میلہ چراغاں اور یادوں کی دھمال

مادھو لال حسین سے میرا پہلا تعارف ماموں کے گھر بیٹھک میں لگی ایک خوبصورت تصویر کے ذریعے ہوا۔ بچپن تھا، حیرت ہوئی کہ یہ اسی شخصیت کی تصویر ہے جس کا مزار گھر کے بالکل سامنے واقع ہے۔ یہ انکشاف بھی حیران کن تھا کہ مادھو لال حسین ایک نہیں دو شخصیات ہیں۔ مادھو الگ اور شاہ حسین الگ۔ ایک دن نانی کے گھر سرخ روشنائی سے لکھی ہوئی مادھو لال حسین کی مختصر سوانح عمری ملی۔ شاہ حسین کے تعارف میں آبا وٴ اجداد کا پیشہ کپڑا بننا لکھا تھا اور یہ بھی کہ اس کو شروع میں ’حسین جولاہا‘ کہا جاتا تھا۔ یہ جان کر شاہ حسین اپنا اپنا سا لگا۔ میں نے امی یا نانی سے پوچھا کہ ”۔ شاہ حسین ہوری وی جولاہے سی؟“ (شاہ حسین بھی جولاہا تھا)
جواب کیا ملا یاد نہیں۔ لیکن اتنا پتا چل گیا کہ شاہ حسین اپنی ہی برادری کا ہے۔ اپنے علاقے یا برادری کا بندہ مشہور ہو تو عام لوگ دوسرے علاقوں میں اس بندے کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہیں اور کسی نا کسی حوالے سے اپنا تعلق اس سے جوڑتے ہیں۔
شاید پہلی جماعت کی کتاب میں ایک نظم تھی ”۔ میلہ شالامار کا۔“ ٹیچر ایک دن ہم بچوں کو یہ نظم پڑھا رہی تھی۔ بچے کورس کے انداز میں دہرا رہے تھے۔ میں اچانک کھڑا ہوا اور قطع کلامی کرتے ہوئے بولا
”۔ مس! یہ میلہ لاہور میں لگتا ہے، میری نانی کے گھر کے سامنے ایک دربار ہے، مادھو لال حسین کا، وہاں۔“
یہ عجیب احساس تفاخر تھا۔ ٹیچر نے میرے احساس کو نظر انداز کیا اور دی گئی معلومات میں دلچسپی نہیں لی۔ میں چھٹی کے بعد گھر گیا تو امی کو کتاب میں ”۔ میلہ شالامار کا۔“ نظم دکھائی اور پوچھا یہ وہی میلہ ہے نا مادھو لال حسین والا؟ امی نے خوشی اور حیرانی سے کتاب دیکھی اور ہاں میں جواب دیا۔ میں بڑا خوش ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امی کے چہرے پر ایسے ملے جلے تاثرات تھے جیسے پردیس میں دیس اور اپنوں کی یاد آ گئی ہو۔
شالامار باغ کے ساتھ ہی محلہ باغبان پورہ میں میرا ننھیال تھا۔ ادھر ہی شاہ حسین ہمارا پڑوسی تھا۔ قربت اتنی تھی کہ چھت سے مزار اور وسیع احاطہ صاف دکھائی دیتے۔ مزار ارد گرد کی بستیوں سے بیس پچیس فٹ بلند ٹیلے پر تھا۔ مقامی لوگ ٹیلہ نہیں ٹبہ اور مزار نہیں دربار کہتے تھے۔ نانی کے گھر سال میں چار چھ چکر تو لگ ہی جاتے تھے۔ مجھے motion sickness کا مسئلہ تھا۔ فیصل آباد تا لاہور محض دو ڈھائی گھنٹے کا سفر بھی نزع کے عالم میں کٹتا۔
