مارگریٹ ہیملٹن۔ وہ خاتون جنہوں نے انسان کو چاند پر پہنچایا
یہ 1960 ء کی دہائی تھی اور امریکہ اپنے روایتی حریف سوویت یونین کے ساتھ ایک دوڑ میں شریک تھا کہ کون سب سے پہلے چاند پر پہنچتا ہے؟ اس سلسلے میں دونوں ممالک کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ مشہور زمانہ اپالو 11 مشن سے قبل کوئی مشن چاند کی سطح کو چھو تک نہیں پایا تھا۔
ایسے میں 20 جولائی 1969 ء کو اس وقت لوگوں کی حیرانی تعریف میں بدل گئی جب نہ صرف خلابازوں نے چاند کی سطح پر کم و بیش ایک مکمل دن گزارا بلکہ وہاں سے 47.5 پاؤنڈ وزنی نمونے سائنسی تجربات کے لیے ساتھ بھی لے آئے۔ لیکن یہ سب کچھ مارگریٹ ہیملٹن کے بغیر ناممکن ہوتا جنہوں نے وہ سافٹ وئیر پروگرام لکھا جس نے انسانیت کو چاند پر پہنچا دیا۔
مارگریٹ ہیملٹن 17 اگست 1936 ء کو پاؤلی، انڈیانا میں پیدا ہوئیں۔ ہینکاک ہائی سکول سے گریجویشن کے بعد انہوں نے 1958 ء میں ارلہم کالج سے ریاضی میں (بیچلر) بی اے کی ڈگری لی۔ انتہائی ذہین اور باصلاحیت ہونے کے باوجود انہیں مزید تعلیم موقوف کر کے ہائی سکول میں استاد کی نوکری کرنا پڑی تاکہ وہ اپنے شوہر کی مالی مدد کر سکیں جو ہارورڈ میں قانون کے طالب علم تھے۔
کچھ عرصے بعد مارگریٹ بوسٹن منتقل ہو گئیں تاکہ برینڈیز یونیورسٹی سے ریاضی میں ڈگری حاصل کر سکیں۔ 1960 ء میں انہوں نے مشہور زمانہ ایم آئی ٹی (میساچیوسس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ) میں موسمیاتی پیش گوئی کے سافٹ وئیر پر بطور ”وقتی پروگرامر“ کام کیا۔ ایک سال بعد انہیں ”پراجیکٹ سیج“ میں بطور ڈیزائنر بھرتی کر لیا گیا جو کہ فوج کا اینٹی ائر کرافٹ پروگرام تھا۔ انہیں نے 1961 ء سے 1963 ء تک ”پراجیکٹ سیج“ میں کام کر کے اپنے آپ کو بطور پروگرامر منوایا۔ اسی کام کے نتیجے میں انہیں ایم آئی ٹی کی اس ٹیم میں شمولیت کی دعوت دی گئی جو اپالو 11 مشن میں استعمال ہونے والے سافٹ وئیر پر کام کرنے والی تھی۔
جب ناسا نے ایم آئی ٹی سے سافٹ وئیر فراہم کرنے کا باقاعدہ معاہدہ کیا تو مارگریٹ نے یونیورسٹی فون کر کے اس ٹیم میں شمولیت کی درخواست کی جو قبول کر لی گئی۔ مارگریٹ چارلس سٹارک ڈریپر لیبارٹری میں کام کرنے لگیں جہاں وہ جلد ہی اپالو اور سکائی لیب پروجیکٹس کے لیے سافٹ وئیر پروگرامنگ کی سپروائزر اور ڈائریکٹر بن گئیں۔
وہ اپنے کام سے بہت محبت کرتی تھیں چنانچہ ان کا زیادہ تر وقت اپنی لیبارٹری میں گزرتا۔ وہ اکثر اپنی صاحبزادی کو بھی کام پر ساتھ لاتیں اور بچی اکثر فرش پر ان کے سامنے کھیلتے کھیلتے سو جاتی، جب وہ خلا کو مسخر کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہوتیں۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ بات واضح ہوتی گئی کہ سافٹ وئیر ہی چاند تک اس دوڑ میں *فتح کی کنجی* ثابت ہو گا۔ 1965 ء تک مارگریٹ کو اپالو خلائی جہاز کے دوران پرواز سافٹ ویئر کی انچارج بنا دیا گیا اور تین سالوں بعد اس منصوبے پر 400 افراد کام کر رہے تھے۔
اپالو 11 کی کامیابی سے قبل ناسا نے 1968 ء اور 1969 ء میں اپالو 8 اور اپالو 10 کے نام سے دو خلائی جہاز چاند کے قریب پہنچائے تھے جنہوں نے چاند کے گرد چکر کاٹا اور واپس زمین پر بحفاظت اتر آئے۔
20 جولائی 1969 ء کو ناسا، ایم آئی ٹی اور مارگریٹ ہیملٹن کی سالوں کی محنت رنگ لائی اور اپالو 11 مشن زمین کی کشش ثقل سے آزاد ہو کر چاند کی طرف بڑھنے لگا۔ لیکن اس پرواز کے دوران کئی مسائل بھی سامنے آئے۔ چاند گاڑی کے چاند کی سطح پر اترنے سے چند منٹ قبل ہی کئی کمپیوٹر الارم بجنے لگے جو گویا ایک مشورہ تھا کہ مشن ملتوی کر دیا جائے۔
مسئلہ سافٹ ویئر میں نہیں تھا بلکہ چاند گاڑی کے ریڈار میں غلط طریقے سے نصب کی جانے والی پاور سپلائی میں تھا اور یہ مارگریٹ اور ان کی ٹیم کا بنایا ہوا سافٹ ویئر ہی تھا جس نے مشن کی تکمیل ممکن بنائی۔ دراصل اپالو سافٹ ویئر اتنی مہارت سے تخلیق کیا گیا تھا کہ یہ منصوبے کے بنیادی افعال سے بڑھ کے کام کر سکتا تھا اور اتنا ذہین تھا کہ کسی مسئلے کو بھانپ کر اپنے معاون ریکوری پروگرامز کے ذریعے اسے حل کر سکتا تھا۔
یہ مختلف افعال کو ترجیحات کے تحت مرتب کر سکتا تھا اور سب سے ترجیحی افعال پر توجہ مرکوز رکھ سکتا تھا۔ اسی نے مسئلے کو بھانپا اور چاند گاڑی کو چاند کی سطح پر بحفاظت اتارا۔ کمپیوٹر کوڈ کی ہزاروں سطور پر مشتمل یہ پروگرام ناسا کو اتنا بھایا کہ ایجنسی نے بعد میں اسے اپنے سکائی لیب پروگراموں میں بھی استعمال کیا۔
ایک ایسے زمانے میں جب سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مردوں کی اجارہ داری تھی، مارگریٹ ہیملٹن ان شعبہ جات میں کام کرنے کی خواہشمند خواتین کے لیے ایک درخشندہ مثال بن کے سامنے آئیں۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے ایم آئی ٹی چھوڑ کر ”ہائر آرڈر“ کے نام سے اپنی سافٹ ویئر کمپنی قائم کر لی۔ وہ 1976 ء سے 1984 ء تک اس کی سی ای او رہیں۔ اس کمپنی نے ”یوز اٹ“ کے نام سے سافٹ وئیر بنایا، جسے امریکی حکومت نے کافی عرصہ کامیابی سے استعمال کیا۔ 1985 ء میں مارگریٹ نے پرانی کمپنی چھوڑ کے ”ہیملٹن ٹیکنالوجیز“ کے نام سے نئی کمپنی قائم کر لی۔
اپالو سافٹ وئیر کی تیاری میں ان کی بے پایاں خدمات کے اعتراف میں 2003 ء میں ناسا نے انہیں اعزاز سے نوازا، 37200 ڈالر مالیت کا یہ اعزاز، اس وقت تک ناسا کی جانب سے سے دیا گیا سب سے بڑا مالیاتی انعام تھا۔ 2016 ء میں صدر براک اوباما نے انہیں ”صدارتی تمغہ آزادی“ کے اعزاز سے نوازا، جو امریکہ کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔ 2022 ء میں انہیں نیشنل ایوی ایشن ہال آف فیم میں شامل کیا گیا۔
دلچسپ اعزاز: 2017 ء میں کھلونے بنانے والی مشہور کمپنی ”لیگو“ نے *ویمن آف ناسا* کے عنوان سے لیگو سیٹ جاری کیے جس میں مارگریٹ ہیملٹن، سیلی رائیڈ، مے جیمیسن، اور نینسی گریس رومن کے لیگو شامل تھے۔ ہیملٹن کے لیگو میں کھلاڑی کو ان کی 1969 ء کی مشہور تصویر کو تشکیل دینا ہوتا تھا جہاں وہ اپنے ہاتھ سے لکھے گئے کمپیوٹر کوڈ کے انبار کے ساتھ کھڑی ہیں۔ (یہی تصویر مضمون کے ساتھ بھی منسلک ہے )



