پونم پریت افسانہ (4)


ہم موٹروے پر شیخوپورہ پہنچے تو پونم نے کسی ریسٹ ایریا میں رک کر ہوا خوری کرنے کی خواہش کی۔ ہم گاڑی پارک کر کے تھوڑی دیر ٹہلتے رہے۔ پونم نے اگلے روز لاہور سے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور اس سے اگلے روز علی الصبح برطانیہ کے لئے پرواز بھرنی تھی۔ اس لئے پونم کی خواہش پر ہم نے اگلی دو راتیں لاہور میں ہی گزارنی تھیں۔ اس کے کہنے پر میں نے ملک الطاف حسین کے توسط سے لاہور میں جی۔ او۔ آر میں دو کمروں والا گیسٹ روم دو دن کے لئے بک کروا دیا تھا۔ سہ پہر ڈھل رہی تھی جب ہم نے سفر دوبارہ شروع کیا۔ پونم اب کافی سنبھل چکی تھی۔ وہ ایک دفعہ پھر سے اپنی داستان سنانے لگی::

جس دن تم مجھے ملے اس دن یاسر محمود کو جدا ہوئے ایک سال ہو چکا تھا۔ یاسر کی وفات کے فوراً بعد سنبل حیات کے کہنے پر ہم دونوں اپنے اپنے دفتروں سے ایک ایک ماہ کی رخصت لے کر پہلے میرے گاؤں اور پھر کراچی اور حیدرآباد چلے گئے۔ بڑی ماں، انکل طارق رند اور سعدیہ طارق نے کافی حد تک میرا غم بٹا دیا۔ مگر حیدرآباد میں ماہ رخ کی قبر پر جا کر بابا مجھے بہت یاد آئے۔ بعض اوقات دل کھول کر رونا بھی بہت سکون دیتا ہے۔ اس دن میں زندگی میں تیسری دفعہ دل کھول کر روئی تھی۔

پھر تم مجھے ملے۔ تم نے میری غمگین و مردہ زندگی میں ایک نئی روح پھونک دی۔ مجھے لگا کہ دوستی دنیا کا سب سے پر خلوص، عظیم اور معتبر رشتہ ہے۔ اس سے بڑا رشتہ اس دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ رشتہ محبت، رومانس اور شادی سے بھی بڑھ کر ہے۔

زندگی پھر رواں دواں تھی کہ ایک دن اچانک عقیل احمد نے فیس بک پر دوستی کی استدعا بھیج دی۔ جوں ہی میں فرینڈ ریکوئسٹ قبول کی عقیل احمد کی پروفائل سامنے تھی۔ وہ اسی طرح تر و تازہ اور ہشاش بشاش نظر آیا۔ میں بہت حیران ہوئی کہ جوں ہی عقیل کی آواز میرے کانوں میں پڑی، میری پہلی محبت تن کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس جذبے نے میرے اندر سے اس کی بے وفائی کا غم اور یاسر محمود کی ناگہانی موت کی یاسیت کچھ دیر کے لئے پس پشت ڈال دیا۔

عقیل احمد نے بتایا کہ اس کی ایک پانچ سالہ بیٹی ہے جس کی ماں اس کی پیدائش کے دوران پیچیدگی پیدا ہونے سے فوت ہو گئی تھی۔ میں اور عقیل احمد مسلسل ایک ہفتہ باتیں کرتے رہے مگر باتیں تھیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھیں۔ بالآخر عقیل احمد نے درخواست کی کہ اس کو زندگی بھر کی ساتھی اور اس کی بیٹی کو ایک ماں کی ضرورت ہے۔ میں ایک اور معرکہ محبت سر کرنے کی متحمل نہیں ہو پا رہی تھی، مگر پہلی محبت کی پکار کو رد کرنے کا حوصلہ بھی نہ تھا۔

اور حامی بھرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں کر پا رہی تھی۔ طرح طرح کے خدشات نے مجھے گھیر لیا۔ جس انسان نے اپنی ماں کی خواہش پر میرے علاوہ کسی سے شادی کر لی، وہ بیٹی کے مجھے قبول نہ کرنے کی صورت میں میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ مگر میرا دل کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا۔ آخر میری عقل ہار گئی اور دل جیت گیا۔ میں عقیل احمد کی بات مان کر برطانیہ جا رہی ہوں۔

جب ہم شاہدرہ موڑ پر پہنچے تو شام ڈھلنے میں ابھی کچھ دیر تھی۔ پونم کے مشورے پر دریائے راوی کا پل عبور کر کے میں نے گاڑی دائیں ہاتھ کشتی اڈے کے نزدیک کھڑی کر دی اور ہم دونوں ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنے لگے۔ پونم بولی ”پتہ نہیں کیوں مجھے ڈوبتا سورج بہت اچھا لگتا ہے۔ اس منظر میں، اس دنیا، اس زندگی اور اس کی موجودات کی نا کاملیت اور فنائیت کا پیغام ہوتا ہے۔

مگر اندھیری رات کے بعد ایک روشن دن اور شام کی اداسی کے بعد صبح امید کا پیغام بھی تو ہوتا ہے۔ ”میں نے پونم کو اداسی کی کیفیت سے نکالنے کے لئے کہا۔“ اگر کل وقت ملا تو مجھے کل شام کو مجھے دوبارہ یہاں لانا۔ ہم مقبرہ جہانگیر اور نور جہاں کے دالانوں میں ڈوبتے سورج کا منظر اکٹھے دیکھیں گے۔ کل پاکستان میں تمہارے ساتھ میری آخری شام ہوگی۔ ”یہ کہتے ہوئے وہ پھر اداس ہونے لگی تھی۔ ہم نے دو دو کین آب جو لی اور اس دوران غم غلط کرنے کے لئے ایک دوسرے کو اپنے پسندیدہ اشعار سناتے رہے۔

جب ہم مینار پاکستان پہنچے تو دونوں ہی بھوک سے نڈھال ہو چکے تھے۔ شاہی قلعے کی بغل میں نئی نئی بنی فوڈ سٹریٹ روشنیوں میں نہائی ہوئی بہت بھلی معلوم ہوئی۔ جب ہم روشن گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کسی جدید سے گاؤں میں آ گئے ہوں۔ وہاں کی رونق دیدنی تھی اور آہستہ آہستہ اس میں اضافہ ہو رہا تھا۔ میں نے دال مکھنی اور پونم نے بون لیس ہانڈی آرڈر کی۔ تازہ نان اور پودینے کی چٹنی نے کھانے کا مزہ دوبالا کر دیا۔ ہم نے کوئٹہ کا قہوہ پیتے ہوئے بانسری کی چند راجستھانی دھنیں سنیں اور وہاں سے چلنے کی تیاری کرنے لگے۔ فوڈ سٹریٹ سے نکلتے ہوئے پونم نے ایک کونے سے پان لیا اور مجھے براستہ بھاٹی گیٹ مال روڈ پر جانے کی ہدایت کی۔

جی او آر میں ڈبل بیڈ روم اور درمیان میں لاؤ نج پر مشتمل ایک آراستہ و کشادہ گیسٹ روم ہمارا منتظر تھا۔ وہاں پہنچتے ہی ہم نے جلدی سے اپنا اپنا شب بسری کا ضروری سامان ان پیک کیا۔ پونم، باتوں کا ایک اور سیشن تھوڑا فریش اپ ہونے کے بعد چائے پر لگانا چاہتی تھی۔ جب وہ اپنے بیڈ روم میں تازہ دم ہونے گئی تو میں بھی کھانے کے بعد کی غنودگی دور کرنے اور تھوڑا سا سستانے کے لئے اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ شاید دو تین گھنٹے گزرے ہوں گے کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے جوتے اترے ہوئے ہیں، روشنی مدھم ہے، میرے اوپر کمبل دے دیا گیا ہے اور بیڈ سائڈ ٹیبل پر گلاس میں پانی بھی پڑا ہے۔ یہ کام پونم کے علاوہ کون کر سکتا تھا؟

پھر مجھے یاد آیا کہ پونم رات کے پہلے پہر مزید باتیں کرنا چاہتی تھی۔ کہیں وہ انتظار ہی نہ کر رہی ہو۔ یہ سوچ کر میں وضع احتیاط میں اٹھ بیٹھا۔ پھر یہ سوچ کر لیٹ گیا کہ اگر پونم جاگ رہی ہوئی تو خود ہی میرے پاس آ جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ اس رات مجھے پونم کے قرب کی خواہش پیدا نہیں ہوئی تھی مگر میں یہ ارادہ لے کر پونم کے پاس نہیں جانا چاہتا تھا۔ ہو سکتا ہے میری خوشی کی خاطر پونم میرے پاس سو بھی لیتی مگر میرے میں یہ گناہ بے لذت ہوتا۔

مجھے اس بات میں ذرا بھر بھی شک نہیں تھا کہ پونم میری دوست تھی محبوبہ نہیں۔ وہ جس کی محبوبہ تھی اس کے پاس جانے کے لیے عازم سفر تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ کوئی احساس ندامت لے کر اپنے محبوب سے ملے۔ اگر وہ کسی ایسی اذیت میں مبتلا ہو جاتی تو شاید میں زندگی بھر اپنے آپ کو معاف نہ کر پاتا۔ اس قسم کی سوچیں اور دن بھر کی تھکاوٹ لے کر میں نہ جانے کب نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ ( جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments