موپاساں کے افسانہ ”بدنصیب روٹی“ کا کرداری مطالعہ


مختصر کہانی جیسے ایک نشست میں پڑھا جا سکے یا ایسی کہانی جو گھنٹے کے آدھ حصے میں پڑھی جا سکے افسانہ کہلاتی ہے۔ عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسی کہانیاں لکھنے والے لکھاریوں میں ایک اہم نام موپاساں کا ہے۔ جیسے جدید مختصر افسانے کا بابا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ چند صفحات کی کہانی میں زندگی کی ایسی ایسی جہات بیان کر دینا کہ انسان کی عقل دنگ رہ جائے، موپاساں کا کمال فن ہے۔ اس فرانسیسی افسانہ نگار کی فنکاری کو سراہتے ہوئے ایمیل زولا کچھ یوں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ ”

موپاساں پیدائشی لکھاری ہے۔ اپنے ہم عصروں میں سمجھدار ترین اور توانا ترین سوچ کا حامل کہانی نویس ہے ”

قصہ یا کہانی کسی بھی نوعیت کا ہو لیکن اصل چیز اس میں کردار ہوتے ہیں کیوں کہ کہانی میں موجود کردار کہانی کو عروج تک پہنچاتے ہیں اور یہی کردار قارئین کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ جس طرح انسان کو کسی فلم، ڈراما یا حقیقی زندگی کے کسی کریکٹر سے محبت یا نفرت ہو جاتی ہے بالکل ایسے ہی افسانہ پڑھتے ہوئے کہانی میں موجود کرداروں کی وجہ سے کچھ ایسی ہی کیفیت قاری پر بھی طاری ہو سکتی ہے۔ اگر کہانی میں موجود کردار بوریت کا مظاہرہ کر رہیں ہوں تو قاری قصے کو مکمل پڑھے بے غیر ادھورا چھوڑ دیتا ہے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہو تو پڑھنے والا کہانی کو بار بار پڑھ کر خوب لطف اندوز ہوتا ہے۔

موپاساں نے بھی اپنی کہانیوں کے کردار کچھ ایسے تراشے ہیں کہ قاری کہانی کے انجام تک ان کا ساتھ نبھاتا ہے۔ کہانی میں موجود دکھ سکھ قاری خود محسوس کرنے لگتا ہے، اسے لگتا ہے جیسے یہ سب کچھ اس کے ساتھ یا اس کے سماج میں ہو رہا ہے۔ موپاساں کی ایسی ہی ایک کہانی جس کو میں نے ایک بار پڑھا۔ پھر بار بار پڑھا۔ انیسویں صدی میں لکھی جانے والی کہانی کے حالات و واقعات اکیسویں صدی کے معاشرے پر مصدق آتے ہیں۔

یہ کہانی بعنوان ”بدنصیب روٹی“ سے مشہور ہے۔ اس کا مرکزی کردار انا نامی ایک لڑکی ہے۔ جو اپنے باپ کی تین بیٹیوں میں سب سے بڑی ہے لیکن گھر میں اس کا مقام دھوبی کے کتے جیسا ہے۔ جو گھر تھا نہ گھاٹ کا۔ چوں کہ انا کی گھر میں عزت نہیں ہوتی تو ایک دن وہ گھر سے بھاگ کر تاجروں کی عدالت کے جج ”موشیے“ نامی شخص سے ناجائز مراسم قائم کر لیتی ہے اور ساتھ ہی کوئی سرکاری نوکری حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتی ہے۔ گھر سے بھاگنے کے بعد ان دو کاموں سے خوب مال و دولت کماتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہوں :

” انا سرکاری نوکری میں ہے اور باقاعدہ طور پر پیسہ پیدا کر کے زندگی گزار رہی ہے۔“

اس کہانی میں انا کا کردار ایک طوائف کا دکھایا گیا ہے۔ اور اس کے گھر والوں کو اس پیشے سے کوئی اعتراض بھی نہیں، کیوں کہ جب وہ گھر سے بھاگ کر جاتی ہے تو پہلے پہل اس کا باپ بوڑھا ٹیلی جامہ سے باہر ہو جاتا ہے لیکن جب اسے خبر ملتی ہے کہ اس کی بیٹی عیش و عشرت کی زیست بسر کر رہی ہے تو اس کی غیرت دم توڑ دیتی ہے۔ غیرت جانے کے ساتھ ساتھ اس میں بے غیرتی کا پہلو بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ بیٹی گھر سے بھاگ جائے تو باپ کی دستار خاک میں مل جاتی ہے اور وہ ایک زندہ لاش بن کر رہ جاتا ہے لیکن اس کہانی میں بوڑھا ٹیلی حرام کی کمائی دیکھ کر کھل اٹھتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہوں۔

” دوستوں نے جب انا کے سجے سجائے مکان، عیش و عشرت کے سامان، امیرانہ زندگی کا بڑے ٹھاٹ سے ذکر کیا تو تب بوڑھے ٹیلی کا چہرہ غرور اور خوشی کے جذبات سے متاثر ہو کر کھل اٹھا“

بوڑھے ٹیلی کا کردار اس کہانی میں بزدل اور غیر تربیت یافتہ باپ کے طور پر دکھایا گیا ہے اور انا کا کردار ہمارے معاشرے کے والدین کے لیے ایک سبق آمیز کریکٹر ہے، کیوں کہ اگر بچوں کو گھر میں عزت اور توجہ نہ ملے، ان کی اچھی تربیت نہ کی جائے تو انہیں باہر جیسا ماحول ملے گا وہ اسی ماحول کو قبول کر لیں گے۔ ویسے بھی کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”اگر آپ اپنی اولاد کو وقت نہیں دیتے تو پھر انہیں کوئی اور وقت دے گا“

یہی وجہ ہے کہ انا جوان جہان تھی تو اس نے موقع پا کر گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا اور طوائفانہ پیشہ اختیار کیا۔

ضمنی کردار، جو مرکزی کردار کے ساتھ مل کر کہانی کو اگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں ان میں سب سے اہم فلپ اور روز کا ہے۔ روز انا کی چھوٹی سسٹر ہے اور فلپ اس کا عاشق، جو شادی کا نیوتا اس کے گھر بھیجتا ہے اور دونوں کی شادی فکس بھی ہو جاتی ہے۔

ان دونوں کرداروں کے ذرائع معاشرتی حقیقت کو دکھایا گیا ہے۔ ہمارے موجودہ سماج میں کوئی بھی امیر طبقہ اپنی اولاد کا بیاہ غریب گھرانے میں کرنا پسند نہیں کرتا، البتہ اگر اس مڈل کلاس طبقے کے حالات بدل جائیں تو یہ امیر طبقہ ذات پات کا لحاظ کیے بغیر دروازے پر دستک دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹوچارڈ کا بیٹا فلپ بھی انا کے امیر ہو جانے کے بعد اس کی چھوٹی بہن کے لیے رشتہ بھیجتا ہے جو روز کا باپ خوشی خوشی قبول کر لیتا ہے۔

جب شادی طے ہو جاتی ہے تو انا اپنے ناجائز گھر سے باپ کے پرانے گھر تشریف لاتی ہے اور کہتی ہے کہ شادی کا مکمل احتمام میرے گھر پر ہو گا۔ انا کا باپ اور روز کا سسر گھرانا بھی مان جاتا ہے۔ انا کے گھر شادی کا عمدہ انتظام کیا جاتا ہے لیکن سنگیت نہ ہونے کے باعث بوریت سی محسوس کی جاتی ہے۔ لوگ اس بوریت کو دور کرنے کے لیے گانے کی فرمائش کرتے ہیں، چوں کہ محلے میں فلپ کی سریلی آواز کا ایک نام ہوتا ہے تو فلپ کا باپ اسے گانا گانے کو کہتا ہے۔ فلپ موقع کی مناسبت سے گانا سوچنے لگ جاتا ہے اور کچھ دیر بعد گانے سے پہلے گانے کا نام ”بد نصیب روٹی“ بتا کر گنگنانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ گانا کافی لمبا جو آٹھ آٹھ لائنوں کے تین بند پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے دو بند میں بے ایمانی اور ایمانداری سے روٹی کمانے والوں کا ذکر ہوتا ہے

بندز کی آخری دو لائنیں دو بار دہرائی گئیں۔ ان میں بے ایمانی اور ایمانداری سے روٹی کمانے والوں کا ذکر سن کر شادی پر آئی ہوئی ایک بوڑھی چاچی اور دولھن آنسو بہانے لگیں اور ساتھ ہی کھانے بنانے والی ٹک بھی اپنے ہاتھ کے کاغذوں کو دیکھ کا حیراں رہ گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بوڑھی چاچی اور دولھن کو ایسی کیا سوجھی جو گانا سن کر ہنسنے کی بجائے اشک بہانا شروع کر دیے۔ تو اس کا جواب اس گانے کے پہلے دو بندز میں موجود ہے جس میں بے ایمانی اور ایمانداری سے روٹی کمانے کا تذکرہ ہے۔ شاید انہیں معلوم پڑ گیا کہ جو روٹی وہ کچھ دیر تک کھائیں گئیں وہ ایک طوائف کی کمائی ہوئی روٹی ہے یا انہیں اپنا ماضی یاد آ گیا ہو گا جو آنسووٴں کے بہاوٴ کا باعث بنا۔

دعوت پر مدعو کیے ہوئے زیادہ تر لوگ پہلے دو بندز سے بہت متاثر ہو چکے تھے اور جذبات کے سمندر میں غرق ہو کر چپکے چپکے سب کی آہیں نکلنے لگیں تھیں۔ ابھی آہوں کا طلسم جاری تھا کہ موشیے ساوٹنن جو بوڑھے ٹیلی کا بھتیجا تھا اس نے جذبات سے متاثر ہو کر کہا ”درحقیقت اسی کو گانا کہتے ہیں“ یہ تعریف سننے کے بعد انا نے فلپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی بہن کے ہاتھ چوم لیے گویا وہ اسے اچھا ہم سفر ملنے پر مبارک باد دے رہی ہو۔

فلپ مسلسل گائے جا رہا تھا کہ اس نے تیسرا بند پڑھنا شروع کیا جس میں ”نوجوان لڑکیوں کے ذریعے بے ایمانی سے روٹی کمانے“ کا ذکر تھا۔ یہ بند سنتے ہی انا کا چہرہ زرد ہو گیا اور بوڑھے ٹیلی کے کان بھی اشتعال کی وجہ سے سرخ ہو رہے تھے لیکن فلپ کا ساتھ دیتے دو نوکر اور ٹو چارڈ مسلسل تیسرے بند کا آخری مصرع دوہرائے جا رہے تھے۔ مصرع کچھ یوں تھا۔

” بچو، اس روٹی کو نہ کھانے کے لئے میں تم سب کو آگاہ کر رہا ہوں“

بوڑھے ٹیلی اور انا کے چہرے اس وجہ سے زرد ہو رہے تھے کہ باپ اپنی بیٹی کے ذریعے کمائی کر رہا تھا اور جب سچ سننے کو ملا تو حواس جاتے رہے۔ حالات حاضرہ میں ہم دیکھیں تو ہمیں اپنے اردگرد سماج میں ایسے کریکٹر مل جائے گئے، اس سے پہلے کہ ان کے چہرے بھی بھری محفل میں زرد پڑ جائیں ہمیں ان کی اصلاح کرنا ہوں گئی تاکہ معاشرے سے اس بد چلنی کو ختم کیا جا سکے۔

Facebook Comments HS