آخری پنگا : ہیما مالنی سے جاں نثار اختر اور پھر ہپی کا شافی علاج بدست سنیاسی باوا
میں نے کہا۔ میں ایک ٹیکنیکل اسکول کا پرنسپل ہوں اور پانچ بجے میری پہلی کلاس ہے۔ لیکن گورے کی سلاجیت، آپ کی اسٹوری، قاسم جٹ اور محمد علی کے لئے میرے بہت سے کام باقی ہیں۔ کیونکہ شاید میں پھر پکڑ میں نہ آ سکوں۔ محی الدین نواب نے میری آنکھوں میں جھانک کر پوچھا، ”کیا میرے لئے بھی“ ۔
میں نے کہا۔ سر، ہم دونوں میں سے کوئی، شاید سال بھر بعد یہاں نہ ہو۔ آپ مجھ سے ملنے کبھی نہیں آئیں گے۔ بڑے بھی ہیں اس لیے مجھے ہی آنا ہو گا۔ لیکن میں موڈی ہوں میرے اسی طرح آئے دن کوئی نہ کوئی نئے ڈرامے یا پنگے چل رہے ہوتے ہیں۔ اور آج مجھے خوشی ہے کہ آپ سے ملاقات ہو گئی اور شاید قاسم، محمد علی کی زندگیاں بھی بدل جائیں۔ کسی بھی اہم شخص سے ملنے کی میری ٹھرک ایک دو مرتبہ کی ہوتی ہے۔ میری اور آپ کی عمروں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ابھی ہم دوستوں کی طرح انجان لوگوں کے درمیان ہنس کھیل رہے ہیں۔ لیکن ہماری اگلی ملاقاتیں شاید ایسی نہ ہوں۔ اگر ہم ان یادوں کو یادگار رہنے دیں تو بہتر نہ ہو گا۔ محی الدین نواب حیرت سے مجھے سن رہے تھے۔
میں نے بات کا رخ موڑتے انہیں سپیرے کے بیٹے کی کہانی کا پنگا سنایا، جسے مفت پڑھا کر مجھے گیدڑ سینگھی ملی تھی۔ اور درحقیقت سپیرے کے بیٹے کی ٹیوشن فیس مجھے آج ملی تھی وہ بھی کئی گنا ہو کر ۔
محی الدین نواب اپنی کرسی سے اٹھے اور میرے پاس آ کر میرے ماتھے پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ کہنے لگے ہم لوگ تو صرف باتوں کے کھلاڑی ہیں۔ جبکہ تم۔ ہم دونوں کی آنکھوں میں نمی تھی۔
میں نے کہا معراج صاحب کو بتا دیجئے گا اگر میں کبھی آپ کا پتہ یا رابطہ مانگو تو دے دیں۔ کہنے لگے ابھی لے لو۔ میں نے کہا۔ نہیں سر۔ جس گلی میں جانا نہ ہو میں اس کا راستہ نہیں پوچھتا۔ آپ کو البتہ اگر کبھی میری شدت سے ضرورت محسوس ہو تو مسٹری میگزین میں ابراہیم غوری یا ریڈیو پاکستان میں سلیم انصاری سے رابطہ کر لیجیے گا۔ ویسے میرے حساب سے ہم دونوں ہی اڑیل ہیں۔
کہنے لگے بڑی عجیب چیز ہو۔ تم نے اپنا چیک بھی دکھایا لیکن یہ دو سو روپے کس بات کے ہیں، نہیں بتایا۔ تمہارے پاس موٹی موٹی کتابیں ہیں، یہ کیا کہانی ہے۔
آپ نے باہر میری کہانی نہیں سنی۔
میں این ای ڈی کا الیکٹریکل انجینئر ہوں۔ باقی جس طرح آپ کو پڑھنے اور پھر لکھنے کا شوق رہا۔ میں صرف پڑھتا رہا اور لکھنے کی نوبت کبھی نہیں آئی۔ وہ میز بجا کر مجھے گھورتے رہے۔
بڑبڑائے، واہ، کیا کہانی بنے گی۔ ایک ٹیکنیکل اسکول کا پرنسپل جو الیکٹریکل انجینئر ہے، ایمپریس مارکیٹ میں سرمہ سلیمانی اور سلاجیت بیچتا ہے۔
میں نے ہنستے کہا، بیچتا تھا۔ اب میں یہ سب کیوں کروں گا۔ ویسے بھی اب میں کوشش کروں گا کہ اپنی چور پاکٹ میں کچھ پیسے رکھا کروں۔ کہنے لگے تمہارے کتنے پیسے گئے۔ میں نے کہا۔ شاید آٹھ یا دس روپے۔
ہنستے کہنے لگے۔ ”بس“ ۔
میں نے کہا کراچی میں رہتا ہوں۔ دو لوگوں کا دو طرفہ کرایہ اور کھانے کے لئے خرچ اپنے پاس رکھتا ہوں۔ خوب پیدل چلتا ہوں۔ چلنا فائدے مند اس طرح بھی ہے کہ وظائف پڑھتا رہتا ہوں۔
کہنے لگے، تمہیں ڈر نہیں لگا کہ اگر کوئی رشتے دار یا دوست تمہیں سرمہ سلیمانی یا سلاجیت بیچتے دیکھتا تو کیا کہتا اور تم کیا کرتے۔
سوال، جس کا جواب میں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا۔ میں نے کہا، میں جب مجمع سے مخاطب ہوا تو پہلے یہی خوف رہا۔ لیکن جیسے ہی مجھے اس کا ممکنہ حل ملا میں لوہے سے سیدھا پارس پتھر بن گیا۔
کہنے لگے، کیا۔
میں نے کہا ریڈیو ہی نہیں۔ میرا ٹی وی پر بھی آنا جانا ہے اور میں نے حال ہی میں وہاں سے پندرہ ہزار کمائے ہیں۔ محی الدین نواب کا منہ ایک بار پھر کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کہنے لگے تمہاری بات رد کرنے کا سوال ہی نہیں۔
میں نے کہا۔ مجھے رشتے داروں اور گھر والوں کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ میرا ٹی وی ریڈیو پر آنا جانا لگا رہتا ہے اور میں نے صرف اتنا کہنا ہے کہ ایک ڈرامے میں مجھے مداری کا مشکل کردار مل رہا ہے تو میں چیلنج سمجھ کر اس کی مشق کر رہا ہوں تاکہ کردار میں ڈوب کر ایکٹنگ کر سکوں۔ یہ اور بات کہ گھر والوں کو یہ بھی پتہ ہے کہ مجھے ماضی میں کئی ڈراموں میں ایکٹنگ کی آفر ہونے کے باوجود میں نے کبھی یہ کام نہیں کیا کہ اس میں شہرت ضرور تھی لیکن ساتھ وقت کا ضیاع اور صفر آمدنی۔ اور میرے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ وگرنہ یہ عقل سے ماورا بات ہے کہ ایک ٹیکنیکل اسکول کا پرنسپل، بی ایس ای، انٹر اور ماسٹرز کو پڑھانے والا انجینئر، صدر میں چادر بچھائے کیوں منجن اور سانڈے کا تیل بیچے گا۔
محی الدین نواب کے منہ سے نکلا، کیا شاندار جواب ہے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری: میں نے کہا: اور رنگ، وہ بھی چوکھا۔ ہم دونوں ہنس پڑے۔
کہنے لگے، اگر میں خود کبھی تمہارے گھر آؤں اور کسی وظیفے کی درخواست کروں۔
میں نے کہا مجھے بلا لیجیے گا آپ بڑے ہیں آپ کو اس کام کے لئے آنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی یہ کام میں باہر موجود کمزور عقیدہ لوگوں کے ساتھ تو کر سکتا ہوں شاید آپ کے لئے نہیں۔ میرے نانا ساتھ رہتے اور پکے دیوبندی ہیں اگر انہیں میرے دم درود، تعویذ گنڈوں کا علم ہوا تو مجھ دوزخی کو اپنے فتوے سے زندہ مار دیں گے۔ پھر آپ بلائیں گے تو میں سر کے بل بھی آ جاؤں گا۔
اس دوران میرا حساب کتاب، دنیا اور چار ممالک کے مستقبل کے زائچوں پر لگ بھگ پورا ہو چکا تھا۔ جو میں نے ان کی یوم آزادی پر کرنے کی کوشش کی تھی۔ جبکہ دنیا اور افغانستان کا مستقبل علم جفر سے نکالا تھا۔ انگلیاں چٹخائیں تو ہنس پڑے۔ میں نے کہا کیا ہوا۔ کہنے لگے لگتا ہے کسی نتیجے تک پہنچ گئے۔
اب باری میری تھی۔ ہنسنے کی۔
میں نے کہا، میرے خاندان میں متعدد لوگ آپ کی، احمد اقبال اور الیاس سیتا پوری کے معتقد ہیں۔ کہنے لگے۔ ”ملنا ہے“ ۔ میں نے کہا۔ سر کیا فائدہ۔ ہم لکھنے والے کی تحریر سے محبت رکھتے ہیں۔ آپ، رئیس امروہوی، انور مقصود یا جان ایلیا۔ اگر لمحہ ملاقات میں ہمیں اچھا وقت نہ دے سکے، تو نقصان ہمارا ہی ہو گا۔ کہنے لگے اور میرے بارے میں۔
میں نے پھر بات کاٹتے انہیں صادقین کی شاگردی سے لے کر دلیپ صاحب کے پیغام والا واقعہ سنایا اور محی الدین نواب، اب مرزا باقر داستان گو کی قصہ گوئی پر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ اور وہاں موجود لوگ، بشمول ہوٹل کا مالک، عمروں میں بہت بڑا تضاد رکھنے والے بظاہر دو دوستوں کو دیکھ کر حیران، کہ یہ کیا لوگ ہیں۔
کہنے لگے، عام حالات میں اگر تم مجھے کہتے کہ تم صادقین کے شاگرد رہ چکے ہو تو میں نہیں مانتا۔
میں نے کہا اور اب۔
کہنے لگے، میں تمہیں اب بھی نہیں جانتا، لیکن شاید ساری زندگی یاد رکھوں گا کہ میں نے قیمتاً تم جیسے شخص سے آدھے گھنٹے کی ملاقات کی۔
میں نے کہا، میرے لئے اعزاز ہے، کیونکہ لاٹری تو میری نکلی ہے۔ اور میں اگر معراج صاحب کو بتاؤں کہ میں نے آپ کے مردم بیزار مصنف کے ساتھ ہنستے روتے ایک دو گھنٹے گزار دیے تو وہ نہ مانیں۔
کہنے لگے، شاید اب نہیں۔ بلکہ وہ تم سے ملنا چاہیں گے۔ میں نے کہا، مجھ سے ملاقات بہلول دانا کے جنت میں محل جیسی ہے۔ آپ نے بلائنڈ کھیلی اور مخدوم کی یاد میں آنسو بہا لئے۔ معراج صاحب تو مل چکے ہیں اور مجھے چائے بھی نہیں پوچھی۔ اس لئے اب نہیں۔ اب شاید میں آدھ گھنٹے کے ہزار دو ہزار لوں تو بھی آنسو نہ آئیں۔
کہنے لگے چار پانچ منٹ ہیں۔ میں نے کہا حکم۔
کہنے لگے کوئی اچھا سا کلام گنگنا سکتے ہو۔
میں نہ کہا، کیا پھر مخدوم کا ۔ کہنے لگے، خدا کے واسطے نہیں۔
میں نے کہا، سرخ سویرا سے کچھ سنا دوں۔ کہنے لگے، خبردار۔
میں نے چھیڑتے کہا۔ ایک چنبیلی کے منڈوے تلے : کیسا رہے گا۔ کہنے لگا۔ نا بھائی۔ مخدوم نہیں۔
میں نے کہا ویسے تو آپ کا پچھلا سوال کہ اگر کوئی جاننے والا سلاجیت بیچتے دیکھ کچھ کہتا تو جو اباً میں کشور کا وہ گانا سنا دیتا جو راجیش کھنہ نے شرمیلا ٹیگور کو سمجھانے کے لئے گایا تھا۔
کچھ تو لوگ کہیں گے۔
لوگوں کا کام ہے کہنا۔
چھوڑو بے کار کی باتوں میں۔
بیت نہ جائے رینا۔
کہنے لگے واہ۔ تو اب کیا ہوا۔
میں نے کہا لتا جی کا گانا، لتا کی آواز میں سنیں، جو گورو صادقین کو بھی پسند تھا۔
میں نے ان کا مزاج بھانپتے۔ لتا جی کو سو فی صد کاپی کرتے گانا شروع کر دیا۔ گانے پر میرا گلا سیٹ تھا اس لئے میں نے منیجر سے پوچھ کر آواز کا والیم ذرا زیادہ کر دیا۔ ایک جوا تھا۔ جو میں کھیلنے جا رہا تھا۔ پہلا گانا تو تکا تھا جب میں اپنے میزبان کو نہیں جانتا تھا۔ لیکن اب معاملہ دوسرا تھا۔
اے دل نادان۔ اے دل نادان۔
آرزو کیا ہے، جستجو کیا ہے۔
ہم بھٹکتے ہیں۔ کیوں بھٹکتے ہیں۔ دشت و صحرا میں۔
موج پیاسی ہے، اپنے دریا میں۔
کیسی الجھن ہے۔ کیوں یہ الجھن ہے۔
ایک سایہ سا۔ روبرو کیا ہے۔
کیا قیامت ہے۔ کیا مصیبت ہے
کہہ نہیں سکتے۔ کس کا ارماں ہے۔
زندگی جیسے، کھوئی کھوئی ہے، حیراں حیراں ہے۔
یہ زمیں چپ ہے، آسماں چپ ہے۔
پھر یہ دھڑکن سی، چار سو کیا ہے۔
میں باتھ روم سنگر تھا۔ اپنی آواز میں کبھی نہیں گاتا تھا، طوطا سنگر تھا یعنی ہمیشہ کاپی کرتا تھا۔ آج پہلی بار کسی غیر کے سامنے لتا کا گانا لتا کی آواز میں گا رہا تھا۔ سچ تو یہ تھا کہ شاعری کو سمجھ کر صحیح جگہ زیرو بم دے کر ، میں ٹیبل بجاتے اپنے پسندیدہ مصنف کے لئے دل سے گا رہا تھا۔
گانے کے دوران میں نے ادھر ادھر دیکھا تو ایک سماں، ایک سحر تھا، جس کے طلسم میں سبھی بندھے ہوئے تھے اور شاعری سبھی کے دل کی آواز تھی۔ ہوٹل میں موجود، ”سبھی حیران۔ سبھی پریشاں۔ سبھی کھوئے کھوئے اور سبھی چپ تھے“ ۔ ہیما مالنی کا درد اور کرب، اگر کوئی فلم میں بھی دیکھتا تو شاید وہ اثر پیدا نہ ہوتا جو اس وقت میرے اردگرد لوگ محسوس کر رہے تھے۔ شاعری سب کے زخموں کو کرید رہی تھی۔
گانا جب عروج پر تھا، اسی وقت گلگت کے اسلحہ ڈیلر کی طرف سے ہانپتے کانپتے ایک باریش بزرگ مجھے ڈھونڈتے پہنچ گئے۔ منیجر نے میری طرف اشارہ کیا تھا۔
شیروانی پہنے کوئی صاحب تھے، جن کے ہاتھ میں ایک پوٹلی تھی۔
میں نے یک دم گانا وہیں روک دیا۔
صاف لگ رہا تھا کہ محی الدین نواب کو برا لگا۔
اتنے میں کہیں دور سے ایک تالی کی آواز آئی اور پھر ایرانی کا ہوٹل تالیوں سے گونجنے لگا۔ باہر فٹ پاتھ پر کھڑے لوگ حیرت سے اندر دیکھ رہے تھے۔ جبکہ آنے والا تالیوں کی حقیقت سے بے خبر تھا۔
فرط مسرت سے میری آنکھیں نم ہو گئیں۔
محی الدین نواب نے عجیب حرکت کی اور فرمائشی گانا پسند آنے پر پچاس روپے میری جیب میں ڈال دیے۔ میں نے فوراً ان کے پچھلے دیے دس روپے اس میں شامل کر کے ساٹھ روپے ان ہی کے سر سے وار کر منیجر کو دے دیے کہ کسی غریب کو کھانا کھلا دینا۔ اب میرا اور محی الدین نواب کا حساب برابر ہو چکا تھا۔ بلکہ ایک طرح سے وہ ”ون ڈاؤن“ تھے۔
میزبان کو اپنی حماقت کا احساس ہو چکا تھا۔ اور اس بات کا بھی کہ اس کے سامنے کوئی بہت خاندانی اور پہنچا ہوا کردار بیٹھا ہے۔ جو شاہی خاندانوں کو نذر کی جانے والی اس رسم سے واقف ہے۔ جو اب بھی پراسرار ہی تھا۔
ایک دو لوگ جو ان کی تقلید میں بٹوے کو ہاتھ لگا چکے تھے میری حرکت دیکھ کر وہیں رک گئے۔ منیجر میرے پاس آیا۔ بولا، آپ سنگر ہیں۔
محی الدین نواب نے صادقین والا میرا مذاق مجھ پر لوٹاتے کہا۔ ”آپ ان کو نہیں جانتے“ ۔
یہ بمبئی کی فلمی دنیا میں ایکٹر پروڈیوسر تھے۔ جتیندر سری دیوی کے ساتھ فلم ”تحفہ“ میں کام کیا۔ ابھی ریلیز ہوئی دلیپ صاحب کی ”کرما“ میں اور ہاں امیتابھ بچن کی ”قلی“ میں بھی کام کیا۔ انہیں دلیپ کمار نے خاص کام سے صادقین کے پاس بھیجا تھا۔ لیکن کراچی والوں کی محبت میں یہ یہیں رک گئے۔ میں ہنس پڑا تو ایک شخص کہیں سے کاغذ لے کر آ گیا۔ مجھ سے آٹوگراف لینے کے لئے۔
میں نے کہا یہ وقت بھی آ گیا کہ آپ کے سامنے لوگ میرا آٹوگراف لے رہے ہیں۔ وہ شخص بولا یہ صاحب کون ہیں۔ میں نے کہا فیض احمد فیض کے چھوٹے بھائی۔ اور اس نے منہ بنالیا۔
محی الدین نواب کا بھانڈا میں کیوں پھوڑتا۔
وہیں بیٹھے ایک شخص نے لقمہ دیا کہ یہ مداری کے بھتیجے نہیں۔
لیکن مجھ سے پہلے، ایک بار پھر محی الدین نواب بولے۔
نہیں، یہ ٹی وی کے ایک ڈرامے میں مداری کا کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے لئے آج پریکٹس کر رہے تھے۔
وہ آدمی بڑبڑایا۔ کیا کمال ایکٹر ہے، لیکن کبھی ٹی وی پر دیکھا نہیں۔
محی الدین نواب ترنت بولے۔ اب تو دیکھ لیا۔ بتایا تو ہے انڈیا سے آیا ہے۔ کیا کوئی شک ہے۔ وہ بولا نہیں۔
شیروانی والا مسلسل بے چین اور کسمسا رہا تھا میں نے چائے منگوائی تو کہنے لگے، نہیں معدے کے لئے مضر ہے بس پانی پیوں گا یا کوئی جوس مگر اصلی ہو۔ ہوٹل والا سمجھ چکا تھا کہ محی الدین نواب کوئی توپ چیز ہے اور ان کے سامنے بیٹھا کل کا لونڈا شاید ان سے بھی دو ہاتھ آگے کی۔
اس دوران میرا میزبان بولا، کس کا کلام تھا۔ میں نے قدرے غرور سے کہا، بچوں والا سوال ہے۔ کہنے لگے، ہاں جو مخدوم محی الدین کو گھول کر پی چکا ہو۔ اس کے لئے کیا بات ہے۔ میں نے کہا۔ شبانہ اعظمی کے سسر اور جاوید اختر کے والد، مرحوم جاں نثار اختر۔ کہنے لگے واہ۔ بلکہ شاباش۔
پوٹلی والے بزرگ بہت جلدی میں تھے انہوں نے گلا کھنکھارنے کے بعد اپنا کارڈ مجھے دیا اور بتایا وہ مطب میں مریض چھوڑ کر صرف ہمارے لئے آئے ہیں۔ وہ شہر کے ایک بہت بڑے نامور حکیم تھے۔ میری والدہ جن کے مطب پر ایک دفعہ میرے ساتھ گئی تھیں مگر رش کی وجہ سے ہم ناکام و نامراد لوٹ آئے تھے۔ اور وقت کی گردش کہ گلگتی اسلحہ ڈیلر نے انہیں میرے سامنے لا بٹھایا تھا۔ میں نے گول مول اپنے غیرملکی دوست کا بتایا۔ اتنے میں ہپیوں کا لیڈر بھی آ چکا تھا۔
حکیم صاحب نے سلاجیت دینے سے انکار کرتے ہوئے، حسب عادت اس کی نبض دیکھی اور ہنکاریاں مارتے رہے۔ انہوں نے ہپی سے انگریزی میں پوچھا علاج کروانا ہے یا سلاجیت ہی لینی ہے۔ اس نے کہا مجھے تو کوئی بیماری نہیں۔ علاج کیسا۔ حکیم صاحب نے ہم دونوں سے کہا۔ آپ دونوں اس کے سامنے سنیں گے۔ یا کہیں اور جائیں گے۔ ہپی نے کہا کوئی بات نہیں انہیں بیٹھا رہنے دیں۔ اب جو انہوں نے اس کے بھانڈے پھوڑنے شروع کیے تو میرے کان سرخ ہونے لگے، میں نے محی الدین نواب صاحب سے اردو میں کہا، سر۔ یہ بے غیرت تو بے شرم ہے۔ ہمیں اٹھنا چاہیے۔
پندرہ منٹ بعد وہ دونوں اٹھے تو گورا خوش تھا۔ میں نے گورے سے ہاتھ ملایا تو وہ خلاف توقع میرا ہاتھ چومنے لگا۔ اور یورپ آنے کی پھر دعوت دی۔ حکیم صاحب بضد تھے کہ میری اور نواب صاحب کی نبض بھی دیکھیں گے۔ میں نے انہیں ٹرخاتے ہوئے جواب دیا کہ میرے نانا خود حکیم ہیں ان صاحب کی نبض دیکھ لیں۔ پھر حکیم اور محی الدین نواب جو گٹ پٹ کرتے رہے، میں اس سے ماورا رہا۔
میں نے جاتے وقت حکیم صاحب کا شکریہ ادا کیا تو کہنے لگے، صاحبزادے شکریہ تو آپ کا کہ ایک ایسا شخص جس کے میں احسان تلے عرصے سے دبا ہوا تھا، اس نے مجھ سے کوئی کام کہا۔ ”گلگتی اسلحہ ڈیلر“ ۔ کہنے لگے، میرا کارڈ آپ کے پاس ہے۔ جب کسی رشتے دار یا آپ کو ضرورت ہو بلا جھجک آ جائیے گا۔ پچاس ساٹھ مریض انتظار میں ہوتے ہیں۔ مگر آپ کی باری فوراً آ جائے گی۔ پیچھے دستخط کر دیتا ہوں۔
حکیم صاحب گئے تو محی الدین نواب بولے، ”مجھے اب سید کہنے دو ۔ یہ سب کیا ہے جو آج سارا دن تمہارے ساتھ ہوا۔ تم نے دو تین سو میرے علاج کے بچا دیے کہ حکیم کام میں پکا ہے۔ یہ شخص پچاس ساٹھ مریض، مطب پر انتظار کرتا چھوڑ، صرف ہپی کو سلاجیت دینے آیا تھا۔ وہ بھی خوشی خوشی“ ۔
میں نے بڑے فلسفیانہ انداز میں آسمان کی طرف دیکھتے کہا۔ ”بے غرض نیکی ایک پالتو بلی کی طرح ہوتی ہے۔ آپ جب بھی رہا کریں گے کبھی نہ کبھی لوٹ کر واپس آ جائے گی۔ آپ کی نیکی آپ کے پاس واپس“ ۔ کہنے لگے ایک اور ڈائیلاگ میرا ہوا۔
تھوڑی دیر بعد ہپی اپنے دوستوں کے ساتھ دوبارہ آیا اور زبردستی میری جیب میں پچیس روپے ڈال دیے۔ وہی جو سلاجیت کی قیمت طے ہوئی تھی۔ حکیم نے اس کو سو فی صد درست تشخیص بتائی تھی اور دوا بھی دے دی تھی۔ جب اس نے فیس پوچھی تو حکیم صاحب نے کہا میرے جانے کے بعد اسی شخص کو دے دینا۔ اور گورا اپنی خوشی سے مجھے پیسے دے رہا تھا۔ پتہ چلا اس کی گرل فرینڈ کو بھی حکیم صاحب نے خوش کر دیا تھا۔ ”کیسے“ ، میں نے نہیں پوچھا۔
قاسم جٹ اور محمد علی کو میں نے کہا کہ خریدی چیزیں سنبھال کر رکھو۔ اور میں دو تین دن بعد ایرانی کے ہوٹل پر فون کر کے بتا دوں گا کہ کہاں ملاقات کرنی ہے اور ان چیزوں کا کیا کرنا ہے۔ سامان کی فہرست مقدار کے ساتھ میں نے فوٹو اسٹیٹ کر واکر رکھ لی۔
میرے پاس ایک گھنٹہ تھا۔ اور اب میں فرہاد علی تیمور بن کر محی الدین نواب کو مستقبل میں جاکر یہ بتانے والا تھا کہ پاکستان اور اس کے پڑوسی ممالک میں کیا کچھ ہونے والا ہے۔ پاکستانیوں کا مستقبل، وزیراعظم جونیجو، صدر ضیا الحق، روس افغانستان جنگ، انڈیا میں راجیو گاندھی سے لے کر ایک بے انتہا تبدیلیوں والا وقت سامنے تھا۔ جسے میں جان کر انجان بننا زیادہ مناسب سمجھ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭اختتام٭٭٭٭٭
آج سے چھتیس سال پہلے، مگر اس یادگار پنگے کے سال بعد ، ستمبر 88 میں یہ الیکٹریکل انجینئر، کراچی کو چھوڑ کر پاک فضائیہ میں شمولیت اختیار کرچکا تھا۔ گاہے بگاہے کراچی بھاگتے دوڑتے جانا ہوتا۔ ایسے میں کون محی الدین نواب اور کون سا ریڈیو یا کراچی ٹیلی ویژن۔ چھ سات سال بعد جب میں کراچی میں تعینات تھا۔ ایک دن روزنامہ جنگ، ریڈیو پاکستان، مسٹری میگزین اور سسپنس کے دفاتر پہنچ گیا۔ زندگی میں ملنے والے لوگوں کو یہ بتانے کہ فلائٹ لیفٹننٹ مداری، اب کیا ہے، کہاں ہے اور خود ناچ رہا ہے یا دوسروں کو نچا رہا ہے۔
معراج رسول صاحب نے اپنے دفتر سے میری بات محی الدین نواب سے کروائی۔ جانے ناراض تھے یا کچھ اور۔ مجھے پہچاننے سے صاف انکار کر دیا۔ میں نے ایک مخصوص جملہ جو حکیم نے انہیں کہا تھا اور کچھ باتیں جو میں نے بعد میں ان کی ہتھیلیوں پر پڑھ لی تھیں انہیں فون پر بتائیں تو قہقہہ مارکر ہنس پڑے اور بولے، ”مخدوم محی الدین کے خبیث چیلے“ ۔ اگر گھر آؤ تو دیکھ کر شاید پہچان لوں۔
میں نے کہا، یہ قسم تو میں نہیں توڑتا۔
معراج رسول صاحب کو البتہ بہت ساری باتیں جو محی الدین نواب نے انہیں میرے بارے میں سات سال پہلے بتائی تھیں، یاد آ گئیں۔ اور وہ اب دوبارہ کھڑے ہو کر مجھ سے یہ کہ کر گلے ملے کہ وہ تم تھے جس سے میں اتنے سالوں سے ملنے کا آرزومند تھا۔
آج یہ دونوں خوبصورت لوگ اس فانی دنیا میں موجود نہیں۔ ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر، محمد نقی عرف نقی بھائی ہوں، جنگ کراچی کے مرزا سلیم بیگ یا نونہال کے حکیم سعید اور مسعود احمد برکاتی۔ انسپکٹر جمشید والے اشتیاق احمد ہوں، ابن صفی یا رئیس امروہوی۔ گورو صادقین یا کسوٹی کے عبید اللہ بیگ یا قریش پور۔ ماں باپ، اساتذہ اور بزرگ رشتے داروں کے علاوہ ان سب بڑے لوگوں سے چھوٹی بڑی ملاقاتوں نے مجھے وہ بنانے میں مدد کی جو کچھ میں بن سکا۔ یقیناً مجھ جیسے لاتعداد لوگ آج بھی موجود ہیں جو ان سب کو اب بھی یاد کرتے ہوں گے ۔
یہ تحریر محض ان تمام بڑے لوگوں کو ایک سلام عقیدت ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں ان تمام نعمتوں (یعنی غیر نصابی باتوں ) سے لگ بھگ محروم ہی رہے گی۔ اب صرف سوشل میڈیا ہے اور جھوٹی باتوں کے ذریعہ چند کلکس اور لائکس کی بے ہنگم دوڑ۔
بڑے لوگوں سے آٹوگراف لینے کی خوبصورت رسم اب سیلفی میں بدل چکی ہے۔
ہم کہاں سے کہاں آ پہنچے۔
مصنوعی ذہانت کتنی تیزی سے ہماری زندگیوں کو بدلنے والی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو جب احساس ہو گا، تب تک شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ کیونکہ ہم حلوہ خطاطی، سر تن سے جدا، پشاور میں ایک دن پہلے نظر آنے والے عید کے چاند اور فارم 47 کے ہندسے کیوں تمام فارم 45 کے مجموعوں سے میل نہیں کھاتے۔ ایسے لایعنی مسائل کو ہی حل نہیں کر سکتے تو چیٹ بوٹ اور چیٹ جی پی ٹی کس کھیت کی مولی ہیں، ہمیں کیا۔


