شیر افضل مروت: مزاحمتی سیاست کا نیا استعارہ


پاکستان کی سیاست میں جو چند نام اب تک معتبر سمجھے جاتے ہیں ان سب میں قدر مشترک مزاحمتی سیاست ہے۔ پاکستان میں سیاست دانوں کی اکثریت ذاتی فائدے اور شہرت کے لیے سیاسی میدان میں اتارتے ہیں۔ چاپلوسی اور ڈرامہ بازی اور درباری صفات سے آراستہ یہ سیاست دان آپ کو ہر پارٹی میں ملیں گے۔ یہ سیاست دان جہاں مفاد دیکھتے وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگاتے اس لیے پاکستان میں سیاست دانوں کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے جو ایک سے زیادہ پارٹیوں میں رہ چکے ہیں۔

یہ سیاست دان ہمیشہ اپنی پی آر بنا کر رکھتے ہیں۔ ان کی رسائی میڈیا تک بھی ہوتی ہے اور یہ اپنے مفاد کے لیے اپنے عزت نفس کو ہزار بار قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ وہ سیاسی کارکن جو سخت وقت میں اپنے نظریے اور پارٹی سے الگ نہیں ہوتے اور جبر کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں وہ ہمارے سیاسی منظر نامہ پر کم ہی دیکھے جاتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے مقبول لیڈر بھٹو تھا مگر جب اس پر سخت وقت آیا تو سب سے پہلے اس کے وہ قریبی ساتھی جنہوں نے بھٹو کی وجہ سے شہرت، عزت اور دولت پیدا کی تھی وہ ان کو چھوڑ کر مخالف کیمپ میں چلے گئے۔

لیکن پھر بھی پیپلز پارٹی کو شہرت اور عزت اس کے کارکنوں اور جیالوں کی مزاحمت کی وجہ سے ملی تھی۔ آج وہ پارٹی مزاحمت کی جگہ مفاہمت کے نام سے مشہور ہو گئی ہے۔ یہی حال قوم پرست جماعتوں کا ہے وہ بھی کسی نہ کسی چور دروازے سے اقتدار کے ایوانوں میں اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کسی کونے میں ایک یا دو نشستوں کے خواہاں ہیں۔ قوم پرستوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھی جائے تو ان کی سیاست مزاحمت سے شروع ہو کر مزاحمت پر ختم ہوتی تھی وہ اسٹیج پر ہوتے یا جیل میں گھر کی روٹی اور گرم بستر ان کی نصیب میں نہیں تھا۔

مگر جب قوم پرست جماعتیں بھی موروثیت کا شکار ہو گئیں، کارکنوں کی جگہ اولاد نے لے لی تو ان کی طرز سیاست بھی بدل گئی۔ مذہبی جماعتیں ہمیشہ سے پریشر گروپ کے طور پر میدان سیاست میں رہی ہیں جنہیں امریکہ اور داخلی طاقت وار طبقے نے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا اس لیے ان سیاسی جماعتوں میں مزاحمت کا عنصر نظریہ ضرورت کے تحت وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر اب شاید ان کی ضرورت باقی نہیں رہی اس لیے وہ بھی دیگر چور دروازوں سے ایوان اقتدار کے مزے لوٹنے کا انتظام کرتی ہیں۔

بے نظیر بھٹو کو بھی مزاحمتی سیاست نے مقبولیت بخشی لیکن جب جب انہوں نے مزاحمتی سیاست ترک کی ان کو مالی فائدہ اور سیاسی نقصان ہوا۔ نواز شریف نے چند ہفتوں کے لیے مزاحمتی سیاست کی جس کی وجہ سے وہ بے حد مقبول ہو گئے تھے۔ مگر وہ اس کو برقرار نہ رکھ سکے۔ اس لیے کہ ان کی جماعت نظریاتی نہیں مفاداتی اصولوں کے تحت بنی اور پروان چڑھی ہے۔ سیاست دانوں میں نیا اضافہ عمران خان تھے جو شروع ہی سے مزاحمتی سیاست کے حامی نہیں تھے۔

لیکن نوجوانوں میں مقبول ہونے کی وجہ سے صرف اپنی ایک ہی سیٹ جیت پاتے تھے۔ پھر وہ بھی سیاسی داؤ پیچ سیکھ گئے اور ایوان اقتدار تک پہنچ گئے۔ مگر ان کا مزاج ایوانی سیاست کے مطابق نہیں تھا اس لیے ان کو بھی وقت سے پہلے رخصت کیا گیا۔ عمران خان کے منظر نامے سے ہٹنے کے بعد ان کے گرد جمع ہونے والے سارے مفاد پرست بے نقاب ہو گئے اور ایک ایک کر کے ان کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ وہ وزرا جنہوں نے اس کے دور حکومت میں اربوں کے فائدے حاصل کیے وہ اچانک ایسے غائب ہو گئے کہ جیسے وہ خلائی مخلوق تھے اپنے سیارے پر واپس چلے گئے۔

عمران خان کو پابند سلاسل کیا گیا۔ عام پاکستانیوں کا خیال تھا کہ ان کے بعد ان کی ٹیم ان کے لیے احتجاج کرے گی اور مزاحمتی سیاست کو بنیاد پر بنا کر ان کی سیاسی قد کاٹھ میں اضافہ کرے گی۔ مگر ایسا ہوا نہیں کراچی سے زیدی اور عمران اسماعیل نے لوگوں کو مایوس کیا، پنجاب میں تو سب نے مایوس کیا، بلوچستان اور اندرون سندھ میں تو کوئی تھا ہی نہیں اس پارٹی کا ۔ جنوبی پنجاب میں ان کے بنائے ہوئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو کسی نے پھر کہیں دیکھا ہی نہیں۔

اسد عمر اور اس کی طرح کے دیگر وزیر و مشیر جو ہر وقت عمران کے آگے پیچھے ہوتے تھے، نے خود کو فوراً ہی ان سے الگ کر لیا۔ خیبر پختونخوا میں تو کمال ہی ہو گیا پرویز خٹک اور محمود خان جو عمران خان کی وجہ سے اس صوبہ کے وزیر اعلیٰ بنے اور اس صوبہ کے سیاہ و سفید کے مالک تھے ان کے بھائی اور بچے تک ارب پتی ہو گئے تھے وہ نہ صرف ان کو چھوڑ گئے بلکہ ان کے خلاف پارٹی بنا کر عمران خان کو ہی سب برائیوں کی جڑ قرار دینے کے لیے صوبہ بھر میں جلسے جلوس کرنے لگے۔

باقی صوبائی وزرا بھی نجی محفلوں میں یہ یقین دلاتے نظر آتے تھے کہ اب ان کا عمران خان سے کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ یعنی عمران خان نے دس برس سے زیادہ جن لوگوں پر عنایات کی بارش کردی تھی وہ سب احسان فراموش اور مطلبی نکلے اور کسی بھی طور قابل بھروسا نہیں رہے۔ ایسے میں اچانک سیاست کی افق پر ایک نئے شخص کی آمد نے ہلچل مچا دی۔ یہ شخص شیر افضل مروت تھا۔ اس سے پہلے کسی نے بھی اس کا نام نہیں سنا تھا۔ اس سخت ترین دور میں جب عمران خان کا نام لینا گویا اپنی شامت کو دعوت دینا تھا۔ اس شخص نے ان کا نام لینا شروع کر دیا اور نوجوانوں کے پاس جانے لگا اور عوام سے رابطہ کرنے لگا، وکیلوں کو جمع کرنے لگا۔

پاکستان کے لوگوں نے تو یقین کر لیا تھا کہ مزاحمت کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور صرف کاسہ لیسی اور گماشتگی کی سیاست ہی اب عوام کا مقدر ہے مگر اس شخص کی سیاست میں آمد سے جیسے منظر نامہ ہی بدل گیا وہ خوف سے چھپتے پھر رہے تھے وہ منظر عام پر آنے لگے۔ یہ شخص اچانک اتنا مشہور ہو گیا کہ پورا پاکستان اور پاکستان سے باہر رہنے والے پاکستانی اسے جاننے لگے۔

اس کے جملے ضرب المثل بن گئے۔ اور کسی بھی ٹاک شو اور مذاکرے میں اس کو ہرانا ممکن نہیں رہا۔ اس سیاسی کرفیو میں یہ تن تنہا کبھی مردان، کبھی سوات، کبھی باجوڑ کبھی جنوبی اضلاع میں تمام رکاوٹیں توڑ کر پہنچ جاتا تھا۔ یہ ایک پڑھا لکھا شخص تھا۔ اس نے تاریخ اور صحافت میں ڈگریاں حاصل کیں قانون کی اعلیٰ ترین تعلیم دنیا کے معروف اداروں سے حاصل کی تھی، یہ برسوں تک عدالتوں میں بطور جج کے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہا ہے۔

برسوں یہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں وکالت کرتا رہا ہے۔ وہ وکیل جو عمران خان کی حکومت میں مزے لوٹتے رہے یعنی بابر اعوان وغیرہ وہ بھی منظر نامے سے غائب تھے۔ ایسے میں اس وکیل نے پاکستان کی سیاست میں ایک نئی مزاحمتی تحریک کا آغاز کر دیا۔ اس کا صور پھونکنا تھا کہ تحریک انصاف کو ماننے والے اور اس کے نظریات کے حامی اپنے بلوں سے نکل آئے۔ عمران خان کے ساتھ اگرچہ بہت سارے لوگ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

لیکن بیشتر مفاد پرست انہیں چھوڑ گئے تھے۔ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا اور عمران خان کے لیے میدان میں نکلنا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ ان کے ساتھ کھڑے رہنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے مگر ان کے لیے سر پر کفن باندھ کر میدان میں نکلنے والوں کی تعداد بہت کم تھی۔ اگر شیر افضل مروت نہ نکلتا تو شاید باقی باہر نکلنے والوں کی بھی ہمت نہ ہوتی۔ شیر افضل مروت کا ساتھ خیبر پختونخوا میں یوتھ نے دیا۔ وہ سیاسی کارکن جو طلبا سیاست سے اوپر آئے تھے وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے۔ جیسے مینا خان آفریدی اور ان کے ساتھی۔ یہ لوگ ڈرے نہیں اور نہ ہی انہوں نے کسی مرحلے پر پیٹھ دکھائی

یہ رزم و بزم دونوں میں عمران خان کے لیے آواز بلند کرتے رہے۔ گرفتار ہوتے رہے اور باہر نکل کر پھر سے سرگرم ہو جاتے تھے۔ مالاکنڈ سے جنید اکبر نے جرات کا مظاہرہ کیا، ڈیرہ سے علی امین گنڈاپور نے اپنے خاندان اور اسلاف کی لاج رکھی اور جم کر ڈٹ کر کھڑا رہا۔ وزیر زادہ جو کیلاش قبیلے سے مخصوص نشستوں پر گزشتہ صوبائی حکومت میں مشیر تھا وہ مسلسل متحرک رہا اور اس نے اقلیتوں کو یکجا کیا اور ہر جلسے اور میٹنگ اور احتجاج میں پہنچ جاتا تھا کئی مرتبہ گرفتار بھی ہوا مگر ڈٹا رہا۔

سینٹروں میں فلک ناز واحد خاتون تھی جو ڈری نہیں اور مسلسل میدان میں رہی باقی سینٹروں کو اب لوگ بھول گئے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرز بھی تھے۔ لیکن پاکستانی سیاست میں جاوید ہاشمی کے بعد مزاحمتی سیاست کے اصل نمائندے کے طور پر جس شخص کو حقیقی پذیرائی ملی ہے وہ شیر افضل مروت ہی ہیں۔ ان کو وکیل ہونے کا فائدہ بھی ہے۔ وہ بے باک ہیں اور ڈر نام کی کوئی شے ان کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ اگر پنجاب اور سندھ میں تحریک انصاف کی سیاست پر حق جتانے والے ان سے خائف ہو کر اور ان کی مقبولیت سے ڈر کر ان کو وہاں بھی مہم چلانے سے نہ روکتے تو شاید وہاں بھی صورتحال مختلف ہوتی۔

تحریک انصاف کی تحریک میں دوبارہ جان پھونکنے والے اس شخص کو قومی اسمبلی کے لیے لکی مروت سے ٹکٹ دیا گیا تھا جہاں ان کا مقابلہ سلیم سیف اللہ سے تھا۔ جو اس حلقے سے پہلے بھی کئی مرتبہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ مگر اس نے نہ صرف اسے ہرایا بلکہ بزور زبردستی اپنا نتیجہ بھی آر او آفس سے وصول کیا۔ خیبر پختونخوا میں بھی شیر افضل مروت کی مخالفت پارٹی کے اندر سے ہوئی عاطف خان نے ان کے کئی جلسے ناکام بنائے مگر یہ شخص ڈٹا رہا اور آگے بڑھتا رہا۔

سوشل میڈیا پر پاکستان سے باہر بیٹھے ہوئے کچھ لوگ جو صرف ویوز لینے کے لیے تحریک انصاف کے حمایتوں کو متوجہ کرنے کے لیے مسلسل پروپیگنڈا میں مصروف سابق فوجیوں کو بھی اس مرد مجاہد نے ایکسپوز کیا اور ان کے پروپیگنڈوں کو بے نقاب کیا۔ سیاست ایک مسلسل عمل ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں۔ کچھ لوگ اقتدار میں رہتے ہیں اور کچھ جیل میں مگر تاریخ ان کو یاد رکھتی ہے جو مزاحمت کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی سیاست میں شیر افضل مروت مزاحمتی سیاست کا ایک نیا استعارہ ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے اس سلسلے کو قائم و دائم رکھتے ہیں یا وہ بھی دوسروں کی طرح مقتدرہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ پاکستان میں ایسے لوگوں کا حقیقی سیاسی کیرئیر بہت مختصر ہوتا ہے۔ اس لیے اس ملک کو آج تک کوئی بڑا لیڈر نہیں ملا۔ ماضی میں جو مزاحمتی ملتے ہیں وہ سب وہ لوگ تھے جن کو پہلے نوازا گیا اور بعد میں جب وہ اپنے قد و حیثیت سے زیادہ مانگنے لگے تو ان کو سائیڈ لائن کر دیا گیا جس کے جواب میں وہ مزاحمت پر اتر آئے، بھٹو، نواز شریف اور عمران خان سب کا یہ حال ہے مگر شیر افضل مروت نے اپنے سفر کا آغاز ہی مزاحمت سے کیا ہے۔ دیکھتے ہیں ان کا کیا حال ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS