یہ کیا طرز سیاست ہے؟
سیاست اپنی جگہ ہوتی ہے اور حب الوطنی کے تقاضے اپنی جگہ پر ۔ پچھلے پچھتر برس سے یہاں پر سیاست ہوتی رہی ہے۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ تحریک انصاف کس قسم کی سیاست کر رہی ہے۔ سیاسی میدان میں اگر آپ کو کوئی تکلیف ہے۔ آپ کے مطالبات ہیں۔ آپ کو کوئی مسئلہ ہے۔ تو اس کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ آئی۔ ایم۔ ایف کو خط لکھیں اور کہیں کہ آپ حکومت پاکستان کا آڈٹ کریں۔ انتخابی حلقوں کا جائزہ لیں۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہ کریں۔ بلکہ کروڑوں روپے کی رقم دے کر لابنگ فرموں کی مدد لیں۔ اپنے ملک، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف نہایت منفی پروپیگنڈا کروائیں اور ملک کی بدنامی کا سامان کریں۔
ہم سب کو معلوم ہے کہ قومی معیشت کی اس وقت کیا حالت ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری ماضی کی کس نالائق حکومت پر نافذ ہوتی ہے۔ اس ماہ یعنی مارچ میں آئی۔ ایم۔ ایف کے ساتھ ہمارا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ قومی معیشت کی نبض چلائے رکھنے کے لئے ہم آئی۔ ایم۔ ایف کے محتاج ہیں۔ ہمیں ایک نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت آئی۔ ایم۔ ایف کی ٹیم پاکستان میں موجود ہے۔ عین اس وقت آپ آئی۔ ایم۔ ایف کے دفتر کے باہر ایک مظاہرہ بلکہ ہنگامہ آرائی کرواتے ہیں۔
اس مظاہرے میں حکومت پاکستان اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کے بارے میں بھی مغلظات بکے جاتے ہیں۔ آپ مظاہرے میں مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان پر کڑی پابندیاں لگائی جائیں۔ پاکستان کیا انڈیا ہے؟ پاکستان کیا اسرائیل ہے؟ جو آپ اس کے خلاف اس طرح کی گھناونی حرکتیں کر رہے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ پاکستان پر آپ حکومت کرتے رہے ہیں۔ اس کے ایک صوبے پر آج بھی آپ کی حکمرانی ہے۔ اس ملک پر آپ مستقبل میں بھی حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر اس ملک کے ساتھ یہ ظلم آپ کیوں کر رہے ہیں۔ یہ کس قسم کا طرز سیاست ہے؟ اسے سیاست کہنا چاہیے یا ملک دشمنی؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست کا منتہائے مقصود اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہے۔ پاکستان میں ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار کی سیاست کرتی ہیں تو میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن حصول اقتدار کی خواہش میں اس قدر آگے بڑھ جانا کہ آپ اس کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے کے لئے تیار ہوجائیں، یہ عمل قابل جواز نہیں ہے۔ سیاست میں کسی ایسے عمل کی حمایت نہیں کی جا سکتی جس میں ہمارے ملک کو نقصان ہو۔
بدقسمتی سے تحریک انصاف گزشتہ کئی سال سے یہی کر رہی ہے۔ اس سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے بیشتر رہنما، کارکنان اور حامی، اس طرز عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ جب بھی ہمارے جوانوں کی شہادتیں ہوتی ہیں۔ آپ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ان پر طنز کرتے ہیں۔ ان کے خلاف باقاعدہ سوشل میڈیا کمپین چلاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہمارے فوجی افسران شہید ہو گئے تھے۔
اس وقت جب قوم غم میں ڈوبی ہوئی تھی۔ آپ نے ان شہداء کا تمسخر اڑایا تھا۔ کم و بیش 600 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شہداء کے بارے میں گالی گلوچ کی تھی۔ تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ ان اکاؤنٹس کے سرغنہ کا تعلق تحریک انصاف سے ہے۔ اب وزیرستان میں فوجی جوانوں کی شہادت کا جو واقعہ ہوا ہے۔ اس پر بھی آپ کی طرف سے غلیظ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کی شہدا سے کیا دشمنی ہے۔ وہ بیچارے تو اس ملک کے لئے جانیں دیتے ہیں۔
آپ یہ کیا کلچر پیدا کر رہے ہیں؟ کس طرح کی فضا بنا رہے ہیں۔ کس طرح کی نفرتوں کا بیج نوجوانوں کے دل و دماغ میں بو رہے ہیں۔ اسی طرح کی نفرتوں کا الاؤ بھڑکا کر آپ نے 9 مئی کا سانحہ کروایا تھا۔ اس میں بھی آپ نے کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ کیا اور لوٹ مار کی۔ سرکاری اور قومی املاک کو نذر آتش کیا۔ ایمبولنسوں سے مریضوں کو نکال کر گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ شہداء کی نشانیوں کو پامال کیا۔ اس سانحے کے بعد آپ نے افسوس کا اظہار کیا نہ کسی قسم کی شرمندگی کا ۔ اب بھی ڈھٹائی سے آپ اپنے طرز عمل کی حمایت کرتے ہیں۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان سب کا سانجھا ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ پاکستان آگے بڑھے گا تو ہم سب آگے بڑھیں گے۔ آپ کے بچے باہر کے ملک میں بیٹھے ہیں۔ لیکن ہم جیسے پچیس کروڑ لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ ہمیں اسی ملک میں رہنا ہے۔ خدارا ہمارے ملک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کریں۔ ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں کو آلودہ کرنا بند کریں۔ اقتدار کی خواہش میں اتنا آگے نہ جائیں کہ ملک دشمنی کی حدوں کو چھونے لگیں۔


