غضنفر شاہی، ماہ صیام اور عمران خان


آج مجھے غضنفر شاہی یاد آ رہے ہیں ایک تو اس لیے کہ ان کی دوسری برسی ہے اور پھر ایک وجہ یہ کہ ان کی برسی اس مرتبہ بھی رمضان المبارک میں آئی۔ رمضان ایک خاص موقع ہے اور ایسے خاص مواقع پر اپنے ہی شدت سے یاد آتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے ساتھ آپ نے خوبصورت لمحات گزارے ہوتے ہیں۔ جن کے ساتھ آپ کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ بے لوث محبت کرتے ہیں۔ شاہی صاحب ایسی ہی چند شخصیات میں سے ایک تھے۔

آپ یہ تصویر دیکھ رہے ہیں جس میں دوستوں نے انہیں گود میں اٹھا رکھا ہے ایسی ہی ایک تصویر میری اپنی بھی ہے، یہ ملتان پریس کلب کے پرانے ہال کی تصویریں ہیں اور یاد مجھے اس لیے یاد آئیں کہ یہ 1990 ء کے عشرے میں ملتان پریس کلب کے انتخابات کے نتائج کے موقع پر بنائی گئی تھیں اور نتائج کا اعلان سحری کے وقت ہوا تھا۔

دوست جانتے ہیں کہ ملتان پریس کلب کے انتخابات ایک طویل عرصہ تک با قاعدگی کے ساتھ 7 جنوری کو منعقد ہوتے رہے اور 90 ء کے عشرے میں عمومی طور پر یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہو تا تھا اور کامیابی کے بعد نو منتخب ارکان کے اعزاز میں بیشتر استقبالیے افطار پارٹیوں کی صورت میں ہوتے تھے۔

رمضان المبارک کے دوران شاہی صاحب کے زمانے میں ہی ایک روایت شیخ امین صاحب کی جانب سے پریس کلب میں افطاری کی بھی ہوتی تھی شیخ صاحب روزانہ افطاری بنوا کر پریس کلب آتے تھے اور روزہ کھلتے ہی شیخ صاحب کا لنگر شروع ہو جاتا تھا۔ اس موقع پر شاہی صاحب کی شیخ امین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہتی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ شیخ امین خود تو روزہ نہیں رکھتے لیکن روزے کے کفارے کے طور پر روزانہ 40 مسکینوں کو پریس کلب میں کھانا ضرور کھلاتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ اس جملے کے بعد شاہی صاحب خود بھی اس دعوت میں شریک ہو جاتے تھے۔

ملتان پریس کلب کی کنٹین بھی رمضان المبارک کے دوران خوب آباد رہتی تھی۔ شاہی صاحب پہلی دفعہ صدر منتخب ہوئے تو جبار مفتی صاحب کے زمانے میں بند کی جانے والی کنٹین کو کھولنا نا ممکن دکھائی دیتا تھا بالکل اسی طرح جیسے جمعہ کی سرکاری چھٹی حکومت کوششوں کے باوجود ایک طویل عرصہ تک ختم نہ ہو سکی تھی۔ دوستوں کی جانب سے کنٹین کھولنے کا دباؤ سامنے آیا تو مجلس عاملہ کے ایک اجلاس میں اس کا طریقہ کار تلاش کرنے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی گئی اگلے روز میں نے ایک نوٹس تیار کر کے شاہی صاحب کے سامنے رکھ دیا نوٹس کی عبارت کچھ اس طرح تھی۔

”پریس کلب کے اراکین کو ماہ صیام کی آمد مبارک ہو اس ماہ مقدس کے دوران احترام رمضان آرڈیننس پر سختی سے عمل در آمد کرایا جائے گا اور پریس کلب کی حدود میں سرعام کھانے پینے کی ممانعت ہو گی۔ کنٹین والوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ افطاری سے پہلے پریس کلب کے باہر کسی کو چائے فراہم نہ کریں“

یہ ایک طرح سے کنٹین کھولنے کا اعلان ہی تھا اور پھر جب کنٹین کھل گئی تو ہم پر ان بہت سے صحافیوں کی حقیقت بھی کھل گئی جنہیں ہم برسوں سے روزہ دار سمجھتے تھے۔

غضنفر شاہی ملتان کی صحافت کے ایک پورے عہد کا نام ہے ایک ایسی ہستی کہ جس نے ملتان کی صحافت میں بہت سی نئی روایات قائم کیں۔ ایک ایسا صحافی کہ جو بلا جھجک بات کرتا تھا جو دوستوں کے لئے خود کو وقف کر دیتا تھا۔ مسیح اللہ جام پوری، جمشید رضوانی اور فضیل سہو جب مشکلات کا شکار ہوئے تو غضنفر شاہی نے اپنے شب و روز ان کے لئے وقف کر دیے۔ خاص طور پر مسیح اللہ جام پوری کے صاحبزادے کے قتل کے موقع پر ایف آئی آر کے اندراج، ملزمان کی گرفتاری اور مقدمہ کی سماعت تک شاہی صاحب ان کے ساتھ ہمہ وقت موجود رہے۔ اسی طرح جسٹس فخر النساء کھوکھر نے ایک خبر کی پاداش میں جمشید رضوانی اور طاہر ندیم کو گرفتار کرایا تو شاہی صاحب نے ان کی رہائی کا مشکل کام بھی بہت آسانی سے ممکن بنا دیا۔

پریس کلب کا صدر منتخب ہو نے کے بعد شاہی صاحب کی زندگی کے معمولات ہی تبدیل ہو گئے تھے ان کا زیادہ تر وقت پریس کلب میں ہی گزرتا تھا۔ وہ رات بھر پریس کلب میں تاش یا کیرم بورڈ کھیلتے اور صبح منہ اندھیرے گھر روانہ ہو جاتے پھر صبح دس، گیارہ بجے دفتر کی میٹنگ پر پہنچنا ان کے لئے ممکن نہیں ہو تا تھا لیکن شام کو جب وہ دفتر آتے تو دن بھر کی خبروں کا پلندا ان کے پاس ہوتا تھا۔

پریس کلب کی سیاست میں بھی انہوں نے بہت سے لوگوں کو متعارف کروایا۔ شاہی صاحب سے پہلے ملتان پریس کلب پر جبار مفتی اور شمیم اصغر راؤ کے جرنلسٹ پینل کی حکمرانی تھی۔ شاہی صاحب نے نیوز مین پینل تشکیل دیا اور مجھ سمیت بہت سے دوست ان کے گروپ میں شامل ہو گئے۔ عبدالقادر یوسفی، نذر بلوچ، ظہیر کمال، اصغر زیدی، ندیم شاہ، رانا پرویز حمید، اقبال ہراج، جاوید درانی، فاروق عدیل، علیم اختر، آفتاب خان، ملک رفیق، مظہر جاوید، شوکت اشفاق، جمشید رضوانی، شکیل انجم سمیت کتنے ہی نام ایسے ہیں جو نیوز مین پینل کا حصہ رہے اور غضنفر شاہی کی قیادت میں ملتان پریس کلب میں خوبصورت روایات قائم کر نے میں اپنا کر دار ادا کرتے رہے۔

پریس کلب کی سیاست میں شاہی صاحب کے فیصلے حیران کن ہوتے تھے۔ وہ بدترین مخالفوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کا ہنر جانتے تھے۔ جوڑ توڑ کے بہت سے مرحلوں میں ہم چند لوگ عموماً شاہی صاحب کے ساتھ ہوتے تھے اور وہ مخالف کو اس خوب صورتی کے ساتھ زیر کرتے کہ ہم حیران رہ جاتے تھے۔ وہ مسلسل تین بار اور مجموعی طور پر پانچ مرتبہ ملتان پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز کسی اور کو حاصل نہیں ہوا تھا۔ پریس کلب کی انتخابی مہم ہو یا مجلس عاملہ کے اجلاسوں کی ہنگامہ خیز کارروائیاں یادوں کا ایک ہجوم ہے جو میرے ساتھ ہے لیکن میں تنہا کیا کچھ ضبط تحریر میں لا سکتا ہوں (اپنی یادیں دیگر دوستوں کو بھی قلم بند کر نی چاہیں کہ اس طرح ہم ایک طرح سے اپنی تاریخ محفوظ کر رہے ہوتے ہیں )

غضنفر شاہی، بھٹو اور بے نظیر کے چاہنے والے تھے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے وہ عمران خان کے حامی ہو چکے تھے۔ اس حوالے سے ان کے ساتھ کئی مرتبہ سوشل میڈیا پر تلخی بھی ہوئی لیکن شاہی صاحب اور میں اپنے اپنے موقف پر ہمیشہ ڈٹے رہتے تھے۔ آج شاہی صاحب حیات ہوتے تو اپنے گرفتار لیڈر کی شان بیان کرتے اور اس کی کرپشن کا اسی طرح دفاع کرتے جیسے ہم اور ہمارے دوست زرداری فضل الرحمان اور نواز شریف کا دفاع کرتے ہیں۔ خوبی ان کی یہی تھی کہ وہ اختلاف کا حق دیتے تھے اور یہ حق ہم نے پریس کلب کی سیاست میں بھی بھرپور استعمال کیا اور مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ نذر بلوچ، عبدالقادر یوسفی اور اصغر زیدی کے ہمراہ میں شاہی صاحب کے پینل کے مد مقابل آ گیا تھا ہم نیوز مین والے ایک دوسرے کو ہرا کر جب باہر نکلے تو شاہی صاحب کونے میں کھڑے سگریٹ پی رہے تھے مجھے اور نذر بلوچ کو گلے لگا کر بولے آؤ چل کر چائے پیتے ہیں اب ہم سب ہار گئے ہیں اب کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہو نی چاہیے۔ دوستی اور محبت کا عجب رشتہ تھا کہ ہم ہارنے کے بعد تو نہیں البتہ جیت جانے کے بعد ایک دوسرے کے گلے لگ کر خوب روتے تھے۔ پچیس مارچ 2022 ء کو غضنفر شاہی کے جنازے کے موقع پر ندیم شاہ اور رؤف مان کو گلے لگا کر جب میں ہچکیاں لے رہا تھا تو یہ بھی سوچ رہا تھا کہ آج میں پہلی بار ہارنے کے بعد رو رہا ہوں۔ شاہی صاحب جو چلے گئے تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments