مسلمان اور ان کی تعلیمی میراث
دین اسلام میں تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو ترجیح کے لحاظ سے سب سے منفرد اور سر فہرست نظر آتا ہے۔ یہ دین کرہ ارض میں ہر رنگ و نسل میں بذریعہ تعلیم پھیلانے کا حامی ہے۔ جس سے عالمگیریت کا نظام اور انسانیت کی معراج ٹپکتی ہے۔ دین میں مرد و زن کی تعلیم حاصل کرنے میں کوئی تفریق نہیں۔ قرآن و حدیث میں مرد و عورت دونوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے پر کوئی قدغن نہیں بلکہ حوصلہ افزائی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں تمام مسلمانوں پر تعلیم فرض ہے تاکہ وہ اپنے آفاقی دین و انسانیت کی معراج اور اپنے رب کی وحدانیت کو سمجھیں۔
بچے کے لئے والدین کا سب سے بہتر تحفہ اس کی تعلیم اور اچھی تربیت ہے۔ اگر دنیاوی مقصد و فائدے کے لئے تعلیم غرض ہے تو وہ انسان جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ تعلیم کے حصول میں سب سے مقدم بات اپنے رب کی پہچان ہونی چاہیے۔ اس کے احکامات پر عمل اور جاننا لازم ہے۔ سورہ مجادلہ آیت 11 دین سیکھنے کے بارے میں ہے۔ اللہ تعالٰی ان کے درجات کو بلند کرے گا جنہوں نے دین سیکھا۔ قرآن کے نزدیک علم کائنات کی تشکیل کو سمجھنے اور امن کا گوارا بنانے کا ذریعہ ہے۔
قرون اولی کے مسلمانوں نے اسی علم کی بدولت ریاضی، فلسفہ، فلکیات، میڈیسن اور آرٹ و شاعری میں اپنا نام پیدا کیا۔ جنہوں نے مساجد کے ساتھ درسگاہیں قائم کیں اور تعلیم پر زور دیا۔ دین اسلام سیکولر تعلیم حاصل کرنے کی ممانعت نہیں کرتا۔ سورہ طہ آیت 114 میں فرمایا گیا۔ کہہ دیجئے! اے رب میرے علم میں اضافہ کیجئے۔ اسلام تعلیم پر ماں کی گود سے قبر تک علم سیکھنے کا ہمیں پیغام دیتا ہے۔ اسے سیکھنے والے کو جنت کا حقدار قرار دیتا ہے۔
اسی لئے تو دین میں عورت کی تعلیم حاصل کرنے کے حقوق مرد کے مساوی رکھے گئے ہیں۔ نبی مکرم نے تمام مسلمانوں کو علم حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ علم مومن کی میراث ہے۔ سب سے پہلی وحی جو آقائے دوجہاں پر نازل ہوئی وہ پڑھنے بارے تھی۔ قرآن مسلمانوں کو تفکر، پڑھنے اور لکھنے بارے کہتا ہے۔ علم کا قرآن میں 750 بار ذکر ہے جس سے اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت علی کا قول ہے، ”میں اس انسان کا غلام بننا پسند کروں گا جو مجھے ایک لفظ کی تعلیم دے“ ۔
آج کل اکثر مسلمان انٹرٹینمنٹ کو ہی تعلیم سمجھ بیٹھے ہیں بحیثیت مسلمان ہم پر تعلیم فرض ہے اور وقت کے زیاں کی سخت ممانعت ہے۔ فرمان رسول ہے جو بھی علم کی راہ لے گا اللہ تعالٰی اسے جنت کی راہوں میں سے ایک پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے گا اور فرشتے اپنے پروں کو اس کی راہ میں بچھائیں گے۔ احمد تیجانی اور محمد ظاہری کے بقول تعلیم کے تین درجے ہیں۔ پہلا دینی تعلیم، جس سے انسان کو اپنے خالق حقیقی کی پہچان حاصل ہو، دوسرا حصول سائنس جس سے انسان سچائی و برائی، علم سے دلیل کی بنیاد پر جاننا اور عملی جامہ پہنانا اور اس کی ترجیحات کو سمجھنا ہے، اور تیسرا درجہ نیچرل سائنس جس میں سائنس کی تمام شاخیں شامل ہیں۔
جس سے انسان کائنات کو مسخر کر سکتا ہے۔ کئی صدیاں مسلمان حکومتیں عالم اقوام میں ٹیکنالوجی میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ تھیں۔ درسگاہوں میں معیاری تعلیم دی جاتی تھی اور نئی ایجادات تسلسل سے رونما ہو رہی تھیں۔ گو کہ اسلام ملوکیت کے زیر اثر آ چکا تھا لیکن پھر بھی تعلیم پر نہ تو قدغن اور نہ ہی علم سیکھنے پر پابندی تھی بلکہ سائنس دانوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ تعلیم کی شمع صدیوں تک اسلام کے زیر اثر اپنی شعاعیں ہر سو بکھیرتی رہی اور اسی تعلیم کی بدولت مغربی دنیا اپنی سائنسی ترقی و علم کی روشنی سے اپنے معاشرے کو مزید نکھارتے چلے گئے۔ مسلمان معاشرہ دنیا کے قیادت کر رہا تھا اس نے عالم اقوام کو ریاضی، الگورتھم، علم کیمیا و فلکیات اور کئی سائنسی ایجادات دیں۔ جن سے آج کا مغربی معاشرہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔
تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہمارے زوال کی کیا وجہ بنی؟ کیوں مسلمانوں کی تعلیمی میراث خشک و بنجر ہوتی چلی گئی؟ مسلم معاشرے میں ایک ہزار آبادی پر سائنسدانوں اور انجینئرز کی شرح نو فیصد جب کہ رہتی دنیا کی شرح اکتالیس فیصد ہے۔ اقوام عالم میں تقریباً اٹھارہ سو یونیورسٹیاں جن میں تین سو بارہ اسلامی ممالک کی یونیورسٹیوں کے سکالرز نے اپنے مقالے شائع کیے ۔ ان میں پچاس مشہور مقالوں میں چھبیس مقالے ترکی، نو ایران، ملائشیا و مصر سے تین تین اور پاکستان سے دو مقالے جب کہ متحدہ امارات، یوگنڈا، کویت، سعودی عرب، لبنان، اردن اور آذربائیجان سے ایک ایک مقالہ شائع ہوا۔
مسلم آبادی تناسب کے لحاظ سے تقریباً دنیا میں 1.6 فیصد ہے اور ان میں صرف دو نوبل انعام یافتہ سائنس دان ہیں ایک نے فزکس 1979 ء اور دوسرے نے کیمسٹری 1999 ء میں نوبل انعام جیتا۔ ملک سپین کبھی بھی سکالرز کی زرخیز زمین نہیں رہی لیکن پھر بھی اس کی ایک سال کی کتابوں کے ترجمے پورے عرب خطے کے ممالک سے زیادہ ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے تیرہویں صدی کے سنہری دور کو دیکھتے ہیں اور یہ بات جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیسے علم کی گہوارہ زرخیز زمین بنجر بن گئی۔
بغداد، قاہرہ اور دوسرے اسلامی ممالک کے مراکز جدید سائنس کے گہوارے کیوں نہ بن سکے اور پستی کی طرف گامزن ہوئے۔ مسلمان معاشرہ جب دنیا پر حکمرانی کر رہا تھا تو سکالرز اور سائنسی تحقیق ان کے نزدیک لازم و ملزوم تھے۔ ان سکالرز و سائنسدانوں کے ایک دوسرے سے قریبی روابط و بحث و مباحثے ہوتے تھے۔ منگولوں کا 1258 ء میں بغداد کو تباہ و برباد کرنا اور نایاب کتب کا جلا دینا بھی مسلمانوں کی تنزلی کا ایک سبب بنا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں میں ایک ایسا مائنڈ سیٹ اپ پیدا کیا گیا جس سے ان کو جدید علوم حاصل کرنے کے فوائد سے دور رکھنا مقصود تھا جس میں اپنے اور غیر دونوں کا اشتراک عمل تھا لیکن مسلم معاشرہ ان سازشوں کو نہ تو سمجھ سکا اور نہ ہی بروقت تدارک کر سکا۔
اب ان کا سیاہ دور شروع ہو چکا تھا۔ علم کے گہوارے والے معاشرہ میں کتب خانوں کے مراکز نا پید ہونے شروع ہو گئے۔ باہمی رسہ کشی و کشیدگی زور پکڑنے لگی، ایک دوسرے کی گردن زنی و لوگوں کو زنداں میں ڈالنا معمول بن گیا، معاشرہ گھٹن کا شکار ہوتا چلا گیا۔ ٹیلنٹ کی بے قدری شروع ہو گئی اور اس کی جگہ اقرباء پروری نے لے لی۔ باہمی رنجشوں نے عمدہ طرز حکمرانی کو کمزور کر دیا اور وسیع حکومتی ڈھانچہ اب سرکنے لگا، علاقائی گورنروں اور رفقاء نے قبضے شروع کر دیے جس سے اسلامی مملکت کی سرحدیں سکڑنی شروع ہو گئیں۔
اسلامی ممالک میں سکول، کالج و یونیورسٹیاں بن تو گئے لیکن مدرسوں کو اس طرح کی نشوونما نہ ملی جس طرح ان سکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو ملی۔ لہذا مدارس اس جدید نظام تعلیم میں پیچھے رہ گئے۔ جو سیکولر تعلیم رائج کی گئی تو وہ بھی مثبت نتائج حاصل نہ کر سکی۔ طالب علموں کو ڈگریاں تو ملنے لگیں لیکن اس سے تحقیقی ماحول اسلامی ممالک میں نہ بن سکا اور نہ ہی ہم نئی ایجادات میں تسلسل برقرار رکھ سکے۔ ہمیں لکیر کا فقیر بنا دیا گیا اور خود اغیار ترقی کرتے چلے گئے۔
ہم اپنی تعلیم کے قتل کا الزام کس کے سر تھوپیں۔ ہم خود بھی شارٹ کٹ کو پسند کرنے لگے۔ ہم نے تعلیم کو مقصد حصول نوکری بنا دیا۔ کتنے ہیں جنہوں نے دلجمعی کے ساتھ اور پورے انہماک کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کی اور اس میں تحقیقی تڑکہ لگاتے ہوئے ستاروں پر کمند ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہوئے۔ ذرا غور کیجئے گا انسان کے اندر اس کا دل ایک آئینہ رکھا گیا ہے جو ہر شے اسے واضح کر دیتا ہے۔ کبھی ہم نے اس میں جھانک کر دیکھا ہے۔
مسلمانوں کی تعلیمی قابلیت دنیا کی کسی قوم سے بھی کم نہیں لیکن ان کی آپس کی نا اتفاقی، اخلاقی پستی، سائنسی مضامین میں دانشور پیدا نہ کرنا، تعلیم کی اہمیت کو نہ سمجھنا، اپنے وسائل کو احسن طور استعمال نہ کرنا اور دوسروں کی اندھی تقلید کرنا جیسے عوامل شامل ہیں۔ جن کی وجہ سے آج مسلمان اس حال کو پہنچے ہیں۔ ہمیں دنیا دقیانوس، جاہل، انتہاپسند اور نہ جانے کن القابات سے نوازتی ہے۔ ہماری دل آزاری کے ہزار جتن کیے جاتے ہیں لیکن افسوس ہم سبق حاصل کرنے کے بجائے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ آئیے اس خواب سے اٹھیں اور کمر کس لیں۔ خاص کر نوجوانوں کو اب یہ بیڑا اٹھانا ہو گا۔ ان کے لئے اقبال نے کہا تھا،
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا سی نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی


