تین راہی، میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول
میکسم گورکی کا شہرہ آفاق ناول ”دی تھری“ جس کا اردو ترجمہ ”تین راہی“ کے نام سے انور عظیم نے کیا پہلی مرتبہ 1901 میں روسی زبان میں شائع ہوا۔ انیسویں صدی کے آخری عشرے کے روسی پس منظر میں تحریر کیے گئے اس ناول میں غربت و افلاس اور سماجی نا انصافیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ بہترین کردار نگاری اور سماج عکاسی کی مدد سے گورکی نے بڑی مہارت سے ایسی داستان قلم کی ہے کہ جس میں انسانوں کو درپیش چنوتیوں اور مصائب کے علاوہ ان سے نبٹنے کے لیے بردباری اور ثابت قدمی جیسے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
تین راہی میکسم گورکی کا بہترین کام ہے جس میں انسانی جد و جہد کا محور تو غربت سے چھٹکارا ہے لیکن ساتھ ہی ایسی آزادی کا تصور بھی ہے جس میں سماجی عدم مساوات اور اشرافیہ کی کارستانیوں سے نجات بھی ہے۔ محنت کش طبقہ ہر طرح کی صعوبت برداشت کرتا ہے جب کی سرمایہ دار کو ہر چھوٹ حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ پیسے کی طاقت سے قانون کا رخ بھی اپنے فائدے کی خاطر موڑ لیتا ہے۔ اس کے برعکس عام آدمی کے لیے انصاف ناپید ہے اور وہ اکثر ناکردہ جرائم کی پاداش میں قانون کے شکنجے میں آ جاتا ہے۔
ناول میں میکسم گورکی نے ایسے مضبوط کردار تخلیق کیے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ ہر کردار کو ان کے منفرد پس منظر، جدوجہد اور خواہشات کے ساتھ مبہم طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار ایلیا لونیف ہے جو مضبوط اعصاب کا مالک ہے جو گاؤں میں پیش آنے والے ایک واقعے کی وجہ سے اپنے چچا کے ساتھ شہر منتقل ہو جاتا ہے۔
ناول کا دوسرا اہم کردار یاکوف فلومونوف ہے جو شراب فروش کا بیٹا ہے اور وہ عاجزی پسند اور خاموش طبیعت کا مالک ہے۔ کہانی کا تیسرا اہم کردار پاول گراچوف ہے جو لوہار کا بیٹا ہے۔ گورکی نے ان تینوں کرداروں کی زندگیوں کی تلخ داستان کو بہترین انداز سے پیش کیا ہے۔
ان کے علاوہ ناول کے اہم نسوانی کرداروں میں ’ماشا‘ ، ’ویرا‘ اور ’اولچیاڈا‘ شامل ہیں۔ یہ لڑکیاں ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہوس، درندگی اور لالچ ان کی زندگیوں کو برباد کر دیتا ہے۔ گورکی نے زنانہ کرداروں کو پیش آنے والی معاشی و معاشرتی مشکلات، ان کی مجبوریوں اور تنگ دستی سے پیدا ہونے والی صنفی تذلیل کے واقعات کو بھرپور انداز میں قلم بند کیا ہے۔
ناول کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ ایلیا کے آبا و اجداد کرشینٹس کے جنگلات میں واقع ایک گاؤں کے باسی ہیں۔ ایلیا کی ماں گاؤں میں لگنے والی آگ کے حادثے میں اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتی ہے۔ اس کے باپ کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔ غربت سے تنگ اس کا چچا ترینتی اسے ساتھ لے کر نزدیکی شہر منتقل ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے ایک دور کے رشتے دار پیتروخا فلومونوف کے مکان میں ٹھہرتا ہے جو کہ ایک بھٹیار خانہ کا مالک ہے۔
اس گھر میں بہت زیادہ لوگ گھسے ہوئے ہیں یا شاید ان کی تعداد ایلیا کے گاؤں میں رہنے والے افراد سے بھی زیادہ ہے۔ یہاں ایلیا کی دوستی مالک مکان کے بیٹے یاکوف فلومونوف سے ہوتی ہے۔ پھر وہ بوڑھے ایریمی کا معاون بن جاتا ہے جس کا دھندا گلیوں میں گھوم پھر کر کباڑ اکٹھا کرنا ہے۔ پھر ایک دن ایریمی مر جاتا ہے تو وہ ایک دکان پر ملازم ہو جاتا ہے جہاں اس کا جھگڑا ایک پرانے نوکر سے ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔
جب وہ جوان ہوتا ہے تو شہر کے ایک سیٹھ کو ایک لڑکی کے چکر میں قتل کر کے دکان سے پیسہ لوٹ لیتا ہے اور پھر اسی رقم سے وہ ایک دکان کھولتا ہے۔ لیکن جب تک وہ زندہ رہتا ہے تو وہ اس قتل کی وجہ سے اپنے آپ کو کوستا رہتا ہے اور کہانی کے اختتام پر احساس ندامت کی وجہ سے اپنے انجام کو جا پہنچتا ہے۔
ایلیا کی اس کہانی کی طرح ناول میں دو مزید کرداروں کی انفرادی کہانیاں بھی موجود ہیں جو ایک ساتھ آگے بڑھتی رہتی ہیں اور وقفے وقفے سے یہ کردار ایک دوسرے کی کہانیوں میں بھی آتے جاتے ہیں۔ اس کہانی کے ذریعے گورکی نے اپنے متنوع تجربات و مشاہدات کے تناظر میں سماجی و سیاسی خود شناسی اور غربت کے محور سے آزادی کی ایک عالم گیر شکل پیش کی ہے۔
گورکی نے ان تینوں کرداروں کو تخلیق کرتے وقت انصاف کا دامن تھامے رکھا ہے اور ان پر بھرپور محنت کی ہے اور ان کی مدد سے ایسا ناول تحریر کیا ہے جو آج بھی عالمی کلاسیکی ادب میں اپنے اصل مقام پر موجود ہے۔ ہر کردار اپنی ذاتی جدوجہد سے دوچار ہے اور اپنی آزادی اور ذات کی تکمیل میں عمل پیرا ہے۔ جب کہانی میں بہت سارے کردار شامل ہوں اور وقفے وقفے سے مزید شامل ہوتے رہیں تو بعض دفعہ قاری کو مشکل پیش آ سکتی ہے لیکن اگر وہ دل جمی سے آگے بڑھتا رہے تو وہ گورکی کے اس خیال کو پا لیتا ہے جس کو بن کر اس نے یہ شاندار ناول قلم بند کیا ہے۔
کہانی میں گورکی نے محنت کش طبقے کو درپیش مسائل یعنی غربت، جبر اور نا انصاف جیسی سماجی و سیاسی برائیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سماجی طبقات کے درمیان وسیع تفاوت کو بے نقاب کیا ہے۔ ناول روسی معاشرے کی تلخ حقیقتوں پر روشنی ڈالتا ہے اور قارئین کو طاقت اور عدم مساوات کے مروجہ نظام پر سوال اٹھانے پر اکساتا ہے۔
اس اہم تخلیق کے ذریعے مصنف نے انسانی جدوجہد کی گہرائیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے ایسے کردار پیش کیے ہیں جو ذاتی، سماجی اور وجودی چیلنجوں سے نمٹتے ہیں۔ ناول میں زندگی میں معنی کی تلاش جیسے موضوعات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اس ادب پارے میں محنت کش طبقے اور آزادی کے لیے ان کی اجتماعی جدوجہد کی طاقت کو اجاگر کیا گیا ہے جب وہ بامقصد زندگی اور انصاف کی خاطر جدوجہد کرتے ہیں۔ یہ آزادی کی کثیر جہتی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے جس میں بیرونی اور اندرونی دونوں قسم کی رکاوٹیں شامل ہیں۔ ناول کے کردار نہ صرف سیاسی جبر بلکہ معاشرتی ضوابط، ذاتی جرائم اور وجودی مخمصوں سے بھی آزادی کے خواہاں ہیں۔
یہ ناول کئی کلیدی نتائج پیش کرتا ہے جو اس کے مجموعی اثرات اور اہمیت میں اضافے کا باعث ہیں۔ ناول اپنی نمایاں خصوصیات اور پراثر کہانی کی بدولت قارئین کے لیے ایک مضبوط جذباتی ردعمل کو جنم دیتا ہے۔ اس کے ذریعے گورکی کی وضاحتی نثر اور انسانی جدوجہد کو باریک بینی سے پڑھنے کا گہرا اور عمیق تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ ناول میکسم گورکی کی ادبی صلاحیتوں اور کثیر جہتی موضوعات پر مضبوط گرفت کی اعلی مثال ہے۔


