غزہ اور مسلم امہ کی بے حسی۔


غزہ میں 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد غزہ شہر میں ایک ایسا روح فرسا منظر کا عالم ہے کہ ہر حساس انسان کی آنکھ اشک بار ہو جاتی ہے مگر نام نہاد اقوام متحدہ اور یورپ کے ساتھ مسلم حکمرانوں کو ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑا۔ غزہ کے ننھے پھول وقت کے اس ہلاکو نیتن یاہو کے خاتمے کے لیے ایک اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے منتظر ہیں۔

سوشل میڈیا پر بچوں کی شہادت۔ کہیں ماں اپنے بیٹے کو آخری لوری دے رہی ہے۔ تو کہیں باپ اپنی بیٹی کو گود میں لیے ہوئے ہیں۔ تو کہیں بچے خود یہ سوال کر رہے ہیں کہ مسلم امہ اور عرب کہاں ہیں؟ کہیں بہن بھائی کو اور کہیں بھائی بہن کو شہادت کے عظیم مرتب پر فائز ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

جب سوشل میڈیا پر یہ سب کچھ دیکھ کر میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ مسلم امہ ہے کہاں؟ 57 مسلمان ممالک، دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان، ہماری فوجیں، ہماری حکومتیں، ہمارا اثر و رسوخ سب کچھ ہوتے ہوئے مسلم امہ کو صرف دعاؤں کے لیے کہا جا رہا ہے۔ عملاً کچھ نہیں، کوئی مسلمان ملک، کوئی مسلم حکمران، کوئی بھی اپنے فلسطینی بھائیوں کو ظلم سے بچانے کے لیے کھڑا کیوں نہیں ہو رہا۔ مگر بھول جاتے ہیں ہم تو PSL جیسی رونقیں، تیل کی چمک، بلند و بالا عمارات اور اقتدار کے نشے میں کہیں گم ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

انٹرنیشنل این جی او سیو دی چلڈرن کے ڈائریکٹر برائے فلسطین جیسن لی کا کہنا ہے کہ غزہ میں صورت حال بہت خراب اور سنگین ہوتی جا رہی ہے جہاں ہر 10 منٹ میں ایک بچے کی موت اور ہر پانچ منٹ بعد ایک بچہ زخمی ہو رہا ہے۔ 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی لگاتار بمباری سے غزہ کے کئی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ مسجدوں، اسکولوں، اسپتالوں، رہائشی اور کاروباری عمارتوں سب کو بلاتفریق نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق غزہ کا پانی، بجلی بند کر دیے گئے اور خوراک، دواؤں اور کسی بھی قسم کی سپلائی نہیں کی جا رہی۔ اتنا بڑا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، ظالم اپنے ظلم کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے دنیا بھر کے سامنے بلاتفریق غزہ میں رہنے والوں کا قتل عام کر رہا ہے اور دنیا تماشا دیکھ رہی ہے جبکہ مسلم امہ کہیں نظر نہیں آ رہی۔ امریکا ہمیشہ کی طرح ظالم اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہے۔

ایک طرف یہودی فلسطین کی نسل کشی کر رہے ہے دوسری طرف غزہ میں جنگ کے دوران 20 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ ہر 20 منٹ میں ایک بچے کی پیدائش ہو رہی ہے۔ اللہ کرے انہی بچوں میں کوئی صلاح الدین ایوبی فاتح بیت المقدس پیدا ہو، جو مسلموں کے قبلۂ اول کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرا سکے لیکن مسلم امہ کو روز حشر اس مجرمانہ خاموشی کا حساب دینا پڑے گا۔

Facebook Comments HS