آگے بڑھنا ہو گا


اس بات میں مجھے تو کوئی شک نہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ یہ دھاندلی باقی پاکستان میں تو ہوئی ہے لیکن کے پی کے میں نہیں ہوئی جب کہ نون لیگ اور پی پی پی کا خیال ہے کہ باقی پاکستان میں انتخابات منصفانہ اور آزادانہ تھے لیکن کے پی کے میں دھاندلی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کا خیال ہے کہ ہر حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے اور ہمارے خیال میں مولانا فضل الرحمان کا خیال درست ہے۔ دھاندلی اس لیے کی گئی تھی کہ انتخابات کو مینیج کیا جائے اور مینیج کرنے کے لیے ہر حلقے میں دھاندلی کرنا ضروری تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھاندلی کیوں کی گئی تو جواب ہو گا کہ پارلیمنٹ کو مینیج کرنے کے لیے۔ اب آپ پوچھیں گے کیسے تو پڑھ لیں

اگر کوئی بھی سیاسی جماعت اکثریت حاصل کرتی بھلے وہ نون لیگ ہوتی، پی ٹی آئی، پی پی پی یا دیگر وہ مطلق العنان حکمرانی کی طرف جاتی اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ اس نے ایسی آئینی اصلاحات کرنا تھیں جس سے اسٹیبلشمنٹ کے راستے میں کئی آئینی پہاڑ کھڑے ہو جاتے اور وہ اقتدار کے ایوانوں میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے ہمیشہ کے لیے اجتناب کرنے پر مجبور ہوجاتی۔ ایسی صورت میں جب کہ کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس اکثریت ہوتی اسٹیبلشمنٹ چاہنے کے باوجود حکومت کو ہدایات دینے اور انہیں منوانے میں کامیاب نہ ہو سکتی۔

اس لیے جو ہوا وہ ”گیم پلان“ کا حصہ تھا۔ وہ لوگ جو اسٹیبلشمنٹ کو ایف۔ اے پاس ہونے کا طعنہ دیتے ہیں بھول جاتے ہیں کہ پی ایم اے کاکول سے یہ لوگ گریجویٹ ہوتے ہیں جہاں یہ جنگ، جنگی آلات، تاریخ، سیاست، جغرافیہ کی تعلیم پاتے ہیں، پھر عملی میدان میں ان کو آزماتے ہیں۔ بعد ازاں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ کئی مختصر کورس کرنے کے لیے رائل ملٹری اکیڈمی انگلینڈ اور امریکہ کے فوجی تربیت کے اداروں کا رخ بھی کرتے ہیں، ان لوگوں کے منصوبے کیا ایسے ہوں گے کہ جسے عوام او ر خاص طور پر سوشل میڈیا پر بیٹھا ہوا وہ نوجوان سمجھ سکتا ہے جس نے پی ٹی آئی کے پروپیگنڈا ماسٹر یوٹیوبرز کے علاوہ نہ کچھ سنا ہے اور نہ ہی کچھ پڑھا ہے۔

وہ نوجوان جو تحقیق کو اپنے اوپر حرام سمجھتا ہے اور یوٹیوبرز کی ہرزہ سرائی کو سچ سمجھتا ہے، وہ نوجوان جسے بانی پی ٹی آئی کے علاوہ ہر سیاست دان کرپٹ نظر آتا ہے، وہ جو بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی سچی بات بھی سننے کو تیار نہیں جب کہ اس کے حق میں ہزاروں جھوٹ سچ مان لیتا ہے، وہ نوجوان کیسے جان سکتا ہے کہ ان عالی دماغ منصوبہ سازوں نے کیا منصوبہ بنایا ہے اور یاد رہے جب یہ کوئی منصوبہ بناتے ہیں تو اس میں ناکامی تسلیم کرنے کو تیار بھی نہیں ہوتے۔

ہمارا خیال ہے کہ عین منصوبے کے مطابق کے پی کے پی ٹی آئی، پنجاب نون لیگ، سندھ پی پی پی اور بلوچستان اتحادی حکومت کو دیے گئے۔ مرکز میں ہم خیال (آپس میں نہیں، اسٹیبلشمنٹ سے ) پارٹیوں کو اکٹھا کر کے اتحادی حکومت بنوائی اور اس کو متحد رکھنے کے لیے پی ٹی آئی کی صورت میں ایک مضبوط اپوزیشن بھی بنائی گئی۔ اپوزیشن لیڈر بھی اپنا ہی بندہ ہے یعنی اپنے ہی سابق سربراہ کا پوتا اور وہ خاندان جس کے بارے میں واضح کہا جاتا ہے کہ وہ سانس بھی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے لیتا ہے۔

اس امر کو بھی نظر انداز نہ کریں کہ جب پی ٹی آئی کی تمام مرکزی قیادت جیل میں تھی۔ عمر ایوب خان روپوش تھے مگر جب جب ضرورت پڑتی تھی وہ ظاہر بھی ہو جاتے تھے اور جب وہ ظاہر ہوتے تھے تو تب گرفتار ہونے سے محفوظ رہتے تھے، البتہ ان کے دوبارہ روپوش ہونے کے چند گھنٹوں بعد پولیس ان کی فیکٹری یا گھر پر چھاپہ مار دیتی تھی اور گرفتاری میں ناکام رہنے کا اعتراف کر لیتی تھی۔ اسی عمر ایوب خان کو جب اپوزیشن لیڈر بنانا مقصود تھا تو عدالتوں سے ان کو فوری عارضی ضمانتیں بھی مل گئیں اور چند دنوں کے بعد وہ ضمانتیں کنفرم بھی ہو گئیں، عمر ایوب خان کے کزن اور ایوب خان کے دوسرے پوتے یوسف ایوب خان بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے نور نظر ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی میں اہم پوزیشن پر ہونے کے باوجود نو مئی کے بعد گرفتار نہ ہوئے۔ انہیں انتخابات کے دوران چند دنوں کے لیے حراست میں رکھ کر ان کی ویلیو ضرور بڑھائی گئی جس کا فائدہ انہوں نے انتخابات میں یہ کہہ کر اٹھایا کہ میں اسٹیبلشمنٹ مخالف ہوں اسی لیے گرفتار ہوا اور یوں وہ اپنے دو بھائیوں کو صوبائی اسمبلی تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ اگر مختصراً اپنا مدعا بیان کروں تو اس وقت اپوزیشن میں بھی پی ٹی آئی نہیں اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔

وہ اپنی کامیاب حکمت عملی سے حکومت اور اپوزیشن دونوں میں بیٹھے ہیں۔

اب اگر شہباز حکومت ان کی مرضی کے بغیر کوئی قدم اٹھاتی ہے تو پی پی پی کی طرف سے حکومت سے الگ ہونے کی ایک چھوٹی سی دھمکی کارگر ثابت ہوگی اور شہباز حکومت لائن پر آ جائے گی۔ اگر پی پی پی اور نون لیگ مشترکہ طور پر اسٹیبلشمنٹ مخالف ہوجاتی ہیں تو ایک مضبوط اپوزیشن موجود ہے جو حکومت کو چند ووٹوں کے ہیر پھیر سے گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

موجودہ حالات میں سیاست دانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ اختلاف کو بھلا کر آگے بڑھیں، اسٹیبلشمنٹ کو بھی ساتھ بٹھائیں اور ملک میں دو چیزوں پر فوری کام کریں اور ان دو چیزوں کو قومی ایجنڈے کا درجہ حاصل ہو جسے ہر آنے والی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا ہر آنے والا سربراہ جاری رکھنے کا پابند ہو اور ان دو چیزوں میں پہلی صنعت کا فروغ اور دوسری ملک میں امن کا قیام ہے۔ ہم اس وقت آئی ایم ایف سے معمولی قرضوں کے حصول کے لیے اس کی ہر شرط ماننے پر مجبور ہیں اگر آئی ایم ایف کا پروگرام جاری بھی رہتا ہے تو یہ معیشت کی بحالی کا عارضی حل ہے مستقل حل صنعت کا فروغ ہے تاکہ ہمارے پاس باقی دنیا کے ممالک کو بیچنے کے لیے مصنوعات ہوں۔

صنعت پر نظر رکھی جائے کہ وہ ایسی معیاری مصنوعات بنائے جسے دنیا بھر میں پذیرائی ملے، صنعت کار کو پابند کیا جائے کہ وہ زیادہ منافع کے لالچ میں غیر معیاری اشیاء ہرگز ایکسپورٹ نہ کرے تاکہ ملک کی صنعتی ساکھ برقرار رہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ محکموں میں سے کسی محکمے کے اختیارات میں اضافہ کر کے اسے یہ ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے کہ وہ مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھے۔

اس قومی ایجنڈے میں دوسری اہم شق امن کا قیام ہو۔ آپ بہتر جانتے ہیں کہ امن کے بغیر صنعت کو فروغ حاصل نہیں ہوتا۔ نہ ہی بیرونی سرمایہ کاری آتی ہے اور نہ ہی مقامی سرمایہ کار صنعت میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہوتا ہے۔ کراچی جیسا بڑا صنعتی شہر اب بھی شدید بدامنی کا شکار ہے۔ شہر میں بھتہ خوری کچھ کم ہوئی ہے مگر ختم نہیں ہوئی، سرمایہ کا ر کو ان بھتہ خوروں نے بھی پریشان کر رکھا ہے۔ پھر رہ زنی کی وارداتیں عام ہیں بلکہ اس وقت پورے ملک میں سب سے زیادہ راہزنی کی وارداتیں اسی شہر میں ہوتی ہیں اور راہزنوں سے سرمایہ کار اور صنعت کار بھی محفوظ نہیں، لوگ معمولی رقم بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے سے گھبراتے ہیں، ایسے میں کون سرمایہ کاری کرے گا۔

اندرون سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں کا راج ہے، وہ سرمایہ کاروں، تاجروں، صنعت کاروں سب کے دشمن ہیں۔ انہیں اغواء کر لیتے ہیں اور پھر بھاری تاوان مانگتے ہیں۔ ایسے حالات میں اندرون سندھ میں سرمایہ کاری کون کرے گا۔ پنجاب بھی آدھا تو ان کچے کے ڈاکوؤں نے یرغمال بنا رکھا ہے اور باقی آدھے پنجاب میں سرکاری ڈاکو سرگرم ہیں۔ یہ بے لگام سرکاری اہلکار صنعت کار اور سرمایہ کار کو سہولیات نہیں دیتے، ان کے راستے کی دیوار بنتے ہیں۔ پنجاب میں سرمایہ کاری سندھ کے مقابلے میں آسان ضرور ہے مگر سو فیصد محفوظ نہیں اس لیے آپ کا سرمایہ کار وہاں بھی سرمایہ کاری سے گھبراتا ہے۔

کے پی میں طالبان ایک دفعہ پھر سر اٹھا رہے ہیں بلکہ سر اٹھا چکے ہیں اب تو وہ اپنی گرفت مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ عمران خان نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کی جو سہولت فراہم کی تھی اگرچہ وہ نیک جذبے کے تحت تھی اور عمران خان یہ چاہتے تھے کہ یہ لوگ قومی دھارے میں شامل ہوں مگر دوبارہ اپنے علاقوں میں بسنے والے طالبان نے ان علاقوں میں ایک مرتبہ پھر اپنے یونٹس بنانا شروع کر دیے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کراچی میں بھی اپنا یونٹ بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اس لیے صنعت کار اور تاجر طالبان سے بھی محفوظ نہیں اور اپنے سرمائے کے تحفظ کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ وہاں بی ایل اے سرگرم ہے، بی ایل اے کے علاوہ کئی چھوٹی قوم پرست عسکری تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ یہ تنظیمیں اپنے ہی ملک کے پنجابی، سندھی یا مہاجر سرمایہ کار کو بلوچستان میں برداشت کرنے کو تیار نہیں تو کسی بیرونی سرمایہ کا ر کو یہ کیسے برداشت کریں گی۔ اسی لیے پہلے عرض کیا تھا کہ قومی ایجنڈے کے دونوں حصوں پر عمل کرنے کے لیے آپ کو اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ بٹھانا پڑے گا کیوں کہ امن کے قیام کی بھاری ذمہ داری اسی کے کندھوں پر ہے۔ اگر ہم نے یہ دو کام نہ کیے تو یقین کریں ہم ہمیشہ آئی ایم ایف کے محتاج رہیں گے اور آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

Facebook Comments HS