منٹو سے اقبال تک! چند چشم کشا حقائق


شاید آپ کو گمان گزرے کہ یہ ایک ادبی تحریر ہے تو عرض ہے کہ یہ قطعاً ادبی تحریر نہیں ہے بلکہ ”پاکستان اسٹڈیز“ جیسے مضامین پڑھ کر جوان ہونے والی نسل اس تحریر کو بے ادبی کے زمرے میں شامل کر کے میری حب الوطنی پر خدشات کا اظہار کر سکتی ہے۔ مزید براں یہ امر بھی گوش گزار کردوں کہ اس تحریر میں کہیں بھی سعادت حسن منٹو کا کوئی حوالہ یا ذکر تک نہیں ہے۔

جہاں آج مینار پاکستان ایستادہ ہے، تقسیم ہند سے قبل منٹو کا نام اس میدان سے جڑا ہوا تھا۔ مارچ 1940 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا 27 واں اجلاس اسی میدان میں منعقد ہوا تھا جو اس وقت منٹو پارک کہلاتا تھا۔ مغلوں کے زمانے میں یہ میدان فوجی پریڈ اور شاہی تقریبات کے لئے استعمال ہوا کرتا تھا۔ جب سکھ 1799 میں پنجاب پر قابض ہوئے تو یہ میدان باقاعدہ طور ”پریڈ گراؤنڈ“ کہلانے لگا۔ 1849 میں انگریز اس علاقے کے حاکم بن گئے۔ انگریزوں کے دور میں اس کا نام منٹو پارک رکھ دیا گیا۔ منٹو، برطانوی دور کے ایک وائسرائے اور گورنر جنرل کا نام تھا۔ ان کا پورا نام گلبرٹ جان ایلیوٹ مرے منٹو تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کی بنیاد کا پہلا پتھر لارڈ منٹو کے ہاتھوں ہی رکھا گیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو ہندوستان کے مسلمانوں کے 35 سرکردہ سیاسی قائدین اور زعماء نے شملہ کی ”وائسرائے ریگل لاج“ میں لارڈ منٹو سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ مسلمانوں کو ہندوستانی سیاست میں بہتر نمائندگی دی جائے۔ مسلمانوں کے اس وفد کی قیادت آغا خان سوئم کر رہے تھے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کو برقرار رکھا جانا چاہیے، اور صوبائی کونسلوں کے لیے مسلمانوں کے جداگانہ حلقہ انتخاب (electorate) تشکیل دیا جائے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو خاصی بڑی تعداد کو لیجسلیٹو امپیریل کونسل میں بھی شامل کیا جائے۔ منٹو نے وفد سے یہ وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات پر ہمدردی سے غور کریں گے کیونکہ ہندوستان کے مسلمانوں کی طرح انگلستان میں بھی ہندوستان سے متعلق پالیسی ساز مقننہ کے ارکان ہندوستان کی سیاست میں ہندؤں کی بہت زیادہ غلبے کی وجہ سے تشویش کا شکار تھے۔

اکتوبر 1906 میں مسلمان زعماء کی لارڈ منٹو کی یہ ہی ملاقات بلاواسطہ طور پر مسلم لیگ کے قیام کا باعث بنی۔ دسمبر 1906 میں ہندوستان کے صوبہ ”مشرقی بنگال و آسام“ کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ”آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس“ کا بیسواں اجلاس منعقد کیا گیا۔ یہ تنظیم 1886 میں سر سید احمد خان نے قائم کی تھی۔ کانفرنس اپنے سالانہ اجلاس ہندوستان کے مختلف شہروں میں منعقد کراتی تھی اور مقامی مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کی کوشش اور جدوجہد کرتی تھی۔

بیسویں اجلاس کا انتظام و انصرام ڈھاکہ کے نواب جناب سلیم اللہ خان نے کیا تھا۔ 30 دسمبر 1906 کو کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی جماعت تشکیل دینے کی تجویز دی گئی جو فوراً ہی منظور کر لی گئی اس طرح ”آل انڈیا مسلم لیگ“ کا قیام عمل میں آیا۔ مسلم لیگ کی کوششیں رنگ لائیں اور آخر کار 1909 میں برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ایک ایکٹ پاس کیا گیا، یہ ایکٹ ہندوستان کی تاریخ میں ”منٹو۔ مورلے اصلاحات“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کیونکہ انگلستان کی پارلیمنٹ نے یہ ایکٹ وائسرائے منٹو اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مورلے کی مرتب کردہ سفارشات کی روشنی میں منظور کیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت برطانوی ہندوستان کی حکمرانی میں مقامی افراد کی شمولیت میں اضافہ کر دیا گیا اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کے مطالبات کے عین مطابق جداگانہ حلقہ انتخاب دے دیے گئے۔ یہ قدم ہی پاکستان کی بنیاد کا پہلا پتھر ثابت ہوا۔ اس لحاظ سے اگر اس میدان کا نام ”منٹو پارک“ ہی رہنے دیا جاتا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔

منٹو پارک کا نام تبدیل کر کے اقبال پارک رکھنے کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا، جب کے علامہ اقبال کے فرزند ارجمند جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب کئی دفعہ اپنی تحریروں اور ٹیلی ویژن کے انٹرویوز میں اس خیال کی کھل کر تردید کر چکے ہیں۔ اقبال کے خواب کا ڈھنڈورا پیٹنے والے اپنے خیال کے ثبوت کے طور پر 30 دسمبر 1930 کو منعقدہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہیں جو الہ آباد میں ہوا تھا۔

اس اجلاس کی صدارت اور افتتاحی تقریر بھی ڈاکٹر سر محمد اقبال نے کی تھی جسے خطبہ الہ آباد کہا جاتا ہے ۔ اس خطبہ میں اقبال نے خطے کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ قطعی نہیں کیا تھا بلکہ محض ایک فیڈریشن کی بات کی گئی تھی جس میں ہندوستان کی مرکزی حکومت ایک ہی رہنی تھی البتہ صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کی بات ضرور کی گئی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب محمد علی جناح ہندوستان کے سیاسی افق سے غائب ہو گئے تھے اور انہوں نے لندن میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔

البتہ 1934 میں وہ واپس ہندوستان آ گئے تھے۔ علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال جن کا انتقال 2015 میں ہوا خطبہ الہ آباد کے متعلق ایک بالکل مختلف موقف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال نے کبھی پاکستان بنانے یا برصغیر میں مسلمانوں کا ایک الگ وطن بنانے کی بات نہیں کی تھی اور نہ ہی اس ضمن میں کسی وقت خطبے میں اپنے کسی خواب کا ذکر کیا تھا۔ جاوید اقبال اس ضمن میں اپنی تصنیف کردہ کتاب ”زندہ رود“ میں اقبال کے 26 جولائی 1934 کو ایک تحریر کردہ خط کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔

جو انہوں نے ”ایڈورڈ جان ٹامسن“ کے نام لکھا تھا۔ اقبال اس خط میں رقم طراز ہیں : ”آپ نے مجھے اس اسکیم کا حامی قرار دیا ہے جو“ پاکستان ”کے نام سے موسوم ہے۔“ پاکستان ”میری اسکیم نہیں ہے۔ جو تجویز میں نے اپنے خطبے میں پیش کی تھی، وہ ایک مسلم صوبے کے قیام کی تجویز تھی۔ یعنی شمال مغربی ہند میں ایک ایسے صوبے کی تشکیل جہاں مسلمانوں کی واضح اکثریت ہو۔ میری اسکیم کے مطابق یہ نیا صوبہ آئندہ کی انڈین فیڈریشن کا حصہ ہو گا۔“

دوسری طرف قرار داد لاہور کے مسودہ میں ایک ریاست کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی خود مختار ریاستوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس صورت حال میں اس پارک کو علامہ اقبال سے منسوب کرنا کوئی ضروری اور بر محل نہیں لگتا۔ ویسے بھی اقبال نے 1904 میں ہی ”ترانہ ہندی“ تحریر کر دیا تھا جو ان کی مشہور زمانہ کتاب ”بانگ درا“ میں 1905 کے پہلے ایڈیشن میں چھپا تھا۔ اس کے شعر کچھ اس طرح ہیں :

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستان ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی، نام و نشاں ہمارا
بحر حال ہمارے لئے اب پاکستان ہی زندہ باد ہے اور رہے گا۔

یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا آئین نافذ ہوا تھا اور اس تاریخ کو یوم جمہوریہ کے طور پر منانا شروع کر دیا گیا۔ تاہم 2 سال بعد ، 7 اکتوبر 1958 کو پاکستان میں مارشل لاء نافذ ہو گیا، جب ایوب خان نے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا چارج سنبھالا۔ مارشل لا کے نتیجے میں آئین معطل ہو گیا۔ اب یہ ممکن نہیں تھا کہ اس دن کو بطور یوم جمہوریہ منایا جا سکے، لہذا اس دن کو منانے کا عنوان ہی تبدیل کر دیا گیا اور ”یوم جمہوریہ“ کے بجائے اس دن کو ”یوم پاکستان“ قرار دے دیا گیا اور اس کو 1940 کی قرارداد لاہور سے منسوب کر دیا گیا۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کا لاہور میں مارچ 1940 میں ہونے والا اجلاس 22 مارچ سے شروع ہو کر 24 مارچ تک جاری رہا۔ لہذا اس کو 23 تاریخ کے کسی ایک دن تک محدود رکھنا کوئی منطقی بات نہیں ہے۔ نیز یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ قرارداد اجلاس کے آخری دن ہی منظور کی گئی ہوگی۔ لہذا 24 مارچ زیادہ مناسب لگتی ہے۔

Facebook Comments HS