پاکستان ہے تو سب کچھ ہے
پاکستان کو اس وقت مضبوط فوج کے باوجود سیکیورٹی خطرات، بہت زیادہ پوٹینشل کے باوجود کمزور معیشت، بے روزگاری، شرح خواندگی، ریاستی اداروں کی کمزوری، فرقہ واریت، بیڈ گورننس، صحت کی ناکافی سہولیات، ہیومن ڈویلپمنٹ کے سیکٹر میں سست روی، انرجی بحران اور کرپشن سمیت متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ دیکھا جائے تو ان مسائل میں ہمارے مجموعی سماجی رویوں کا بہت عمل دخل ہے جو ان مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمارے سماجی رویے ہی ہماری سمت کا تعین کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم اپنے سماجی رویوں کو درست سمت دینے میں ناکام رہے ہیں، شاید ایسا لیڈر شپ کے فقدان کی بدولت ہے۔
بدقسمتی سے ہم آزادی سے لے کر اب تک قوم نہیں بن سکے بلکہ اپنے رویوں کے اعتبار سے ہم محض ایک ہجوم یا ریوڑ ہیں جسے کبھی سرمایہ دار، کبھی جاگیر دار، کبھی فوجی جرنیل تو کبھی ملک کے دیگر طاقتور عناصر ہانکتے آ رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم اب تک اپنے اہداف کا تعین کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس حوالے سے بہت کنفیوزڈ رہے ہیں کیونکہ ہر چند سال بعد ہمارے اہداف اور پالیسیاں بدل رہی ہوتی ہیں۔ قومیں اپنے اہداف اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے طے کرتی ہیں۔
اگر اپنی تاریخ کا جائزہ لیں تو ہم قومی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کے اسیر رہے ہیں اور منافقت یہ ہے کہ اسے قومی مفاد قرار دیتے ہیں۔ یہ رویہ حکمران اشرافیہ سے لے کر عوام تک سرایت کر چکا ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہم نے بے شمار قومی ادارے قائم کیے ہیں جن سے اگر درست طریقے سے کام لیا جائے تو ہمارے مسائل چٹکیوں میں حل ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ کیا مذاق ہے کہ پہلے ہم ادارے قائم کرتے ہیں، ان کا مینڈیٹ متعین کرتے ہیں لیکن پھر اپنی پسند نا پسند کی خاطر ان کا یہ مینڈیٹ چھین کر انھیں ریموٹ کنٹرول سے چلانا شروع کر دیتے ہیں۔
مثل مشہور ہے کہ جیسی قوم ویسے حکمران یا جیسے حکمران یا ویسی قوم۔ وفاقی طرز کے سیٹ اپ میں ہماری سیاسی، بیوروکریٹک اور فوجی قیادت اختیارات پر کنٹرول چاہتی ہے اور اسے نچلی سطح پر منتقل نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی کوئی اس کا متبادل حل ڈھونڈتی ہے کہ گراس روٹ لیول پہ ڈلیور کر سکے۔ اختیارات کی مرکزیت کئی طرح کے مسائل کو جنم دیتی ہے اور ریاست کے بعض شہریوں کو بسا اوقات احساس محرومی میں مبتلا کرتی ہے۔ ریاست کی حیثیت ایک ماں کی سی ہوتی ہے جس کا قانون اپنے تمام بچوں کے لئے سانجھا ہوتا ہے۔
کوئی بچہ ریاست کا لاڈلا نہیں ہوتا لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں ہمارے ہاں ریاست اپنے بعض بچوں سے لاڈ پیار کرتی ہے، ان کے ناز نخرے اٹھاتی ہے اور اپنے بعض بچوں کو سوتیلی ماں ہونے کا احساس دلاتی ہے جس سے یہ بچے باغی ہو جاتے ہیں، پھر ریاست ان کے مسائل سننے کی بجائے ان باغی بچوں کو غدار قرار دے دیتی ہے۔ اگر ریاست واقعی ایک ماں ہے تو کیا ایک ماں اپنے کسی بچے کو اس طرح قبول کرنے سے انکار کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں لیکن ہمارے ہاں کچھ ایسا ہی طرز عمل ہے۔
پاکستان میں سیاسی ادارے پنپ نہیں سکے ہیں اور کافی حد تک انھیں پنپنے بھی نہیں دیا گیا اسی لیے یہاں جمہوریت کبھی مستحکم نہیں ہو سکی ہے۔ جمہوریت کبھی راتوں رات ڈلیور نہیں کرتی بلکہ یہ ایک پراسیس ہے اور اگر ہمارے رویے درست رہیں اور درست راہنمائی ہوتی رہے تو جمہوریت کے ڈلیور کرنے کی استعداد اور رفتار تیز ہو جاتی ہے لیکن جب سازشیں ہونے لگیں تو یہ رفتار سست ہو جاتی ہے۔ اگر عوام کے حقوق پر ڈاکا نہ ڈالا جائے ان کے ووٹ کے تقدس کا خیال رکھا جائے اور جمہوری عمل مسلسل چلنے دیا جائے تو رفتہ رفتہ بری جمہوریت ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے اچھی جمہوریت میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔
آج کل میڈیا کے دور میں عوام کو اچھے اور برے نمائندوں کا خوب احساس ہے اور عوام برے نمائندوں سے انتقام لینا بھی ضرور جانتے ہیں۔ اگر جمہوریت کو مسلسل چلنے دیا جاتا تو یہ اب تک بہت میچور ہو چکی ہوتی۔ جمہوریت میں اہم فیصلے فرد واحد نہیں بلکہ پارلیمنٹ کرتی ہے لیکن افسوس ہمارے ہاں اب بھی اہم فیصلے پارلیمنٹ سے بالا بالا ہو رہے ہوتے ہیں۔ بہت اچھی بات اور غنیمت ہے کہ پاکستان میں جیسے تیسے منتخب حکومتیں اور اسمبلیاں مدت پوری کر رہی ہیں اور امید ہے اس کے انشاء اللہ معاشرے پر مثبت اثرات ٹرکل ڈاؤن ہوں گے۔
دنیا میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور مسلم مخالف ہوا چل رہی ہے جس کی لپیٹ میں بہت سے مسلم ممالک آرہے ہیں اور یقین مانیں ہم بھی ہٹ لسٹ میں ہیں لیکن ہمارا رویہ شتر مرغ کا سا ہے جو طوفان آنے پہ اپنا سر ریت میں دے لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ طوفان سر سے گزر جائے گا۔ اس وقت ہمیں اپنے نظام کی خامیوں کو درست کرنے شدید ضرورت ہے۔ ہمیں یہ بات اب سمجھنا ہو گی کہ ملک سیاست دان ہی چلاتے ہیں اور سیاست دان وہی ہے جسے عوام منتخب کریں نہ کہ وہ جو منفی ہتھکنڈوں کا سہارا لے کر اقتدار میں آئیں یا گملوں میں اگائے جائیں۔
جینوئن لیڈرشپ ہمیشہ منتخب طریقے سے ابھرتی ہے اور بلدیاتی ادارے اس کے لئے نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں اداروں کو یا تو مرکزیت گریز کرنا ہو گا یا وفاقی سطح پر ڈلیور کرنا ہو گا جو ممکن نہیں ہے۔ ہمارے عوامی رویوں میں بھی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے اور ہمارے دانشور طبقے پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کی درست سماجی رویوں کی طرف راہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔ بدقسمتی سے پوری دنیا میں سیاست کو سرمایہ داروں نے پیسے کا کھیل بنا دیا ہے۔
یہ ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بہت اہم ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے وضع کردہ قوانین کو پوری قوت سے نافذ کرے اور سیاست میں پیسے کے کھیل کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ متوسط اور پڑھا لکھا طبقہ بھی سیاست میں آگے بڑھ سکے۔ صورتحال یہ ہے کہ الا ماء شاء اللہ پیسے والوں کے پاس نہ کوئی وژن ہوتا ہے نہ نظریہ بلکہ سرمایہ داروں کی اکثریت اپنے کاروباری مفادات اور کرپشن کو تحفظ دینے کے لئے پاور پالیٹکس کا حصہ بنتی ہے۔
ہمیں اپنی سیاست کو پاور پالیٹکس کے پنجوں سے آزاد کرانا ہو گا۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کو مزید اصلاحات بھی کرنی پڑیں تو ضرور کی جائیں۔ حالیہ الیکشن کے بعد ان اصلاحات کی اہمیت اور زیادہ ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن سمیت تمام قومی اداروں خاص طور پر پولیس، ایف آئی اے اور نیب کو خود مختار بنانا ہو گا اور اداروں میں سیاسی پسند نا پسند کی بنیاد پر مداخلت کو آئینی تحفظ دے کر پاک کرنا ہو گا۔ سول اداروں میں فوج کی طرز پر خود کار نظام ہونا چاہیے۔
اسی طرح ہمارے جوڈیشل سسٹم کو مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی تقرریاں عموماً سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہیں، اس سے مقابلے کا امتحان پاس کر کے جوڈیشری میں آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ہمارے نظام میں پائی جانے والی بے پناہ خامیوں کی بدولت اس وقت ہمارے مجموعی سماجی رویے منفی سمت اشارہ کرتے ہیں ہمیں ان رویوں کو مثبت سمت دینا ہوگی اور اس کے لئے قربانی کا عمل بالائی سطح سے شروع ہونا چاہیے ورنہ آنے والے طوفان سے نہ نچلا طبقہ بچ پائے گا اور نہ ہی بالائی طبقہ۔
اس ملک میں ہمارے بالائی طبقے یا اشرافیہ کو عزت، پروٹوکول اور وقار حاصل ہے اس کا وہ ترقی یافتہ ممالک میں تصور بھی نہیں کر سکتے، اس لیے اگر ہمارے نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے لئے یہ طبقہ اپنی بیرون ملک پڑی اربوں ڈالر کی دولت کو واپس لائے، قانون تمام طبقات پہ یکساں لاگو کرے، اداروں میں اصلاحات کرے، میرٹ اور قابلیت کو فروغ دے تو یہ ان کے لئے ایک مہنگا سودا نہیں۔ سیاست، جمہوریت اور حکومت بچانے کے لئے بہت مفاہمت ہو گئی اب پاکستان کے عوام کو ان کے حقوق دینے کے لئے مفاہمت کی بات کرنا ہو گی کیونکہ ملک قائم و دائم رہے گا تو ہی طاقتور لوگوں کا اختیار، پاور اور دبدبہ قائم رہے گا، پاکستان ہے تو سب کچھ ہے۔


