا لیکن ریاستی ادارے یہ عہد ضرور کر سکتے ہیں کہ وہ ملکی تاریخ کے اس تاریک باب میں کی گئی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments