میڈرڈ کی گلی!
میڈرڈ جانے والی فلائٹ تھی تو انٹر نیشنل مگر جہاز باوا آدم کے زمانے کا تھا۔ چھوٹی چھوٹی سیٹیں اور فون چارج کرنے کا انتظام ہی نہیں۔
ہم کھڑکی کی سائیڈ پر تھے اور ہمارے ساتھ ایک ادھیڑ عمر جوڑا بیٹھا تھا جو امریکہ سے چھٹیاں گزارنے یورپ آیا تھا۔
ہلکی پھلکی گپ شپ ہوئی۔ ہم تھوڑی دیر اونگھے اور لیجیے میڈرڈ آ پہنچا۔
جہاز سے نکلے، فون دیکھا تو بند۔ اوہ بیٹری تو جواب دے گئی۔ ہم بیٹری چارجر گھر بھول آئے تھے، جہاز میں چارجنگ ساکٹ نہیں تھی۔ یعنی غریبی میں آٹا گیلا۔
چلو لاؤنج میں چل کر ڈھونڈتے ہیں کوئی ساکٹ۔ لاؤنج میں ایک چھوڑ کئی ساکٹس ملیں۔ مگر جس میں بھی چارجر لگائیں، فون اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہو۔ اتنی ساکٹس چیک کیں کہ آخر میں لگا شاید ہمارا چارجر خراب ہے۔ اب کیا کریں؟ کس سے پوچھیں؟ دو چار کو مخاطب کرنے کی کوشش کرنے پہ جواباً غوں غاں سے پالا پڑا۔ جی چاہا کہ اپنے آپ کو ہی دو چار کوسنے دے ڈالیں۔ سپینش ہمیں آتی نہیں۔ انہیں انگریزی کی شد بد نہیں۔ ایڈریس فون میں ہے اور فون بند۔ پچھلے وقتوں میں شہزادی کی جان توتے میں ہوتی تھی۔ توتے کی گردن اگر مروڑ دی کسی نے، وہیں شہزادی بھی ڈھیر۔ ہمارا توتا بھی نیم مردہ تو تھا ہی اور ہم بھی ڈھیر ہونے کو تھے جب ہمیں ایک بھلا مانس لڑکا نظر آ گیا۔
ایک کونے میں بیٹھا اپنے فون پہ بیٹری لگائے شاید کسی کے انتظار میں تھا۔ مخاطب کرتے ہوئے شش و پنج کا شکار تو تھے ہم لیکن ہمت کر ہی ڈالی اور جواب میں مانوس انگریزی میں جواب ملا تو بس کچھ نہ پوچھیے۔ مانو پردیس میں عید ہو گئی۔
پچیس تیس برس کا سمارٹ سا لڑکا تھا تو سپینش ہی مگر چین میں نوکری کر رہا تھا اب سالانہ چھٹی پہ ماں سے ملنے آیا تھا۔ ایک تو یہ مائیں بہت تنگ کرتی ہیں۔ ہم دل ہی دل میں مسکرائے۔ ہماری مشکل جان کر اس نے فوراً بیٹری کی تار ہمارے فون میں لگائی اور کہا کچھ دیر انتظار کر لیجیے تاکہ آپ منزل تک پہنچ سکیں۔
فون کا مسئلہ حل ہوتے ہی ہم نے سکون کا سانس لیتے ہوئے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ ائرپورٹ لاؤنج ہمارے لاہور کراچی کے ائرپورٹس سے ملتا جلتا تھا۔ ہر ستون کے ساتھ چارجنگ پورٹس تھے لیکن سب کے سب خراب۔ اونچی آواز میں باتیں کرتے، دوڑتے بھاگتے، انگریزی سے نابلد، کالے بالوں اور گندمی رنگت کے لوگ۔ کچھ اپنے اپنے سے۔ فرینکفرٹ کے مقابلے میں تو بہت ہی دیسی ماحول تھا۔
فون نے بیٹری سے ذرا سی حرارت لے کر فوراً انگڑائی لی اور روشن سکرین سامنے آ گئی۔ سوچا منزل کا پتہ دکھا لیں اس نوجوان کو۔
یہ ڈاؤن ٹاؤن میں ہے۔ دو طریقے ہیں، ٹیکسی اور بس۔ ٹیکسی میں تیس منٹ لگیں گے اور بس میں گھنٹہ ڈیڑھ۔ دونوں ہی باہر سے مل جائیں گی۔ ایک منٹ کے لیے سوچا۔ تھکاوٹ نے سجھایا، بڑی بی۔ سیدھے سبھاؤ ٹیکسی میں بیٹھ جاؤ، بس سے اتر کر سامان گھسیٹتے ہوئے رہائش کی تلاش میں کہاں ماری ماری پھرو گی؟ ہم نے نیک اور تابعدار بیبیوں کی طرح سر جھکا کر بات مان لی۔
باہر نکلے۔ ایسا لگا یہ جگہ یورپ کے پچھواڑے میں ہے۔ جگہ جگہ سگریٹ کی ڈبیاں، خالی بوتلیں اور ٹشو پیپر بکھرے نظر آرہے تھے۔ بھئی بڑا اپنا اپنا سا لگ رہا ہے میڈرڈ تو۔
ائرپورٹ ٹیکسی کا کرایہ ڈاؤن ٹاؤن کے لیے فکس تیس یورو تھا۔ کنورژن کا معاملہ ہمارے لیے بہت گمبھیر ہے۔ پاکستانی روپیہ تو انگلیوں پر ازبر ہے، بعد میں سعودی ریال سیکھا، پھر عمانی ریال تک بات آ پہنچی، انگلستان گھومنے گئے تو پاؤنڈ سے شناسائی ہوئی، ہالینڈ میں پڑھا تو یورو جیب میں آ پہنچا، بچے امریکہ گئے تو ڈالر کی کہانی سمجھ میں آئی۔ اس کے علاوہ ساؤتھ افریقین، بڈاپسٹ اور پراگ، دوبئی، اومان، شام، کینیڈا، مصر، میکسیکو کی کرنسی کا تو ہم نام ہی نہیں لے رہے جن کی ریزگاری کئی الماریوں کی درازوں میں منتظر ہے کہ کب مسافر پھر سے انہیں لے کر محو سفر ہو؟
نوجوان کا ہم نے شکریہ ادا کیا، نام ہم نے پوچھا ضرور مگر پھر بھول گئے۔ ٹیکسی میں بیٹھے اور چلے ڈاؤن ٹاؤن۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسے یورپ کے شہر ہوتے ہیں۔ تیز دھوپ میں سڑک چمک رہی تھی۔ ٹریفک منظم تھی۔
آہ ہا تو یہ ہے وہ اندلس۔ جس کا نام آتے ہی سب مسلمان ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہتے ہیں، آہ ہمارا اندلس۔ ویسے ہمارے پاس آنے سے پہلے کس کا تھا؟ ہم نے سوچا۔
گوگل چچا سے پوچھ لو۔ دل نے سرگوشی کی۔ تو جناب اندلس جو ہسپانیہ کہلاتا تھا، سات سو گیارہ میں مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ اس سے پہلے وہ سلطنت روم کا حصہ تھا۔ آٹھ سو برس کی حکومت چودہ سو نوے میں ختم ہوئی۔
اور اب تقریباً چھ سو برس کے بعد ہم اندلس کی سرزمین پہ قدم رنجہ فرما تھے۔ بخدا گھوڑے پر بیٹھ کر نہیں۔ ہم تو صرف یہ دیکھنے آئے ہیں کہ اندلس میں اجنبیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔
پندرہ بیس منٹ کے بعد ٹیکسی ایک تنگ سی گلی میں گھس گئی۔ اونچی نیچی پتھریلی گلیوں کا جال جن پہ ٹیکسی ڈرائیور مہارت سے موڑ کاٹتا تھا۔ ٹیکسی میں لگے ہوئے ریڈیو پہ ایک عورت نہ جانے کیا گاتی تھی۔ لیکن جو کچھ بھی تھا، دل کو بھاتا تھا۔
ڈاؤن ٹاؤن کی ایک ایسی ہی پتھریلی گلی کی دوسری منزل پر ایک فلیٹ تھا جو اس تھکی ہاری مسافر کا منتظر تھا۔ ائر بی این بی نے سفر جس قدر پر لطف بنا دیا ہے وہ صرف وہی لوگ جانتے ہیں جو اس سے پہلے بھی دنیا میں گھومتے تھے۔ ائر بی این بی، یعنی ایک گھر جیسی رہنے کی جگہ، بنا کسی شوروغل اور ہنگامے کے۔ اور دام بھی انتہائی مناسب۔ رہائش مہیا کرنا ہماری صاحبزادی کا فریضہ ہے سو ہم تو صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے ایڈریس بھیجا کہ نہیں؟ ٹیکسی ڈرائیور اسی ایڈریس پہ ہمیں لے کر پہنچ چکا تھا۔
سامان اتارا، کارڈ سے پیسے دیے اور اس بلڈنگ کو کھولنے کے طریقوں پر غور کرنے لگے۔ چار منزلہ بلڈنگ کا مین دروازہ کوڈ سے کھلتا تھا۔ اس کے بعد لابی میں ایک اور کووڈ باکس تھا جس میں ہمارے گھر کی چابی تھی۔ سو ہمیں دو بار کہنا تھا۔ کھل جا سم سم۔
ابھی گیٹ کے دروازے پر ہیش، نمبر، سٹار، پریس کی گردان شروع ہی کی تھی کہ دو لمبی تڑنگی لڑکیاں ہمارے پاس آ کر رکیں، کیا آپ اندر جانا چاہتی ہیں؟ شستہ انگریزی۔
ہاں بٹیا۔
کیا آپ گیسٹ ہیں؟
ہاں ہاں۔ ابھی پہنچے ہیں۔
لیں جی اس نے کہا سم سم اور دروازہ کھل گیا۔ اندر داخل ہوئے تو چونکہ وہ بھانپ چکی تھیں کہ ہم حال سے بے حال ہیں سو کہنے لگیں، اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو چابی نکال دیتے ہیں۔
ارے بٹیا، جگ جگ جیو۔ یہ لو کوڈ۔ ہم نے فون ان کی طرف بڑھایا۔
لیجیے پھر سم سم ہوا اور چابی ہمارے ہاتھ۔
تم لوگ بھی گیسٹ ہو؟
اب ہم فرینک ہونے کی کوشش میں تھے۔
جی، جی ہاں۔
کہاں سے؟
سویڈن سے آئے ہیں ہم کل رات۔ ابھی کچھ گراسری لینے گئے تھے۔ اگر آپ کو کچھ لینا ہو تو پاس ہی دکانیں ہیں۔
او اچھا اچھا۔ بہت شکریہ۔
آپ سیڑھیوں کی بجائے لفٹ سے اوپر جائیے گا۔ ان لمبی تڑنگی لڑکیوں کو اس چھوٹی سی بڑھیا پر بہت رحم آ رہا تھا جو نڈھال نظر آتی تھی۔
اوپر پہنچے، لفٹ کے ساتھ ہی دروازہ تھا۔ کھولا۔ انتہائی صاف ستھرا فلیٹ ہمارے سامنے تھا۔ کھڑکی پہ پردے تھے مگر پھر بھی دھوپ اندر آ رہی تھی۔ کھڑکی کھولی اور باہر جھانکا۔ فلیٹس کی بالکونیاں رنگارنگ پھولوں سے اٹی ہوئی۔ کھڑکیوں پہ لٹکے پردے ہوا سے سرسراتے ہوئے، گھروں کے دروازوں پر پینٹنگز بنی ہوئی، تنگ پتھریلی گلی، اوپر نیچے جاتی ہوئی۔ نہ جانے کون کب اس گلی سے گزرا ہو گا؟ مشکل یہ تھی کہ گلی کے پاس زبان نہیں تھی ورنہ ہمیں بتاتی کہ بی بی۔ صدیوں سے دیکھ رہے ہیں آنے جانے والوں کو۔ نہ جانے کس کس دیس سے اجنبی آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ ایک ایک پتھر امین ہے ان داستانوں کا۔
چائے کی طلب تھی سو کیتلی میں پانی چڑھایا۔ اپنی پوٹلی کھولی جس میں نٹس اور بسکٹ ہمارا ساتھ دینے کے لئے موجود تھے۔
ہم اس قدر تھکے ہوئے تھے کہ چائے پینے کے بعد بستر پر ڈھیر ہو گئے۔ آنکھ تب کھلی جب کمرے میں اندھیرا پھیل چکا تھا۔ گلی میں سے بچوں کے کھیلنے کی آوازیں آ رہی تھی۔ کچھ دیر کے لیے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہم کہاں ہیں؟ شام ہو گئی۔ بچوں کو گھر واپس بلانا چاہیے۔
گھر؟
کیا یہ گھر ہے؟
مندی ہوئی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ کر لیمپ آن کیا۔ دیوار کے ساتھ رکھا ہوا اٹیچی دیکھ کر دماغ نے یاد دلانے کی کوشش کی کہ بی بی تم مسافر ہو۔ اور مسافروں کے گھر ان سے دور، بہت دور کسی اور دیس میں ہوتے ہیں۔
آہ ہا۔ ہم تو شاید ازل سے مسافر ہیں۔ اور اب تو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ کس دیس سے تعلق ہے۔ خانہ بدوشی کائنات کو ہمارا گھر بنا چکی ہے۔ سمت، زمین اور وقت اپنا معنی کھو چکے۔
کیا ہم اداس ہو رہے ہیں؟
شاید۔
اچھا چلو اٹھو، چائے پئیو اور باہر کی خبر لو۔
آج کی شام پھر کبھی نہیں آئے گی۔
باہر میڈرڈ ہے۔
اتے باری، تے تھلے میڈرڈ شہر دی گلی
باری وچوں میں اوہنوں تے اوہ مینوں ویکھے
میں نوں لگیا جنویں اوہ اڈھ رہی اے
ریشمی دوپٹے وانگوں اتے تھلے ہو رہی اے
ول کھاندی، مڑدی، سدھی ہوندی ٹردی جاندی اے
تے کھلوتی ہوئی وی لگدی اے
اوپر کھڑکی، نیچے میڈرڈ شہر کی گلی)
کھڑکی سے میں اسے اور وہ مجھے دیکھے
مجھے لگا جیسے وہ اڑ رہی ہے
کسی ریشمی دوپٹے کی طرح اوپر نیچے
بل کھاتی، مڑتی، سیدھی ہوتی چلتی جاتی
اور کبھی رک جاتی )
میں پچھنی ناں کتھے چلی ایں
تے او کھڑ کھڑ ہس پیندی اے
جیویں کہندی ہوئے، میں کیوں جاواں
( میں نے پوچھا، کہاں جا رہی ہو
قہقہہ لگا کر ایسے ہنستی ہے
جیسے کہتی ہو کہ میں کیوں کہیں جاؤں )
اندرون شہر ورگیاں پکیاں اٹاں
جنہاں دیاں درزاں ساویاں
ساوے پتیاں دی بکل مار کے
( پرانے شہر جیسی پختہ اینٹیں
جن کے بیچ سبز درزیں
سبز پتوں کو اوڑھ کر بیٹھی ہیں )
منڈے کڑیاں
اک دوجے دیاں بانہاں دے وچ
بانہاں پاکے آندے جاندے
( لڑکے لڑکیاں
ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر
آ جا رہے ہیں )
میں گلی نوں پچھیا پیرس چلنا اے
میں پرسوں جانا اے
پیرس ویکھ کے میڈرڈ نوں وی بھل جاویں گی
( میں نے گلی سے پوچھا، پیرس جانا ہے؟
میں پرسوں جا رہی ہوں
پیرس دیکھ کر میڈرڈ بھول جاؤ گی )
او ہس پئی تے آکھن لگی، پاگل ہوئی ایں
اک تے مٹی اوتھے ای چنگی
جتھے دی وی ہووے
( وہ ہنس کر کہنے لگی پاگل ہو تم؟
پہلی بات یہ کہ مٹی جہاں کی ہو وہیں اچھی لگتی ہے )
دوجا
ایتھوں گئے پکاسو ورگے
تے پیرس، پیرس بن جاندا
میڈرڈ آئے لورکا، روبن ڈاریو، پابلو نیرودا
( دوسری بات یہ کہ یہاں سے پکاسو پیرس جائے تو پیرس پیرس بن جاتا ہے۔
میڈرڈ آئے لورکا، روبن ڈاریو اور پابلونیرودا)
بورخس، مسترال
ماریو ورگس لوسا نے وی آخر ایتھے گھر وسایا
گویا دی تے مٹی ای میڈرڈدی سی
جیویں میری۔
( بورخیس، مسترال
ماریو ورگس لوسا نے بھی اپنا گھر یہیں بنایا
گویا کی مٹی تو تھی ہی میڈرڈ کی
جیسے میری )
روبن ڈاریو ( 1867۔ 1916 ) نکاراگوا کے رہنے والے تھے۔ لیکن میڈرڈ میں بس گئے تھے۔ شاعر، ادیب اور صحافی۔ ہسپانوی زبان کو ماڈرن رنگ دینے کے سرخیل۔
چلی کے پا بلو نیرودا کو کون نہیں جانتا۔ شاعری کے بادشاہوں میں سے ایک۔ میڈرڈ انہیں بھی اپنا گردانتا ہے۔
گبریلا مسٹریل چلی کی شاعرہ، لاطینی امریکہ کی پہلی عورت، جنہیں نوبل انعام ملا۔ عورتوں اور بچیوں کے لیے لکھنے والی۔ وہ میڈرڈ کو اپنا شہر کہتی تھی۔
بورخیس ارجنٹائن کا شاعر اور ادیب، کافکایت سے متاثر اور دنیا میں کافکایت پھیلانے والا۔ انہیں بھی میڈرڈ سے بہت محبت تھی۔
ماریو لوسا نوبل انعام جیتنے والے پیرو کے فکشن نگار تھے لیکن وہ بھی میڈرڈ سے تعلق کے دعوے دار تھے۔
ہسپانوی مصور گویا مصوری کے پرانے اور نئے انداز کو ملانے کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ گویا نے آخری عمر میں جو تصویریں بنائیں وہ بے مثال تھیں۔ گویا بھی میڈرڈ کے رہنے والے تھے۔


