یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے


صاحبو! ہم سب ایک ایسے دیس کے باسی ہیں جہاں جدت اور جدید ٹیکنالوجی کی تمام تر رعنائیاں اور صلاحیتیں بھی بے بس و دست پا نظر آتی ہیں۔ اب آپ خود ہی دیکھئے نا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی یہ جدت ”موچی“ اور ”موچی دروازے“ کے کام اور نام کو تبدیل نہ کر سکی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے دیس میں ”موچی گیری“ کے کام کو کوئی روک نہیں پایا ہے اور نہ ہی کسی معروف موچی کا کوئی آؤٹ لیٹ ملک میں سرعام دکھائی دیتا ہے۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے یار جانی اور ملک کے معروف آرٹسٹ اور کارٹونسٹ ”فیکا“ کا جنہیں ہم سب پیار سے ”بلو بھائی“ کہتے ہیں کہ انہوں نے ”موچی“ کے خواص اور اوصاف حمیدہ اس طرح ہمارے سامنے رکھے کہ ہمیں پورا ملک ہی ”موچی“ کی دکان لگا، جہاں ایک طرف ادھڑی ہوئی سے جھونپڑ پٹی میں بے ترتیب سامان لئے ”موچی“ بیٹھا اپنی حالت کی پرواہ کیے بغیر بے تکان میلی کچیلی، ٹوٹی پھوٹی چپل جوتوں کو نکھارنے اور سدھارنے میں مگن ہے جبکہ جوتے کا مالک اس جوتے کی چمک دمک کے دھوکے میں پھر سے اکڑ اکڑ کر چلتا ہوا کرو فر کر رہا ہے۔ جیسا کو ”یو ٹرن“ اور ”ریاست مدینہ“ کے دھوکے میں عقیدہ پرست اور ٹک ٹاکر نسل کر رہی ہے جب کہ ”موچی“ کے ہاتھ میں سوئی اور ڈور کی کشاکش جوتوں اور چپلوں کو درست کرنے کے لئے جاری ہے اور ”موچی کی پشت کے پیچھے خوشخطی کی پرواہ کیے بغیر یہ بورڈ آویزاں ہے کہ“ یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے ”۔

سوچا شاید کہ یاران نکتہ دان غالب کے شعر سے ملک کے مزاج اور چاپلوسی میں لتھڑے ہوئے سماج سے آگہی پالیں جس میں غالب کا یہ شعر برمحل لگتا ہے کہ

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

ہمارے ملک میں شاہوں نے ہمیشہ درباروں کی کاسہ لیسی اور فرمانبرداری ہی میں توانا زندگی اور سوچ کو اپاہج کر ڈالا ہے۔ سماج کی کون سی ایسی پرت باقی بچی ہے جہاں خود غرضی کے دیو قامت ”شاہ“ چاپلوسی کا کاسہ لئے نہ کھڑے ہوں، جدھر دیکھو ”شاہ کے مصاحبوں“ نے سماج میں کھیل سے لے سیاست اور سیاست سی لے کر ثفافت ایسے معتبر اداروں کو بھی اپنی ”کثافتی بد نیتی“ کی نظر کر رکھا ہے جب کہ درباری شاہوں نے اپنے مصاحبوں میں ایسے ایسے طبیب مستعار لے رکھے ہیں جو طب کے معزز پیشے پر اپنی چاپلوسی اور خود غرضی کی کالک ملتے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ ”درباری شاہوں“ کی کاسہ لیسی میں وہ اپنی سوچ کی اپاہجگی کو بھی سب کے سامنے طشت از بام کر رہے ہیں۔

جب کبھی دربار سے عوام کی تخلیقی ذہن سازی کو ملیا میٹ کرنے کا حکم صادر ہوتا ہے تو چند ٹکوں کی لالچ میں ”مصاحب شاہ دوڑے چلے آتے ہیں اور عوام کی ذہنی تخلیقی اور ثقافتی“ حس ”کو اپنی چاپلوسی رال سے اس قدر آلودہ کر دیتے ہیں کہ تہذیب و ادب و ثقافت آنسو بہا کر بھی مطمئن نہیں ہوتے، یہی کیا بلکہ اب تو ہمارے دیس کا یہ چلن عام ہو چلا ہے کہ“ دربار ”کے غلامانہ نظام میں“ شاہ بن کر جینے کا ہنر حاصل کر لو تاکہ ”یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے“ کے جملے کی عزت سادات باقی بچ جائے۔

ہم چاپلوس اور ”درباری شاہ نسل کے نزدیک سماج کی وہ“ بے کار اور ناکارہ سوچ ”ہیں جنہوں نے سیاست، ادب، ثقافت اور کھیل کے تہذیب یافتہ معیارات کی بے کار اور بے سود ترویج کی اور سماج میں جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، اور منافقت کے راستے میں روڑے اٹکائے، نہ کچھ کیا اور نہ منافقت اور ریاکاری کو پنپنے دیا بلکہ تہذیب و سچ کا دامن تھام کر ایسی نسل کی خواہش کی کہ جو تہذیب و ادب کی قدروں کو آگے بڑھائے، سو پچھلی نسل آج بھی تہذیب و شائستگی کا ڈھول پیٹ کر“ یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے ”کو بدنام و رسوا کر رہی ہے جب کہ“ شاہ کے درباریوں ”کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ دنیا کی ضرورت جھوٹ، دھوکہ اور حقائق سے فرار کا“ عمرانی ”سکہ ہی آج منافقت کے بازار میں“ یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے ”کی لاج رکھے گا۔

یاد آیا کہ 70 کی دہائی میں بھی ”اشرافیہ کے دربار“ سے حکم شاہی ہوا تھا کہ سماج میں صنعت و حرفت کی ترقی اور تہذیب، ادب اور ثقافت کے شعبہ جات میں بڑھتی ہوئی تیز رفتاری کا پہیہ جام کیا جائے تو ”شاہی دربار“ ہی کے ایک کارندے ”زلفی“ کو تراشا گیا تھا اور اسے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے میں ترقی کا پہیہ روکنے کا کام دیا گیا تھا جس نے اہل دربار کو یقین دلایا تھا کہ ”یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے“ سو زلفی نے یہ کام اور پھر جو کچھ اس دیس کی صنعت و حرفت کے ساتھ ہوا، اس کے نقصانات 50 برس بعد معاشی بربادی کی صورت ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔ اس تسلی بخش کام کے چند حقائق آج کے ”شاہی غلاموں“ کے سامنے رکھ دیے جائیں تاکہ شاید غیرت اور شرم کھا کر صنعت و حرفت کے ”موچی شاہ“ بننے والے معاشی ترقی میں ماضی کو ناکارہ نہ قرار دے دیں، اور پھر کہیں یہ ”غلام شاہوں“ کی نسل جھوٹ، فریب، اور چاپلوسی کا شکار ہو کر ”یہاں ہر کام تسلی بخش ہوتا ہے“ کے دھوکے میں نہ آ جائے۔

50 اور 60 کی دہائی میں یہ دیس صنعت و حرفت کی ترقی کے ساتھ تہذیب و ادب کے وہ مینارے طے کر رہا تھا جس پر ہمسایہ و دیگر ممالک انگشت بدندان ہوا کرتے تھے پھر اچانک بظاہر ”دربار شاہی“ کے دھتکارے ہوئے ”زلفی شاہ“ کو روٹی کپڑا اور مکان کے دلفریب نعرے کی آڑ میں عوام کا جمہوری و سیاسی نجات دہندہ بنایا گیا جیسا کہ ”ریاست مدینہ“ قائم کرنے والے جھوٹ و فریب کو ترقی کے اس دور میں ”ہیرو“ بنایا جا رہا ہے۔

”زلفی شاہ“ کا یہ وہ دور تھا جب اس دور کی نئی نسل کو 22 خاندان کی لوٹ مار کا چورن بالکل ایسے ہی بیچا گیا۔ جیسا کہ آج کی نسل کو چور چور کا چورن بیچا جا رہا ہے۔ حقائق کے تناظر میں 1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، اور بزنس جینئس تھے جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا دیا ہوا تھا۔ ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا۔ مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا جن میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا۔

داؤد گروپ والے ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔ داؤد گروپ کے پاس ہرکولیس کے ساتھ ٹریکٹر کی پروڈکٹ بھی تھی جبکہ ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات کے فروغ میں جتا ہوا تھا۔ اصفہانی خاندان والے سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے جبکہ اسی خاندان نے ملک کی پہلی ائرلائن قائم کی جو آج کی جدید ائر لائنوں سے زیادہ جدید و بہتر تھی۔

حبیب گروپ بینکنگ کے بادشاہ گردانے جاتے تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں ان کے حبیب بینک پلازہ کی عمارت ایشیاء کی سب سے بلند ترین عمارت تھی اور ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم بھی اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا تھا۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور نشاط گروپ مختلف مصنوعات کے بانی تھے۔ لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل اور موٹرسائیکل اسیمبل کیا کرتے تھے۔ ان کی بنائی گئی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلا کرتی تھیں۔ میاں شریف کی اتفاق فاؤنڈری ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔ 1966 میں بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔

لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی جن کے مالک ملک کی تقسیم کے بعد مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔

زلفی بھٹو نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی اور ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے کا واویلا کیا اور عوام میں ہیرو ور شپ کے تحت بیان دیا کہ ”میں عوام کا سارا پیسہ ان کے پیٹ سے نکالوں گا“ اس نعرے کے پیچھے عوام ان خاندانوں کے خون کے پیاسے ہو گئے اور عوام نے ”عقیدہ پرست سیاست“ میں ترقی کے خواہاں ان خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔

بھٹو کی بود و باش اور تربیت جاگیردار گھرانے میں ہوئی تھی جبکہ وہ خود بھی ذہنی طور سے ”وڈیرے“ اور اشرفیہ کے تربیت یافتہ اتحادی بھی تھے۔ اسی دور میں فیوڈلز یعنی بڑے زمینداروں نے اقتدار میں آ کر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں، جس کو نیشنلائزیشن کا نام دیا گیا اور عوام کو سنہری خواب دکھلائے۔

لاہور کی بیکو پیکو بن کر تباہ ہوئی، ترقی کے خواہاں سب خاندان تباہ و برباد ہوئے، بیکو کے میاں لطیف جرمنی جا کر کسمپرسی میں چل بسے، اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔ اصفہانی قلاش ہو گئے۔ ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔ ائرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی، حبیب گروپ سے فوجی آمر جنرل مشرف نے حبیب بینک چھین کر اونے پونے اپنے من پسندیدہ گروپ کو بیچ ڈالا جبکہ سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔

کوہ نور مل جو پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ و برباد ہو گئی۔ آمر جنرل ایوب خان کے دور کی عوام دشمن پالیسیوں کے سبب میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے، کراچی کا سائیٹ انڈسٹریل اسٹیٹ جہاں گندھارا کے ہینو ٹرک تیار ہوتے تھے۔ شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے۔ سب کچھ قومیا کر (نیشنلائیز) کر کے تباہ کر دیا گیا۔ ان تباہ شدہ خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔ ملک میں احتساب اور ”اسلامی نظام“ کے نام پر آئین شکن جنرل ضیا الحق نے پھر سے اسمبلیوں میں ”اشرافیہ کے چاپلوس“ فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے پہنچائے جن کو ”درباری ایلیکٹیبلز“ بنا کر جنرل گل حمید کے تربیت یافتہ طالبان مائنڈ سیٹ عمران خان کو اقتدار دلوایا گیا جس نے رہی سہی ”سی پیک“ کی ترقی روک کر صنعت و حرفت کا پہیہ پھر سے جام کیا اور ملک کی سرمایہ کاری کو تباہ کر کے ملک اور لوگوں کو دوبارہ سے ”اشرافی درباری“ وڈیرہ شاہی سوچ کا غلام بنایا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا کر رکھ دیا جبکہ عوام کو جھوٹ و فریب کا نشہ پلا کر عوام کو ”شاہی درباری“ اور عقیدے کی سیاست کا غلام بنا دیا، دوسری جانب اس کے حواری عوام میں اب تک یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ”یہاں ہر کام تسلی بخش کیا جاتا ہے“ ۔

Facebook Comments HS

وارث رضا

وارث رضا سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کالم نگار ہیں۔ گزشتہ چار عشروں سے قومی اور بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں لکھ رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے کہنہ مشق استاد سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

waris-raza has 56 posts and counting.See all posts by waris-raza