وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے


آٹھ مارچ کو یوم خواتین کی مناسبت سے جب ایک طرف مختلف ڈیزائنوں کے رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس مختلف عمر کی خواتین لاہور، اسلام آباد، کراچی، حیدر آباد، مری سمیت ملک کے مختلف شہروں کی سڑکوں پر اپنی آزادی، تحفظ اور صنفی مساوات کا مطالبہ کر رہی تھیں تو دوسری طرف کراچی نیشنل سٹیڈیم کے قریب ایک خاتون درد زہ سے گر پڑنے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہیں سڑک پر بچے کو جنم دینے کا افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ یہی نہیں جس روز عورت مارچ منایا جا رہا تھا اس روز لاہور کے اچھرہ بازار میں لفظ ’حلوہ‘ کی کڑھائی والے عبایہ کو پہننے والی خاتون کے موت کے چنگل سے معجزانہ طور پر نکلنے والے واقعہ کو گیارہ دن بیت چکے تھے۔

اس برس یہ دیکھنے میں آیا کہ مختلف حلقوں بالخصوص مذہبی حلقوں کی جانب سے میڈیا میں عورت مارچ کی مخالفت نہ ہونے کے برابر تھی اور بقول شخصے اس بار یو ٹیوبرز کو بھی مایوسی ہوئی۔ اس سے ممکن ہے کچھ لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہو کہ عورت مارچ اب ایک رسمی کارروائی رہ گئی ہے اور یہ کہ اب اس کی پاکستان میں ضرورت نہیں۔

اگر آپ بھی ایسا ہی سوچ رہے ہیں تو یقین کریں آپ غلطی پر ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ ’ورلڈ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2023‘ کے مطابق صنفی مساوات فراہم کرنے والے 146 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 142 واں نمبر ہے۔ گویا ہم پاتال میں گرے ہوئے ہیں۔ ساری دنیا آگے ہے، بس ایران اور الجیریا ہم سے پیچھے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق آئس لینڈ پہلے نمبر پر، ناروے دوسرے، فن لینڈ تیسرے اور سویڈن چوتھے نمبر پر ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق لیبر فورس میں پاکستان کا دنیا میں 140 واں، ایک جیسی ملازمت کی تنخواہ میں 71 واں، سیاسی خود مختاری میں 95 واں اور تعلیمی برابری میں 138 واں نمبر ہے۔ یہ رپورٹ مزید بتاتی ہے کہ اگر 2006 سے لے کر 2023 تک کے پاکستانی حالات و واقعات کو سامنے رکھا جائے تو پاکستانی خواتین کو صحیح سیاسی خود مختاری حاصل کرنے کے لئے 162 جبکہ بغیر صنفی امتیاز کے معاشی خود مختاری حاصل کرنے کے لئے 169 برس درکار ہوں گے! (کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک)

ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق مسلمان خواتین کے ساتھ ساتھ عیسائی اور ہندو خواتین کو بھی جائز وراثتی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں انسانی یا نسوانی حقوق پر کام کرنے والی دیگر سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار قطعاً خوش آئند نہیں ہیں۔ سکول کالج جاتی لڑکیوں کا بسوں ویگنوں کا سفر زیادہ محفوظ نہیں۔ مارکیٹوں میں شاپنگ کرتی عورتوں کو تاڑا جاتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین کو دفاتر میں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یعنی بقول شاعر

عورتیں کام پہ نکلی تھیں بدن گھر رکھ کر
جسم خالی جو نظر آئے تو مرد آ بیٹھے

اور ان میں بھی مذہبی جنونی افراد کے ہاتھوں خواتین بہ نسبت زیادہ غیر محفوظ ہیں جس کی حالیہ مثال اچھرہ بازار کا واقعہ ہے۔ یہ تو بھلا ہوا اے ایس پی سیدہ شہر بانو کا جس نے ’صنف آہن‘ بن کر ’حلوہ‘ (بمعنی خوبصورت، حسین، میٹھا) کے عبایہ والی خاتون کی جان بچائی۔ اور پھر ہر ذی شعور فرد کی طرح علی ظفر سے لے کر مریم نواز اور آرمی چیف تک سب نے شہر بانو کو خراج تحسین پیش کیا۔

سن 1908 میں نیو یارک سے ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہونے والا دن اب یوم خواتین میں بدل چکا ہے۔ کوئی پینتیس برس سے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اسے باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے اور 1996 سے ہر سال کسی نہ کسی نئے تھیم کے ساتھ اس دن کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس سال کا تھیم ”Invest in Women، Accelerate Progress“ تھا۔ یعنی ترقی کے لئے خواتین کو ساتھ لے کر چلنا ضروری گردانا گیا ہے۔

لاہور کا عورت مارچ پریس کلب سے شروع ہو کر ایجر ٹن روڈ پر فلیٹیز ہوٹل کے سامنے جا کر ختم ہو گیا۔ اس مارچ میں لاہور کے صحافیوں، طالب علموں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں، سیاسی کارکنوں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مارچ کے اختتام پر فلیٹیز ہوٹل کے سامنے سٹیج سجایا گیا جہاں شعور بیدار کرنے والے انقلابی نظمیں پڑھی گئیں، ترانے گائے گئے اور عورتوں کے حق میں بلند نعرے لگائے گئے۔ اس عورت مارچ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ مظلوم کشمیری عوام اور فلسطینیوں کے حق میں بھی نعرے بازی کی گئی۔ ان کے پلے کارڈز پر ’پدر شاہی نامنظور، عورتوں کے مسائل مرد نہ بتائیں، حقوق آدھے سزا پوری، ہمیں مساویانہ حقوق چاہئیں، اور پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘ جیسے نعرے یا مطالبے درج تھے۔

سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ فاطمہ جناح، بے نظیر بھٹو، ملالہ یوسفزئی، عاصمہ جہانگیر، مختاراں مائی، شرمین عبید چنائے، سیدہ شہر بانو وغیرہ نے آزادی خواتین اور تحفظ حقوق خواتین کے لئے جو جدوجہد شروع کی تھی اس کو مزید بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لئے عورت مارچ ایک اہم ٹول ہے۔ پاکستان میں شدید صنفی امتیاز برتا جاتا ہے۔ ابھی وہ وقت بہت دور ہے جب ہم اپنی خواتین کو اتنا بلند درجہ دے سکیں کہ ہم فخر سے کہ سکیں :

ابھی روشن ہوا جاتا ہے رستہ
وہ دیکھو ایک عورت آ رہی ہے

Facebook Comments HS