گندی مندی کھٹارا بسوں اور ٹرینوں میں الٹیاں کر کر ادھ موا ہوجاتا تھا۔ ہم بس یا ٹرین سے اتر کر رکشے کے ذریعے جی ٹی روڈ گھاس منڈی سٹاپ پر اترتے۔ محلہ مادھو لال حسین کی پر پیچ تنگ گلیوں سے ہوتے ٹبے پر پہنچتے اور وہاں سے سیڑھیاں اتر کر سیدھے گھر جاتے۔ میلہ چراغاں میں آنے والے زائرین کی سہولت کے لئے ان تنگ گلیوں کی دیواروں پر جگہ جگہ لکھا ہوتا تھا ”۔ دربار مادھو لال حسین اس طرف ہے۔“ ساتھ ہی تیر کا نشان ہوتا۔ میں یہ بلند آواز میں پڑھتا اور انتہائے شوق سے آگے آگے بھاگتا جاتا۔ جونہی دربار کی بائیں طرف ایک بغلی دروازے سے ٹبہ چڑھ کر دائیں طرف گنبد پر نظر پڑتی تو دل کو ایسے تسکین ملتی جیسے بے وجہ بیمار کو قرار آ جائے۔ شاہ حسین کے دربار کا گنبد میرے لئے منزل کا روشن نشان تھا۔
نانی کے گھر پہنچتے ہی مجھے دربار پر جانے کی جلدی لگ جاتی تھی۔ امی نے رشتے داروں سے ملنا ملانا ہوتا تھا اس لئے دیر ہو جاتی۔ بچوں کو اکیلے کہیں جانے سے روکا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ گم ہو جاوٴ گے یا کوئی اٹھا کر لے جائے گا۔ بچے ڈر بھی جاتے ہیں۔ میں اسی احتیاط کے پیش نظر ٹبے کی سیڑھیاں چڑھ کر ڈیڑھ دو سو قدم دور دربار کے گنبد کو حسرت کی نگاہوں سے دیکھتا رہتا لیکن آگے نہ جاتا کہ گم نہ ہو جاوٴں یا کوئی اٹھا کر نہ لے جائے۔
میں ایک دن واقعی گم ہو گیا۔
امی مجھے ساتھ لے کر بازار نہیں گئیں۔ میں نے چپکے سے پیچھا کیا مگر رش میں بھٹک گیا۔ واپسی کا رستہ تلاش کرتے کرتے دیر تک پیچ دار تنگ گلیوں میں گھومتا رہا۔ پریشانی حد سے بڑھی تو رونا آ گیا۔ وہیں کہیں سموسے پکوڑے والے کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان دار کی نظر پڑی تو ہمدردی سے پوچھا کیا ہوا، روتے کیوں ہو؟ بتایا گھر کا رستہ بھول گیا ہوں۔ پوچھا گھر کہاں ہے؟ پریشانی میں گھر کا پتا یاد نہ آیا تو روتے روتے دربار مادھو لال حسین کا حوالہ دے دیا۔
دکان دار نے ایک لڑکے سے کہا ’جا ذرا بچے کو دربار تک چھوڑ آ‘ ۔ لڑکا میرا ہاتھ پکڑ کر گلیاں گھماتا کچھ ہی دیر میں دربار تک لے آیا۔ مجھے دربار کا گنبد وہ منزل کا روشن نشان نظر آیا تو آنکھیں چمک اٹھیں۔ میں ایک دم لڑکے سے ہاتھ چھڑوا کر ایسا بھاگا کہ گھر کے دروازے پر ہی رکا۔ پھر جانے کس خیال کے تحت بائیں طرف مڑ کر دیکھا۔ ٹبے کی سیڑھیوں پر میرا رہبر لڑکا کھڑا تھا۔ میں نے ہاتھ ہلا کر اس کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے بھی جواباً ہاتھ ہلایا وہ شاید مسکرایا بھی تھا۔
شاہ حسین سے دوسرا اور بھرپور تعارف تب ہوا جب ہمیں کچھ عرصے کے لئے فیصل آباد سے لاہور شفٹ ہونا پڑا۔ یہ میرے لڑکپن کا دور تھا۔ میں ایک متجسس لڑکا تھا۔ تاریخ ادب اور ثقافت سے دلچسپی تھی لیکن اس وقت اپنی اس خوبی کا احساس نہیں تھا۔ دربار کے اریب قریب بستے لوگوں کی شاہ حسین سے جذباتی وابستگی نے بہت متاثر کیا۔ مقامی لوگ کہیں بھی آتے جاتے شاہ حسین کو سلام کرتے۔ غمی خوشی شادی بیاہ جمعہ عید غرض ہر موقع پر شاہ حسین کو یاد رکھا جاتا۔ بڑی عید کی چاند رات ہوتی تو لوگ قربانی کے جانوروں کو بھی سلام کروانے دربار کے وسیع احاطے میں لے جاتے اور تبرک کا نمک چٹواتے۔ دوسرے علاقوں یا شہروں میں بیاہی گئی لڑکیاں مائیکے آتے اور سسرال جاتے وقت دربار پر جا کر سلام کرتیں، چراغ جلاتیں اور مائی کھچڑی کی قبر پر گڑ دال والے چاول بانٹتیں۔
شاہ حسین اہل محلہ کے لئے جد امجد کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کا دربار محبت و شفقت کا مرکز تھا۔
باغبان پورہ پتنگ بازی اور پتنگ سازی کا بھی گڑھ تھا۔ ڈور کو مانجھا لگانے اور پتنگ کے تیلے چھیلنے کا عمل عموماً گلیوں میں ہوتا۔ بہار کے دنوں میں یوں لگتا کہ یہ محلہ نہیں کوئی بڑا کارخانہ ہے۔ مجھے پتنگ بازی کا شوق نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ ماحول اثر انداز ہونے لگا۔ ایک شام بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔
’رضا‘ میرا ہم عمر کزن تھا۔ پتنگ بازی کا شوقین تھا۔ وہ چھت پر پتنگ اڑاتا اور میں قریب کھڑا اس کو دیکھتا رہتا۔ رضا کے ساتھ والی چھت گجروں کی تھی۔ گجروں کا ’بھولا‘ نامی ایک لڑکا تھا۔ بڑا دلچسپ کردار تھا۔ الجھے بال، چہرے پر چوٹوں کے نشان، ٹوٹے دانت، پیروں سے ننگا، بدن پر میلی سی شلوار قمیض جس کے اکثر بٹن ٹوٹے ہوتے۔ مجذوب نہیں تھا لیکن اس کا حلیہ اور رویہ یہی اشارہ دیتے تھے۔ وہ نہایت بدزبان، بہت لڑاکا اور ماہر پتنگ باز بھی تھا۔ رضا کی بدولت میری بھولے سے جان پہچان ہو گئی۔ بھولے کی پتنگ بازی سراپا پرفارمنس ہوتی تھی۔ رضا نہ بھی ہوتا تو میں اس کی چھت پر جاتا اور وہاں سے دیوار پھلانگ کر بھولے کی چھت پر چلا جاتا۔ بھولے کی چھت ایک قدیم اور شکستہ حویلی پر تھی۔ یہ حویلی ٹبے کی سیڑھیوں کے عین سامنے واقع تھی۔
اس شام بھولے نے پتنگ بازی کرتے ہوئے آواز لگائی ”۔ اوئے ے ے۔ گڈی نوں سلام کروائیے۔“ (پتنگ کو سلام کروائیں ) میں چونک گیا کہ جانے آج بھولے کے ہاتھوں کیسا واقعہ ظہور پذیر ہونے جا رہا ہے۔ بھولے نے جس کو آواز لگائی تھی وہ کہیں آس پاس ہی اونچی چھت پر تھا۔ مجھے اس کی شکل تو دکھائی نہ دی مگر آواز سنائی دی
”۔ ہاں بھولے۔ چل سلام کروائیے۔“
میں سمجھ گیا کہ وہ بھی پتنگ فضا میں چھوڑے ہوئے ہے۔ بھولا چند لمحوں میں اپنی پتنگ شاہ حسین کے گنبد تک لے گیا اور بڑی مہارت سے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے لگا۔ جیسے ہی پتنگ نے گنبد کو چھوا تو بھولے نے نعرہ لگایا
”۔ او خیررررر۔ آ آ آ آ آ۔ او ہو گیا ای سلام۔ آ آ آ آ۔“
بھولے نے مجذوبوں کی طرح ناچ ناچ کر، جھوم جھوم کر جشن منایا۔ یہ منظر دیدنی تھا۔ مجھے پتنگ کی سلامی اور بھولے کا جشن دیکھ کر بڑا مزہ آیا۔ اسی مزے میں غلطی یہ ہوئی اور کہہ بیٹھا
”۔ یار بھولے۔ اک منٹ مینوں وی ڈور پھڑائیں۔“ (ذرا مجھے بھی ڈور پکڑانا)
وہ نیچے حویلی میں بندھے اپنے ہی جانوروں کی طرح بدکا اور ہراساں نظروں سے مجھے گھور کر نہایت بدتمیزی سے بولا ”۔ کیوں۔ ؟ گڈی کٹوانی اووں۔ لیہہ ڈور پھڑائیں۔ چل دوڑ۔“ (کیوں؟ پتنگ کٹوانی ہے، چل بھاگ)
میں اس شام بھولے کے ہاتھوں ٹھیک ٹھاک ذلیل ہوا اور شاید پھر کبھی اس کی چھت پر نہیں گیا۔
کچھ دنوں یا مہینوں بعد ایک دن ماموں کی چھت پر سبز رنگ کی پری دیکھی۔ پری گڈی یا پتنگ کی ہی ایک قسم تھی۔ یہ سائز میں چھوٹی اور دم دار ہوتی تھی۔ کہیں سے کٹ کر چھت پر آ گری ہوگی۔ میں نے اٹھائی اور فضا میں چھوڑ کر تنکے مارنے لگا۔ ڈور کم تھی۔ اس علاقے میں پتنگ بازی اتنی عام تھی کہ ڈور لوٹ لینا مشکل کام نہ تھا۔ میں نے ایک دو دنوں میں ہی اچھی خاصی ڈور لوٹ کے ’پنا‘ بنا لیا۔ اب میرا مشن سبز پری کو سلام کروانے کا تھا۔
بھولے کی چھت کی نسبت ماموں کی چھت سے گنبد زیادہ نزدیک اور عین سامنے تھا۔ لیکن بڑا مسئلہ ہو گیا، اس دن ہوا کا رخ مخالف تھا۔ شاید دو تین دن ہوا کا رخ مخالف ہی رہا۔ وہ دن بے چینی میں گزرے۔ میں ہوا کا رخ معلوم کرنے چھت پر چڑھتا پھر مایوس ہو کر نیچے اترتا۔ ایک دن ہوا گنبد کی سمت چل ہی پڑی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہتھیلیوں پر پسینہ تھا اور کس جوش سے سبز پری فضا میں چھوڑی تھی۔ ہوا تیز تھی اور چھت کافی اونچی، سبز پری اڑتی ہی گئی۔
وہ بڑی تابع فرمان قسم کی لیپو اور سدھ پری تھی۔ ابھی گنبد دور تھا کہ دائیں طرف سے ایک سرخ رنگ کا ٹیٹو حملہ آور ہوا۔ ٹیٹو بھی پتنگ کی ہی ایک قسم ہوا کرتی تھی۔ پتنگ باز جانتے ہوں گے کہ ٹیٹو کیسی خوفناک شے تھی۔ شاہ حسین کو سلام کی غرض سے اڑتی جاتی درویش صفت پری پیچا کیا لڑتی، ڈور جو اناڑی کے ہاتھ میں تھی۔ ٹیٹو کی جارحیت سے ظاہر تھا کہ اڑانے والا ماہر ہے۔ میں نے گھبرا کر سبز پری کو نیچے اتار لیا۔ کم بخت ٹیٹو نے دیر تک پریشان کیے رکھا۔ ادھر میں سبز پری اڑاتا ادھر وہ کاٹنے کو آتا۔
آخرکار فضا صاف ہوئی۔ یہ دوپہر یا سہ پہر کا وقت تھا۔ میں نے سبز پری اڑائی۔ وہ لمحوں میں گنبد تک پہنچ گئی۔ اس کو جھکائی دے کر گنبد کے قریب کیا تو ہوا کے دباوٴ سے گنبد کو یوں چمٹ گئی جیسے صبر آزما اور لمبی جدائی کے بعد محبوب سے ملی ہو۔ میں نے یہ مظاہرہ بار بار کیا۔ مجھ پر ایک کیفیت طاری تھی۔ شاید لفظوں میں بیان نہ کر سکوں۔ وہ انوکھی سی۔ جذباتی سی۔ وجدانی سی کیفیت تھی۔
کئی دنوں کا یہ شغل ایک منحوس شام اداس کر دینے والے نظارے کے ساتھ ختم ہوا۔ میرے ہی پیروں میں الجھ کر ڈور ٹوٹی۔ اچانک سرا ہاتھوں سے نکلا تو سبز پری نے ایسے جھٹکا کھایا جیسے جان لیوا آخری ہچکی لی ہو۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے پہلے گنبد کے اوپر سے پھر قبرستان کے اوپر سے ہو کر آبادی کے سمندر میں ڈوب گئی۔
ہمیں لاہور میں رہتے سات آٹھ مہینے ہو چکے تھے۔ اب اس شہر سے جی بھر چکا تھا۔ فیصل آباد والے گھر کی یادیں ستانے لگی تھیں۔ ایک رات خواب دیکھا کہ ’سونیا‘ ٹبے کی سیڑھیاں اتر رہی ہے۔ خیال آتا ہے کہ سونیا فیصل آباد سے مجھے ملنے آئی ہے۔ صبح آنکھ کھلی تو بڑی پریشانی ہوئی۔ سونیا سے تعلق صرف اتنا رہا تھا کہ وہ کلاس فیلو تھی۔ ہاں مگر، ایک دن اس نے اپنی سہیلیوں سے گپ شپ کرتے ہوئے میری شکل و صورت پر تعریفی جملے کہے تھے جو میں نے اتفاقاً سن لئے۔ اس بالی عمر میں عشق و محبت کی کیا خبر ہوتی؟ بس! اس کے بعد یہ ہوا کہ جب بھی سونیا کو دیکھا تو دل کو کھینچا پڑا۔ یہ دماغ کی کرشمہ سازی تھی کہ آٹھ دس مہینوں بعد اچانک سونیا کی یادوں کا چراغ دل میں روشن ہو گیا۔
میں شاہ حسین کا کبھی عقیدت مند نہیں رہا۔ عقیدت میں تکلف ہوتا ہے۔ میری شاہ حسین سے بے تکلفی تھی۔ اس کے دربار میں نہ کبھی دعا مانگی نہ منت مانی اور نہ فاتحہ پڑھی۔ اس دن جانے کیا ہوا تھا۔ جذباتی ہو کر دربار پر گیا تو دل ہی دل میں براہ راست شاہ حسین سے ہمکلام ہوا۔ الفاظ یاد نہیں بس اتنا یاد ہے کہ سونیا کے متعلق کچھ کہا اور مادھو کا واسطہ ڈالا۔ شاہ حسین کو اس کے محبوب مادھو کا واسطہ ڈالنا بڑی بات تھی۔
کچھ عرصے بعد ہماری فیصل آباد واپسی ہو گئی۔ دس اگست دو ہزار چار، مجھے آج بھی تاریخ یاد ہے۔ رکشے سے نکل کر گھر میں داخل ہونے کے بعد میرا پہلا عمل یہ تھا کہ انہی قدموں اپنے گھر سے نکلا، سونیا کے گھر کو سرپٹ بھاگا اور اس کے دروازے پر جا رکا۔ یہ عمل ایسے ہی تھا جیسے کوئی فاسٹ بولر بھاگتا ہوا آئے اور بولنگ اینڈ پر رن اپ بھول جائے۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی تو واپسی کی راہ لی۔ ہاں مگر، طبیعت کی بے چینی جاتی رہی۔
وقت تیزی سے گزر گیا۔ اب جوانی کا دور تھا۔ مجھ جیسا بندہ لڑکیوں کے حسن و جمال کی باتیں کرتا شہدا سا لگتا ہے۔ بہرحال! وہ زہرہ جمال اپنی مثال آپ تھی۔ عشق میں دلچسپی تو رہی لیکن میں عاشق مزاج کبھی نہ رہا۔ عشق سے بھی زیادہ دلفریب کام تھے، میری ترجیحات ہمیشہ اور رہیں۔ بس! خواہش تھی کبھی سونیا سے ملوں اور کہوں کہ جب میں لاہور میں تھا۔ تو تمہیں خواب میں دیکھا تھا۔ خواہش۔ خواہش ہی رہی۔ ایک ہی محلے میں رہتے ہوئے کبھی ملاقات نہ ہو سکی۔ حالانکہ اکثر آمنا سامنا ہوتا تھا لیکن یہ پاگل معاشرہ اور جنونی پابندیاں کہ بس!
مزید وقت گزر گیا۔ کافی وقت۔
ایک دن اطلاع ملی کہ شاہ حسین کا دربار گرا کر نیا تعمیر کیا جا رہا ہے۔ میرا دل چھناکے سے ٹوٹا۔ پرانا گنبد یادوں کا چراغ تھا میں جس کے گرد پروانے کی طرح گھومتا رہتا تھا۔ میرے تو خوابوں میں بھی دربار کو جاتے پرانے رستے اور پرانے نقشے پرانی ترتیب سے واضح تھے۔
آخرکار دربار گرا کر نیا تعمیر کر دیا گیا۔ بڑی تکلیف ہوئی تھی۔ میں نے سات آٹھ سال احتجاجاً اس طرف رخ نہیں کیا۔ تین چار سال پہلے لاہور جانا ہوا۔ اسی باغبان پورہ میں اور شاہ حسین کے پڑوس میں۔
مہینہ، پھر دو مہینے گزر گئے۔ میں دربار پر نہیں گیا۔ مجھے نہیں جانا تھا۔ میرے لئے اب وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ ایک دن ڈھول پیٹنے کی آواز سنائی دی۔ پرانی یادیں دھمال ڈالنے لگیں۔ معلوم ہوا آج جمعرات ہے۔ بے اختیار قدم دربار کی طرف اٹھ گئے۔ میں بجھے دل کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ میرے سامنے مشرق وسطیٰ کی طرز تعمیر والا عجیب مقبرہ تھا، جیسے یہاں کوئی لاہوری نہیں بخاری دفن ہو۔ شاہ حسین کی پہچان مچ (تندور نما الاوٴ) جو ہمیشہ روشن رہتا، آج بجھا ہوا تھا۔
مشہور تھا کہ یہ مچ قیامت تک روشن رہے گا۔ لاک ڈاوٴن کے دن تھے اور کورونا کی صورت قیامت آ چکی تھی۔ مجھے اطلاع ملی تھی کہ دربار کو توسیع دی گئی ہے۔ لیکن میں نے دیکھا کہ دربار کو نہیں بلکہ ملنگوں کے رقص و سرور کی جگہ پر اور عقیدت مندوں کے رستے پر مسجد کو پھیلایا گیا ہے۔ پہلے یہاں چھوٹی سی مسجد ہوا کرتی تھی جو اٹھارہویں صدی میں مغلوں کے گورنر اور شاہ حسین کے عقیدت مند نواب زکریا خان نے تعمیر کروائی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ مسجد کی توسیع کتابیں مدرسے کے کنویں میں پھینک کر مذہب ترک کر دینے والے شاہ حسین کو دوبارہ مذہبی بنانے کی زبردست کوشش اور اس کا سب سے وکھرا ٹہکا (رعب) اور غیر شرعی دھوم دھام ختم کرنے کی گھناوٴنی سازش ہے۔
لاہور شہر کی گلیوں میں شریعت کی دھجیاں اڑاتا شاہ حسین چار سو سال بعد شریعت کے ہتھے چڑھ گیا۔
لگتا ہے بہت جلد پینٹ شرٹ پہنے مچھ منے داڑھی والے دربار کا کنٹرول سنبھال لیں گے اور پھر شاہ حسین کے سیاہ پوش ملامتی ملنگ خود کو ملامت نہیں کر پائیں گے۔ یہ ذمہ داری پینٹ شرٹ پہنے مچھ منے داڑھی والوں کی رہے گی۔ یہ ہی سکالر ٹائپ لوگ شاہ حسین کے سرخ پوش فقیروں کو بھی توبہ تائب کرواتے نظر آئیں گے۔ فکری لحاظ سے زمانہ ہی ایسا ہے کہ اب یہ فقیر شاہ حسین اور مادھو کے عشق و تعلق سے شرمسار نظر آتے ہیں۔ انہیں غیر شرعی حرکات سے تائب ہوتے دیر نہیں لگے گی۔
میں فلمی سا بندہ ہوں۔ خواہش ہی نہیں امید بھی رہی کہ زندگی میں فلمی وقوعے ہوتے رہیں۔ ایک فلمی سا خیال ہے، کاش ایسا ہو۔ میں سونیا سے فون پر رابطہ کروں۔ اسے پہچان کرواوٴں اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کروں۔ وہ مجھے پہچان کر اچھل جائے اور ملاقات کی ہامی بھر لے۔ پھر ہم کسی شام شاہ حسین کے دربار پر جائیں اور مچ کی بنی پر چار چراغ جلائیں۔ ایک شاہ حسین کا، ایک مادھو کا، ایک سونیا کا اور ایک اس سبز پری کا جس کی ڈور میرے پیروں میں الجھ کر ٹوٹ گئی تھی اور اچانک ہاتھ سے سرا نکلا تو وہ ہمیشہ کے لئے نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
سونیا پوچھے کہ مجھے یہاں کیوں لائے ہو؟
میں بتاوٴں کہ سونیا! بڑی لمبی کہانی ہے جو تمہیں سنانی ہے۔
پھر ہم مائی کھچڑی کی پراسرار قبر سے ذرا پرے دائیں طرف ایک پتھریلے بینچ پر بیٹھیں۔ سونیا پہلا سوال اسی قبر کے متعلق پوچھے۔ میں جواب دوں کہ اس قبر اور شخصیت کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں۔ کتبے پر ”مائی صدو انصاری“ لکھا ہے۔ لوگ شاہ حسین کی سگی یا پیر بہن سمجھتے ہیں۔ یہاں عورتیں ہی آتی ہیں اور گڑ دال والے چاول بانٹتی ہیں۔ اسی روایت کی وجہ سے یہ ”مائی کھچڑی“ کی قبر مشہور ہے۔
اس کے بعد میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرتے ہوئے کسی ماہر قصہ گو کی طرح بولنا شروع کروں۔ پہلے شاہ حسین کا تعارف کرواوٴں کہ وہ کون تھا اور بڑا لائق فائق طالب علم تھا۔ ایک دن سورة الانعام کی آیت ”زندگی کیا ہے سوائے کھیل تماشے کے“ پڑھی تو جذب و مستی کی حالت میں اٹھا اور کتابیں مدرسے کے کنویں میں پھینک دیں۔ اس کے بعد داڑھی مونچھ منڈوا لی، سرخ چولا پہن لیا، شراب کا جام تھام لیا اور گلیوں میں رقص کرنے لگا، شاعری کرنے لگا۔ اس نے ساری زندگی یوں ہی گزار دی اور فقیر لاہور کے نام مشہور ہوا۔
شاہ حسین کی یہ حرکتیں سن کر سونیا کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ظاہر ہوں۔ عام پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد ماں بنیں اور ان کے قدموں تلے جنت آ جائے تو ساتھ ہی پرہیزگاری بھی آ جاتی ہے۔ پھر یہ صرف اچھی اچھی باتیں سنتی ہیں۔ ہر دم ایمان کی حفاظت کرتی رہتی ہیں۔ ان کو شادی سے پہلی گناہوں بھری زندگی کا پچھتاوا بھی رہتا ہے۔ اس لئے ناچ گانا، بال لہرانا اور کھیلنا کودنا چھوڑ کر مرتے دم تک پارسائی کی حالت میں رہتی ہیں تاکہ بچوں کی گناہوں سے پاک ماحول میں پرورش ہو۔
خیر! سونیا شاہ حسین پر نفرت سے طنز کرے کہ عجیب بندہ تھا۔ قرآن پڑھ کر گمراہ ہو گیا۔ ویسے ایک دم ہوا کیا تھا اس کو؟
میں مختصر قہقہہ لگا کر جواب دوں کہ سونیا! دنیا میں ایک دم کچھ نہیں ہوتا اور ڈھلتے سورج کی طرف انگلی سے اشارہ کر کے کہوں ”دیکھو، سورج دھیرے دھیرے ڈھلتا ہے اور اندھیرا آہستہ آہستہ پھیلتا ہے، پھر اندھیرا آہستہ آہستہ چھٹتا ہے اور سورج دھیرے دھیرے نکلتا ہے۔ ذرا سوچو کہ دنیا کا ہر مظہر ہر معاملہ اسی اصول کے تحت نہیں؟“ سونیا میری اس دلیل کو بری طرح مسترد کرے اور ایک ادا سے کہے ”۔ دنیا میں ایک دم کیوں نہیں کچھ ہوتا، تمہارا فون کرنا، میرا یہاں آنا اور پھر ہمارا یوں گپ شپ کرنا یہ سب کچھ ایک دم ہی تو ہوا ہے۔“
میں مسکراتے ہوئے مصلحتاً اتفاق کر لوں اور کہوں ”سونیا! ’وقت کرتا ہے پرورش برسوں / حادثہ ایک دم نہیں ہوتا‘ اور یہ کہ شاہ حسین مطالعہ کرنے والا ایک ذہین طالب علم تھا۔ ایسے لوگوں کے سامنے سچائی ایک دن بے لباس ہو جاتی ہے۔“
سونیا بڑی معصومیت سے کہے ”۔ ہوتی ہوگی سچائی بے لباس۔ اچھا یہ بتاوٴ کہ یہ تمہارا شاہ حسین کیا چیز تھی؟ وہ آخر کیا تھا؟
میں گہری سانس چھوڑوں اور دلگیر لہجے میں کہوں
انی حسینو جلاہا ناں اس مول نوں لاہا
ناں اوہ منگیا ناں پرنایا
ناں اوس گنڈھ ناں ساہا
ناں گھر باری ناں مسافر
ناں اوہ مومن ناں اوہ کافر
جو آہا سو آہا
سونیا لفظ مومن اور کافر کے سوا کچھ نہ سمجھے لیکن پھر بھی بے زاری کا اظہار کرے۔ میں بھی تشریحات کے دفتر نہ کھولوں تاکہ گفتگو کی روانی متاثر نہ ہو۔
پھر شاہ حسین اور مادھو کے عشق کی دلفریب داستان چھیڑوں۔ ماضی کے میلہ چراغاں کی دھوم دھام، رنگ و رونق اپنے لفظوں اور ڈرامائی لہجے سے سونیا کی آنکھوں کے سامنے لے آوٴں۔ یہ بھی بتاوٴں کہ ہم اس وقت جہاں بیٹھے ہیں یہاں بڑا سا اور خوفناک کشتی جھولا لگتا تھا۔ اس وقت میرا وہم تھا کہ یہ کشتی کسی دن مسافروں سمیت آبادی پر جا گرے گی۔
سونیا ”۔ توبہ۔“ کہتے ہوئے ہنس پڑے۔
باتوں باتوں میں توہین مذہب کے الزام میں شاہ حسین کی گرفتاری اور اکبر بادشاہ کے دربار میں پیشی کی ایسی منظر کشی کروں کہ سونیا ہمہ تن گوش ہو جائے۔ باغی دلا بھٹی کی پھانسی کا سنسنی خیز ذکر کروں تو سونیا ”۔ اللہ۔“ کہہ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھے اور جھرجھری لے۔
اس کے بعد پتنگ بازی اور سبز پری کا ذکر کروں تو اداس ہو جاوٴں۔ سونیا میری اداسی محسوس تو کرے لیکن نظر انداز کرے۔ بچپن میں اپنی گمشدگی کا واقعہ اور شاہ حسین کے پرانے گنبد سے جذباتی وابستگی کا احوال بھی سناوٴں۔
پھر اچانک جذباتی لہجے میں کہوں ”۔ سونیا! میں نے تمہیں بیس سال پہلے خواب میں دیکھا تھا۔ تو مجھ سے ملنے آئی تھی۔ وہ سیڑھیاں دیکھ رہی ہو۔ یہ سیڑھیاں اترتے دیکھا تھا تمہیں۔ صبح آنکھ کھلی تو شاید مجھے تم سے محبت سی ہو گئی تھی۔ میں دربار پر گیا۔ شاہ حسین سے تمہارے متعلق کچھ کہا، پتا نہیں کیا، بس اتنا یاد ہے کہ مادھو کا واسطہ ڈالا تھا۔ شاہ حسین کو اس کے محبوب مادھو کا واسطہ ڈالنا۔ بڑی بات تھی سونیا۔ بڑی بات۔
یہ سن کر سونیا کھلکھلا کر ہنس پڑے اور اپنے ماتھے سے بال ہٹا کر کہے، پاگل۔ اتنی سی بات کرنے کے لئے مجھے یہاں بلایا ہے؟ فون پر ہی بتا دیا ہوتا۔ ہا ہا ہا۔ بیس سال بعد اس خواب اور محبت کے اظہار کا خیال آیا تمہیں مجنوں۔ ؟ ہا ہا ہا ہا۔ وہ مسلسل ہنستی جائے اور سریلے قہقہے لگاتی جائے۔
اس کو دیکھ دیکھ مجھے بھی ہنسی آئے لیکن اس کی طرح کھلکھلا کر ہنسا نہ جائے۔
سونیا سے کبھی ملاقات ہو یہ ممکن ہے۔ لیکن ملاقات شاہ حسین کے دربار پر ہو یہ ممکن نہیں۔ میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اب کبھی دربار پر نہیں جاوٴں گا۔ کیونکہ اب وہاں میرے لئے کچھ نہیں، وہ پرانا مقبرہ نہیں، وہ پرانا گنبد نہیں، شاید مادھو اور شاہ حسین بھی نہیں۔
ہاں مگر، شاہ حسین کے دربار کا وہ پرانا گنبد میری فکری منزل کا روشن نشان دل موہ لینے والی یادگار کی طرح ہمیشہ ذہن میں سلامت رہے گا۔ دربار کی پہچان وہ پرانا مچ بھی دل میں جلتا رہے گا۔ میلے کے چراغ آنکھوں میں روشن رہیں گے۔ یادوں کا ڈھول بجتا رہے گا۔ جذبوں کی دھمال پڑتی رہے گی اور میرے اندر سے یہ نعرہ بلند ہوتا رہے گا
”۔ میرا جیوے شاہ حسین۔“

بہت کمال لکھا ہے استاد جی کمال است