ایک عورت کی ماہواری پورے خاندان کے لئے نفسیاتی آزمائش ہے؟
اقبال نے ”تصویر کائنات میں رنگ“ بھرنے کے لئے ”وجود زن“ کا سہارا لیا۔ اس فنی کرتب کی تحلیل نفسی ایک الگ مضمون ہے۔ لیکن اس رنگین تصویر کے رنگ کب پھیکے اور سیاہ پڑتے ہیں اور اس سے کوئی بھی ماحول کس طرح سے نفسیاتی اور معاشرتی طور پر متاثر ہوتا ہے۔
اس رنگین تصویر کے لب و رخسار اور آنکھوں پر تو ادب نے صفحے سیاہ کر دیے لیکن اس کی روح جسم اور نفسیات کے تاریک اور تکلیف دہ پہلوؤں پر بات کرنے کے لئے بہت کم آواز سنائی دیتی ہے یا محض طب کے شعبے میں ثقیل اصطلاحات کی صورت میں جو عام فہم نہیں ہے۔ دوسری طرف کلچر اور مذہب کے تابع روایات ہیں جو ایسے روئیے اپنائے ہوئے ہیں جو عورت میں ناپاکی، شرم اور احساس جرم اور بے چارگی پیدا کرنے کا موجب ہیں۔ حالانکہ اس دوران خارج ہونے والا خون انسان کی تخلیق کے کام آتا ہے۔ لیکن اس کے خارج ہونے سے قبل ہی ہارمونل نظام میں ایسی کچھ بدنظمی اور ہلچل پیدا ہوتی ہے کہ عورت کا جسم، دماغ، اخلاق، کردار نہ صرف اس کے لئے اذیت بن جاتا ہے بلکہ اس کے اپنے بچے، شوہر اور خاندان نفسیاتی دباؤ میں آ سکتا ہے۔
اگر چہ عورت کے حقوق کی پاسبانی کے لئے قوانین اور تحریکوں نے اس مسئلے سے آگاہ کرتے ہوئے اس معاملے میں عورت کی بے چارگی اور فطرت کی سوچی سمجھی فنی تفریق پر بھی آواز بلند کی ہے۔
لیکن قارئین سے التماس ہے کہ میری یہ تحریر کسی بھی تعصب سے بالا سمجھی جائے۔ اس کو کسی فیمنزم اور نسائی تحریک کے زیر اثر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ خالص انسانی، فطری اور طبی مسئلہ گردانتے ہوئے نفسیاتی معالج کی حیثیت سے مشاہدہ اور کلینکل کیس ہسٹریز کے عمومی تاثر کے تحت زیر قلم لایا گیا ہے۔
تحقیقات اور طبی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ٹریک رکھا جائے تو کیلنڈر آپ کو بتائے گا کہ اکثر گھریلو جھگڑے خاص طور پر میاں بیوی کے مابین جھگڑے عورت کے اس ماہانہ نظام سے چند دن پہلے یعنی پی۔ ایم۔ ایس کی صورت میں اور دوران ماہواری کے ایام میں جنم لیتے ہیں اور بار بار کا یہ جھگڑالو سائیکل گھروں کے ٹوٹنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ حتی کہ دفتروں میں کام کرتی ہوئی عورتیں اپنی ان تکالیف کی وجہ سے دفتری ماحول کو بھی ناخوشگوار بنا سکتی ہیں۔ اور مرد حضرات کی تضحیک اور مذاق کا نشانہ بنتی ہیں۔ شرمندگی، کمتری، اور عورت ہونا جرم لگنے لگتا ہے۔
فطری روٹین کے اس معاملے کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں اور اسے سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے عورتوں کو اور ان کے پارٹنرز کے دیگر شخصی خواص اور ان کی دیگر ذہنی صحت کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا۔ اس کی درجہ بندی کر کے یوں سمجھتے ہیں۔
1۔ وہ عورتیں جو ہر طرح سے نارمل ہوتی ہیں اور ان کے ساتھی اور خاندان کے دیگر لوگ بھی ہر طرح کی ذہنی اور جسمانی صحت کا ادراک رکھتے ہیں۔ ان کا ماہانہ سائیکل صرف ان کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ چند دنوں کی جسمانی تکالیف، دردوں اور نفسیاتی بے چینی سے خود ہی نمٹ کر وہ اپنی نارمل حالت اور روٹین میں لوٹ آتی ہیں۔ انہیں کم ہی کسی اور کی مدد اور سپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔
2۔ وہ عورتیں جو کسی قسم کے ذہنی امراض اور مسائل سے عام حالات میں بھی دوچار رہتی ہیں۔ ان خواتین میں پی۔ ایم۔ ایس اور دوران ایام ان کی پہلے سے موجود ذہنی امراض مثلاً انزائٹی، موڈ ڈس آرڈر، غصہ، جارحیت، شک و شبہ، خود ترسی، اور او۔ سی۔ ڈی کے مسائل ان کے ماہانہ سائیکل میں جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ اور یہ ڈس آرڈرز ان کے ماہانہ سائیکل کو مزید تکلیف دہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ان کے پارٹنر اور خاندان کی سپورٹ اور خود ان کی اپنی شعوری کاوش اور مثبت رویہ نہ صرف ان کو بحران سے بچا سکتا ہے بلکہ خاندان بھی اس بحران سے نکل آتا ہے۔
لیکن ایسی عورتوں کے ایام خاص کو دوسرے لوگ خاص طور پر اہل خانہ ایموشنل بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر جھنجھلاتی، لڑتی جھگڑتی، غصہ کرتی، بچوں پر غصہ نکالتی یا جارحیت کا مظاہرہ کرتی عورت کو گھر والے، اور خاص طور پر شوہر اگر پرسنیلٹی ڈس آرڈر میں مبتلا ہو تو وہ بہت چالاکی سے ماہواری کے کرب سے گزرتی عورت کو اپنی فطری کنٹرول، ایذا رسانی، حسد اور الزام تراشی کی منفی خواہشات کے تحت مزید اذیت دینے کی ٹھان کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر اپنی شریک حیات کو نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے کی تمام منفی نفسیاتی تکنیکیں استعمال کرتا ہے۔ بہت کیسز میں وہ اسے جسمانی آرام دینے کے بجائے جان بوجھ کر بہت زیادہ کام کی ڈیمانڈ کرتا ہے حتی کہ مارپیٹ پر بھی اتر آتا ہے۔ یہ سائیکو پیتھ اور نرگسیت زدہ مرد اپنی عورت سے نجات پانے یا اس کو پاگل قرار دینے کے لئے ان ایام کو سنہری موقع سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔
3۔ وہ عورتیں جو بہت سنجیدہ ذہنی مسائل مثلاً پرسنیلٹی ڈس آرڈرز جیسے کہ نارسزم، سائیکو پیتھی یا / اور او۔ سی۔ ڈی میں مبتلا ہیں۔
ماہواری کا سائیکل ان کے لئے تو تکلیف کا باعث ہوتا ہی ہے لیکن خاندان کے لئے ایک بھیانک خواب۔ کیونکہ یہ نارسسٹ عورتیں لاشعوری طور پر کچھ ایسے کردار کی حامل ہوتی ہیں جن سے وہ آگاہ تو ہوتی ہیں لیکن انہیں اس پر کنٹرول نہیں ہوتا اور وہ ایسے رویوں کے ہاتھوں خود بھی تکلیف اٹھاتی ہیں اور دوسروں کو بھی اذیت سے دوچار کر سکتی ہیں اس کی آڑ میں شعوری اور لاشعوری طور پر ذہنی لذت حاصل کرتی ہیں۔
ان خواتین کی ماہواری سے 7 دن قبل، ماہواری کے 7 دن اور بعد کے کئی دن خاندان کے لئے ایک بھیانک اور اذیت ناک ماحول ہوتا ہے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے اپنی کلینیکل کیس ہسٹریوں سے مختلف مشاہدات سامنے آئی ہیں۔ ان کو کتنا ہی آرام، سکون، مدد اور رومانس مہیا کیا جائے یہ اسے در خور اعتنا نہیں سمجھتیں۔
جن سے یہ عمومی تاثر ملتا ہے کہ پرسنیلٹی ڈس آرڈر، سائیکو پیتھی اور دیگر ڈس آڈرز کے تکلیف دہ رویوں کا ماہواری کے دوران اس قدر شدت سے مظاہرہ ہوتا ہے کہ پورا خاندان اس کی لپیٹ میں آ کر اذیت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر پارٹنر یا شوہر اور بچے اس سے اتنے متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی ذہنی حالت اس نہج تک پہنچ سکتی ہے کہ انہیں علاج کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ عورتوں کی یہ تیسری قسم اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کبھی شعوری طور پر کبھی لاشعوری طور پر دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے۔ کبھی وہ ان تکالیف سے بہ آسانی نبرد آزما ہوتی ہیں اور لگتا ہے کہ انہیں کچھ بھی نہیں ہوا۔ اور کبھی حسب ضرورت یہ کارڈ کھیل سکتی ہیں۔
یہ بجا ہے کہ اس دوران عورت کو جھنجھلاہٹ، غصہ، جسمانی درد، انرجی کی کمی، اور مزاج میں اونچ نیچ ہونا لازمی ہے۔ اور اگر پورے خاندان کو بشمول بچوں کو آگاہی دی جائے اور عورت کو آرام، سکون اور کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال میں مدد بھی فراہم کی جائے تو معاملات قابو میں رہتے ہیں۔ اور جیسے ہی سائیکل ختم ہوتا ہے فضا خوش گوار ہو جاتی ہے۔
لیکن ایک نارسسٹ عورت میں اس دورانیے میں کنٹرول، خبط عظمت، حسد، حکمرانی، ڈرامہ، جھوٹ کی عادات میں شدت آجاتی ہے۔ کتنا ہی حسن سلوک، مدد، آرام اور رومانس، کینڈل ڈنر فراہم کیا جائے وہ ان سب مراعات کو ٹیکن فار گرانٹڈ لیتی ہے اور اپنی ماہواری کی پناہ گاہ کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کو ایذا پہنچا کر لذت محسوس کرتی ہے۔
اس ضمن میں چند پیٹرنز یوں سامنے آتے ہیں :
اپنے بچوں کو کنٹرول کرنے اور انہیں ان کے باپ اور رشتہ داروں کے خلاف بھڑکانے کے رویے خاص طور پر سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں ذہین فطین بچے اور بہترین کردار اور بہترین ذہنی صحت کے حامل بچے ماں کی ماہواری کے دوران ہی سکولوں سے کرداری مسائل کی شکایات لے کر آتے ہیں جس میں انزائٹی، ڈپریشن، چڑچڑا پن جارحیت اور ارتکاز توجہ کے مسائل سامنے آتے ہیں، اسی دوران وہ گھر کے باقی افراد کے ساتھ بد تمیزی گستاخی اور نفرت سے پیش آتے ہیں۔
ہر ماہ ماہواری کی تکلیف میں تڑپتی ماں اپنی تکلیف کی آڑ میں غیر محسوس اور لا شعوری طور پر باپ کے خلاف اس قدر کان بھر سکتی ہے کہ بچے ماں کے ساتھ چپک کر اس پر ترس کھاتے ہیں اور باپ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ اور اپنی ماں کی ماہواری کے دوران سیکھے ہوئے نارسسٹ رویے، جھوٹ، ڈرامہ وغیرہ سیکھتے ہیں۔ گویا ان کی ماں کے ایام کا یہ زمانہ بچے کو ذہنی مریض بنانے کا عرصہ ہو سکتا ہے۔ ماں اپنی اس تکلیف کے ذریعہ ہمدردی حاصل کرتی ہے۔ اور بچے کو اپنے پارٹنر اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف کر کے اپنی حسد کی آگ بجھاتی ہے۔ یہ ننھے فلائنگ منکی تمام عمر ماں کے ساتھ چپکے رہتے ہیں اور یہی مائیں ہیں جو بعد میں نارسسٹ افراد کی مائیں کہلاتی ہیں۔
ایک شادی شدہ عورت نے کلینک میں بتایا کہ میرے نفسیاتی مسائل اس لئے ہیں کہ میرا باپ میری ماں کو مارتا تھا اور اس کی بیماری میں اس کا خیال نہیں رکھتا تھا۔ مجھے اپنے باپ سے شدید نفرت ہو گئی۔ اور اسی وجہ سے مجھے اپنی شادی کو کامیابی سے چلانے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور اب طلاق تک نوبت پہنچنے والی ہے۔ اس نوجوان شادی شدہ خاتون کی کیس ہسٹری کو کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ مریضہ کی والدہ پرسنیلٹی ڈس آرڈر کا شکار تھیں اور بچوں کو کنٹرول کر کے باپ سے دور رکھنا چاہتی تھی۔
اور بیٹی کی شادی کے بعد بھی اس کو کنٹرول کرتی ہے۔ ماہواری کی تکالیف کے دوران وہ روزانہ بچوں کو اپنی بیماری کا کارڈ استعمال کرتی اور موڈ کی خرابی کی وجوہات یوں گھڑتی کہ جیسے اس کے شوہر نے اس پر جسمانی تشدد کیا اور اس کا خیال نہیں رکھا۔ اور شوہر کے حسد میں تمام ڈرامہ تیار کرتی اور بچوں کو شریک کار بنتی۔ یہ نوجوان خاتون جو اپنی ماں کا قصہ بتاتی ہیں، معلوم ہوا کہ یہ خود بھی اپنی ماہواری کے ایام میں ویسے کردار پیش کرتی ہے جو مریضہ کی والدہ کیا کرتی تھیں۔
ہر ماہ بچوں کو جھوٹ بتاتی کہ تمہارا باپ ہمیں گھر سے نکال دے گا۔ بچے سہم جاتے اور ماں پر مزید ترس کھاتے کھاتے باپ کے خلاف ہو گئے اور باپ کی بے پناہ شفقت کے باوجود نفرت کرنے لگے۔ حتی کہ بچوں کو اس بات پر تیار کرتی کہ جب میں رونے لگوں تو پولیس کو کال کر دینا۔ اور پھر شوہر کو طے شدہ پلان کے تحت کسی بات پر بلا وجہ مشتعل کر کے رد عمل کے طور پر چیخنے چلانے کے بہانے فراہم کرتی۔ ہر ماہ کی اس چپقلش جس کا دورانیہ پندرہ سے بیس دن کا ہوتا ہے جس کا اثر بیوی بچوں سے علیحدگی اور طلاق کے فیصلے پر منتج ہوتا ہے۔
قارئین کے لئے یہ بات دلچسپی کا باعث ہوگی کہ دنیا میں ہونے والی طلاقوں، علیحدگی، گھریلو تشدد، بچوں کی نفسیاتی الجھنوں اور پولیس کی مداخلت کی بہت زیادہ فیصد دوسری اور تیسری قسم کی خواتین کی ماہواری کے ایام کے دوران رونما ہوتی ہیں۔
حتی کہ بہن بھائیوں کی چپقلش یعنی سبلنگ رائیولری کا آغاز بھی کسی حد تک یہیں سے ہوتا ہے۔
اور بچے کچھ تو جینیاتی عوامل اور کچھ ماں کی ماہواری کے تکلیف دہ ایام کو جھیلتے ہوئے احساس ندامت، اینزائٹی، ڈپریشن اور پرسنیلٹی ڈس آرڈرز، یا اینٹی سوشل پرسنیلٹی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یوں یہ نسوانی فطری معاملہ ایسے ظاہر ہو سکتا ہے جیسے پورا خاندان ہی ماہواری کی تکلیف سے گزر رہا ہو۔
اس نسوانی مسئلے کے ہر پہلو سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جائے؟
ہر قسم کے شخصی خواص رکھنے والی خواتین کے لئے چند عمومی اقدامات ہیں جن کو حکمت عملی سے لاگو کیا جائے تو عورت اور خاندان بحران سے نکل سکتا ہے۔
1۔ بلوغت سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں، بہن بھائیوں دونوں کو اس فطری نسوانی عمل کے جسمانی، معاشرتی اور نفسیاتی حقائق کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ اور یہ آگاہی بلا تفریق جنس سکولوں کے نصاب میں شامل کی جائے۔
2۔ ماہواری سے جڑے سماجی اور روایتی پہلوؤں کے زیر اثر ٹابوز، احساس گناہ، ناپاکی اور نجاست کو سائنس، طب اور نفسیات کی روشنی میں سمجھایا جائے۔
گھروں میں بہن بھائیوں، باپ اور دیگر افراد کو بھی درپیش صورتحال سے آگاہ کر کے ماہواری سے قبل کے مسائل یعنی پی۔ ایم۔ ایس اور ماہواری کے دوران کے تمام مظاہر کو سمجھنے کی کوشش کے لئے خاندان کو ٹیم کی صورت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
3۔ گھر کے ہر فرد کو اس معاملے کے لئے کیلینڈر تھیراپی کا استعمال کرنے کی عادت ڈالنی اور عورت کے رویوں پر نظر رکھنی چاہیے اور عورت کے شخصی خواص کو مد نظر رکھ کر ٹریٹمنٹ پلان پر عمل کی اہمیت کو فروغ دیا جائے۔
4۔ ہر قسم کی خواتین کو عام دنوں سے زیادہ جسمانی آرام، سکون، خوشی، اور محبت خاص طور پر شریک حیات کی طرف سے انسانی ہمدردی سے بھرپور تعاون اور رومانوی ضروریات پوری کرنے کے لئے فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے مثلاً گلے لگانا، پھول کا تحفہ، آؤٹنگ، گھر کے کام کاج میں مدد۔
سب سے اہم بات ان ایام میں بچوں کی دیکھ بھال اور کاموں کا ذمہ بھی شوہر یا گھر کے دیگر افراد کو اپنے ذمہ لینا چاہیے۔ تاکہ وہ ماں کے نفسیاتی دباؤ اور منفی رویوں سے متاثر نہ ہوں۔ شاید اسی لئے پرانے زمانے میں سیانی عورتیں اپنے گرینڈ چلڈرن کو کھانا کھانے اور ان کو وقت دینے کا ذمہ اپنے سر لے لیتی تھیں۔ میں نے خود اس معاملے میں عمر رسیدہ خواتین کو کہتے سنا ہے کہ ان دنوں میں بچوں کو ماں سے دور رکھو تاکہ بچے چڑچڑی ماں کے قریب رہ کر چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔
عورت کے ہیجانی اور نفسیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے بعض صورتوں میں عورت کو اس بات کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے سکون اور خاندان کی فضا کو کشیدہ کرنے کے بجائے اپنے آپ کو چند دنوں کے لیے رضاکارانہ طور پر فاصلے پر رکھیں یعنی
Distancing Technique کو اپنائیں۔
یوگا، میڈیٹیشن، اور بستر پر آرام کے علاوہ تنہا کھلی فضا میں فطرت سے لطف اندوز ہوں اور موسیقی سنیں۔ اور بحث مباحثے میں حصہ لینے سے گریز کریں تاکہ ان کی نفسیاتی بے چینی سے کشیدگی پیدا نہ ہو۔
علاوہ ازیں سائیکو تھیراپی کے ذریعہ بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے سیشن لینا عقلمندی ہوگی جس میں عورت کو سیلف مینجمنٹ سکھائی جا سکتی ہے۔
شوہروں / پارٹنرز کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ خاص طور پر کیلنڈر پر نظر رکھتے ہوئے اپنی ذہنی کیفیات کو قابو میں رکھیں اور خود پربھی مصنوعی ماہواری طاری نہ کریں تاکہ نہ تو عورت پر کسی طرح کی زیادتی ہو اور نہ ہی عورت کے منفی شخصی خواص کی وجہ سے انہیں کسی قسم کی قانونی اور سماجی مشکل کا سامنا ہو


